خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍فروری 2026ء
اگر اللہ تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تُو کس کو پسند کرتا ہے تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں۔ مجھے تو کشاں کشاں میدان عمل میں انہوں نے نکالا ہے ۔جو لذّت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا کے کون واقف ہے۔ میں تقریباً پچیس سال تک خلوت میں بیٹھا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لیے بھی نہیں چاہا کہ دربار شہرت کی کرسی پر بیٹھوں۔ مجھے طبعاً اس سے کراہت رہی کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں مگر امر آمر سے مجبور ہوں(حضرت مسیح موعودؑ)
ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی فائدہ تب ہی ہوتا ہے جب رمضان کے بعد بھی ہم محبت الٰہی اور عبادت کے معیار قائم رکھیں بلکہ بلند کرنے کی کوشش کریں تب ہی ہم اپنے مقصد پیدائش کو بھی پورا کرنے والے ہوں گے
جو واقعات مَیں بیان کروں گا یا کرتا رہا ہوں ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی روحانی حالت کو بہتر کرنے اور جائزہ لینے کے لیے انہیں اپنے سامنے رکھے اور کوشش کرتا رہے کہ ہم ان باتوں اور اعمال پر بھی عمل کریں گے جو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے غلامِ صادقؑ کے عبادت کے طریق تھے یا جو اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق تھا۔ صرف یہی نہ ہو کہ ہم ان واقعات کو سنیں اور محظوظ ہوں بلکہ یہ ہمارے لیے راہنما ہونے چاہئیں
انسان کو چاہیے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور پنج وقت اس کے حضور دعا کرتا رہے(حضرت مسیح موعودؑ)
(یوم مصلح موعود) کے جلسے بھی آجکل جماعت میں ہو رہے ہیں اور اس سے تاریخ کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔
ایم ٹی اے پر بھی پروگرام آ رہے ہیں ۔ان سے بھی پتہ لگ جاتا ہے ۔ان کو دیکھنا چاہیے
انسان کو ہمیشہ اپنے انجام بخیر کی دعا اور اپنے ایمان کی مضبوطی کی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور اس کے لیے دعا بھی مانگنی چاہیے ۔ اور خاص طور پر ان دعاؤں میں جو رمضان میں کریں یہ دعا بھی ہر ایک کو کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا انجام بخیر کرے۔ ایمان میں مضبوط رکھے
رات کے پہرے کے دوران ہم حضرت صاحبؑ کے کیمپ کے پاس سے گزرتے اور حضور علیہ السلام نماز میں ہی مصروف نظر آتے۔ خدا جانے آپؑ سوتے کس وقت ہوں گے (ایک روایت)
حضورؑ تہجد کی نمازیں بڑی عاجزی سے پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ چھوٹی مسجد کے ساتھ کی کوٹھڑی میں بھی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضورؑ کا معمول تھا کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم کو بار بار دہراتے تھے (ایک روایت)
آج کل ہم رمضان سے گزر رہے ہیں اور تہجد کی کچھ نہ کچھ توفیق تو مل ہی جاتی ہے۔ اگر نہیں بھی ملتی تو کوشش کرنی چاہیے۔ بے شک مسجد میں تراویح پڑھائی جاتی ہے اور یہ کمزوروں اور بیمار یا ایسے لوگوں کے لیے متبادل کے طور پر ہوتی ہے جو صبح صحیح وقت پہ اٹھ نہیں سکتے یا زیادہ وقت دے نہیں سکتے۔ لیکن یہ ایسا متبادل نہیں جو پورا حق ادا کر سکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپؐ کے غلام صادق کا طریق تویہی ہے کہ رات کو اٹھ کر تہجد پڑھی جائے ۔اس لیے چاہے تراویح پڑھ بھی لی ہو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ دو نفل یا چار نفل ہی سہی لیکن نماز تہجد ضرور پڑھیں
حضور علیہ السلام ہر وقت باوضو رہتے ہیں۔ آپؑ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ بہت آہستگی سے مسلسل پڑھتے رہتے تھے (ایک روایت)
’’افسوس ہم نے ان کی قدر نہ کی ۔ان کے کمالات روحانی کو بیان نہیں کر سکتا۔ ان کی زندگی معمولی انسان کی زندگی نہ تھی بلکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں اور دنیا میں کبھی کبھی آتے ہیں۔ ‘‘(سید میر حسن صاحب)
جونہی نماز کا وقت ہوتا آپؑ عدالت کی صدا کو چھوڑ کر اور غیر حاضری سے ہونے والے نقصانات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے بارگاہ الٰہی کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے (ایک روایت)
جہاں یہ مقدمات کی پیروی محض اطاعتِ والد کے فرض کے ادا کرنے کے لیے تھی وہاں آپؑ نے ان مقدمات کے دوران کبھی نماز قضا نہیں کی اور اس طرح ان فرائض سے غافل نہیں ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے متعلق ہیں۔ عین کچہری میں وقت نماز پر اسی طرح مشغول ہو جاتے گویا آپؑ کو اَور کوئی کام ہی نہیں ہے (ایک روایت)
اسی ایک ذات میں فنا اور رضا کی کیفیت تھی جو ہر آن آپؑ پرطاری رہتی تھی۔ دن ہو یا رات خلوت ہو یا جلوت اس محبوب حقیقی کی یاد کبھی دل سے محو نہیں ہوتی تھی
آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی محبت الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ
رمضان المبارک کی مناسبت سے احباب جماعت کو دعاؤں کی تحریک
ان دنوں میں خاص طور پر مشکلات اور جھوٹے مقدمات میں گرفتار احمدیوں کے لیے بہت زیادہ دعا کریں۔ احمدی بھائیوں کے لیےاللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائے۔ اُمّت مسلمہ کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ دنیا کے تباہی سے بچنے کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ معصوم لوگوں کو ان کے شر سے بچائے اور اگر جنگ اور تباہی مقدر ہے تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ معصوموں کو اس سے بچا کے رکھے اور ظالموں کی پکڑ فرمائے
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍فروری 2026ء بمطابق 20؍تبلیغ 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
اللہ تعالیٰ کے فضل سے کل سے رمضان شروع ہوا ہے۔
یہ روزوں کا مہینہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور اپنی روحانی اصلاح کے لیے مہیا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے سے ہر احمدی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ لیکن
ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ حقیقی فائدہ تب ہی ہوتا ہے جب رمضان کے بعد بھی ہم محبت الٰہی اور عبادت کے معیار قائم رکھیں بلکہ بلند کرنے کی کوشش کریں تب ہی ہم اپنے مقصد پیدائش کو بھی پورا کرنے والے ہوں گے۔
جیسا کہ گذشتہ چند جمعوں سے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت الٰہی ،عبادت کے طریق اور معیار اور مومنین کو اس پر عمل کرنے کی جو آپؐ نے نصائح فرمائیں اور ہدایات فرمائی ہیںان کے بارے میں بیان کرتا رہا ہوں۔ پھر آپؐ کے غلام صادق کےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی حقیقی پیروی میں واقعات بیان کیے تھے۔ تو یہ مضمون تو ابھی بھی چل رہا ہے اور آج رمضان کی مناسبت سے بھی یہی چلتا رہے گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی سیرت کے اسی حوالے سے کچھ واقعات بیان کروں گا جن کا اظہار اللہ تعالیٰ سے تعلق اور دعاؤں کی طرف ہوتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ عبادت اور محبت الٰہی کے ان واقعات کو جو آقا اور غلام کے ہیں یہاں تک ہمیں لے آیا کہ ہم رمضان میں داخل ہو گئے۔
ہمیں اپنا جائزہ بھی اس لحاظ سے لینے کی توفیق مل رہی ہے اور مل سکتی ہے کہ ہم اپنی حالتوں کو بہتر کرسکیں۔ پس
جو واقعات مَیں بیان کروں گا یا کرتا رہا ہوں ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی روحانی حالت کو بہتر کرنے اور جائزہ لینے کے لیے انہیں اپنے سامنے رکھے اور کوشش کرتا رہے کہ ہم ان باتوں اور اعمال پر بھی عمل کریں گے جو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے غلامِ صادقؑ کے عبادت کے طریق تھے یا جو اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق تھا۔ صرف یہی نہ ہو کہ ہم ان واقعات کو سنیں اور محظوظ ہوں بلکہ یہ ہمارے لیے راہنما ہونے چاہئیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی ایک روایت پیش کرتا ہوں۔انہوں نے مکرم مولوی محمد عبد اللہ بوتالوی صاحب کابیان لکھا ہے کہ انہوں نے بتایا کہ1907ء کی غالباً بات ہے کہ ایک دفعہ امة الرحمان صاحبہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم جو کہتے ہیں میری ننھیالی رشتہ دار بھی تھیں انہوں نے ایک کاغذ کا پرزہ مجھے دیا جو ردّی کے طور پر تھا لیکن چونکہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اور حضرت ام المومنین ایدھا اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی عبارتیں تھیں اس لیے میں نے ان کو تبرکاً نہایت شوق سے حاصل کیا اور محفوظ رکھا۔کہتے ہیں پھر کسی وقت مجھ سے کاغذ ادھر ادھر ہو گیا۔ کسی کتاب میں چلا گیا لیکن بہرحال چونکہ اس کے ساتھ ایک واقعہ کاتعلق ہے جو مجھے امة الرحمان صاحبہ نے خود سنایا تھا اس لیے اس میں بے تکلفانہ لکھی ہوئی عبارت میں جو اس پرچے پر لکھی ہوئی تھی جو کاغذ بظاہر ردّی کاغذ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق باللہ، تقویٰ، طہارت اور عبادت میں شغف پر روشنی پڑتی ہے۔ کہتے ہیں اس لیے میں اس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ امةالرحمان صاحبہ جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہا کرتی تھیں انہوں نے دیکھا اور کہتے ہیں مجھے بیان کیا کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنینؓ نے یہ تجربہ کرنا چاہا کہ دیکھیں آنکھیں بند کر کے کاغذ پر لکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اب یہ آپس میں گھریلو ماحول ہے اس میں میاں بیوی کا یہ تجربہ ہورہا ہے۔چنانچہ وہ پُرزہ کاغذ پکڑ کر اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہتے ہیں یہ عبارت لکھی جو مجھے حرف بہ حرف یاد ہے۔ گو کاغذ گم ہو گیا لیکن مجھے یاد ہے اور بڑے وثوق سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر وہ دستیاب بھی ہو جائے تو یہی الفاظ اس پر لکھے ہوئے ہوں گے۔ حضورؑ نے آنکھیں بند کرنے کی حالت میں جو لکھا وہ یہ تھا کہ
انسان کو چاہیے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور پنج وقت اس کے حضور دعا کرتا رہے۔
پس یہ وہ معیار ہے جس کی آپؑ نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو تلقین کی۔آپؑ کو ہر وقت صرف یہی خیال رہتا تھا کہ میرے ماننے والے بلکہ ہر مومن انسان ایسا ہو جس میں خدا خوفی ہو اور وہ ہمیشہ عبادت کی طرف توجہ رکھنے والا ہو۔ بہرحال اس تحریر پہ حضرت اماں جان ؓکی بھی جو تحریر تھی وہ بھی میں بیان کر دیتا ہوں جو عام گھریلو معاملات کے بارے میں تھی۔ حضرت اماں جانؓ کے سادہ الفاظ یہ تھے کہ محمود میرا پیارا بیٹا ہے۔کوئی اس کو کچھ نہ کہے۔ اور پھر ایک اَور فقرہ بچوں کے بارے میں ہی تھا کہ مبارک احمد بسکٹ مانگتا ہے۔ تو یہ بہرحال دونوں کی تحریریں تھیں۔ تو لکھتے ہیں کہ یہ عام گھریلو باتیں تھیں جو انہوں نے لکھیں۔ پھر کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت اگرچہ شکستہ تھی لیکن پختہ تھی۔ گو آنکھیں بند کر کے لکھا تھا یوں لگا تھاگھسیٹ کے لکھا ہوا ہے لیکن بہرحال اس میں پختگی تھی اور پڑھی جاتی تھی۔ باوجود آنکھیں بند کر کے لکھنے کے اس میں سطر بندی مثل دوسری تحریرات کے قائم تھی۔ جس طرح دوسری تحریرات میں آدمی سیدھا لائن میں لکھتا ہے وہ قائم تھا۔ سیدھی لائن تھی لیکن حضرت ام المومنینؓ کے حروف اپنی جگہ سے اوپر نیچے تھے اور سطر بندی بھی قائم نہیں رہی۔ یہ تو خیر ہو گئی۔ لیکن کہتے ہیں کہ لکھی ہوئی تحریر کیا تھی اس میں ایک خاص بات جس کا مجھے ہمیشہ لطف آتا ہے اور واقعی یہ لطف والی بات ہے کہ اپنے گھر میں بے تکلفانہ بیٹھے ہوئے بھی اگر اچانک بے سوچے سمجھے کوئی بات حضورؑ کو لکھنی پڑتی ہے تو وہ نصیحتانہ کلمات کے سوا اَور کوئی نہیں سوجھی اور حضرت ام المومنینؓ کی عبارت ایسی تھی جو ماحول کے مطابق ان کے ذہن میں موجود ہو سکتی تھی۔ تو انہوں نے یہ آگے لکھا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ
یہ وہ فرق ہے جو ماموروں اور دوسروں میں ہوا کرتا ہے۔ آپؑ کے دل میں ایک درد تھا کہ کس طرح انسانوں کو خدا تعالیٰ کے قریب لایا جائے اور ان میں عبادت کا شوق پیدا کیا جائے۔
(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2حصہ چہارم صفحہ148-149 روایت 1204)
پس
یہ ایک سادہ سی گھر کے ماحول کی بات ہے لیکن اس میں بڑا گہرا سبق ہے۔
اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ایک اور واقعہ بیان کیا ہے۔میاں عبد اللہ سنوری صاحبؓ نے بیان کیا کہ حضرت صاحبؑ نے 1884ء میں ارادہ فرمایا کہ قادیان سے باہر جا کر کہیں چلّہ کشی فرما ئیں اور ہندوستان کی سیر بھی کر لیں گے۔ چنانچہ آپؑ نے ارادہ فرمایا کہ سوجان پور ضلع گورداسپور میں جا کر خلوت میں رہیں اور اس کے متعلق میاں عبداللہؓ کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک پوسٹ کارڈ مجھے روانہ کیا۔ تو میں نے یہ عرض کیا کہ مجھے بھی اس سفر اور ہندوستان کے سفر میں ساتھ رکھیں۔ حضورؑ نے منظور فرمایا۔ مگر پھر حضور ؑکو سفر سوجان پور کے متعلق الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔ چنانچہ آپؑ نے سوجان پور جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہوشیار پور جانے کا ارادہ کر لیا۔ جب آپؑ ماہ جنوری 1886ء میں ہوشیارپور جانے لگے تو مجھے یعنی میاں عبداللہ کو خط لکھ کر حضور علیہ السلام نے قادیان بلایا اور شیخ مہرعلی رئیس ہوشیارپور کو خط لکھا کہ مَیں دو ماہ کے واسطے ہوشیار پور آنا چاہتا ہوں کسی ایسے مکان کا انتظام کر دیں جو شہر کے کنارے پر ہو اور اس میں بالا خانہ بھی ہو۔ دومنزلہ ہو اور باہر ہو۔ شیخ مہر علی نے اپنا ایک مکان جو طویلہ کے نام سے مشہور تھا خالی کر دیا۔ حضور ؑبہلی میں بیٹھ کر، بہلی چھوٹی بیل گاڑی کو کہتے ہیں، دریائے بیاس کے راستہ تشریف لے گئے۔ میاں عبداللہ صاحبؓ کہتے ہیں کہ مَیں ،شیخ حامد علیؓ اور فتح خان صاحب ساتھ تھے۔ فتح خان رسول پور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیارپور کا رہنے والا تھا اور حضور ؑکا بڑا معتقد تھا مگر بعد میں بدقسمتی ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے آ کر مرتد ہو گیا۔ حضورؑ جب وہاں دریا پر پہنچے تو وہاں دریا کراس کرنے کے لیے انہوں نے کشتی لی۔ جب کشتی چل رہی تھی توکہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میاں عبداللہ! کامل کی صحبت اس سفر دریا کی طرح ہے جس میں پار ہونے کی بھی امید ہے اور غرق ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ یعنی جو انسان کامل ہو، بزرگ ہو، ولی اللہ ہو اس کی صحبت میں رہنے والا انسان دونوں طرح اس کا انجام ہو سکتا ہے یا وہ پار بھی لگ سکتا ہے یاجس طرح ہم دریا میں کشتی میں جا رہے ہیں یہ کشتی ہمیں ڈبو بھی سکتی ہے۔ کہتے ہیں میں نے حضورؑکی یہ بات سرسری طور پر سنی مگر جب فتح خان مرتد ہوا تو مجھے حضرت صاحبؑ کی یہ بات یاد آئی۔ بہرحال کہتے ہیں ہم راستہ میں فتح خان کے گاؤں میں قیام کرتے ہوئے دوسرے دن ہوشیار پور پہنچے۔ وہاں جاتے ہی حضرت صاحبؑ نے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا اور اس غرض سے کہ ہمارا آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو ہم تینوں کے الگ الگ کام مقرر فرما دیے۔ میرے سپر دکھانا پکانے کا کام ہوا۔ فتح خان کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بازار سے سودا وغیرہ لایا کرے۔ شیخ حامد علی ؓکا یہ کام مقرر ہوا کہ گھر کا بالائی کام اور آنے جانے والے کی مہمان نوازی کرے۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ دستی اشتہارات اعلان کر دیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آئیں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لیے بلائیں۔ ان چالیس دن کے گذرنے کے بعد میں یہاں بیس دن اَور ٹھہروں گا۔ ان بیس دنوں میں ملنے والے ملیں۔ دعوت کا ارادہ رکھنے والے دعوت کر سکتے ہیں اور سوال و جواب کرنے والے سوال جواب کر لیں۔ حضرت صاحبؑ نے ہمیں بھی حکم دے دیا کہ ڈیوڑھی کے اندر کی زنجیر ہر وقت لگی رہے۔یعنی دروازہ اندر سے لاک ہو۔ اور گھر میں بھی کوئی شخص مجھے نہ بلائے۔ میں اگر کسی کو بلاؤں تو وہ اس حد تک میری بات کا جواب دے جس حد تک کہ ضروری ہے اور نہ اوپر بالاخانہ میں کوئی میرے پاس آئے۔ نہ اوپری منزل میں جہاں آپؑ ٹھہرے ہوئے تھے کوئی اَور آئے۔ بہرحال کہتے ہیں اور پھر آپؑ نے فرمایا کہ میرا کھانا اوپر پہنچا دیا جاوے مگر اس کا انتظار نہ کیا جائے کہ میں کھانا کھالوں۔ خالی برتن پھر دوسرے وقت لے جایا کرو۔ پھر آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ نمازمیں اوپر اپنی پڑھاکروں گا کیونکہ میں چلّہ کاٹ رہا ہوں تو میں اپنی نماز اوپر پڑھوں گا اورتم لوگ نیچے اکٹھے پڑھ لیا کرو۔ بہرحال جمعہ کے لیے آپؑ نے یہ فرمایا کہ جمعہ کیونکہ ضروری ہے اس لیے کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو جو شہر کے ایک طرف ہو جہاں ہم علیحدگی میں نماز ادا کر سکیں۔ چنانچہ شہر کے باہر ایک باغ تھا جس میںایک چھوٹی سی ویران مسجد تھی وہاں جمعہ کے دن حضورؑ تشریف لے جایا کرتے تھے اور ہم کو نماز پڑھاتے تھے اور خطبہ بھی خود پڑھتے تھے۔
میاں عبداللہ صاحبؓ بیان کرتے تھے کہ میں کھانا چھوڑ نے اوپر جایا کرتا تھا اور حضورؑ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا مگر کبھی حضورؑ مجھ سے خود کوئی بات کرتے تو جواب دے دیتا۔ ایک دفعہ حضرت صاحبؑ نے مجھ سے فرمایا:میاں عبداللہ! ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔ اگر ان واقعات کو لکھا جاوے تو وہ کئی ورق ہو جاویں۔ چنانچہ میاں عبداللہ صاحب ؓکہتے ہیں کہ پسر موعود کے متعلق الہامات بھی اسی چلّہ میں ہوئے تھے اور بعد چلّہ کے ہوشیار پور سے ہی آپؑ نے اس پیشگوئی کا اعلان فرمایا تھا۔ یہ 20؍فروری 1886ء کا اشتہار ہے جو جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک خاص توارد ہے کہ آج 20؍فروری ہے اور پسر موعود کی پیشگوئی کے بڑی شان سے پورا ہونے کا دن بھی ہے۔
وہ پسر موعود جو پیدا ہوا پیشگوئی کے مطابق۔ باون سالہ خلافت اس کی قائم رہی اور اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابیوں سے نوازا۔ وہ ساری پیشگوئیاں،الہامات اور باتیں جو پیشگوئی مصلح موعودمیں تھیں وہ سب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں پوری ہوئیں۔اور
یہ توارد مَیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ واقعہ آج کے دن ہی میرے سامنے آ گیا ہے ورنہ آگے پیچھے بھی آ سکتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اسی میں یہ حکمت تھی کہ آج کے دن ہی آئے اور میں بیان بھی کر دوں۔
20؍فروری کے حوالے سے جو پیشگوئی مصلح موعود کا دن ہے۔اس واقعہ کا پس منظر بھی بیان ہو گیا کہ کس طرح آپؑ گئے، چلّہ کشی کی اور آپؑ کو وہاں بشارتیں دی گئیں۔
اس کے جلسے بھی آجکل جماعت میں ہو رہے ہیں اور اس سے تاریخ کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔ایم ٹی اے پر بھی پروگرام آ رہے ہیں۔ان سے بھی پتہ لگ جاتا ہے۔
ان کو دیکھنا چاہیے۔
بہرحال کہتے ہیں کہ جب چالیس دن گذر گئے تو پھر آپؑ حسب اعلان بیس دن اور وہاں ٹھہرے۔ ان دنوں میں کئی لوگوں نے دعوتیں بھی کیں۔ کئی لوگ مذہبی تبادلہ خیالات کے لیے آئے اور باہر سے حضورؑ کے پرانے ملنے والے لوگ بھی مہمان آئے۔ انہی دنوں میں مُرلی دھر سے آپؑ کا مباحثہ ہوا جو سرمہ چشم آریہ میں درج ہے۔
جب دو مہینے کی مدت پوری ہو گئی تو حضرت صاحبؑ واپس اسی راستہ سے قادیان روانہ ہوئے۔ ہوشیار پور سے پانچ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے۔ یہاں اب ایک اَور واقعہ بھی لکھا ہے کہ سفر کے دوران، جہاں باغیچہ سالگا ہوا ہے۔ وہاں پہنچ کر حضورؑ تھوڑی دیر کےلیے بہلی سے اتر آئے اور فرمایا :یہ عمدہ سایہ دار جگہ ہے۔ یہاں تھوڑی دیر کےلیے ٹھہر جاتے ہیں۔ اس کے بعد حضورؑ قبر کی طرف تشریف لے گئے اور کہا جاتا تھا کہ یہ کسی بزرگ کی قبر ہے۔ میاں عبداللہ صاحبؓ کہتے ہیں کہ میں بھی پیچھے پیچھے ساتھ ہو گیا اور شیخ حامد علیؓ اور فتح خان بہلی کے پاس ہی رہے۔ آپؑ مقبرہ پر پہنچ کر دروازہ کھول کر اندر گئے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور تھوڑی دیر تک دعا فرماتے رہے۔ پھر واپس آئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا :جب میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دوزانو ہو کر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ ساتھ نہ ہوتے تو میں ان سے باتیں بھی کر لیتا۔ ان کی آنکھیں موٹی اور رنگ سانولا ہے۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ دیکھو! اگر یہاں کوئی مجاور ہے تو اس سے اس بزرگ کے حالات پوچھیں۔ چنانچہ حضورؑ نے مجاور سے دریافت کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے ان کو خود تو نہیں دیکھا کیونکہ ان کی وفات کو قریباً ایک سو سال گزر گئے ہیں۔ ہاں اپنے باپ دادا سے یہ سنا ہے کہ یہ اس علاقہ کے بڑے بزرگ تھے اور علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا۔ حضورؑ نے پوچھا ان کا حلیہ کیا تھا؟ وہ کہنے لگے کہ سنا ہے کہ سانولارنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں۔ پھر ہم وہاں سے روانہ ہو کر قادیان پہنچے۔ اس نے وہی حلیہ بیان کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا تھا کہ جب وہ بزرگ سامنے ہو کر بیٹھ گئے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مُردوں سے بعض نیک لوگوں کو ،اولیاء اللہ کو ،نبیوں کو اسی طرح کلام بھی ہو جاتا ہے اور بعض نظر آ جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے طریقے ہیں۔ بہرحال یہ سفر ختم ہوا اور وہ قادیان پہنچے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس سفر کے بارے میں میاں عبداللہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت صاحبؑ اس خلوت کے زمانہ میں کیا کرتے تھے اور کس طرح عبادت کرتے تھے؟ تو حضرت میاں عبداللہؓ نے جواب دیا کہ یہ ہمیں معلوم نہیں کیونکہ آپؑ اوپر بالا خانہ میں رہتے تھے اور ہمیں اوپر جانے کا حکم نہیں تھا۔ کھانے وغیرہ کے لیے جب ہم اوپر جاتے تو اجازت لے کر جاتے۔ میاں عبداللہ صاحبؓ بیان کرتے تھے کہ ایک دن جب میں کھانا رکھنے او پر گیا تو حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ بُوْرِکَ مَنْ فِیْھَا وَمَنْ حَوْلَھَا اورحضورؑ نے اس کی تشریح فرمائی کہ مَنْ فِیْھَا سے مَیں مراد ہوں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مَنْ حَوْلَھَا سے تم لوگ مراد ہو جو میرے ساتھ ہو۔ میاں عبداللہ صاحبؓ بیان کرتے تھے کہ میں تو سارا دن گھر میں رہتا تھا صرف جمعہ کے دن حضور علیہ السلام کے ساتھ باہر جاتا تھا اور شیخ حامد علیؓ بھی اکثر گھر میں رہتا تھا لیکن فتح خان اکثر سارا دن باہر رہتا تھا۔ اور غالباً اس الہام کے وقت وہ بھی باہر تھا۔ یہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب ؓکا خیال ہے۔ میاں عبداللہ صاحبؓ بیان کرتے تھے کہ ان دنوں فتح خان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اتنا معتقد تھا کہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ حضرت صاحب کو تو میں نبی سمجھتا ہوں اور میں اس کی اس بات پر پرانے معروف عقیدہ کی بناپر گھبرا تا تھا کہ نبی کس طرح آ سکتا ہے ؟اب تو نبی نہیں آ سکتا۔ لیکن فتح خان اس وقت آپ کا اتنا معتقد تھا کہ آپؑ کو نبی اس وقت بھی کہتا تھا جب ابھی آپؑ نے بیعت بھی نہیں لی تھی ،دعویٰ بھی کسی قسم کا نہیں کیا تھا۔ تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ لیکن جب اسے ٹھوکر لگی تو وہ مرتد ہو گیا۔ پس اس لیے
انسان کو ہمیشہ اپنے انجام بخیر کی دعا اور اپنے ایمان کی مضبوطی کی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور اس کے لیے دعا بھی مانگنی چاہیے۔اور خاص طور پر ان دعاؤں میں جو رمضان میں کریں یہ دعا بھی ہر ایک کو کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا انجام بخیر کرے۔ ایمان میں مضبوط رکھے۔
میاں عبداللہ صاحبؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ میں کھانا چھوڑنے گیا تو حضورؑ نے مجھےفرمایا: مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے ،اس طرح باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروں تو یہ جتنے معتقدین نظر آتے ہیں سب پھر جائیں۔اور ویسے ہوا بھی عملاً یہی کہ بعض لوگ جب آپؑ نے دعویٰ کیا تو پھر گئے اور مخالفت میں بھی بڑھ گئے کیونکہ یہ تصوّر بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح باتیں کر سکتا ہے۔
(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 1حصہ اول صفحہ62تا65 روایت نمبر 88)
اسی طرح ایک اَور واقعہ ہے آپؑ کے نماز پڑھنے کے بارہ میں۔ بعض لوگ نماز کے فقہی مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ کس طرح ہاتھ باندھنے چاہئیں اور نماز کی مختلف حرکات کس طرح ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام عبادت اور نماز کے وقت کس طرح عبادت کیا کرتے اور نماز کس طرح پڑھتے تھے۔ ان کے لیے ایک واقعہ میں آتا ہے۔ میاں علی محمد صاحب
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نماز کا طریق
بیان کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے حضورؑ کو نماز سنت پڑھتے ہوئے دیکھا۔ فرض سے پہلے آپؑ سنتیں پڑھ رہے تھے۔ حضور علیہ السلام نے ہاتھ ناف سے اوپر باندھے ہوئے تھے اور دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کہنی تک پہنچتی تھی بلکہ کچھ پیچھے ہی رہتی تھی۔ سجدہ کرتے وقت آپؑ دونوں ہاتھوں کے درمیان ماتھا اور ناک زمین پر رکھتے تھے اور انگلیاں سیدھی کعبے کی سمت ہوتی تھیں۔ ہاتھ یوں سیدھے ہوتے تھے۔ جب آپؑ سجدے سے اٹھتے تھے تو کیونکہ آپؑ کی دستار مبارک ڈھیلی ہوتی تھی، پیچھے ہٹ جاتی تھی اس کو انگلی سے سیدھا کر لیتے تھے۔ بہرحال انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سنتیں حضور علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ میں اپنے والد ماجد کی قبر کے جنوب میں کھڑے ہو کر پڑھیں اور اس کے بعد پھر فرض نماز شروع ہوئی جو حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ نے پڑھائی۔
(ماخوذ از روایات اصحاب احمد ؑجلد 2 صفحہ 13)
اسی طرح حضرت محمد جمیل صاحب بیان کرتے ہیں جن دنوں پہلے پہل طاعون کی بیماری پڑی اور حضرت اقدسؑ باغ میں ڈیرہ لے گئے۔یعنی اپنے سارے خاندان سمیت وہاں شفٹ ہو گئے۔کہتے ہیں ہم لوگ راتوں کو پہرہ دیا کرتے تھے اور کیونکہ طاعون کی بیماری کی وجہ سے کھلی جگہ مناسب ہوتی ہے اس لیے آپ وہاں گئے تھے۔ بہرحال کہتے ہیں
رات کے پہرے کے دوران ہم حضرت صاحبؑ کے کیمپ کے پاس سے گزرتے اور حضور علیہ السلام نماز میں ہی مصروف نظر آتے۔ خدا جانے آپؑ سوتے کس وقت ہوں گے۔
(ماخوذ از روایات اصحاب احمدؑ جلد 2 صفحہ 358)
اسی طرح حضرت چودھری بھائی عبدالرحمٰن صاحب بیان کرتے ہیں کہ
’’ حضورؑ تہجد کی نمازیں بڑی عاجزی سے پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ چھوٹی مسجد کے ساتھ کی کوٹھری میں بھی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضورؑ کا معمول تھا کہ اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم کو بار بار دہراتے تھے۔‘‘
(روایات اصحاب احمدؑ جلد2صفحہ336)
پس
یہ دعا ہمیں بھی دہرانی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ہدایت پر قائم رکھے۔
حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحبؓ
آپؑ کی تہجد کی نماز کی کیفیت
بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جہلم جاتے ہوئے ہم لاہور میں میرے دادا حضرت میاں چراغ دین صاحب مرحوم کے مکان ’’مبارک منزل‘‘ میں ٹھہرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رات یہیں گزاری۔ ایک کمرے میں حضورؑ کے سونے کے لیے جگہ بنا دی گئی۔ کہتے ہیں میں بھی اسی کمرے کے باہر دالان میں دروازے کے پاس سو گیا۔رات کے کوئی تین بجے جب میں جاگا اور کمرے کے اندر حضور ؑکو دیکھا تو حضورؑ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں بھی وضو کر کے حضورؑ کے پیچھے ساتھ کچھ فاصلے پر نماز پڑھنے لگ گیا اور میں نے بہت کوشش کی کہ حضورؑ جتنا قیام یا رکوع یا سجدہ کرنے کی کوشش کروں مگر نہ کر سکا۔ صرف دو رکعتوں میں ہی میں سخت تھک گیا اور حضورؑ ابھی اسی رکعت میں تھے جس میں خاکسار شامل ہوا تھا۔یعنی جس رکعت میں شامل ہوئے تھے وہ دو رکعتیں حضورؑ پڑھ رہے تھے، وہ ابھی شروع ہی کی تھیں، قیام میں ہی تھے کہ وہ کہتے ہیں میں تھک گیا۔اور کہتے ہیں کہ میں نے تو نماز چھوڑ کے اپنی نماز پڑھنی شروع کر دی۔ یہ اپنے آقا کی اتباع میں آپؑ کی عبادت کا ایک نمونہ تھا اور اس بات کی کوشش تھی کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کس طرح حق ادا کرنا چاہیے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ دن کے وقت جب حضورؑ کے گرد ہم بیٹھے ہوئے تھے اور حضورؑ جماعت کو تہجد پڑھنے کی تاکید فرما رہے تھے، جماعت کو تہجد پڑھنے کی تلقین فرما رہے تھے تو خاکسار نے عرض کیا کہ اگر تہجد نہ پڑھی جائے تو کم از کم کیا کیا جائے؟ لوگ پوچھتے ہیں ناں کہ تہجد نہیں پڑھی جاتی تو پھر کیا کیا جائے؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ
اس وقت استغفار کثرت سے پڑھے۔ خدا کی تسبیح و تحمید کثرت سے کرے۔ اس سے پھر تہجد پڑھنے کی توفیق مل جاتی ہے۔
اب یہ دعائیں جو آپؑ نے سکھائیں وہ اس لیے نہیں کہ یہ تہجد کا متبادل ہو جائیں گی بلکہ اس لیے کہ ان سے تہجد پڑھنے کی توفیق ملے گی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی لکھا ہے کہ مجھ سے جب تہجد پڑھنے میں غفلت ہو جاتی ہے، یہ بیان غالباً مرزا بشیر احمد صاحب ؓکا ہے یا اس راوی کا کہ مَیں تو اس پر عمل کرتا ہوں اور مجھے تہجد کی توفیق مل جاتی ہے۔
(ماخوذ از روایات اصحاب احمدؑ جلد 3 صفحہ 178)
پس یہ وہ نسخہ ہے جسے ہمیں اب بھی سستی کے دنوں میں اپنانا چاہیے۔
آج کل ہم رمضان سے گزر رہے ہیں اور تہجد کی کچھ نہ کچھ توفیق تو مل ہی جاتی ہے۔ اگر نہیں بھی ملتی تو کوشش کرنی چاہیے۔بے شک مسجد میں تراویح پڑھائی جاتی ہے اور یہ کمزوروں اور بیمار یا ایسے لوگوں کے لیےمتبادل کے طور پر ہوتی ہے جو صبح صحیح وقت پہ اٹھ نہیں سکتے یا زیادہ وقت دے نہیں سکتے۔ لیکن یہ ایسا متبادل نہیں جو پورا حق ادا کر سکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپؐ کے غلام صادق کا طریق تویہی ہے کہ رات کو اٹھ کر تہجد پڑھی جائے۔اس لیے چاہے تراویح پڑھ بھی لی ہو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ دو نفل یا چار نفل ہی سہی لیکن نماز تہجد ضرور پڑھیں۔
اسی طرح حضرت خیر الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ
’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام بہار کے دنوں میں صبح کے وقت تقریباً آٹھ بجے قادیان سے سیر کے لیے نکلے اس راستہ سے جو کہ بھینی اور قادر آباد کے درمیان ہے اور جس کو سڑک بھی کہتے ہیں۔ آپؑ نے قادیان کی زمین کی حد پر دو نفل نماز پڑھی اور پھر ہمارے گاؤں کے پاس سے ہوتے ہوئے قادیان واپس تشریف لے گئے۔ ‘‘ (روایات اصحاب ِاحمدؑ جلد 3 صفحہ 90) یعنی سیر میں بھی آپؑ کو عبادت کا خیال رہا۔
اب قادیان میں رہنے والوں کا بھی کام ہے کہ آپؑ نے تو قادیان کے اندر بھی اور کناروں پر بھی نفل اور نمازیں پڑھی ہوئی ہیں اس لیے اس کے تقدس کا خیال رکھیں اور اس بستی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی عبادتوں کے معیاروں کو اونچا کریں۔
حضرت ملک نیاز محمد صاحب ؓکہتے ہیں کہ 1904ء میں جب میں قادیان گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوران مقدمہ کرم دین والے گورداسپور تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جب میں بھی وہاں گیا تو ایک تالاب کے نزدیک ایک مکان میں حضورؑ فروکش تھے اور احباب جماعت بھی وہاں ٹھہرتے تھے۔ لنگر خانہ بھی اسی کے ایک حصے میں جاری تھا۔ کچہری میں مَیں نے دیکھا کہ حضورؑ کے لیے ایک دری بچھائی جاتی تھی اور حضورؑ اس پر بیٹھتے تھے اور دوسرے احباب بھی اس پر بیٹھتے تھے۔وہ ایک بڑی دری تھی سارے بیٹھ جاتے تھے۔ کہتے ہیں حضورؑ کے ہر وقت باوضو رہنے کے بارے میں ایک بات میں نے نوٹ کی جو خاص طور پر یاد ہے کہ حضورؑ جب بھی پیشاب وغیرہ کے لیے جاتے تو اس کے بعد وضو ضرور کر لیتے تھے جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ
حضور علیہ السلام ہر وقت باوضو رہتے ہیں۔ آپؑ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ بہت آہستگی سے مسلسل پڑھتے رہتے تھے۔
(ماخوذ ازروایات اصحاب احمدؑ جلد 2 صفحہ 27)
حضرت چوہدری بھائی عبدالرحیم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ
’’ ابتدائی ایام میں حضورؑ کا معمول تھا کہ حضورؑ نمازوں میں عموماً سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے کوشش کی کہ میں سب سے پہلے پہنچوں مگر حضورؑ پہلے موجود تھے۔‘‘
(روایات اصحاب احمدؑ جلد 2 صفحہ 336)
حضور اقدسؑ نے اپنی جوانی کا ایک حصہ جو کہ کم و بیش سات سال پر محیط تھا سیالکوٹ میں گزارا۔ وہاں بھی آپؑ کے جو شب و روز گزرے ان میں محبت الٰہی سب سے نمایاں وصف تھا
اور جس نے بھی بیان کیا اس نے حضور ؑکی خلوت و گوشہ نشینی اور نماز وتلاوت میں انہماک کا خاص طور پر ذکر کیا۔ اس ضمن میں سیالکوٹ کے چند معتبر اور بزرگ سمجھے جانے والے افراد کی شہادتیں بھی میں پیش کرتا ہوں۔
حکیم مظہر حسین صاحب لکھتے ہیں: یہ ان کی شہادت ہے گو کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت کے بعد دشمنان احمدیت کی صف اوّل میں چلے گئے تھے اور بطور ناول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض واقعات پر معاندانہ اعتراضات بھی کیے تاہم حضورؑ کے زمانہ قیام سیالکوٹ کی پاکیزہ یاد کو مخالفت کے ہجوم میں بھی فراموش نہیں کر سکے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :’’ثقہ صورت‘‘یعنی بڑے قابل اعتماد شکل والے اور باریش شخصیت’’ عالی حوصلہ اور بلند خیالات کا انسان اپنی عُلُوّ ہمتی کے مقابل کسی کا وجود نہیں سمجھتا۔ اندر قدم رکھتے ہی وضو کے لیے پانی مانگا‘‘جس وقت واقعہ بیان کر رہے ہیں وہاں جس کمرے میں داخل ہوئے وہ ’’اور وضو سے فراغت پا کر نماز مغرب ادا کی۔ وظیفہ میں تھے۔ ‘‘ (حیات احمدؑ جلد 1 صفحہ 158) اس کے بعد پھر ذکر الٰہی بھی کیا۔
پھر مشہور مسلم لیڈر مولوی ظفر علی خان صاحب کے والد بزرگوار اخبار زمیندار کے ایڈیٹر منشی سراج الدین صاحب مرحوم نے بیان کیا کہ ’’مرزا غلام احمد صاحب 1860ء یا1861ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔ اس وقت آپ کی عمر بائیس چوبیس سال کی ہوگی اور
ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا۔ عوام سے کم ملتے تھے۔‘‘
(حیات احمدؑ جلد 1صفحہ 374)
ایک دفعہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ سیالکوٹ میں سید میر حسن صاحب سے ملے، مَیں نے گذشتہ خطبہ میں بھی ان کا ذکر کیا تھا، تو انہوں نے چشم پُرآب ہو کر فرمایا ،بڑی نم آنکھوں کے ساتھ فرمایا:
’’افسوس ہم نے ان کی قدر نہ کی۔ان کے کمالات روحانی کو بیان نہیں کر سکتا۔ ان کی زندگی معمولی انسان کی زندگی نہ تھی بلکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں اور دنیا میں کبھی کبھی آتے ہیں۔ ‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 95، الحکم جلد 37 نمبر 12 مورخہ 7 اپریل 1934 ء صفحہ 3 کالم 3)
ایک ایسا واقعہ اور بھی ہے جو
ایک عام آدمی، جو دیہاتی ہے
اس کے متعلق ہے کہ
اس نے بھی کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نور کو پہچانا۔
یہ نُور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے اور برگزیدوں کے چہروں پر سےٹپکتا ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ ؓنے بیان کیا کہ ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان کیا کہ
’’ایک دفعہ کسی مقدمہ کے واسطے میں ڈلہوزی پہاڑ پر جا رہا تھا۔ راستہ میں بارش آگئی۔ میں اور میرا ساتھی یکّہ سے اتر آئے اور ایک پہاڑی آدمی کے مکان کی طرف گئے جو راستہ کے پاس تھا۔ میرے ساتھی نے آگے بڑھ کر مالک مکان سے اندر آنے کی اجازت چاہی مگر اس نے روکا۔‘‘ ایک چھوٹا سا کمرہ ہوگا بیچاروں غریبوں کے مکان تو ایسے ہی ہوتے تھے۔ ’’اس پر ان کی باہم تکرار ہو گئی اور مالک مکان تیز ہو گیا اور گالیاں دینےلگا۔‘‘ جب انہوں نے کہا کہ میں نے آنا ہے ،اس نے کہا میں نےنہیں آنے دینا تو تُو تکار شروع ہو گئی۔’’حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ میں یہ تکرار سن کر آگے بڑھا۔جونہی میری اور مالک مکان کی آنکھیں ملیں تو پیشتر اس کے کہ مَیں کچھ بولوں اس نے اپنا سر نیچے ڈال لیا اور کہا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ میری ایک جوان لڑکی ہے اس لیے میں اجنبی آدمی کو گھر میں نہیں گھسنے دیتا مگر آپ بے شک اندر آ جائیں۔ حضرت صاحبؑ فرماتے تھے کہ وہ ایک اجنبی آدمی تھا۔نہ میں اسے جانتا تھا اور نہ وہ مجھے جانتا تھا۔‘‘ (سیرت المہدی جلد1حصہ اول صفحہ 6 روایت نمبر8) تو یہ دراصل خدائی نور ہے۔شرافت اور عبادت کی نشانی تھی جو آپؑ کے چہرے سے اسے بھی نظر آگئی اور اس نے کہا ٹھیک ہے آپؑ اندر آ سکتے ہیں۔
خدا تعالیٰ کی ذات ہر وقت آپؑ کے مدّنظر رہتی تھی۔کسی بھی مصروفیت یا مشغولیت نے آپؑ کو ذکر الٰہی سے دور نہیں کیا۔
چنانچہ مقدمات میں بھی ہم نے یہی اسوہ دیکھا ہے۔میں نے پہلے بھی واقعہ بیان کیا تھا۔ ایسے نازک وقت میں جب مقدمہ پیش ہو رہا ہو نماز کا اہتمام اور انتظام ایک مشکل امر ہوتا ہے لیکن آپؑ خدا کی محبت میں ایسے متوکّل اور بےنیاز تھے کہ مقدمہ عدالت میں پیش ہے، حاضری کا کوئی بھی وقت ہو سکتا ہے ہرکارہ کسی بھی وقت بلا سکتا ہے لیکن
جونہی نماز کا وقت ہوتا آپؑ عدالت کی صدا کو چھوڑ کر اور غیر حاضری سے ہونے والے نقصانات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے بارگاہ الٰہی کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے۔
(ماخوذ ازسیرت المہدی جلد 1حصہ اول صفحہ 14 روایت نمبر 17)
یہ ہے اصل چیز جو ہر ایک کو یاد رکھنی چاہیے کہ نماز کے وقت میں نماز کو بہرحال مقدّم کریں۔ یہ وہ اسوہ ہے اور نمونہ ہے جو ایک مومن کا خاصہ ہے۔آپؑ نے اپنے آقاؐ سے یہ سیکھا اور اس پر عمل کیا اور ہمارے سامنے یہ نمونہ رکھا۔
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے بڑے خوبصورت انداز میں آپؑ کی یہ حالت بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ مقدمات کا یہ سلسلہ بڑا لمبا تھا اور چیف کورٹ تک بعض مقدمات کی پیروی آپؑ کو کرنی پڑتی تھی۔ لکھتے ہیں کہ میں اس سیرت کے پڑھنے والوں کو حضرت مرزا صاحب ؑکی زندگی کے اس حصے پر واقف کرتے ہوئے جس امر پر متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ آپؑ کا تعلق باللہ ہے۔جن لوگوں کو حضرت صاحب ؑکی صحبت میں رہنے اور آپؑ کی باتیں سننے کا موقع ملا ہے یا جنہوں نے ان تقریروں کو جو شائع ہو چکی ہیں پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحبؑ ہمیشہ دست بکار اور دل بہ یاریعنی ہاتھ کام میں اور دل یار یعنی خدا کی یاد میں مصروف ہے اور اس کی آپؑ ہدایت بھی فرماتے تھے۔ مقدمات میں فریق مقدمہ کو عام طور پر دیکھا گیا کہ مدعی ہو یا مدعا علیہ ایک اضطراب اور بے قراری کی حالت میں ہوتے تھے۔مگر مرزا صاحب جب مقدمات کی پیروی کے لیے جاتے تو طبیعت میں کوئی بے چینی اور گھبراہٹ نہیں ہوتی تھی۔ پورے استقلال اور وقار کے ساتھ دل بہ یار متوجہ رہتے۔
جہاں یہ مقدمات کی پیروی محض اطاعتِ والد کے فرض کے ادا کرنے کے لیے تھی وہاں آپؑ نے ان مقدمات کے دوران کبھی نماز قضا نہیں کی اور اس طرح ان فرائض سے غافل نہیں ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے متعلق ہیں۔ عین کچہری میں وقت نماز پر اسی طرح مشغول ہو جاتے گویا آپؑ کو اَور کوئی کام ہی نہیں ہے۔
اور پھر واقعات بھی انہوں نے لکھے ہیں کہ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ کچہریوں سے اس طرح آوازیں پڑتی تھیں مگر آپؑ بے پرواہ ہوئے۔
پھر لکھتے ہیں کہ مقدمات کے ان سفروں میں بھی ہر لمحہ اگر دھیان رہا تو اسی ذات کا جو خالق اور ربّ العالمین ہے۔ آپؑ کو طلوع ہوتے ہوئے سورج، رات کے آسمان پر چمکتے ہوئے چاند ستاروں، گرتے ہوئے جھرنوں اور آبشاروں، بلند و بالا پہاڑوں، بہتے پانیوں، لہلہاتے کھیتوں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور رعد و برق کی آوازوں میں ایک ہی ہستی کا پرتو نظر آتا تھا اور اسی مبدء الانوار کی جھلک نظر آتی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ہر چیز میں آپؑ کو اللہ تعالیٰ کی قدرت نظر آیا کرتی تھی۔ ہر طرف اسی محبوب حقیقی کا جلوہ نظر آتا تھا۔وہ چاند کو دیکھ کر اگر سخت بے کل ہوتا ہے تو اس لیے کہ اس میں بھی جمال یار کے کچھ کچھ آثار دکھائی دیتے ہیں۔ چشمہ خورشید میں اس کی موجیں مشہود نظر آتی ہیں اور ہر ستارے میں اس کی چمکار کا تماشہ دکھائی دیتا ہے۔خوبروئیوں میں ملاحت اسی خالق حقیقی کے حسن کا پتہ دیتی ہے۔ ہر حسین آنکھ اسی کو دکھاتی ہے اور ہر گیسوئے خمدار کا ہاتھ اسی خدائے واحد کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا ہے اور وہ ہر گل و گلشن اس کے حسن و احسان کے چمن کی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔ بہت خوبصورت بیان کیا ہے آپ نے۔کہتے ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ کہنے کو تو آپ علیہ السلام ان مقدمات کے لیے جا رہے ہوتے تھے لیکن دراصل ان سفروں میں بھی غم اغیار کے سارے جھگڑے کٹ رہے ہوتے تھے۔ اس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے۔ جیسے میں ڈلہوزی کے سفر کا واقعہ پہلے بیان کر چکا ہوں وہاں بھی آپؑ نے سڑک کے نظارے دیکھ کے یہی کہا کہ یہ پانیوںکے جھرنے اور پہاڑوں کے سبزہ زار کتنے خوبصورت ہیں۔ پس
اسی ایک ذات میں فنا اور رضا کی کیفیت تھی جو ہر آن آپؑ پرطاری رہتی تھی۔ دن ہو یا رات خلوت ہو یا جلوت اس محبوب حقیقی کی یاد کبھی دل سے محو نہیں ہوتی تھی۔
(ماخوذ از حیات احمدؑ جلد 1 صفحہ 85 تا 87۔ اور سیرتِ احمدؑ غیرمطبوعہ)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے والدہ صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ
’’مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا ہے یا فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ بہت پڑھنا چاہیے۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس وجہ سے آپؑ اسے بہت کثرت سے پڑھتے تھے حتّٰی کہ رات کوبستر پر کروٹ بدلتے ہوئے بھی یہی کلمہ آپؑ کی زبان پر ہوتا تھا۔‘‘ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کہتے ہیں کہ ’’…میں نے جب یہ روایت مولوی شیرعلی صاحب سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ مَیں نے بھی دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سبحان اللہ بہت پڑھتے تھے۔ ‘‘ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ خود بھی اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سبحان اللہ پڑھتے سنا ہے۔آپؑ بہت آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر اور سکون اور اطمینان اور نرمی کے ساتھ یہ الفاظ زبان پر دہراتے تھے۔اس طرح کے گویا ساتھ ساتھ صفات باری تعالیٰ پر بھی غور فرماتے جاتے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1حصہ اول صفحہ 3روایت 1)
پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا کہ
’’پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ
حضرت صاحب ؑکے سونے کی کیفیت یہ تھی کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد آپؑ جاگ اٹھتے تھے اور منہ سے آہستہ آہستہ سبحان اللہ ،سبحان اللہ فرمانے لگ جاتے تھے اور پھر سو جاتےتھے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 حصہ دوم صفحہ 287روایت 310)
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓلکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آقا اور محسن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز و اتباع میں گوشہ نشینی اور گوشہ تنہائی بہت پسند تھا اور اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو کبھی باہر نہ آتے۔ متعدد مرتبہ یہ بات آپؑ نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں ظاہر کی ہے۔ غرض جب آپؑ کی گوشہ نشینی، نازک طبیعت اور خلوت پسند فطرت پر ایک پُرزور اثر پڑا اور جذبہ الٰہیہ سے آپؑ بالکل اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچے گئے تو آپؑ نے اپنے والد صاحب کو خط لکھا اس مکتوب کو پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ حضور علیہ السلام کس طرح اوّل عمر سے ہی اس دنیا سے متنفر اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔
جوانی کی حالت میں لکھا گیا یہ خط بھی آپؑ کی پاکیزہ فطرت اور مطہر سیرت کا ایک جزو ہے۔
فارسی میں یہ خط ہے۔ اس کا کچھ حصہ میں بیان کر دیتا ہوں۔آپؑ نے والد صاحب کو مخاطب کر کے لکھا کہ ان ایام میں مَیں بِرَأیِ الْعَیْنِ دیکھتا ہوں اور بچشم سر بڑی فکر کی آنکھ سے دیکھتا ہوں، مشاہدہ کر رہا ہوں کہ تمام ممالک اور بلاد میں ہر سال کوئی نہ کوئی وبا آ جاتی ہے جو دوستوں کو دوستوں سے اور عزیزوں کو عزیزوں سے جدا کر دیتی ہے اور کسی سال بھی مَیں یہ نہیں دیکھتا کہ بھڑکتی آگ اور یہ دردناک حوادث شور قیامت برپا نہیں کرتے۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے دل دنیا سے سرد ہو چکا ہے اور چہرہ اس کے خوف سے زرد ہے۔آج کل بھی دنیا کے جو حالات ہیں وہ اسی طرح ہمیں یاد کرا رہے ہیں کہ کس طرح ہر طرف آگیں بھڑک رہی ہیں۔اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ تعلق پیدا کرنا چاہیے۔اور آپؑ نے اس خط میں لکھا کہ اکثر شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کے یہ دو مصرعے یاد آتے ہیں اور حسرت کے آنسو بہتے چلے جاتے ہیں کہ
مَکُن تکیہ برعمرِ ناپائیدار
مَبَاش ایمن از بازِیِٔ رُوزگار
کہ عمر ناپائدارپر تکیہ نہ کر اور روزگار کے اس کھیل سے کبھی اپنے آپ کو امن میں نہ سمجھ۔ یہ نہ سمجھو کہ ہم دنیا میں پڑ گئے ہیں تو محفوظ ہو گئے۔ پھر لکھا کہ نیز یہ دو مصرعے فرخ قادیانی، اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا تخلص فرخ لکھا کرتے تھے، کے دیوان میں دل کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں کہ
بَدُنیائے دُوں دل مَبَنْد اے جواں
کہ وقتِ اَجَل مِی رَسَدْ ناگہاں
کہ اے نوجوان! اس گھٹیا دنیا سے دل نہ لگا کہ اجل کا وقت اچانک آ جایا کرتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بقیہ عمر گوشہ تنہائی میں بیٹھوں۔ لوگوں کی صحبت سے دامن بچاؤں اور اللہ سبحانہ ٗکی یاد میں مشغول ہو جاؤں تاکہ گذشتہ پر عذر اور مافات کا تدارک ہو سکے۔
اس خط سے معلوم ہوتا ہے اور بھی لمبا خط ہے یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی شہرت اور عظمت کے طلبگار نہ تھے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق صافی رکھتے تھے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ آپؑ کو گوشہ نشینی اور گوشہ گزینی سے اس قدر محبت تھی کہ آپؑ کبھی جلوت میں نہ آتے اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل مدّنظر نہ ہوتی۔ آپؑ نےفرمایا کہ
اگر اللہ تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تُو کس کو پسند کرتا ہے تو اس پاک ذات کی قَسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں۔ مجھے تو کشاں کشاں میدان عمل میں انہوں نے نکالا ہے۔جو لذّت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا کے کون واقف ہے۔ میں تقریباً پچیس سال تک خلوت میں بیٹھا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لیے بھی نہیں چاہا کہ دربار شہرت کی کرسی پر بیٹھوں۔ مجھے طبعاً اس سے کراہت رہی کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔
(ماخوذازحیات احمدؑ جلد اول صفحہ 111تا115مع حاشیہ)
یوں اپنے والد صاحب کو خط لکھ کر انہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا۔ گویا کہ یہ ایک قسم کی شہزادگی تھی جو ترک کر لی۔ آپؑ کے والد صاحب کی ملکیت میں سات گاؤں تھے۔
(ماخوذ ازتاریخ احمدیت جلد1 صفحہ42)
اور یہ سب کچھ آپؑ نے محض خدا تعالیٰ کی محبت کے لیے چھوڑ دیا۔
آپؑ اپنے ماننے والوں کو بھی بعض دفعہ اس حوالے سے نصیحت فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک واقعہ میں لکھا ہے کہ میاں موسیٰ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ مَیں ایک دفعہ قادیان گیا تو وہاں
’’ایک شخص نو مسلم تھا۔اس نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور !مجھے اجازت دیجئے۔ فصل تیار ہے‘‘ بڑا زمیندار تھا ’’میں نے تقسیم کرانی ہے‘‘ ہاریوں سے تقسیم ہوتی ہے۔ جو مزارع ہوتے ہیں ان سے تقسیم بٹائی ہوتی ہے۔ آپؑ نے فرمایا’’ کتنی فصل ہے؟ اس نے عرض کیا کہ حضور بہت زیادہ ہے۔‘‘ آپؑ نے ’’فرمایا: میں نے تو بہت سے گاؤں چھوڑ کر خدا تعالیٰ کا دروازہ اختیار کیا ہے۔آپؑ کچھ روز اَور ٹھہریں۔‘‘
(روایات اصحاب احمدؑ جلد4صفحہ424)
اپنی دینی حالت بہتر کریں اور دنیا داری اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔
آپؑ ان کے حالات جانتے ہوں گے تو بہرحال وہاں اس وقت آپؑ نے یہ فرمایا۔ لیکن آپؑ نے دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ دنیا داری بالکل ترک بھی نہیں کرنی۔جو اللہ تعالیٰ نے انعامات دیے ہیں ان کی قدر بھی کرنی ہے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد10 صفحہ 220۔ایڈیشن 2022ء)
بہرحال اس نومبائع کی تربیت کے لیے آپؑ نے ان کو یہی مشورہ دیا۔ اور یہ حالات کے مطابق بھی ہوتا ہے۔ ہر ایک کو اپنے حالات بھی دیکھنا چاہئیں کہ دنیا میں اتنے نہ ڈوب جائیں کہ بالکل ڈوب جائیں اور اتنا تارک الدنیا بھی نہ ہوں کہ جو دنیا کے حق ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں۔ تو ایک سموئی ہوئی تعلیم ہے اسلام کی اس کو اختیار کرنا چاہیے لیکن
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کبھی نہیں چھوڑنا۔ اس پہلو سے ہمیشہ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔
یہ تھے آپ کے عشق و محبت اور عبادتوں کے بعض پہلو جو آج میں نے بیان کیے۔اللہ تعالیٰ اس رمضان میں ہمیں حقیقی عبادت حقیقت میں عبادت کا بھی صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی محبت میں بھی ہمیں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ اس رمضان کا فیض اٹھاتے رہیں اور بعد میں بھی اس فیض کے اثرات ہم پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بنائے جو حقیقی مومن اور ایک مسلمان کی نشانی ہے۔
ان دنوں میں خاص طور پر مشکلات اور جھوٹے مقدمات میں گرفتار احمدیوں کے لیے بہت زیادہ دعا کریں۔ احمدی بھائیوں کے لیےاللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرمائے۔ اُمّت مسلمہ کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ دنیا کے تباہی سے بچنے کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ معصوم لوگوں کو ان کے شر سے بچائے اور اگر جنگ اور تباہی مقدر ہے تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ معصوموں کو اس سے بچا کے رکھے اور ظالموں کی پکڑ فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 13؍فروری 2026ء




