متفرق مضامین

آنحضور ﷺ کا بعثت سے قبل کیا مذہب تھا؟

یاد رکھو کہ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر ایک چیز کی اصل حقیقت تووحی الٰہی سے ہی کھلتی ہے۔ یہی وجہ تھی جو آنحضرت ﷺکو ارشاد ہوا مَا کُنْتَ تَدْرِی مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیمَانُ یعنی تو نہیں جانتاتھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے ؟لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی آپ پر ہوئی تو پھر قُلْ إِنِّی أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (الانعام: ۱۵) آپ کو کہنا پڑا اسی طرح آپ کے زمانہ وحی سے پیشتر مکہ میں بت پرستی اور شرک، فسق وفجور ہوتا تھا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ وحی الٰہی کے آنے سے پہلے بھی آپ نے بتوں کے خلاف وعظ کیا اور تبلیغ کی تھی لیکن جب فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (الحجر: ۹۵) کا حکم ہوا تو پھر ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کی۔ اورہزاروں مشکلات اور مصائب کی بھی پرواہ نہیں کی۔ بات یہی ہے کہ جب کسی امر کے متعلق وحی الٰہی آجاتی ہے تو پھر مامور اُس کے پہنچانے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے اور اُس کاچھپانا اُسی طرح شرک سمجھتے ہیں۔ جس طرح وحی الٰہی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی امر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نبی کریمﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے: مَا کُنْتَ تَدْرِی مَاالْکِتَابُ وَلَاالْإِیْمَانُ (الشوریٰ:۵۳) کہ اے محمد مصطفیٰﷺ!نزول قرآن سے پہلے تجھے علم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ اگر آپ کے ماحول میں عربوں میں کوئی کتاب یا شریعت موجود ہوتی تو چالیس سال کی عمرتک آپ کو اس کا علم ہوجانا تھا۔

آنحضرت ﷺنے دعویٰ سے پہلے چالیس سال کا عرصہ مکہ اور اس کے مضافات میں گزارا۔ اہلِ مکہ اور مضافات کے لوگ کسی دین اور شریعت کو نہیں مانتے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے لکڑی، پتھر اور دھات کا بت بناتے اور پھر اُس کی پوجاشروع کردیتے تھے کہ یہ بت ہمیں فوائد اور برکات بھی دیں گے اور ہر قسم کے شر اور نقصان سے ہمیں بچائیں گے اور یہ تخیل ایک وہم سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر اپنے اس تخیل اور وہم کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتے کہ خدا نے ہمیں بت پرستی کا اور اُن سے دعائیں مانگنے کا حکم دیا ہے تو اسے دین اور مذہب کہا جانا تھا۔ مگر وہ اپنے اس تخیل کو خدا کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے۔ جیسے ہندواپنی بت پرستی اور مخلوق پرستی کو ویدوں کی طرف منسوب کرکے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے ویدوں کے ذریعہ ہمیں بت پرستی اور مخلوق پرستی کی تعلیم دی ہے۔ عربوں کی بت پرستی کو حقیقتاً تو کوئی مذہب یا دین قرار نہیں دیاجاسکتا گو بعض اوقات ان کی یہ بت پرستی جو وہم پرستی کی حیثیت رکھتی ہے اسے مجازاً عربوں کا مذہب قراردے دیا جاتاہے۔

سورۃالنجم مکی سورت ہے اس میں بتوں کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے: اِنۡ ہِیَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہۡوَی الۡاَنۡفُسُ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمُ الۡہُدٰی۔ (النجم:۲۴) ترجمہ از تفسیر صغیر: یہ تو کچھ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں (ورنہ ان میں حقیقت کچھ بھی نہیں)اللہ نے ان (بتوں)کے لیے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ وہ صرف ایک وہم کی اور خواہش نفسانی کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے ربّ کی طرف سے ہدایت آچکی ہے (مگر پھر بھی نہیں سمجھتے)۔

اسی طرح سورت یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ اِنۡ یَّـتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ۔(یونس:۶۷) ترجمہ از تفسیر صغیر: سنو!(مخلوق کا)جو (فرد بھی)آسمانوں کے اندر (پایا جاتا)اور زمین میں (موجود)ہے (ہرایک)اللہ ہی کا ہے اور جو لوگ اللہ کے سوا (دوسری چیزوں کو)پکارتے ہیں وہ (دراصل خدا کے)شریکوں کی پیروی نہیں کرتے (بلکہ حق یہ ہے کہ)وہ صرف (اپنے)وہم کی پیروی کرتے ہیں اور وہ صرف تخمینوں (اور ڈھکونسلوں)سے کام لیتے ہیں۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کی بت پرستی کو ان کااپنا خیال اور وہم قرار دیا ہے۔ جسے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ہی ان کی بت پرستی کا مذہب سے کوئی تعلق تھا کیونکہ مذہب تواللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک اَورجگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلۡفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا (البقرۃ:۱۷۱) ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء واجداد کو پایا۔

یہ آیت بھی بیان کر رہی ہے کہ وہ بت پرستی کو اللہ تعالیٰ یا حضرت اسماعیل علیہ السلام یا کسی اَور نبی کی تعلیم قرار نہیں دیتے تھے۔ بلکہ اسے اپنے آباء کی طرف منسوب کرتے تھے۔ چنانچہ سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ عمر و بن لُحَیّ ایک بڑا بااثرشخص تھا جو مکہ سے شام گیا اور بلقاء کے علاقے میں اُس نے دیکھا کہ وہاں کے باشندے بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔وہ باشندے ’عمالیق ‘کہلاتے تھے۔ عمرو نے اُن سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایسے بت ہیں کہ ہم ان سے بارش کی درخواست کرتے ہیں تو بارش ہو جاتی ہے۔ اور جب ہم ان سے مدد مانگتے ہیں تو یہ ہماری مدد کرتے ہیں۔ ان کے جواب سے متاثر ہو کر عمر و نے ان سے کہا کہ آپ ان بتوں میں سے ایک بت مجھے دے دیں تا کہ میں اس کو عرب میں لے جاؤں اور وہاں کے لوگ بھی ان کی عبادت کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایک بت اسے دے دیا جس کا نام ’’ ہبل ‘‘تھا۔ عمرو نے اسے مکہ میں لا کر نصب کر دیا۔ اور لوگوں کو اس کی تعظیم اور عبادت کا حکم دیا۔جسے اہل مکہ نے قبول کر لیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ دیکھا دیکھی اہل مکہ سے متاثر ہو کر عرب کے دیگر قبائل میں بھی بت پرستی پھیل گئی۔ ورنہ اہل مکہ اور عرب بت پرستی کو انبیاء اور خدا کی تعلیم قرار نہیں دیتے تھے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اہل مکہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ان لوگوں میں اکثر لوگ تو ایسے ہی تھے جو رسم و رواج، عادات اور بتوں کی اور ظنّوں اور وہموں کی پوجا میں غرق تھے۔ ہاں بعض ایسے بھی تھے جو دہریہ تھے۔ مگر زیادہ حصہ ان میں سے اول الذکر لوگوں میں سے تھا۔ خدا کو بڑا خدا جانتے تھے۔ ا ور خدا سے انکار نہ کرتے تھے۔ پس ایسے بھی کافر تھے۔ جو خدا کو بھی مانتے تھے اور بتوں سے بھی الگ تھے۔ رسم و رواج میں بھی نہ پڑتے تھے۔ آنحضرتﷺ کے پاس آنے کو اور آپ کی فرماں برداری کرنے میں اپنی سرداری کی ہتک جانتے تھے۔ اور ان کے واسطے ان کا کبر اور بڑائی ہی حجاب اور باعث کفر ہو رہی تھی۔ ‘‘ (الحکم۱۸اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ۱۵کالم نمبر۲)

آنحضرت ﷺ کے دعویٰ سے قبل آپ کی زندگی میں تین چار افراد کا ذکر ملتا ہے جو بت پرستی سے بیزار ہو کر خدا کی توحید کے قائل ہو گئے تھے۔ جن میں سے ایک ورقہ بن نوفل بھی تھا۔ ورقہ بن نوفل بے شک عیسائی تھا لیکن وہ نہ تو لوگوں کو عیسائیت کی تعلیم بتاتا اورنہ ہی تبلیغ کرتا تھا۔اور نہ ہی رسول کریم ﷺ کا اُس کے پاس آناجانا تھا۔ جس سے اخذ کیا جاسکے کہ حضور ﷺنے اُس سے سن کر عیسائیت کی بابت معلومات حاصل کیں۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ یارسول اللہ ﷺ !کیا آپ نے بتوں کو پوجا ہے ؟آپؐ نے فرمایا نہیں۔ پھر لوگوں نے پوچھا کیا آپ ﷺ نے کبھی شراب پی ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ پھر فرمایا کہ میں ہمیشہ سے ان باتوں کو قابل نفرت سمجھتا رہا ہوں۔ لیکن اسلام سے پہلے مجھے شریعت اور ایمان کا کوئی علم نہیں تھا۔ ‘‘(سیر ت خاتم النبیین ﷺ مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ؓ صفحہ۱۱۴)

اس روایت میں بھی آنحضرت ﷺ نے سورت شوریٰ کی آیت کی جانب ہی اشارہ فرمایا ہے۔

سورت شوریٰ کی مذکورہ بالا آیت یوں ہے: وَکَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَلَا الۡاِیۡمَانُ وَلٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَاؕ وَاِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ۔(الشوریٰ:۵۳)اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بعثت سے قبل آنحضرتﷺ کاکسی کتاب کو ماننے اور ایمان کی تفصیلات کاعلم ہونے کا انکار کیا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کا ترجمہ یوں فرمایا ہے: ’’اوراسی طرح ہم نے اپنے امر سے تیری طرف ایک روح نازل کی ہے تجھے معلوم نہ تھا کہ کتاب اور ایمان کسے کہتے ہیں پر ہم نے اس کو ایک نور بنایا ہے جس کو ہم چاہتے ہیں بذریعہ اس کے ہدایت دیتے ہیں اور بہ تحقیق سیدھے راستہ کی طرف تو ہدایت دیتا ہے۔ ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد ۱صفحہ ۵۶۸)

حضورعلیہ السلام نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک اور جگہ فرمایا ہے : ’’آنحضرت ﷺسے پیشتر دو عظیم الشان نبی گزرے ہیں ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ مگر ان دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ان میں سے کسی کی نسبت نبی امّی ہونے کا دعوی نہیں کیا گیا۔ یہ تحدی اور دعویٰ ہمارے نبی کریمﷺکی نسبت ہوا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا کُنْتَ تَدْرِی مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنَاہُ نُورًا نَہْدِی بِہِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّکَ لَتَہْدِی إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ (الشوریٰ:۵۳)‘‘(الحکم جلد۴ نمبر۱۴ مورخہ ۱۷؍اپریل۱۹۰۰ء صفحہ۳کالم نمبر۳)

ایک اَورمقام پر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:’’یاد رکھو کہ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر ایک چیز کی اصل حقیقت تووحی الٰہی سے ہی کھلتی ہے۔ یہی وجہ تھی جو آنحضرت ﷺکو ارشاد ہوا مَا کُنْتَ تَدْرِی مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیمَانُ یعنی تو نہیں جانتاتھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے ؟لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی آپ پر ہوئی تو پھر قُلْ إِنِّیْٓ أُمِرْتُ أَنْ أَکُوْنَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (الانعام: ۱۵) آپ کو کہنا پڑا اسی طرح آپ کے زمانہ وحی سے پیشتر مکہ میں بت پرستی اور شرک، فسق وفجور ہوتا تھا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ وحی الہٰی کے آنے سے پہلے بھی آپ نے بتوں کے خلاف وعظ کیا اور تبلیغ کی تھی لیکن جب فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ(الحجر: ۹۵) کا حکم ہوا تو پھر ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کی۔ اورہزاروں مشکلات اور مصائب کی بھی پرواہ نہیں کی۔ بات یہی ہے کہ جب کسی امر کے متعلق وحی الہٰی آجاتی ہے تو پھر مامور اُس کے پہنچانے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے اور اُس کاچھپانا اُسی طرح شرک سمجھتے ہیں۔ جس طرح وحی الہٰی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی امر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں۔ ‘‘ (الحکم جلد۷نمبر۳۱مورخہ۲۴؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ۲)

حضرت رسول پاکﷺالٰہی فطرت کے مطابق عربوں کی بت پرستی جو اُن کے توہم کا نتیجہ تھی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ اپنی پاک باطنی کے سبب خداکی توحید اور عمدہ اخلاق کی طرف متوجہ رہے۔ مکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا تھا اور آنحضرت ﷺکا ظہور حضرت اسماعیل ؑ کے اڑھائی ہزار سال بعد ہوا اس عرصہ میں حضرت اسماعیل ؑ کا لایا ہوا دین اور آپ کی تعلیمات مٹ چکی تھیں۔

چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس قوم میں پیدا ہوئے تھے جن میں تو حید کا نام و نشان نہ تھا اور کوئی کتاب نہ تھی۔ اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس قوم میں پیدا ہوئے جو جاہلیت میں غرق تھی اور کوئی ر بّانی کتاب ان کو نہیں پہنچی تھی۔ او ر ایک یہ مشابہت ہے کہ خدانے ابراہیم کے دل کو خوب دھویا اور صاف کیا تھا یہاں تک کہ وہ خویشوں اور اقارب سے بھی خدا کے لیے بیزار ہو گیا او ردنیا میں بجز خدا کے اس کا کوئی بھی نہ رہا۔ ایسا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر واقعات گذرے اور باوجودیکہ مکہ میں کوئی ایسا گھر نہ تھا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی شعبہ قرابت نہ تھا۔ مگر خالص خدا کی طرف بلانے سے سب کے سب دشمن ہو گئے اور بجز خدا کے ایک بھی ساتھ نہ رہا۔ ‘‘ (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۷۶، ۴۷۷حاشیہ )

حضور علیہ السلام ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’جو اپنے اور خویش تھے ان کو بت پرستی سے منع کرکے سب سے پہلے دشمن بنایا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۱صفحہ۱۰۹)

آپؐ کے اپنے اور خویش اہل مکہ تھے ان کا ذکر اس اقتباس میں ہے کہ وہ بت پرستی کرتے تھے۔

حضورعلیہ السلام ایک اَور جگہ فرماتے ہیں: ’’جب ہمارے بزرگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ظاہر ہوئے تو ایک انقلاب عظیم دنیا میں آیا اور تھوڑے ہی دنوں میں وہ جزیرہ عرب جو بجز بت پرستی کے اور کچھ بھی نہیں جانتا تھا ایک سمند ر کی طرح خدا کی توحید سے بھر گیا۔ ‘‘ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۳۸۰)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:’’حضور کی قوم میں کوئی دینی کتاب کوئی قانون نہ تھا۔ ‘‘ (فصل الخطاب صفحہ: ۱۶)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی (الضحیٰ:۸)کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’پہلے معنے تو اس آیت کے یہ ہیں کہ تمہیں ہمارا راستہ معلوم نہ تھا، تم شریعت سے بے خبر تھے، تمہیں معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے کیا ذرائع ہیں۔ ایسی حالت میں ہم نے اپنی شریعت تم پر نازل کی اور تمہیں اپنی طرف آنے کا راستہ دکھادیا۔ دنیا کا کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ رسول کریم ﷺ ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے تھے جس میں کوئی شریعت نہیں تھی مگر اس کے باوجود آپؐ دن رات خداتعالیٰ کی طرف متوجہ رہتے تھے اور اس کے قرب اور وصال کے حصول کے متمنی تھے اس ملک میں عیسائی بھی موجود تھے اور یہودی بھی موجود تھے اور یہ دونوں قومیں وہ ہیں جن کے پاس خدا تعالیٰ کا کلام موجود تھا مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ان کے پاس تھا انہیں خدا تعالیٰ کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی اور وہ اس سے کلی بیگانگت کی حالت میں اپنی زندگی کے ایام بسر کر رہے تھے لیکن محمد رسول اللہﷺ کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس خدا تعالیٰ کا کوئی کلام نہیں تھا مگر پھر بھی آپ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ تھے۔ پس یہ امر محمد رسول اللہ ﷺ کے درجہ کی بلندی اور آپؐ کی عظمت کا ایک بیّن ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام اپنے پاس رکھنے والے تو خدا تعالیٰ سے دور ہو گئے مگر جس کے پاس خدا تعالیٰ کا کوئی کلام نہیں تھا وہ خد ا تعالیٰ کے قریب ہوتا چلا گیا۔ جب خدا تعالیٰ نے دیکھاکہ یہ وہ شخص ہے جو ہماری طرف آنا چاہتا ہے مگر اسے ہمارے قرب اور وصال کے راستوں کا علم نہیں ہے تو اس نے آپ پر شریعت نازل کر دی اور اس طرح تمام راستوں کو آپؐ پر منکشف کر دیا۔

آپؐ کا پہلے اس کوچہ سے ناواقف ہونا ہر گز قابل اعتراض امر نہیں۔ ہر صاحب شریعت نبی پر جب خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہوتی ہے تب اسے شرعی راستہ کا علم ہوتا ہے اس سے پہلے وہ اس راستہ سے واقف نہیں ہوتا۔ یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے کہ اے محمد رسول اللہ ﷺ تجھے ہمارے راستے کا علم نہیں تھا پھر ہم نے اپنے فضل سے تجھے وہ راستہ دکھا دیا جس کی جستجو تیرے دل میں پائی جاتی تھی۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد۱۳کمپیوٹرائزڈایڈیشن صفحہ۱۴۶ ،۱۴۷ زیر آیت الضحیٰ:۸)

اس آیت کی تفسیر کی ذیل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: ’’ضلال کے ایک معنے محبت شدید ہ کے بھی بتائے جا چکے ہیں ان کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ﷺہم نے تجھ کو شدید محبت میں مبتلا دیکھا تیرے اندر تڑپ تھی اپنے پیدا کرنے والے کے لیے تو زمین کو دیکھتا، تُو آسمان کی بناوٹ پر غور کرتا اور تیری فطرت تجھے کہتی کہ اس کارخانہ عالم کو پیدا کرنے والا ایک خدا ضرور ہے مگر ادھر تو اس قوم میں پیدا ہوا تھا جس کے پاس کوئی شریعت نہیں تھی اور جسے خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ معلوم نہیں تھا ہم نے دیکھا کہ جیسے یوسفؑ کے لیے یعقوب ؑتڑپ رہا تھا اس سے بھی زیادہ شوق اور محبت کے ساتھ تو اپنے پیدا کرنے والے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ تیری فطرت تجھے ہماری طرف توجہ دلاتی تھی مگر تجھے ہمارا راستہ ملتا نہ تھا۔ نیچر کی انگلیاں اٹھ اٹھ کر تجھے بتاتی تھیں کہ تیر ا کوئی مالک ہے، تیرا کوئی خالق ہے، تیرا کوئی رازق ہے۔ تو چاروں طرف دیکھتا اور کہتا کہ میرا خالق اور مالک کہاں ہے؟ میں اس کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ اور چونکہ کوئی شریعت نہیں تھی جس پر چل کر تو ہمارے پاس پہنچ جاتا اس لیے جب ہم نے تیری اس تڑپ اور محبت کا مشاہدہ کیا تو فَھَدٰی اے محمدﷺ ہم نے تجھے آواز دے دی کہ ہم یہاں ہیں ہمارے پاس آجاؤ۔ ‘‘ (تفسیر کبیر جلد۱۳کمپیوٹرائزڈایڈیشن صفحہ۱۴۸زیر آیت الضحیٰ:۸)

حضور رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: ’’کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ہم اس آیت کے یہ معنے کیوں نہ کر لیں کہ اس نے تجھے گمراہ پایا تھا پھر اس نے تجھے ہدایت دے دی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معنے اس لیے چھوڑے گئے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ معنے یہاں چسپاں نہیں ہوسکتے۔ دشمن اس آیت کے یہ معنے کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جادہ اعتدال سے یا جادہ شریعت سے ادھر ادھر ہو گئے تھے۔ یہ معنے خواہ لغتاً صحیح ہوں ہمارے نزدیک اس مقام پر کسی صورت میں بھی چسپاں نہیں ہو سکتے اور اس کی یہ وجہ ہے کہ ہدایت ہمیشہ دو قسم کی ہوتی ہے ایک ہدایت شرعی اور ایک ہدایت طبعی یا فطری۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تم یہ معنے کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو گمراہ پایا اور پھر انہیں ہدایت دی۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ دنیا میں ہدایت کی دو ہی قسمیں ہوتی ہیں یا ہدایت شرعی ہو جس سے انسان انحراف اختیار کر ے یا ہدایت طبعی اور فطری ہو جس کے خلاف عمل کرنے کے لیے وہ تیار ہو جائے۔ ان دو قسم کی ہدایتوں کے سوا اور کوئی ہدایت نہیں ہو سکتی۔ پس وہ لوگ جو اپنے معنوں پر اصرار کرتے ہیں ہم ان سے دریافت کرتے ہیں کہ اس آیت کے کیا معنی ہوں گے ؟ کیا یہ معنے ہوں گے کہ ضل محمد عن الشریعۃ المستقلۃ التی کانت القوم علیھا۔ کہ محمد ﷺ اس شریعت سے گمراہ ہو گئے جس پر قوم چل رہی تھی۔ اگر ہم یہ معنے کریں تو بالکل غلط ہوں گے کیونکہ اس وقت کوئی شریعت تھی ہی نہیں اور کوئی شخص بھی یہ تسلیم نہیں کرتا خواہ وہ اسلام کا کیسا ہی شدیدمعاند کیوں نہ ہو کہ محمد ﷺ کی قوم کسی شریعت پر قائم تھی اور آپ اس شریعت سے پھر گئے تھے۔ پس جو بات بالبداہت غلط ہے اور جس کی تکذیب کے لیے کسی دلیل کی بھی ضرورت نہیں وہ بات رسول کریمﷺ کی طرف منسوب کس طرح کی جاسکتی ہے اور کس طرح اس آیت کے یہ معنے کئے جا سکتے ہیں کہ آپ شریعت سے گمراہ ہو چکے تھے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دے دی۔ جب کوئی شریعت آپ کی قوم میں موجود ہی نہیں تھی اور آپ کسی شریعت کے مخاطب ہی نہیں تھے تو گمراہی اور ضلالت کے کیا معنے ہوئے ؟ محمد رسول اللہ ﷺ جس قوم میں پیدا ہوئے تھے اس کے پاس کوئی شریعت نہیں تھی، کوئی آسمانی قانون نہیں تھا جس پر وہ عمل کرتی، کوئی وحی نہیں تھی جس کو وہ اپنے سامنے رکھا کرتی۔ ایسی صورت میں ہم یہ معنے کس طرح کر سکتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ شریعت سے پھر گئے تھے۔ شریعت تو اس وقت کوئی تھی ہی نہیں جس کے آپؐ مخاطب ہوتے۔

دوسرے معنے یہ ہو سکتے ہیں کہ شریعت تو اس وقت بےشک کوئی نہیں تھی مگر آپ نعوذباللہ بداخلاق تھے، جادہ اعتدال سے منحرف ہو چکے تھے، ہدایت طبعی جو اخلاقی اور فطرتی ہدایت ہوتی ہے اس کے قانون کو آپ نے توڑ رکھا تھا اور خدا تعالیٰ نے اسی کی طر ف وَ وَجَدَکَ ضَالًّا فَہَدَیمیں اشارہ کیا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا یہ معنے یہاں چسپاں ہوتے ہیں یا نہیں۔ دشمن کہتا ہے کہ ضَآلاًّکے معنے بداخلاق کے ہیں گویا اس کے نزدیک رسول کریم ﷺکی زندگی کا داغدار ہونا اس آیت میں بیان کیا گیا ہے مگر دشمن تو اس آیت کے یہ معنے کرتا ہے اور خدا تعالیٰ دوسری جگہ ان معنوں کو بالکل غلط اور بے ہودہ قرار دیتے ہوئے رسول کریمﷺسے فرماتا ہے تو لوگوں کو چیلنج دے کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ تیری چالیس سالہ ابتدائی زندگی کا کوئی ایک عیب ہی ثابت کر دیں چنانچہ رسول کریمﷺنے چیلنج دیا اور فرمایا فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِہِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(یونس:۱۷) میں تم میں چالیس سال تک رہا ہوں اور تم میری زندگی کو دیکھتے چلے آئے ہو اگر تم میں ہمت ہے تو تم سب کے سب مل کر میری ابتدائی چالیس سالہ زندگی کا کوئی ایک عیب ہی ثابت کر کے دکھا دو مگر یاد رکھو تم ایسا کبھی نہیں کر سکو گے کیونکہ میری زندگی بالکل بے عیب ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے گناہ سے آج تک محفوظ رکھا ہے۔ اب بتاؤ کہ ہم یہ دوسرے معنے بھی کس طرح کر سکتے ہیں ؟ شریعت سے انحراف والی بات تو اس لحاظ سے بالبداہت باطل تھی کہ اس وقت آپ کی قوم کے پاس کوئی شریعت کی کتاب تھی ہی نہیں جس سے انحراف کرنے کا الزام آپ پر عائد ہو سکتا۔ باقی رہا اخلاق میں کسی قسم کے نقص کا ہونا سواس کے متعلق محمد رسول اللہ ﷺکا قرآن کریم میں دعویٰ موجود ہے کہ میں تم میں ایک لمبا عرصہ رہ چکا ہوں تم میری اس زندگی کا کوئی ایک عیب بھی ثابت نہیں کر سکتے۔ اس چیلنج کے یہ معنے نہیں تھے کہ میں تم میں ایک لمبا عرصہ رہ چکا ہوں بتاؤ میں نے قرآن کے احکام پر اس زندگی میں عمل کیا تھا یا نہیں ؟ کیونکہ قرآن کریم تو اس دعوی کے وقت میں نازل ہونا شروع ہوا ہے پہلے تو قرآن کریم تھا ہی نہیں۔ پس اس آیت میں ہدایتِ طبعی کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ہدایت شرعی کی طرف۔ اور اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺسے فرماتا ہے کہ تو لوگوں کو چیلنج دے اور ان سے کہہ کہ وہ بتائیں کہ کیا میری چالیس سالہ زندگی میں کوئی ایک دن بھی ایسا آیا جب میں نے ہدایت طبعی یعنی اخلاق کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہو جب کوئی ایک برائی بھی تم میری طرف منسوب نہیں کر سکتے، جب کوئی ایک بدی بھی تم میرے اندر ثابت نہیں کر سکتے تو اب کس طرح کہتے ہو کہ میں برا ہوں۔ غرض ان میں سے کوئی معنے بھی ایسے نہیں جو رسول کریم ﷺپر چسپاں ہو سکتے ہوں۔ جہاں تک ہدایت شرعی کا تعلق ہے عیسائی بھی تسلیم کر تے ہیں کہ نزول قرآن سے قبل اہل مکہ کے پاس کوئی شرعی قانون نہیں تھا اور جب وہ کسی شریعت کے پابند ہی نہیں تھے تو وَجَدَکَ ضَالًّاکے یہ معنے کس طرح ہو سکتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ شریعت سے منحرف ہو گئے تھے۔ دوسرے معنے ہدایت طبعی سے انحراف کے ہو سکتے ہیں مگر وہ بھی رسول کریم ﷺپر چسپاں نہیں ہو سکتے کیونکہ قرآن کریم میں آپ کی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی زندگی کے متعلق چیلنج موجود ہے اور لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے بے عیب زندگی بسر کی تھی۔ جب دونوں معنے آپ پر چسپاں نہیں ہوسکتے تو دشمنان اسلام کااس آیت کے یہ معنے کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺنعوذ باللہ گمراہ ہو گئے تھے۔‘‘(تفسیر کبیر جلد۱۳کمپیوٹرائزڈایڈیشن صفحہ۱۵۰تا۱۵۲ زیر آیت الضحیٰ:۸)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے گلشن وقف نو ناصرات منعقدہ۳۱؍جنوری۲۰۱۶ء میں ایک بچی نے سوال کیا کہ آنحضور ﷺ کا بعثت سے پہلے کیا مذہب تھا ؟

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے جواباً فرمایا: اس زمانے میں بھی اکثریت جو تھی وہ بتوں کو پوجنے والی تھی اورخانہ کعبہ میں ۳۶۰بت رکھے ہوئے تھے۔ لیکن اس وقت بھی ایسے لوگ تھے جو موحد تھے۔ موحد ان کو کہتے ہیں جو توحید پر قائم ہوں جو ایک اللہ کو ماننے والے ہوں۔توآنحضرتﷺ نے کبھی بھی شرک نہیں کیا۔ آپ کو شرک سے اس وقت بھی نفرت تھی۔ اور بتوں کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ اسی لیے ایک تو بچپن میں ہی اللہ تعالیٰ نے ان کا سینہ صاف کر دیا تھا۔…توحید کے ہی قائل تھے آنحضرت ﷺ۔ کوئی مذہب اس وقت تونہیں مانتے تھے یہ تھا کہ خدا ایک ہے اور خدا کی عبادت کرنی چاہیے۔ اسی لیے غار حرامیں جاتے تھے عبادت کرنے کے لیے اور کئی کئی دن کاکھانابھی ساتھ لے جایاکرتے تھے وہیں عبادت کیاکرتے تھے۔تو عیسائی مذہب بھی نہیں تھا، یہودی بھی نہیں تھااور ان بت پرستوں کا مذہب بھی نہیں تھا۔ ہر چیز سے آنحضرت ﷺ کوایک علیحدگی تھی۔ لیکن یہ تھا کہ توحید ہونی چاہیے، خدا ہونا چاہیے جو پیدا کرنے والا ہے اس کی طرف رجحان تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے غار حرا میں فرشتہ بھیجا جس نے پہلی وحی کی۔ (اقْرَأْبِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ)آنحضرت مشرک نہیں تھے اور صرف آنحضرت ﷺ نہیں اور بھی لوگ تھے جو اس زمانے میں بھی توحیدکے قائل تھے، ایک خدا کے قائل تھے۔ (گلشن وقف نو ناصرات۔ ریکاڈنگ ۳۱؍جنوری۲۰۱۶ء)

حرف آخریہ ہے کہ آپ ﷺاپنی قومی حالت سے پریشان تھے ہمیشہ ان کے غلط مشرکانہ کاموں سے کراہت فرماتے غرباء کی امداد کرتے سچ بولتے اور فطری طور پر پاک باطن حالت ایمانداری کا سلوک فرماتے پس آپ اسی بنا پر ان کی حالت سے الگ بیٹھ کر حل ڈھونڈنے میں کھوئے رہتے اور اکثر کئی کئی راتیں لوگوں سے جدا ہو جاتےدوسری طرف کوئی عالمی یا مقامی مذہب بھی نہ تھا کہ جو اس وقت کے انسانوں کو راہنمائی مہیا فرماتا اور نہ ہی کوئی طاقتور الہامی راہنما شریعت ہی تھی کہ ضوابط و اخلاق سکھلاتی پس آپ ﷺبنا کسی مذہبی اور شریعتی اثر کے محض فطری خلافت اللہ کے تحت آدم اعلیٰ ثابت ہوئے اور نہایت درجہ تڑپ کے ساتھ لوگوں کی راہنمائی کے لیے بےقرار رہتے رہے۔ خدا تعالیٰ آپ کی اس حالت پر فرماتا ہے: وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۔ (الضحیٰ:۸)یعنی اس حالت میں گم پایا اور اصل طریق ان کی اصلاح کا سکھا دیا اور پھر ہمیں یہ بھی بتا دیا کہ یہ سب وحی ٔ کامل سے نہ ہوتا تو لوگ اس علم اور آپ کے پہلے والے علم سے الجھ جاتے کہ شاید یہ بھی آپ نے اپنے پاس سے بتایا پس اسی واسطے فرماتا ہے: مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ(الشوریٰ:۵۳) یعنی تو نہ جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے (یعنی ۶۰۰ سال قبل کی الہامی کتاب انجیل اور ۲۰۰۰ ہزار سالہ پرانی الہامی تورات کا علم خاص آپ کو نہ تھا۔ چہ جائیکہ اس سے بھی ۳۰۰۰ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف پاک کا علم خاص آپ کو ہوتا)پھر فرماتا ہے اور آپﷺ ایمان کو بھی نہ جانتے تھے اسی واسطے جب فرشتہ نے سینے سے لگا کر سکھایا تو آپؐ نے جانا اور حیرت سےدہرایا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَق(سورۃ علق)اور اس کے بعد آپ کا علم و ایمان مقامِ محمود کی طرف بسرعت بڑھنے لگا اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وَلَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰی(الضحى:۵)یعنی خداتعالیٰ کی طرف سے سند خاص آپ کو حاصل ہوگئی اس وعدۂ الٰہی کے ساتھ کہ آپ ﷺ کے آغاز سے انجام (خیر) بہترین ہوگا۔ اور ایسا ہونا اس دنیا میں سچ ہوتا ہم نے پایا۔ اور بفضلِ تعالیٰ شاہد ہوئے کہ جب آپﷺکے وسیلہ سے ۱۳ ویں صدی کے آواخر اور ۱۴ویں صدی ہجری کہ سر پر آپ ﷺکے روحانی بیٹے نے محض ظلِّ محمدیﷺ کمالات مقدسہ کر دکھلائے۔

اللّٰھم صلِّ علٰی محمد وآلِ محمد

(م۔ م۔ ظفر)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button