حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…نیپال میں پارلیمانی انتخابات ۵؍ مارچ کو ہو رہے ہیں، جو گذشتہ سال بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینا پڑا اور صدر رام چندر پاؤڈیل نے پارلیمان تحلیل کر کے عبوری حکومت قائم کی۔ تقریباً ایک کروڑ نوّے لاکھ ووٹرز ایوان نمائندگان کے ۲۷۵؍ارکان کا انتخاب کریں گے، جن میں ۱۶۵؍براہ راست اور ۱۱۰؍متناسب نمائندگی کے ذریعے منتخب ہوں گے۔ گذشتہ سال کے مظاہروں میں درجنوں نوجوان ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جن میں طالبہ لیزا ادھیکاری بھی شامل ہیں جو پولیس فائرنگ میں زخمی ہوئیں۔ اگرچہ احتجاجی تحریک کی قیادت جنریشن زی نے کی تھی، تاہم مالی مشکلات، قانونی پابندیوں اور سیاسی رکاوٹوں کے باعث انتخابات میں ان کے امیدواروں کی تعداد بہت کم ہے۔ نوجوان اب حقیقی سیاسی اصلاحات کی امید رکھتے ہیں۔

٭… یوکرین کی فوجی انٹیلی جنس کے مطابق روس کے حملہ آور ڈرونز میں جرمن ساختہ پرزے پائے گئے ہیں، حالانکہ روس پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔ جرمن میڈیا کی رپورٹس میں خاص طور پر ’’جیران  - 5‘‘  ڈرون کا ذکر کیا گیا ہے، جو دراصل ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کی ایک قسم ہے۔ ان ڈرونز میں جرمن کمپنی انفینون ٹیکنالوجیز کے تیار کردہ ٹرانزسٹرز سمیت دیگر غیر ملکی پرزے بھی ملے ہیں۔ یوکرینی ویب سائٹ ’’وار اینڈ سینکشنز‘‘ کے مطابق روسی فوجی سازوسامان میں غیر ملکی پرزوں کی بڑی تعداد امریکہ اور چین سے آتی ہے، جبکہ جرمنی کے ۱۳۷؍پرزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے نصف سے زیادہ ڈرونز میں استعمال ہوئے۔ ماہرین کے مطابق روس ان پرزوں کو جرمنی میں قائم فرضی کمپنیوں کے ذریعے خرید کر یا اسمگلنگ کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے۔ بعض کمپنیوں کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ ان کے براہ راست کاروباری تعلقات نہیں ہیں اور کچھ مصنوعات ممکنہ طور پر جعلی بھی ہو سکتی ہیں۔

٭… اسرائیل ایران کے خلاف جنگ کے دوسرے مرحلے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی جانب سے ایران کے زیر زمین بیلسٹک میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ شامل ہے۔ دو اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی اسرائیل پر فضائی حملوں کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اب تک ایران کے سینکڑوں میزائل لانچر تباہ کر چکی ہے جو اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ذرائع کے مطابق اس مہم کا ایک اہم مقصد ایرانی قیادت کو بھی نشانہ بنانا ہے، تاہم فوجی ترجمان نے اس حوالے سے تبصرہ نہیں کیا۔ ایران کے میزائل ذخیرے کے بارے میں اندازے مختلف ہیں۔ اسرائیل کے مطابق جنگ سے پہلے یہ تقریباً ڈھائی ہزار تھے، جبکہ بعض تجزیہ کار انہیں چھ ہزار تک قرار دیتے ہیں۔ ادھر ایران اسرائیل اور خطے میں میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

٭… ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور تینوں ممالک نے جنگ جاری رکھنے کے اشارے دیے ہیں۔ امریکہ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جنگ کے اختتام تک اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ دوسری جانب ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ جنگ چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو جائے، اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاری تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔ حالیہ بیانات کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور فریقین کے سخت مؤقف سے فوری طور پر کشیدگی کم ہونے کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔

٭… اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کے خلاف جاری فضائی جنگ سے اسرائیل کی معیشت کو ہر ہفتے تقریباً ۹ بلین شیکل (تقریباً ۲ . ۹۳؍بلین ڈالر) کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ہوم فرنٹ کمانڈ کی موجودہ پابندیوں کی وجہ سے، جن میں کام پر آمد و رفت کی قدغنیں، اسکولوں کی بندش اور ریزرو فوجیوں کی طلبی شامل ہیں، ہفتہ وار اقتصادی نقصان ۹ . ۴؍بلین شیکل تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، یعنی روزانہ تقریباً ۱ . ۳۴؍بلین ڈالر۔ مزید برآں، جریدے اکنامک ٹائمز کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے پہلے ۴۸؍گھنٹوں میں ہی عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کو تقریباً ۳ . ۲؍ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازع کے عالمی اقتصادی اثرات بھی شدید ہیں۔

٭… اسرائیلی وزارت دفاع نے ملک کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری حملوں اور دفاعی ہتھیاروں کے نظاموں کی پیداوار تیز کریں۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام طویل لڑائی اور تنازعے کے ممکنہ دیگر محاذوں کے پیشِ نظر ضروری ہے۔ کمپنیوں کو آپریشنل صورتحال کی رپورٹ اور ہتھیاروں کی قلیل اور طویل مدتی خریداری کے منصوبے پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔ اسرائیلی اقتصادی جریدے کالکلسٹ کے مطابق ایلبٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور تومر جیسی کمپنیاں یہ ہتھیار تیار کرتی ہیں، جو ایران پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اہم فضائی دفاعی نظاموں میں ایرو 3، باراک ایم ایکس اور ڈیوڈز سلنگ شامل ہیں۔ پیداوار میں اضافہ غیر ملکی افواج کو ترسیل کے وعدوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے، کیونکہ عالمی اسلحہ مارکیٹ اور جیوپولیٹیکل کشیدگی کی وجہ سے بہت سے ممالک خریداری میں تیزی لا رہے ہیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button