برازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں کامیاب تبلیغی دورہ

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مورخہ ۷تا۱۳؍دسمبر ۲۰۲۵ء مکرم ندیم احمد طاہر صاحب جنرل سیکرٹری و صدر ہیومینٹی فرسٹ برازیل کے ہمراہ برازیل کے دارالحکومت برازیلیا جو مشن ہاؤس سے تقریباً ۱۲۰۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے کا ایک کامیاب تبلیغی دورہ کرنے کی توفیق ملی۔
اہم سرکاری ملاقاتیں:اس دورے کی سب سے اہم ملاقات برازیل میں اسائلم کیسز سے متعلق سرکاری ادارہ CONAREکی ڈائریکٹر Amarilis Tavares سے ہوئی جس میں ان کی سیکرٹری بھی موجود تھیں۔ یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ اس موقع پر جماعت احمدیہ اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تعارف کروایا گیا اور بالخصوص پاکستان میں احمدیوں کے خلاف امتیازی و ظالمانہ قوانین، مخالفت اور پُرتشدد کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔ نیز برازیل اور دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کے پُرامن مشن کا تعارف پیش کیا گیا۔
اسی طرح برازیل میں اسائلم کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارہ UNHCRکی انچارج Andrea Zamur سے بھی ان کے دفتر میں ملاقات کی گئی اور احمدیوں کی موجودہ صورتحال سے تفصیلی آگاہی دی گئی۔ الحمدللہ، دونوں ملاقاتیں نہایت کامیاب رہیں اور متعلقہ حکام نے جماعت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

پارلیمانی روابط:اعلیٰ سطح کے روابط کے لیے جماعت احمدیہ کے تعارف اور پُرامن سرگرمیوں پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے مختلف اداروں اور شخصیات کو بھجوائی گئی جس کے نتیجہ میں کئی اہم ملاقاتوں کی توفیق ملی۔ ان میں ایک معروف سینیٹر Marcos Pontes کے ساتھ ملاقات شامل ہے جو برازیل کے نامور خلا باز اور سابق وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رہ چکے ہیں۔ ملاقات کے دوران ان کے سیکرٹری بھی موجود تھے۔ انہیں جماعت کا تعارف کروانے کے ساتھ پرتگیزی ترجمہ کے ساتھ قرآن کریم بطور تحفہ پیش کیا گیا جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کیا۔ سینیٹر صاحب نے اظہار محبت کے طور پر یادگاری تصاویر بنوا کر اپنے دستخط کے ساتھ پیش کیں۔ موصوف کو مسجد کے دورے کی دعوت بھی دی گئی۔
اسی طرح ایک فیڈرل ممبر پارلیمنٹ Otoni de Paula سے ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہیں کتاب ‘عالمی بحران اور امن کی راہ’ بطور تحفہ پیش کی گئی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے ایک ویڈیو کلپ ریکارڈ کروایا جس میں جماعت احمدیہ کے نمائندگان کو پارلیمنٹ میں خوش آمدید کہا۔ اس ویڈیو میں حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کا پیغام بھی پیش کیا گیا۔ یہ ویڈیو کلپ ممبر پارلیمنٹ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپلوڈ کیا جسے اب تک ۵۰؍ہزار سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں جبکہ تقریباً ۲؍ہزار تبصرے اور ۴۵؍کے قریب شیئرز ہو چکے ہیں۔ اس کے ذریعہ سے جماعت احمدیہ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچا، الحمدللہ۔
اسی طرح ممبران پارلیمنٹ Helio Lopes, Ricardo Barros اور Daniela Mote سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں بھی مذکورہ کتاب پیش کی گئی۔ مزید برآں سینیٹر Eduardo Braga اور ممبران پارلیمنٹ Sargento Portugal اور Nelson Padovani سے مصروفیات کے باعث براہ راست ملاقات نہ ہو سکی تاہم ان کے سیکرٹریز سے ملاقاتیں کر کے جماعت کا تعارف کروایا گیا۔ دیگر کئی اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹرز سے بھی رابطہ ہوا جنہوں نے شکریہ کے پیغامات ارسال کیے۔
تبلیغی و ابلاغی سرگرمیاں:ان ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ایک مرکزی لائبریری کا دورہ کر کے وہاں جماعتی لٹریچر رکھوایا گیا۔ تین اخبارات کو انٹرویوز دیے گئے جن میں اخبار Brasilia Agora نے مورخہ ۹؍دسمبر کی اشاعت میں ’’حقیقی اسلام‘‘ کے عنوان سے تصویر کے ساتھ رپورٹ شائع کی۔ شہر کے مختلف حصوں میں ایک نومبائع کے تعاون سے اسلام اور احمدیت کے تعارف پر مبنی پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔ مزید برآں شہر میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کی تین مساجد کا دورہ کر کے ائمہ اور دیگر افراد سے ملاقاتیں ہوئیں اور پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔ انفرادی روابط کے ذریعہ بھی متعدد افراد تک جماعت احمدیہ کا تعارف اور حضرت مسیح موعودؑ کی آمد کی خوشخبری پہنچائی گئی۔
اللہ تعالیٰ ان تمام مساعی کو قبول فرمائے، ان کے مثبت اور دُور رس اثرات مرتب فرمائے اور ہمیں مزید اسلام احمدیت کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرماتا جائے۔ آمین
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ برکینا فاسو کے چونتیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کا بابرکت انعقاد




