بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر۱۱۱)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… کیا موسیقی کا آلہ بجانا سیکھنا حرام ہے؟

٭… حدیث میں کرنسی سکوں کو توڑنے سے جو منع کیا گیا ہے، اس کی غرض مہنگائی یا Inflation کو روکنا ہوسکتی ہے؟

٭…شادی سے قبل مباشرت بُرا فعل کیوں سمجھا جاتا ہے، اور کیا جماعت احمدیہ کے نزدیک بھی یہ بُرا فعل ہے؟ (۲) عورت کے متعلق زور دیا جاتا ہے کہ وہ کنواری رہے مگر مردوں کے متعلق کیوں اس پر توجہ نہیں دی جاتی؟ (۳) کیا جماعت میں بھی شادی سے قبل عورت کو ڈاکٹر سے چیک کروایا جاتا ہے کہ وہ کنواری ہے، حالانکہ کھیل اور ورزش کے دوران بھی ہائمن پھٹ سکتی ہے؟ (۴)کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ احمدی مرد فحش چیزیں نہیں دیکھتے، شادی سے پہلے جنسی تعلقات نہیں رکھتے؟ (۵) کیا شادی میں بھی ریپ ہو سکتا ہے۔ میں کافی احمدی خواتین کو جانتی ہوں جو ازدواجی عصمت دری کا شکار بنیں۔ اس پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟ (۶) اگر دو انسان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو انہیں شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے، اس کا مطلب ہوا کہ جنسی ضرورت کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے نہ کہ آپس کی محبت کی وجہ سے؟ (۷) کیا ایسے مرد موجود ہیں جو شادی تک انتظار کر سکتے ہیں؟

٭… حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعجاز المسیح میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات رحمٰن اور رحیم کے چشمہ سے نکلی ہیں مگر ایک اور کتاب میں حضورعلیہ السلام نے رحمٰن، رحیم، رب العالمین اور مالک یوم الدین چار صفات کو بنیادی قرار دیا ہے۔ ہم ان صفات باری تعالیٰ کے باہمی تعلق کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں؟

٭… نو مبائعین کس طرح جماعت کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں؟

سوال: شام سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ میں موسیقی کا آلہ بجانا سیکھ رہا ہوں، کیا یہ حرام ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۸؍دسمبر ۲۰۲۳ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: ایک احمدی کو ایسے کام کرنے چاہئیں جو مشتبہ امور سے پاک ہوں۔ چنانچہ حضورﷺنے اس بارے میں ہماری راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حلا ل اور حرام واضح ہیں اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں۔ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو کوئی مشتبہ چیزوں سے بھی بچ گیااس نے اپنے دین اور عزت کو بچالیا۔ اور جو کوئی ان مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو کسی کی محفوظ چراگاہ کے قریب اپنے جانوروں کو چراتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس کے جانور کبھی اس چراگاہ میں گھس جائیں۔ سن لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبر لدینہ)

پس آلات موسیقی بجانا اور انہیں سیکھنا بھی میرے نزدیک مشتبہ امور میں شامل ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس سے بچا جائے۔ گھر میں بیٹھ کر کبھی کبھار موسیقی کا کوئی آلہ بجا لینا اَور بات ہے لیکن ان آلات کو بجانا سیکھ کر پھر لوگوں کو سنانے کے لیے بازاروں، مختلف پروگراموں اور Concerts میں جاکر انہیں بجانا، کئی قباحتوں کا دروازہ کھولنے اور مختلف برائیوں میں مبتلا ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے۔

سوال: یوکے سے ایک شخص نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ حدیث میں کرنسی سکوں کو توڑنے سے جو منع کیا گیا ہے، اس کی غرض مہنگائی یا Inflation کو روکنا ہو سکتی ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۲؍جنوری ۲۰۲۴ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:کرنسی سکوں کو توڑنے کی ممانعت پر مبنی جن احادیث کا آپ نے اپنے خط میں ذکر کیا ہے وہ سنن ابی داؤد کتاب البیوع اور سنن ابن ماجہ کتاب التجارات میں حضرت عبدا للہ بن مسعود ؓ کی روایت سے مذکور ہیں کہ حضورﷺنے مسلمانوں میں رائج سکوں کو بلاضرورت توڑنے سے منع فرمایا ہے۔

اصل میں اُس زمانہ میں حکومتی سکے درہم(جو عموماً چاندی کا ہوتا تھا)اور دینار (جو عموماً سونے کا ہوتا تھا)کا لین دین گن کر ہوتا تھا وزن کر کے نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے بعض لوگ ناجائز طور پر ان سکوں کے کنارے کاٹ کر ان کا سونا یا چاندی اپنے پاس رکھ لیتے اور سکوں کو گن کر بازار میں چلا دیتے تھے۔ اسی طرح بعض لوگ انہیں ڈھال کر چاندی یا سونے کی ڈلیاں بنا کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے، جس سے بازار میں کرنسی کی Circulationکم ہو جاتی تھی، جس سے حکومت کا نقصان ہوتا اور لوگوں کو کرنسی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس لیے حضور ﷺنے مسلمانوں کی تربیت کے پیش نظر انہیں دیگر برائیوں سے اجتناب کی طرح اس برائی ، دھوکادہی اور حکومتی نقصان سے بھی اجتناب کا حکم دیا۔

لیکن جہاں ان سکوں کو ڈھالنے کی ضرورت ہومثلاً جو سکےپرانے ہو کر کھوٹے ہو چکے ہیں، یا Tampering کی وجہ سے جن سکوں کی مالیت کم ہو گئی ہو، یا حکومت کی تبدیلی کے نتیجہ میں نئی آنے والی حکومت اپنے سکے بازار میں چلانا چاہتی ہو تو ایسی تمام صورتوں میں متعلقہ انتظامیہ پر اس ممانعت کا حکم لاگو نہیں ہوتا تھا اور انتظامیہ ان پرانے سکوں کو ڈھال کر نئے سکے بنا سکتی تھی۔

پس حضورﷺ کے اس حکم کا مہنگائی اور Inflation سے کوئی تعلق نہیں۔ اس زمانہ میں عموماً اشیاء خورونوش کی عارضی کمی اور مہنگائی قحط سالی کے نتیجہ میں ہوا کرتی تھی۔ اور جب قحط سالی کا عرصہ گزر جاتا ، معیشت بحال ہو جاتی تو اشیاء کی عارضی کمی بھی دور ہو جاتی اور چیزوں کی قیمتیں بھی پرانی جگہ پر واپس آ جاتی تھیں۔

سوال: جرمنی سے ایک غیر احمدی خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ شادی سے قبل مباشرت بُرا فعل کیوں سمجھا جاتا ہے اور کیا جماعت احمدیہ کے نزدیک بھی یہ بُرا فعل ہے؟ (۲) عورت کے متعلق زور دیا جاتا ہے کہ وہ کنواری رہے مگر مردوں کے متعلق کیوں اس پر توجہ نہیں دی جاتی؟ (۳) کیا جماعت میں بھی شادی سے قبل عورت کو ڈاکٹر سے چیک کروایا جاتا ہے کہ وہ کنواری ہے، حالانکہ کھیل اور ورزش کے دوران بھی ہائمن پھٹ سکتی ہے؟ (۴)کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ احمدی مرد فحش چیزیں نہیں دیکھتے، شادی سے پہلے جنسی تعلقات نہیں رکھتے؟ (۵) کیا شادی میں بھی ریپ ہو سکتا ہے۔ میں کافی احمدی خواتین کو جانتی ہوں جو ازدواجی عصمت دری کا شکار بنیں۔ اس پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟ (۶) اگر دو انسان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو انہیں شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے، اس کا مطلب ہوا کہ جنسی ضرورت کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے نہ کہ آپس کی محبت کی وجہ سے؟ (۷) کیا ایسے مرد موجود ہیں جو شادی تک انتظار کر سکتے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵ جنوری ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: آپ کے خط میں پوچھے جانے والے سوالات عموماً اللہ تعالیٰ سے دوری کے نتیجہ میں اور اس کے دین کی تعلیمات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے یاد رکھیں کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا اس نے مختلف وقتوں اور مختلف علاقوں میں اپنے انبیاء اور اپنی تعلیمات بھجوا کر انسان کو زندگی گزارنے کے اصول اور مختلف قواعد و ضوابط عطا فرمائے۔ اور پھر ہمارے آقاو مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺکو بھجوا کر دین کو مکمل فرما دیا اور قیامت تک کے لیے زندگی گزارنے کے طریق اور اسلوب ہمیں سکھائے۔ اسی دینی تعلیم میں معاشرتی زندگی کا ایک اصول خدا تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ نکاح اور شادی کے بغیر مرد و عورت کا جسمانی تعلق رکھنا ناجائز اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کے زمرہ میں آتا ہے اور ایسے تعلق کو اسلام نے زنا کا نام دیا اور اسے گناہ قرار دیا۔ اس لیے اسے اسلامی معاشرے میں بھی بُرا سمجھا جاتا ہے اور جماعت احمدیہ جو اسلام کی حقیقی تعلیمات کی علمبردار ہے کے نزدیک بھی یہ فعل بُرا ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے۔

آپ کا دوسرا سوال کہ اسلام میں مردوں کی اصلاح پر زور نہیں دیا جاتا اور صرف عورتوں کے متعلق زور دیا جاتا ہے کہ وہ شادی سے پہلے کنواری رہیں،یہ درست بات نہیں ہے۔ شریعت تو مرد و عورت دونوں کے متعلق یہی تعلیم دیتی ہے کہ وہ دونوں ہر قسم کی برائیوں سے مجتنب رہیں۔ قرآن کریم میں جہاں پر عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، وہیں پر مردوں کو بھی یہی حکم دیا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اور ترتیب کے لحاظ سے یہ حکم پہلے مردوں کو دیا گیا ہے، بعد میں عورتوں کا ذکر ہے۔ (سورۃ النور:۳۲،۳۱)پھر جہاں تک ناجائز جسمانی تعلقات کی بات ہے تو قرآن کریم میں جس جگہ زانیہ عورت کو سزا دینے کا ذکر ہے وہیں پر اور اسی طرح زانی مرد کو بھی سزا دینے کا ذکر ہے، ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ (سورۃ النور:۳) پھر آنحضورﷺکے زمانہ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو اُس زمانہ میں بھی ہمیں مردوں کو زنا کی سزا دیے جانے کے کئی واقعات ملتے ہیں جبکہ عورت کو زنا کی سزا دینے کا ایک آدھ واقعہ ہی ملتا ہے اور اس واقعہ میں بھی اس عورت کے آنحضورﷺکی خدمت میں بار بار حاضر ہو کر خود کوسزا دیئے جانے کےمطالبہ کا اصرار کے ساتھ ذکر ہے۔ (مؤطا امام مالک کتاب الحدود باب الرجم)

پس اسلام نے تو مرد و عورت دونوں کے لیے نیکی کےثواب اور برائی کی سزا دینے میں ہر جگہ برابری ہی کی تعلیم دی ہے۔ لیکن آپ جس مغربی معاشرہ میں رہتی ہیں ، اس میں مرد و عورت کے معاملات میں برابری کا صرف دعویٰ ہی کیا جاتا ہے عمل ہر گز نہیں ہے، جس کی وجہ سے زندگی کا توازن بگڑ چکا ہے اور نسل انسانی دنیوی اور روحانی لحا ظ سے تباہی کی طرف رواں دواں ہے۔

آپ کا تیسرا سوال کہ کیا شادی سے قبل عورت کے کنوارپن کو معلوم کرنے کے لیے اسے ڈاکٹر سے چیک کروانا چاہیے؟ واضح ہو کہ یہ ایک لغو بات اور بالکل غلط طریق ہے اور اس کا اسلامی تعلیم کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں۔ اگر کسی معاشرہ میں ایسا طریق ہے تو یہ خود وہاں کے لوگوں کا اپنا بنایا ہوا رواج ہے، اس کے ساتھ مذہبی تعلیم کا کوئی تعلق نہیں۔ اور ویسے بھی میڈیکل سائنس کے مطابق تو عورت کا پردہ بکارت کئی قسم کی کھیلوں اور ورزشوں مثلاً سائیکلنگ، گھڑ سواری، جمناسٹک اور جنگل جم پر چڑھنے سے نیز بعض بیماریوں کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرنے سے بھی پھٹ سکتا ہے۔

آپ کے چوتھے سوال، یعنی مردوں کے برائی کرنے یا شادی سے قبل ناجائز جنسی تعلقات استوار کرنے کا جواب یہ ہے کہ کوئی انسان کسی کی اچھائی یا برائی کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو عالم الغیب ہے اور وہی جانتا ہے کہ کسی انسان کا اندرونہ کیا ہے اور اس کے پوشیدہ اعمال کیسے ہیں۔ باقی جو کوئی بھی گناہ کا کام کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سزا دینے کا حق رکھتا ہےوہ چاہے تو اسے اس دنیا میں یا اخروی زندگی میں سزا دے یا اس کی توبہ کے نتیجہ میں اسے معاف فرما دے۔

شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان ریپ کی بابت آپ کے سوال کا جواب ہے کہ ایسا تصور بالکل غلط اور ایک لغو تصور ہے، کیونکہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک معاہدہ ہے، جس کے نتیجہ میں دونوں ایک دوسرے کے حقوق اور جذبات کا خیال رکھنے کے پابند ہوتے ہیں۔ اس لیے بغیر کسی جائز مجبوری کے نہ بیوی خاوند کو اس کے اس حق سے انکار کرسکتی ہے اور نہ خاوند بیوی کو انکار کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے اس جسمانی تعلق کو تسکین کا باعث بنایا ہے۔(سورۃالروم:۲۲)

پس اسلامی تعلیم یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی جسمانی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے باہم ایک دوسرے کے لیے تسکین اور اطمینان کا باعث بنیں اور گھر سے باہر دوسرے مرد و خواتین کے ساتھ ناجائز تعلق استوار نہ کریں۔ لیکن جن لوگوں نے اس خوبصورت تعلیم کو نظر انداز کیا ہے انہوں نے اپنے دینی و دنیوی سکون برباد کر لیے ہیں۔

شادی اور جنسی ضرورت کی بابت آپ کے سوال کے جواب میں تحریر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کو عفت و پاکدامنی کے ساتھ ساتھ بقائے نسل کا ذریعہ بھی قرار دیا ہے۔ صرف محبت کرنے سے نسل آگے نہیں چل سکتی، اور بقا کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ اگر کہو کہ محبت سے مراد مرد و عورت کا شادی نکاح وغیرہ کے بغیر جسمانی تعلق قائم کرنا ہے تو مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ اس نے جانوروں اور انسانوں میں فرق کیا ہے اور انسان کو اس نے اشرف المخلوقات کے درجہ پر قائم فرمایا ہے۔

آپ کا یہ سوال کہ کیا ایسے مرد موجود ہیں جو شادی تک جنسی تعلقات کا انتظار کرتے ہیں تو اس بارہ میں واضح ہو کہ ایسے مرد یقیناً موجود ہیں بلکہ کثرت سے ہیں، جو شادی کے بعد ہی تعلق قائم کرتے ہیں، اس سے پہلے نہیں۔ یہ آپ کی بدظنی ہوگی اگر کہیں کہ آجکل اس گند سے کوئی نہیں بچا ہوا۔

سوال: جرمنی ہی سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعجاز المسیح میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات رحمٰن اور رحیم کے چشمہ سے نکلی ہیں مگر ایک اور کتاب میں حضورعلیہ السلام نے رحمٰن، رحیم، رب العالمین اور مالک یوم الدین چار صفات کو بنیادی قرار دیا ہے۔ ہم ان صفات باری تعالیٰ کے باہمی تعلق کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں؟ (۲)اسی طرح انہوں نے نو مبائعین کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کس طرح جماعت کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں؟حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۷؍جنوری ۲۰۲۴ء میں ان امور کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: صفات باری تعالیٰ کے حوالے سے آپ کے سوال کا جواب ہےکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صفات باری تعالیٰ کے پُر معارف مضمون کو اپنی تصانیف اور ملفوظات میں مختلف جگہوں پر الگ الگ پیرایوں میں بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی چار بنیادی صفات، جو امّ الصفات بھی کہلاتی ہیں، کے بارہ میں حضورؑ فرماتے ہیں: واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ذاتی ہیں جو اس ذات کے تقاضا سے پیدا ہونے والی ہیں اور اُنہیں پر سب جہانوں کا مدار ہے اور وہ چار ہیں۔ ربوبیت۔ رحمانیت۔ رحیمیت اور مالکیت۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت(فاتحہ) میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے رَبِّ الْعَالَمِيْن،الرَّحْمٰن،الرَّحِيمْ،مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْن۔ پس یہ ذاتی صفات ہر چیز پر سبقت رکھتی ہیں اور ہر چیز پر محیط ہیں۔ تمام اشیاء کا وجود، ان کی استعدادیں، ان کی قابلیت اور ان کا اپنے کمالات کو پہنچنا انہیں کے ذریعہ سے ہے۔(کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۲۸)

کرامات الصادقین کے علاوہ براہین احمدیہ، چشمہ معرفت، اسلامی اصول کی فلاسفی،اعجاز المسیح، ایام الصلح،منن الرحمٰن اور پیغام صلح وغیرہ میں نیز ملفوظات میں بھی یہ مضمون مختلف پیرایوں میں بہت تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ وہاں سے آپ اس مضمون کی تفصیل پڑھ سکتے ہیں۔

باقی اعجاز المسیح میں حضور علیہ السلام نے جہاں پر اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کو رحمانیت اور رحیمیت کی شاخیں قرار دیا ہے، وہاں پر بھی حضور علیہ السلام نے ان دو صفات کا منبع ربوبیت کو ہی قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: اب ہم بسم اللّٰہ کی تفسیر کا خلاصہ دوبارہ بیان کرتے ہیں۔ پس جان لو کہ اللہ کا نام اسم جامد ہے جس کے حقیقی معنی صرف علیم و خبیر خدا ہی جانتا ہے۔ اللہ عَزَّّ اِسْمُہٗ نے اس نام کی حقیقت اس آیت میں بتائی اور اس نے اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو رحمانیت اور رحیمیت سے متّصف ہے یعنی احسان والی رحمت اور ایمانی حالت سے وابستہ رحمت سے متّصف ہے اور یہ دونوں رحمتیں ربوبیت کے منبع سے نکلنے والے مصفّیٰ پانی اور شیریں غذا کی مانند ہیں۔ اور ان دو صفات کے علاوہ تمام دیگر صفات ان صفات کی شاخیں ہیں۔ اور اصل صرف رحمانیت اور رحیمیت ہی ہیں۔ اور یہ دونوں ذات الہٰی کے بھید کا مظہر ہیں۔ (اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۱۱۶،۱۱۵)

اس عبارت کو اگر آپ غور سے پڑھیں گے تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا کہ ایک تو حضور علیہ السلام نے ان دو صفات(رحمانیت اور رحیمیت) کو ربوبیت کے منبع سے نکلنے والا ہی قرار دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ حضور علیہ السلام یہ بات بسم اللہ کی آیت کے حوالہ سے فرما رہے ہیں۔ اور چونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صرف ان دو ذاتی صفات کا ذکر ہے اس لیے حضور علیہ السلام یہاں دراصل یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات اس کی ان دو ذاتی صفات کی شاخیں ہیں اور ان دونوں ذاتی صفات کا منبع بھی دراصل اس کی ایک اور بڑی ذاتی صفت رب العالمین ہے۔ تیسری بات یہ کہ اس مضمون کو بیان کرنے سے قبل اور بعد حضور علیہ السلام، آنحضور ﷺ کے بطور محمد اور احمد خدا تعالیٰ کی ان دو صفات رحمانیت اور رحیمیت کا مظہر ہونے نیز آپؐ کے ورثاء کے طور پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اور آخرین میں آنے والے آپؐ کے روحانی فرزند مسیح موعود کے اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات رحمانیت اور رحیمیت کے مظاہر ہونے کا مضمون بیان فرما رہے ہیں۔ اس لیے آپ نے یہاں پر صرف ان دو صفات کا ہی ذکر فرمایا ہے، رب العالمین اور مالک یوم الدین کی صفات کو نہیں بیان فرمایا۔

باقی نومبائعین کے بارہ میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ نومبائعین کونیکی اور تقویٰ میں ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا دینی علم بڑھانے کی بھی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تبلیغ کر کے باقی سعید روحوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے سچے دین کی طرف لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۱۰)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button