خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۸؍اکتوبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: کل يوکے جماعت مسجد فضل کے سو سال مکمل ہونے پر ايک تقريب منعقد کر رہی ہے جس ميں غير، مہمان، ہمسائے وغيرہ بھي مدعو کيےگئےہيں… آج مسجد فضل کے حوالے سے ہي مَيں کچھ ذکر کرنا چاہتا ہوں اور اس ذکر کي اہميت کا اظہار اس وقت ہو گا يا ہم جو تقريب سو سال پورے ہونے پر کر رہے ہيں، اس کا فائدہ تب ہو گا جب ہم مسجد کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں گے جو کہ اس کي آبادي کا حق ہے۔ اپني حالتوں کو بدلنے کا حق ہے۔ اللہ تعاليٰ سے تعلق ميں بڑھنے کا حق ہے اپني نسلوں کو مسجد سے جوڑنے کا حق ہے۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ووکنگ (woking)میں بنائی گئی مسجد کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: مسجد فضل کي تعمير سے پہلے ووکنگ (Woking) ميں ايک مسجد بنائي گئي تھي اور اس کو بنانے والے مشہور مستشرق جي ڈبليو لائٹنر (G W Leitner)تھے جو لاہور ميں اوريئنٹل کالج کے پرنسپل کے عہدے سے ريٹائرڈ ہوئے۔ پھر انگلستان واپس آگئےاور اٹھارہ سو نواسي (۱۸۸۹ء) ميں ووکنگ کے علاقے ميں ايک مسجد تعمير کروائي۔ يہ بھي عجيب اتفاق ہے کہ يہ وہي سال ہے جب جماعت احمديہ مسلمہ کا قيام عمل ميں آيا اور باني جماعت احمديہ حضرت مرزا غلام احمد مسيح موعودؑنے جماعت احمديہ کا آغاز فرمايا۔ ان مشہور پروفيسر صاحب نے مشرقي علوم کا ايک ادارہ بھي اس کے ساتھ قائم کيا تا کہ مسلمان ديني علم بھي حاصل کر سکيں اور اپني عبادت بھي کر سکيں۔ يہ مسجد جو بنائي گئي اس ميں ايک خطير رقم واليہ بھوپال بيگم شاہ جہاں نے دي تھي اور انہي کے نام پر اس کا نام بھي ہے۔ بہرحال ان پروفيسر صاحب کي ۱۸۹۹ء ميں وفات ہو گئي اور يہ مسجد بھي مقفل ہو گئي۔ اس کو سنبھالنے والا کوئي نہيں تھا۔ پھر حضرت خليفة المسيح الاول ؓکے زمانے ميں خواجہ کمال الدين صاحبؓ يہاں آئے۔ انہوں نے اسے کھلوانے کي کوشش کي اور کامياب ہوئے اور انہوں نے حضرت خليفة المسيح الاول ؓکو لکھا کہ اب اس مسجد کا ايک ٹرسٹ بنايا گيا ہے جس کا مجھے نگران بنايا گيا ہے اور پھر دوبارہ اس ميں عبادت شروع ہوئي۔ جب يہ کھولي گئي اس وقت خواجہ کمال الدين صاحبؓ کے ساتھ چودھري ظفر اللہ خان صاحبؓ بھي اس مسجد ميں گئے۔ وہاں جا کر انہوں نے نفل پڑھے۔ بڑي دعائيں کيں۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے مبلغين کي تحريک کي ليکن فنڈز مہيا نہيں ہو سکتے تھے ليکن بہرحال کسي طرح کوشش کر کے چودھري فتح محمد صاحب سيالؓ يہاں بھجوائےگئےاور انہوں نے پھر خواجہ صاحب کے ساتھ کچھ عرصہ کام کيا۔ پھر حضرت خليفة المسيح الاولؓ کي وفات کے بعد خواجہ صاحب نے خليفة المسيح الثانيؓ کي بيعت نہيں کي تو اس پر چودھري فتح محمد صاحب سيالؓ انہيں چھوڑ کر دوسري جگہ چلےگئے۔ بہرحال يہ ووکنگ کي مسجد تھي ليکن باقاعدہ کسي مسلمان فرقے يا جماعت احمديہ کي طرف سے جو مسجد ہے وہ مسجد فضل ہي ہے جو بنائي گئي۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مغرب میں اسلام کے پھیلنے کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: حضرت مسيح موعود ؑنے اسلام کے مغرب ميں پھيلنے کے بارے ميں بہت کچھ بيان فرمايا ہے۔ يہي چيز ہے جو ہماري تبليغي سرگرميوں کي بنياد ہے۔ ايک جگہ اسلام کے مغرب ميں پھيلنے کے بارے ميں ايک رؤيا کے حوالے سے آپؑ بيان فرماتے ہيں کہ ايسا ہي طلوعِ شمس جو مغرب کي طرف سے ہو گا ہم اس پر بہرحال ايمان لاتے ہيں ليکن اس عاجز پر جو ايک رؤياميں ظاہرکيا گيا ہے وہ يہ ہے جو مغرب کي طرف سے آفتاب کا چڑھنا يہ معني رکھتا ہے کہ ممالک مغرب جو قديم سے ظلمت کفر وضلالت ميں ہيں آفتابِ صداقت سے منور کيے جائيں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔بڑي تحدّي سے آپؑ نے فرمايا، اس ليے ہميں اميد رکھني چاہيے ان شاءاللہ تعاليٰ ان ممالک ميں بھي اسلام پھيلے گا۔ پھر آپؑ کي ايک اور پيشگوئي ہے ۔آپؑ فرماتے ہيں:مَيں نے ديکھا کہ ميں شہر لندن ميں ايک منبر پر کھڑا ہوں اور انگريزي زبان ميں ايک نہايت مدلل بيان سے اسلام کي صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔ بعد اس کے ميں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بيٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفيد تھے اور شايد تيترکے جسم کے موافق ان کا جسم ہو گا۔سو ميں نے اس کي يہ تعبير کي کہ اگرچہ ميں نہيں مگر ميري تحريريں ان لوگوں ميں پھيليں گي اور بہت سے راستباز انگريز صداقت کاشکار ہو جائيں گے۔ درحقيقت آج تک مغربي ملکوں کي مناسبت ديني سچائيوں کے ساتھ بہت کم رہي ہے گويا خدا تعاليٰ نے دين کي عقل تمام ايشيا کو دے دي اور دنيا کي عقل تمام يورپ اور امريکہ کو۔ فرمايا کہ نبيوں کا سلسلہ بھي اول سے آخر تک ايشيا کے ہي حصہ ميں رہا اور ولايت کے کمالات بھي انہيں لوگوں کو ملے۔ اب خدا تعاليٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔ يعني مغربي ممالک کے لوگوں پر اللہ تعاليٰ نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔پس يہ ہے حضرت مسيح موعود عليہ السلام کا ارشاد، خواہش اور دعا اور خوشخبري اور يہ ہے وہ کام جس کو جاري رکھنے کے ليے آج جماعت احمديہ انگلستان ميں بھي اور برطانيہ کے علاوہ دنيا کے مختلف ممالک ميں بھي، امريکہ ميں بھي اور دوسرے مغربي ممالک ميں بھي اسلام کا حقيقي پيغام پہنچا رہي ہے اور مسجد فضل کي ابتدا بھي اسي غرض کو پورا کرنے کے ليے ہوئي تھي
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے انگلستان میں تبلیغ اور مسجدکے قیام کے لیے جگہ کی خرید کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: چودھري فتح محمد صاحب سيالؓ جماعت احمديہ کے پہلے مبلغ ہيں جو باقاعدہ مبلغ بن کےيہاں آئے اور سب سے پہلا پھل بھي آپؓ کو ملا جن کا نام مسٹر کوريو تھا جو ايک جرنلسٹ تھے۔ يہ مسلمان ہوئے اور اس کے بعد پھر ايک درجن سے زائد لوگ احمدي مسلمان ہوئے۔ چودھري صاحب کي تبليغ زيادہ تر ليکچروں کے ذريعہ سے ہوتي تھي۔ آپ اسلام کا پيغام اس طرح پہنچايا کرتے تھے کہ مختلف جگہوں پر کلبوں ميں اور سوسائٹيوں ميں جا کے تقرير کيا کرتے تھے پھر يہاں قاديان سے حضرت خليفة المسيح الثانيؓ نے چودھري فتح محمد صاحب سيالؓ کو واپس بلا کے قاضي عبداللہ صاحبؓ کو مبلغ بنا کے بھيجا۔ انہوں نے يہاں کچھ عرصہ کام کيا اور يہ قاضي صاحبؓ بھي صحابي تھے اور ان حالات ميں جبکہ جنگ شروع ہو چکي تھي يہ بڑا مشکل کام تھا۔ پہلي جنگ عظيم شروع ہو گئي تھي۔ تبليغ کا کام بہت مشکل تھا ليکن يہ لوگ تبليغ کا کام کرتے رہے۔ قاضي صاحب کے زمانے ميں مشن کو ايک مستقل جگہ بنانے کي غرض سے سٹار سٹريٹ کا مکان کرائے پر ليا گيا۔ پھر تاريخ ميں يہ بھي لکھا ہے کہ قاضي صاحبؓ کے يہاں ہوتے ہوئے ہي حضرت خليفة المسيح الثاني ؓنے حضرت مفتي محمد صادق صاحبؓ کو مبلغ کے طور پر بھجوايا۔ انہوں نے ۱۹۱۷ء سے جنوري ۱۹۲۰ء تک يہاں قيام کيا۔ ۱۹۱۹ء ميں دوبارہ چودھري فتح محمد صاحب سيالؓ کو اور مولوي عبدالرحيم صاحب نير کو يہاں بھجوايا گيا اور ان دونوں نے بے لوث کام کيا اور احمديت کي تبليغ کي۔ ۱۹۲۰ء ميں چودھري فتح محمد صاحب سيالؓ کو حضرت خليفةالمسيح الثانيؓ کي طرف سے يہ کہا گيا کہ انگلستان ميں کوئي زمين خريديں جہاں مسجد بنائي جائے اور ايک باقاعدہ مشن ہاؤس بنا کے وہاں کام شروع کيا جائے جس کے ليے پھر کوشش ہوئي اور دوہزار دو سو پاؤنڈ سے اوپر کي رقم سے پٹني کے علاقے ميں يہ جگہ خريدي گئي۔
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مسجد فضل کا نام عطا فرمانے اور حضرت مصلح موعود ؓکے سفر یورپ کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: حضرت خليفة المسيح الثاني ؓکوجب يہ اطلاع ملي تو اس وقت آپ ڈلہوزي ميں تھے۔ آپ نے وہاں بڑا فنکشن کيا اور پھر وہاں مسجدفضل کے نام سے اس مسجد کا نام بھي معين فرمايا اور اس کے بعد چندے کي تحريک ہوئي تا کہ مسجد کي تعمير کے ليے زيادہ سے زيادہ رقم اکٹھي ہو سکے۔ يہ قطعہ زمين ايک يہودي سے حضرت چودھري فتح محمد صاحب سيالؓ نے خريدا تھا۔ جيسا کہ ہميں پتہ ہے جس ميں اب تو نئي تعمير ہو چکي ہے ليکن اس وقت ايک مکان تھا اور تقريباً ايک ايکڑ کے قريب زمين تھي۔ پھر تاريخ ہميں بتاتي ہے کہ اس مسجد کي مزيد کس طرح آگے پيشرفت ہوئي، تعمير کس طرح ہوئي کہ ۱۹۲۴ء ميں نمائش کے دوران بعض معززين کو يہ خيال آيا کہ اس عالمگير نمائش کے ساتھ ساتھ دنيا کے مختلف مذاہب کي بھي نمائش کي جائے اور عيسائي مذہب کو الگ رکھ کر جس کے حالات سے اہل مغرب خود ہي واقف ہيں دوسرے مذاہب کے بارے ميں معلومات لي جائيں اور ان کے نمائندوں کو لندن بلا کر ان کے ليکچر دلوائے جائيں۔ اس کے ليے انہوں نے مولوي عبدالرحيم صاحب نير کو بھي جو اس وقت يہاں مبلغ تھے جماعت احمديہ کي طرف سے ليکچر دينے کے ليے مدعو کيا۔ مولانا نير صاحب نے قاديان اطلاع کي۔ اس پر حضرت خليفةالمسيح الثانيؓ نے اس کو قبول کرتے ہوئے فرمايا کہ يہاں سے کوئي نمائندہ ہم بھيجيں گے جو اسلام کي خوبياں بيان کرے اور ساتھ ہي آپ نے خود، حضرت خليفة المسيح الثانيؓ نے ايک مضمون لکھنا شروع کر ديا جس ميں اسلام کي خوبياں بيان کي گئيں اور حقيقي تعليم بيان کي گئي اور يہ ليکچر کے ليے بڑي ضخيم کتاب بن گئي جو آپ نے لکھ کے دي جو احمديت يا حقيقي اسلام کے نام سے اب شائع بھي ہو چکي ہے۔ بہرحال اس کے بعد جماعتي نمائندگان کي شوريٰ بلائي گئي جس ميں حضرت مرزا بشير احمد صاحبؓ اور حضرت عبدالرحيم صاحب دردؓ نے تجويز کي کہ يہ ايک ايسا موقع ہے کہ حضرت خليفة المسيح خود وہاں جائيں بجائے اس کے کہ کسي نمائندے کو بھيجا جائے اور چند رفقاء بھي آپ کے ساتھ ہوں۔ اس کے بعد يہ فيصلہ ہوا کہ آپ خود انگلستان تشريف لے جائيں گے۔ دمشق اور مصر وغيرہ کے دورے کرتے ہوئے يورپ پہنچيں گے اور اپنے ساتھ چند افراد کو لے کے جائيں گے جن ميں چودھري ظفراللہ خان صاحبؓ اور حضرت مرزا شريف احمد صاحبؓ بھي شامل تھے۔ يہ دونوں حضرت مرزا شريف احمد صاحبؓ اورچودھري ظفر اللہ خان صاحبؓ يہاں اپنے خرچ پہ آئے تھے۔ اسي طرح حضرت خليفة المسيح الثانيؓ نے بھي اپنا خرچ خود ديا تھا۔ بہرحال حضرت خليفة المسيح الثانيؓ دمشق اور مصر سے ہوتے ہوئے اٹلي اور سوئٹزرلينڈ اور فرانس کے راستے سے انگلستان پہنچے۔ ۲۲ اگست ۱۹۲۴ء کو يہاں پہنچے اور يہاں بھي ايک دلچسپ بات يہ ہے کہ اس ورود مسعود کے متعلق حضرت خليفة المسيح الثانيؓ کو ايک رؤيا پہلے سے دکھلايا گيا تھا کہ وہ سمندر کے کنارے انگلستان کے ايک مقام پر اترے ہيں اور ايک لکڑي کے کُندے پر پاؤں رکھ کر ايک کامياب جرنيل کي طرح چاروں طرف نظر کر رہے ہيں کہ آواز آئي: وليم دي کنکرر(William the Conqueror) ۔ گويا انگلستان کي روحاني فتح حضور کے ورود انگلستان کے ساتھ مقدر تھي جو اب ظہور ميں آئي۔اخبارات نے حضورؓ کے سفر اور انگلستان پہنچنے کو بڑا نماياں طور پر شائع کيا اور آپؓ وہاں پہنچ کر پھر لندن وکٹوريہ سٹيشن پر اترے۔ پورٹ سے پھر وہاں وکٹوريہ گئے۔ يہاں آپ اترے۔ يہاں سے آپ اور آپ کي جماعت سينٹ پال کے عظيم الشان اور انگلستان کے سب سے بڑےگرجے کے سامنے پہنچے اور اس کے بعد اس کے سامنے ٹھہر کر آپ نے خدائے ذوالجلال سے اسلام اور توحيد کي فتح کي دعا کي اور پھر آپ اپنے قافلے کے ساتھ شہر ميں داخل ہوئے۔ آپ کي رہائش کے ليے ايک اچھي جگہ کا پہلے سے ہي انتظام کر ليا گيا تھا۔جو عمارت کرائے پر لي گئي تھي اس جگہ ايک بڑا گھر تھا۔ مذہبي کانفرنس کے مضمونوں اور پرائيويٹ ملاقاتوں اور پبلک ليکچروں اور اس دوران ميں کابل سے يہ خبر بھي ملي تھي کہ نعمت اللہ خان صاحب شہيد کو سنگسار بھي کيا گيا تھا ۔ تو اس کے واقعات کي وجہ سے جماعت احمديہ کو کافي شہرت ملي اور کافي اخباروں ميں اس کا چرچا ہوا۔ بہرحال ان فنکشنوں کے بعد مسجد کے سنگِ بنياد رکھنے کي باري آئي اور يہ کام بھي اللہ تعاليٰ کے فضل سے نہايت شاندار اور پراثر طريقے سے ہوا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ایک نصیحت آموز بات




