توبہ واستغفار کی ضرورت و اہمیت اور برکات
استغفار کی حیثیت روحانی ترقیات کے لیے بنیادی اینٹ کی سی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء اپنی قوموں کو استغفار کی تاکید کرتے رہے ہیں
توبہ کا مطلب ہے لوٹنا، رجوع کرنا یا باز آجانا یعنی کسی انسان کا اپنے گناہوں اور غلطیوں پر نادم ہوکر انہیں چھوڑدینا۔ اپنے آپ کو نیکیوں کی طرف لگا کرپختہ ارادہ کرلینا کہ اب وہ گناہ آلودہ زندگی چھوڑ کر اپنے ربّ کے ساتھ تعلق جوڑ لے گا۔ اِسْتِغْفَار کے لغوی معنی مغفرت طلب کرنا، گناہوں کی معافی کے لیے دعا کرنا، بخشش طلب کرنا اور خداتعالیٰ کی پناہ میں آجانا بیان ہوئے ہیں۔استغفار کے اصطلاحی معنی یہ ہوں گے کہ گناہوں سے توبہ کرنا، اللہ تعالیٰ سے اپنے گذشتہ گناہوں پر معافی چاہنا۔ اپنے آپ کو اس کی طرف لگادینا اور اُس کی پناہ میں آجاناتاکہ وہ اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور رسوا نہ کرے۔استغفار کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسان کی بشری کمزوریاں ڈھانپی جاتی ہیں اور اُس کی روحانی صلاحیتیں ترقی پذیر ہوتی ہیں۔پس جو انسان جس قدر زیادہ استغفار کرے گا اُس کی روحانی صلاحیتوں میں اسی قدر نکھار پیدا ہوگا اور وہ روحانی مدارج میں ترقی کرے گا۔
گناہ کی حقیقت: انسان ایک کمزور اور بے حقیقت شے ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیرنہ تو گناہوں سے بچ سکتاہے اور نہ ہی روحانی مدارج حاصل کرسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے بوجھ ہلکے کرنے کے لیے ایسی تعلیم نازل فرمائی ہے جو ہدایت کی راہوں پر چلانے والی اور کامیابی سے ہمکنار کرنے کی بہترین راہ ہے: یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیْفًا (النساء:۲۹)اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کردے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔انسانی نفس میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ اکثر اوقات وہی اُس کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے۔اگروہ بگڑ جائے تواُسے اللہ تعالیٰ سے دور کردیتاہے۔ اس کا سبب گناہوں کی میل اوروہ زنگ ہیں جن کی کثرت کے نتیجے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: کَلَّا بَلۡ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوْنَ (المطففین:۵۱) خبردار! حقیقت یہ ہے کہ اُن کے دلوں پر زنگ لگا دیا اُن کسبوں نے جو وہ کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہِ نُکْتَۃٌ سَوْدَاءُ، فَاِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہُ، وَاِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتَّی تَعْلُوَ قَلْبَہُ، وَھُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَاللّٰہُ رَانَ (الجامع الکبیر للترمذی أبواب تفسیر القرآن باب ومن سورۃ وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ حدیث:۴۳۳۳) جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ اُس (گناہ) کو ترک کردے یا استغفار اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو سیاہی بڑھا دی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ سیاہی اس کے دل پر چھا جاتی ہے اور یہی وہ “رَانَ” ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کَلَّا بَلۡ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوْنَ (المطففین:۵۱) میں فرمایاہے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:“گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہوسکتا ہے۔استغفارکیاہے؟ یہی جو گناہ صادر ہوچکے ہیں ان کے بد ثمرات سے خدا محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوہ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا ہی وقت نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہوجاویں۔”(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۲۱۔ ایڈیشن ۲۰۱۸ء)
استغفار کی اہمیت: جاننا چاہیے کہ استغفار کی حیثیت روحانی ترقیات کے لیے بنیادی اینٹ کی سی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء اپنی قوموں کو استغفار کی تاکید کرتے رہے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا (نوح:۱۱) اپنے ربّ سے بخشش طلب کرو یقیناً وہ بہت بخشنے والا ہے۔ حضرت ھود علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: وَیٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ (ھود:۵۳) اور اے میری قوم! اپنے ربّ سے استغفار کرو پھر اسی کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ (ھود:۶۲)پس اس سے استغفار کرتے رہو پھر اسی کی طرف توبہ کے ساتھ جھکو۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِؕ (ھود:۹۱) اور اپنے ربّ سے استغفار کرو پھر اسی کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو۔
توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ (المؤمن:۴) (گناہوں کو بخشے والا اور توبہ قبول کرنے والا) بیان ہوئی ہے۔ اس لیے اُس نے اپنے فضل و احسان سے اپنے بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھاہے تاکہ وہ اُس کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائیں۔ہمارے آسمانی آقا نے ہر انسان کو یہ امید دلائی ہے کہ وہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے:اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَاْخُذُ الصّٰدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (التوبہ:۱۰۴)کیا انہیں علم نہیں ہوا کہ بس اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ منظور کرتا ہے اور صدقات قبول کرتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنی ہی جان پر ظلم کرتا ہے۔اس ظلمت کو دُور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور استغفار کا دروازہ کھول رکھا ہے: قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ۔(النور:۲۳)تُو کہہ دے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقیناً اللہ تمام گناہوں کو بخش سکتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعْدِ ظُلۡمِہٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ۔ (المائدۃ:۴۰) پس جو بھی اپنے ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرے تو یقیناً اللہ اس پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھکے گا۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ ہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَیَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ (الشوریٰ:۲۶) اور وہی ہے جواپنے بندوں کی طرف سے توبہ قبول کرتا ہے اور بُرائیوں سے درگزر کرتا ہے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَرَحۡمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیۡمٌ (النور:۱۱) اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتے اور یہ کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بڑی حکمت والا ہے (تو تمہارا کیا بنتا)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ أَحَدِکُمْ مِنْہُ بِضَالَّتِہِ، اِذَا وَجَدَھَا (سنن ابن ماجہ أبواب الزھد بَابُ ذِکْرِ التوبہ حدیث:۴۲۴۷) اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ سے اتنا خوش ہوتا ہے جتنا کوئی شخص اپنی گم شدہ سواری ملنے پر خوش ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر وہ مسئلہ پوچھنے کے لیے نکلا اور ایک راہب کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ اس نے کہا:نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس کو بھی مار ڈالا اور پھر وہ اسی طرح مسئلہ پوچھنے لگا تو ایک شخص نے اس سے کہا:فلاں فلاں بستی میں جاؤ تو راستے میں اس کو موت نے آلیا اور مرتے وقت اس نے اپنے سینے کو اس بستی کی طرف جھکا دیا۔ اب اس کے متعلق رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ اللہ نے اس بستی کو وحی کی کہ اس کے قریب ہوجااور اللہ نے اس بستی کو جہاں سے وہ نکلا تھا حکم دیا کہ اس سے دور ہوجا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا: دونوں بستیوں کے درمیان جو فاصلہ ہے اس کو ناپو۔ تو اس بستی کے جس طرف جانے کا قصد رکھتا تھا، ایک بالشت زیادہ قریب پایا گیا۔ اس لیے اس کو بخش دیا گیا۔ (صحیح البخاری کتاب احادیث الأنبیاء باب ۵۴۔حدیث:۳۴۷۰)نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے: اِنَّ رَبَّکَ تَعَالٰی یَعْجَبُ مِنْ عَبْدِہِ اِذَا قَالَ اِغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ، یَعْلَمُ أَنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ غَیْرِیْ(سنن ابی داؤد کتاب الجھاد بَاب مَا یَقُولُ الرَّجُلُ اِذَا رَکِبَ حدیث:۲۶۰۲) یقیناًًتیرا ربّ اپنے بندے سے اُس وقت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہ معاف فرمادے، اس لیے کہ بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہ بخشنے والا نہیں ہے۔
توبہ و استغفار کا طریق:توبہ و استغفار کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوکرسچے دل سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ اُن سے بچنے کا اقرار کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَلنَّدَمُتَوْبَۃٌ ندامت توبہ ہی ہے۔ (ابن ماجہ أبواب الزھد بَابُ ذِکْرِ التوبہ حدیث:۴۲۵۲) اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے:وَاَنِیْبُوْٓااِلٰی رَبِّکُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَہٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ (الزمر:۵۵) اور اپنے ربّ کی طرف جھکو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پیشتر اس کے کہ تم تک عذاب آجائے پھر تم کوئی مدد نہیں دیئے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کاایک اور ارشاد مبارک ہے: وَاِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی۔ (طٰہٰ:۸۳) اور یقیناً میں بہت بخشنے والا ہوں اُسے جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے پھر ہدایت پر قائم رہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے۔اسی نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔جب ایک گنہگار انسان نادم ہوکر اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے اوراُس کے حضور رجوع کرتا ہے تو اس کی رحمت جوش میں آجاتی ہے۔پس درست اور بہتر راہ گناہ پر نادم ہونا اور اس سے توبہ کرنا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے:اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ(صحیح البخاری کتاب المغازی بَاب۳۴:حَدیْثُ الْاِفْکِ حدیث:۴۱۴۱)بندہ جب خطا کا اقرار کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر مہربانی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سچے مومنوں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: اَلتَّآئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَالنَّاہُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَالۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِؕ وَبَشِّرِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ۔ (التوبہ:۱۱۲) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (خدا کی راہ میں) سفر کرنے والے، (للہ) رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے، اور بُری باتوں سے روکنے والے، اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے، (سب سچّے مومن ہیں) اور تُو مومنوں کو بشارت دیدے۔
توبہ و استغفار کے پسندیدہ اوقات: توبہ و استغفار کے لیے کوئی خاص جگہ یا وقت مقرر نہیں ہے بلکہ یہ دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ انسان کو جب اور جس وقت یاد آئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اُس سے بخشش و رحمت کی دعا کرلینی چاہیے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: “توبہ کوہمیشہ زندہ رکھو اور کبھی مردہ نہ ہونے دو۔ کیونکہ جس عضو سے کام لیا جاتا ہے وہی کام دے سکتا ہے اور جس کو بیکار چھوڑ دیا جاوے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح توبہ کو بھی محرک رکھو تاکہ وہ بیکار نہ ہوجاوے۔ اگر تم نے سچی توبہ نہیں کی تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو پتھر پر بویا جاتا ہے اور اگر وہ سچی توبہ ہے تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔” (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۲۵۔ ایڈیشن ۲۰۱۸ء)بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب دعاؤں کی قبولیت بہت بڑھ جاتی ہے اس لیے ان اوقات سے خاص طورپر فائدہ اٹھانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: اَلصّٰبِرِیۡنَ وَالصّٰدِقِیۡنَ وَالۡقٰنِتِیۡنَ وَالۡمُنۡفِقِیۡنَ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالْاَسْحَارِ (آل عمران:۱۸) (یہ باغات ان کے لیے ہیں) جو صبر کرنے والے ہیں اور سچ بولنے والے ہیں اور فرمانبرداری کرنے والے ہیں اور خرچ کرنے والے ہیں اور صبح کے وقت استغفار کرنے والے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار،۱۲ باب اسْتِحْبَابِ الْاِسْتِغْفَارِ وَالْاِسْتِکْثَارِ مِنْہُ حدیث:۴۸۵۷) قبولیت دعا کے اہم مواقع میں سب سے اہم نماز ہے۔ اس لیے نمازوں میں کثرت سے توبہ و استغفار کرناچاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں کو معاف فرماتے ہوئے اپنے مقرب بندوں میں شامل فرمالے۔
کتنی بار توبہ استغفارکرنا چاہیے؟:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یَاأَیُّھَاالنَّاسُ تُوبُوْا اِلَی اللّٰہِ فَاِنِّی أَتُوبُ فِی الْیَوْمِ اِلَیْہِ مِاءَۃَ مَرَّۃٍ (صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار،۱۲: باب اسْتِحْبَابِ الْاِسْتِغْفَارِ وَالْاِسْتِکْثَارِ مِنْہُ حدیث:۴۸۵۷) اےلوگو! اللہ کے حضور توبہ کرو میں ایک دن میں سو مرتبہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
رکوع اورسجدوں میں استغفار:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رکوع اور سجدہ میں اکثر یہ کہا کرتے تھے:سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرلِیْ (صحیح البخاری کتاب الأذان بَاب ۱۳۸: لَا یَکُفُّ ثَوْبَہُ فِی الصَّلَاۃِ حدیث:۶۱۶) پاک ذات ہے تیری اے اللہ! جو ہمارا ربّ ہے اور تُو اپنی خوبیوں کے ساتھ ہے۔ اے اللہ! تُو میری مغفرت فرما۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سجدے میں یہ دعا کیا کرتے تھے:اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی ذَنْبِی کُلَّہُ دِقَّہُ وَجِلَّہُ وَأَوَّلَہُ وَآخِرَہُ وَعَلَانِیَتَہُ وَسِرَّہُ اے اللہ! میرے سب گناہ معاف فرمادے، چھوٹے اور بڑے پہلے اور بعد کے ظاہر اور پوشیدہ۔(صحیح مسلم کتاب الصلاۃ ۴۲:بَاب مَا یُقَالُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ حدیث:۷۳۷) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی وفات سے قبل بکثرت یہ دعا کیا کرتے تھے: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ اِلَیْکَ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ،بَاب مَا یُقَالُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ حدیث:۷۳۹) پاک ہے تُو اور اپنی حمد کے ساتھ میں تجھ سے بخشش طلب کرتاہوں اور تیرے حضور توبہ کرتاہوں۔
سجدوں کے درمیان بخشش کی دعا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی ﷺ دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ۔(سنن ابوداؤد کتاب الصلاۃ بَاب الدُّعَاءِ حدیث:۸۵۰) اے اللہ !مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرمااور مجھے عافیت دے اور مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دو سجدوں کے درمیان یوں کہا کرتے تھے: ربِّ اغْفِرْلِی، رَبِّ اغْفِرْلِی (سنن ابن ماجہ أبواب اِقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا بَابُ یَقُوْلُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ حدیث:۸۹۷) اے میرے ربّ! مجھے بخش دے۔ اے میرے ربّ! میری مغفرت فرما۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز(تہجد) میں دو سجدوں کے درمیان یوں کہتے تھے:رَبِّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِی وَاجْبُرْنِی وَارْزُقْنِی وَارْفَعْنِی(سنن ابن ماجہ أبواب اِقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا بَابُ یَقُوْلُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ حدیث:۸۹۸)اے میرے ربّ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم کر اور میرے نقص دور فرمادے اور مجھے رزق عطا فرما اور مجھے بلندی عطا فرما۔
سلام سے پہلے مغفرت کی دعا:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: آپؐ مجھے دعا سکھائیں جو میں نماز میں کیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا:یہ دعا کیاکرو:اللّٰھُمَّ ظَلَمْتُ نَفْسِی ظُلْمًا کَثِیْرًا وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْلِی مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِی اِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (صحیح البخاری کتاب الأذان بَاب ۱۴۹: اَلدُّعَاءُ قَبلَ السَّلَامِ حدیث:۸۳۴) اے اللہ!میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ سو اپنی جناب سے میری مغفرت فرما اور مجھے رحمت سے نواز۔ یقیناً تو ہی غفور ورحیم ہے۔
توبہ و استغفار کی برکات:قرآن شریف اور نبی کریمﷺ کے ارشادات میں توبہ و استغفار کی متعدد برکات بیان ہوئی ہیں جن میں سے چندبرکات کاذیل میں ذکر کیا جارہا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق
روحانی ترقیات کا ذریعہ:انبیاء ورسل معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ بکثرت استغفار کرتے تھے تاکہ اس ذریعہ سے اُن کے روحانی مدارج بلند ہوں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم شمار کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ ایک ایک مجلس میں سو سو بار یہ کلمہ دہراتے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِی وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (ابوداؤد کتاب الوتر بَابٌ فِی الْاِسْتِغْفَارِحدیث:۱۵۱۵) اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور (رحمت کے ساتھ) میری طرف رجوع فرما۔ بلاشبہ تو بہت زیادہ رجوع فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:یاد رکھو کہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے، دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طورپر دکھانے کے لیے۔ قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے۔ اسی طرح پر رُوحانی مگدر استغفار ہے۔ اس کے ساتھ رُوح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔ غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔ استغفار سے انسان اُن جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے جو خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں۔ پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کرکے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اُن پر غالب آوے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۷۴۔ ایڈیشن ۲۰۱۶ء)
گناہوں سے نجات کا ذریعہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَیُدۡخِلَکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الْاَنْھٰرُ(التحریم:۹)اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرتے ہوئے جھکو۔ بعید نہیں کہ تمہارا ربّ تم سے تمہاری بُرائیاں دور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو یہ خوشخبری سنائی ہے: اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ، کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہُ (سنن ابن ماجہ ابواب الزھد بَابُ ذِکْرِ التوبہ حدیث:۴۲۵۰) گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہوجاتا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔
گناہوں کی بخشش کا ذریعہ: توبہ واستغفار کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آتا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے:وَمَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ یَظۡلِمۡ نَفۡسَہٗ ثُمَّ یَسۡتَغۡفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیۡمًا (النساء:۱۱۱) اور جو بھی کوئی بُرا فعل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش طلب کرے وہ اللہ کو بہت بخشنے والا(اور) بار بار رحم کرنے والا پائے گا۔ قرآن شریف کے ایک اور مقام پر گناہ گاروں کو امید دلاتے ہوئے فرمایا ہے:قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوْاعَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ۔(الزمر:۵۴)تُو کہہ دے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقیناً اللہ تمام گناہوں کو بخش سکتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
گناہوں کے بد نتائج سے بچانے کا ذریعہ: توبہ و استغفار کی ایک برکت یہ بیان ہوئی ہے کہ اس ذریعہ سے انسان گناہوں کے بد نتائج سے بچ جاتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے:وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِھِمۡ ۪ وَمَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَلَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَھُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ۔(آل عمران:۱۳۶)نیز وہ لوگ جو اگر کسی بے حیائی کا ارتکاب کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر (کوئی) ظلم کریں تو وہ اللہ کا (بہت) ذکر کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہ بخشتا ہے۔ اور جو کچھ وہ کر بیٹھے ہوں اس پر جانتے بوجھتے ہوئے اِصرار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بخشش کے حصول کے لیے یہ دعا سکھلائی ہے: رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(آل عمران:۱۷) اے ہمارے ربّ! یقیناً ہم ایمان لے آئے۔ پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے حضور بہت استغفار کرو تاکہ گناہوں کے بُرے نتائج سے تم محفوظ رہو اور آئندہ گناہوں کے جذبات دبائے جاویں۔ استغفار بہت ہی ضروری چیز ہے اور تمام انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے خداتعالیٰ کے حضور دعائیں کرو جو اس کے دروازہ کو کھٹکھٹاتا ہے اس پر کھولا جاتا ہے۔ (اخبار بدر قادیان مورخہ یکم فروری ۱۹۱۲ء صفحہ ۸جلد ۱۱نمبر۱۸، ۱۹)
ابتلاؤں سے نجات کا ذریعہ:قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ توبہ و استغفار ابتلاؤں سے بچانے اور اُن سے نکالنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے ابتلاؤں کے دُور ہونے کے لیے خاص طور پر استغفارکرنا چاہیے۔چنانچہ جب حضرت داؤد علیہ السلام کو ابتلا پیش آیا تو انہوں نے اپنے ربّ سے استغفار کیا۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا اور ابتلا سے نجات عطا فرمادی۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّہٗ وَخَرَّ رَاکِعًا وَّاَنَابَ۔ فَغَفَرۡنَا لَہٗ ذٰلِکَ وَاِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَحُسۡنَ مَاٰبٍ۔(صٓ:۲۵-۲۶) اورداوٗد نے سمجھ لیا کہ ہم نے اس کی آزمائش کی تھی۔ پس اس نے اپنے ربّ سے بخشش مانگی اور وہ عجز کرتے ہوئے گِر پڑا اور توبہ کی۔ پس ہم نے اس کو یہ (قصور) بخش دیا۔ اور یقیناً اُسے ہمارے ہاں ایک قربت اور اچھا مقام حاصل تھا۔
فلاح اور کامیابی کا ذریعہ: قرآن شریف میں توبہ کی ایک برکت اللہ تعالیٰ کے ہاں فلاح اور کامیابی بیان ہوئی ہے۔جیساکہ فرمایاہے: وَتُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔(النور:۳۲) اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
نیکیوں میں ترقی کا ذریعہ:توبہ و استغفار کے ذریعہ جہاں انسان کوگناہوں اور گناہ آلود زندگی سے نجات ملتی ہے۔وہیں اس کی برکت سے نیکیوں کی توفیق ترقی پذیر ہوتی ہے اور انسان کا دل نیکیوں اور نیک کاموں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ اُس کی بدیاں مٹاکر اُس میں خوبیاں پیدا کردیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا۔(الفرقان:۷۱)سوائے اس کے جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی بدیوں کو اللہ خوبیوں میں بدل دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
بلندی درجات کا ذریعہ: اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے:وَاسۡتَغۡفِرِ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیْمًا۔(النساء:۱۰۷) اور اللہ سے بخشش طلب کر۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ بکثرت توبہ و استغفار کرتے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کے درجات بلند سے بلند تر ہوتے رہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے:وَاللّٰہِ اِنِّی لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً۔(صحیح البخاری کتاب الدعوات بَاب۳: اسْتِغْفَرُالنَّبِیِّ ﷺ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ حدیث:۶۳۰۷) اللہ کی قسم! میں تو ہر روز ستّر بار سے بھی زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔پس آپؐ کی امت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی توبہ و استغفار کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش دیں اور اس طریق پراپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے لیے مغفرت طلب کرتے رہیں تااُن کی بشری کمزوریاں چھپادی جائیں اور اُن کے روحانی مدارج میں اضافہ ہوتارہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایاہے:کُلُّ بَنِی آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ(سنن ابن ماجہ أبواب الزھد بَابُ ذِکْرِ التوبہ حدیث:۴۲۵۱)تمام بنی آدم خطاکار ہیں اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہیں۔
مالی کشائش اور اللہ تعالیٰ کے افضال کو جذب کرنے کا ذریعہ: توبہ، استغفار صرف گناہوں سے بخشش کا ہی ذریعہ نہیں ہیں بلکہ ان کی کثرت سے مالی مشکلات دور ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: وَاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤۡتِ کُلَّ ذِیۡ فَضۡلٍ فَضۡلَہٗ (ھود:۴)تنیز یہ کہ تم اپنے ربّ سے استغفار کرو پھر اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو تمہیں وہ ایک مقررہ مدت تک بہترین سامانِ معیشت عطا کرے گا اور وہ ہر صاحبِ فضیلت کو اس کے شایانِ شان فضل عطا کرے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے استغفار کا التزام کیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ اور ہر غم سے راحت کا سامان پیدا فرمادے گا۔ اور ایسے ایسے مقامات سے رزق مہیا فرمائے گا جس کا اسے وہم وگمان بھی نہ ہوگا۔ (ابوداؤد کتاب الوتر بَابٌ:فِی الْاِسْتِغْفَارِحدیث:۱۵۱۸) اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی متقیوں سے یہ وعدہ فرمایا ہے: وَمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ (الطلاق:۳-۴) اور جو اللہ سے ڈرے اُس کے لیے وہ نجات کی کوئی راہ بنادیتا ہے۔ اور وہ اُسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا۔
طاقت و قوت عطا ہونے کا ذریعہ:اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے ایک اور مقام پرحضرت ھود علیہ السلام کی زبان سے یہ اعلان فرمایا: وَیٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا وَّیَزِدۡکُمۡ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِیۡنَ (ھود:۵۳) اور اے میری قوم! اپنے ربّ سے استغفار کرو پھر اسی کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو۔ وہ تم پر لگاتار مینہ برساتے ہوئے بادل بھیجے گااور تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے اور جرموں کا ارتکاب کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر نہ چلے جاؤ۔
اموال ونفوس میں برکت کا ذریعہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا۔ وَّیُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِیۡنَ وَیَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّیَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا۔(نوح:۱۱تا۱۳) اپنے ربّ سے بخشش طلب کرو یقیناً وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر لگا تار برسنے والا بادل بھیجے گا۔ اور وہ اموال اور اولاد کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کرے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “استغفار کے برکات اور نتائج ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام نے انسانی ضروریات کی جہت سے بیان فرمائے ہیں۔ غورکرکے دیکھ لو۔کیا انسان کو انہیں چیزوں کی ضرورت دنیا میں نہیں ہے؟پھر ان کے حصول کا علاج استغفار ہے … ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر تم استغفار کرو تو سب برکتیں حاصل ہوں گی۔ گناہ بخشے جائیں گے، بارش ہوگی، ہرشے ارزاں ملے گی، مال ودولت بہت ہوگی، اولادکی کثرت ہوگی، باغ ہوں گے، نہریں جاری ہوں گی۔ ان آیات سے استغفار کی فضیلت ظاہر ہے۔ استغفار کیا ہے؟ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پچھلے گناہوں کی سزا سے بچنے کی توفیق طلب کرنا۔” (حقائق الفرقان جلد ۶صفحہ۱۰-۱۱۔ ایڈیشن ۲۰۲۴ء)
ایک اور موقع پرحضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے ان آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:“روایت ہے کہ ایک دن حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص گیا اور قحط کی شکایت کی۔ آپ نے اسے فرمایا کہ استغفار کرو۔پھر ایک اور شخص گیا۔ اُس نے کہا: یا حضرت! مَیں محتاج ہوں، فرمایا: استغفار کرو۔ ایک تیسرے نے کہا کہ میرے اولاد نہیں ہوتی۔ اُسے بھی استغفار کرنے کا حکم دیا۔ چوتھے نے پیداوارِ زمین کی کمی کا گلہ کیا۔ اُسے بھی استغفار کی تاکید فرمائی۔ حاضرِ مجلس ربیع بن صبیح نے عرض کی کہ آپ کے پاس مختلف لوگ آئے اور مختلف چیزوں کے سائل ہوئے مگر آپ نے جواب سب کو ایک ہی دیا۔ اس کے جواب میں حسن بصری نے قرآن شریف کی یہی آیات پڑھیں۔” (حقائق الفرقان جلد ۶صفحہ۱۱۔ ایڈیشن ۲۰۲۴ء)
دعا ؤں کی قبولیت کا ذریعہ:حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم ثمود کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: فَاسۡتَغۡفِرُوۡہُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ قَرِیۡبٌ مُّجِیْبٌ (ھود:۶۲)پس اس سے استغفار کرتے رہو پھر اسی کی طرف توبہ کے ساتھ جھکو۔ یقیناً میرا ربّ قریب ہے (اور دعا) قبول کرنے والا ہے۔
فرشتوں کی دعا ئیں حاصل کرنے کا ذریعہ: قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ایمان لانے والوں اور توبہ کرنے والوں کی بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ پس جو انسان جس قدر ایمان میں ترقی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفار میں مداومت اختیار کرے گا وہ اُسی قدران مقرب فرشتوں کی دعاؤں کا وارث بنے گا۔ اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَقِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡم۔ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡہُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ ۣالَّتِیۡ وَعَدۡتَّہُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَاَزۡوَاجِہِمۡ وَذُرِّیّٰتِہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ۔ (المؤمن:۸-۹)وہ جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے گرد ہیں وہ اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں جو ایمان لائے۔ اے ہمارے ربّ! تُو ہر چیز پر رحمت اور علم کے ساتھ محیط ہے۔ پس وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ کی پیروی کی ان کو بخش دے اور ان کو جہنّم کے عذاب سے بچا۔ اور اے ہمارے ربّ! انہیں اُن دائمی جنتوں میں داخل کردے جن کا تُو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے اور انہیں بھی جو اُن کے باپ دادا اور ان کے ساتھیوں اور ان کی اولاد میں سے نیکی اختیار کرنے والے ہیں۔ یقیناً تُو ہی کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے رحم اور محبت کے حصول کا ذریعہ:اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ (البقرۃ:۲۲۳) یقیناً اللہ کثرت سے توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے (بھی) محبت کرتاہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ رَحِیْمٌ وَّدُوۡدٌ۔(ھود:۹۱) اور اپنے ربّ سے استغفار کرو پھر اسی کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو۔ یقیناً میرا ربّ بار بار رحم کرنے والا (اور)بہت محبت کرنے والا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ اپنے بندہ کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ شخص کہ جو ایک مقام پر اُترا اور وہاں ہلاکت کے سب سامان موجود ہیں، اُس کے ساتھ اس کی اونٹنی ہے جس پر اُس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہے۔ وہ اپنا سر رکھ کر تھوڑا سا سوگیا اور پھر جاگا، کیا دیکھا کہ اس کی اونٹنی کہیں چلی گئی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ گرمی اور پیاس نے اسے سخت لاچار کردیا یا فرمایا:اتنی سخت گرمی اور پیاس لگی جتنی اللہ نے چاہی۔ کہنے لگا: میں اپنی جگہ لوٹ جاتا ہوں۔ اور وہ لوٹا اور تھوڑا سا سویا۔ پھر اُس نے اپنا سر اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی اونٹنی اس کے پاس کھڑی ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الدعوات بَاب ۴:التَّوْبَۃُ حدیث:۶۳۰۸)
بخشش و رحم کی چند دعائیں: اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول مقبول ﷺ نے رحم وبخشش کی متعدد دعائیں ہمارے لیے بیان فرمادی ہیں تاکہ ہم اُن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے رحم کو جذب کرسکیں۔ لَھَا مَا کَسَبَتۡ وَعَلَیۡھَا مَا اکۡتَسَبَتۡ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا ٝ وَاغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ۔ (البقرۃ:۲۸۷) اے ہمارے ربّ! ہمارا مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہوجائے۔ اور اے ہمارے ربّ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر (ان کے گناہوں کے نتیجہ میں) تُو نے ڈالا۔ اور اے ہمارے ربّ! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو۔ اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم کر۔ تُو ہی ہمارا والی ہے۔ پس ہمیں کافر قوم کے مقابل پر نصرت عطا کر۔
رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَاِسۡرَافَنَا فِیۡۤ اَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ (آل عمران:۱۴۸) اےہمارے ربّ! ہمارے گناہ بخش دے اور اپنے معاملہ میں ہماری زیادتی بھی۔ اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور ہمیں کافر قوم کے خلاف نصرت عطاکر۔
رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَامُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَکَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ (آل عمران:۱۹۴) اے ہمارے ربّ! یقیناً ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سُنا جو ایمان کی منادی کررہا تھا کہ اپنے ربّ پر ایمان لے آؤ۔ پس ہم ایمان لے آئے۔ اےہمارے ربّ! پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری بُرائیاں دور کردے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔
اَنۡتَ وَلِیُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الۡغٰفِرِیۡنَ (الاعراف:۱۵۶) تُو ہی ہمارا ولی ہے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الْحِسَابُ (اِبْرَاھِیْمَ:۲۴) اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور مومنوں کو بھی جس دن حساب برپا ہو۔
رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُالرّٰحِمِیْنَ (المؤمنون:۱۱۰) اے ہمارے ربّ! ہم ایمان لے آئے۔ پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔
سیدالاستغفار اور اس کی فضیلت:حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ سیدالاستغفار یہ ہے کہ وہ یہ دعا کرے: اللَّھُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِی وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَااسْتَطَعْتُ أَعُوذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوءُ لَکَ بِذَنْبِی فَاغْفِرْلِی فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّنُوْبَ اِلَّا أَنْتَ (صحیح البخاری کتاب الدعوات بَاب أفْضَلُ الْاِسْتِغْفَارِ حدیث:۶۳۰۶) اے میرے اللہ! تُو ہی میرا ربّ ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔ تُو نے مجھے پیدا کیا۔ میں تیرا بندہ ہوں۔ میں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر قائم ہوں جہاں تک میں طاقت رکھتا ہوں۔ جو میں نے کیا اُس کے شر سے میں تیری پناہ لیتا ہوں۔ میں تیرے حضور اقرار کرتا ہوں کہ تونے مجھ پر احسان کیے اور میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں۔ مجھ پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے میرے گناہوں سے در گزرفرما کیونکہ کوئی گناہوں کی مغفرت نہیں کرتا مگر توہی۔رسول اللہﷺنے سیدالاستغفار کی فضیلت و برکات بیان کرتے ہوئے فرمایاہے: اور جو شخص دن کو یہ دعا یقین رکھتے ہوئے کرے گا پھر وہ اس دن شام ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ جنتیوں میں سے ہوگااور جس نے رات کو یہ دعا کی جبکہ اس پر وہ یقین رکھتا ہے پھر وہ صبح ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ بھی جنتیوں میں سے ہوگا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اُٹھتے تو فرماتے:…اللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَاِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلَہَ اِلَّا أَنْتَ (صحیح البخاری کتاب التھجد بَاب:اَلتَّھَجُّدُ بِاللَّیْلِ حدیث:۱۱۲۰) اے اللہ! میں نے تیرے حضور اپنی گردن ڈال دی ہے اور تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف میں جھکا ہوں اور تیری ہی خاطر میں نے یہ جھگڑا اُٹھایا ہے اور تیرے ہی حضور فیصلہ چاہا ہے۔ میری مغفرت فرما، اس تقدیم و تاخیر میں جو میں نے کی ہے اور اس میں بھی جسے میں نے پوشیدہ رکھا اور جس کا میں نے اظہار کیا۔ تو ہی مقدّم کرنے والا اور توہی مؤخّر کرنے والا ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر تو ہی۔
حضرت زیدرضی اللہ عنہ مولیٰ نبیﷺ نے رسول کریمﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص یوں کہتا ہے: أَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ اِلَیْہِ (ابوداؤد کتاب الوتر بَابٌ فِی الْاِسْتِغْفَارِحدیث:۱۵۱۷) میں اللہ سے بخشش کا طلبگار ہوں جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں جو زندہ ہے اور قائم بالذات ہے، میں اُسی سے توبہ کرتا ہوں۔ تو اس کو بخش دیا جاتا ہے اگرچہ وہ جہاد سے بھی بھاگا ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ جو اسلام لاتا رسول اللہ ﷺ اسے (یہ کلمات) سکھاتے: اَللّٰھُمْ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ(صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار،باب:۱۰ فَضْلِ التَّھْلِیْلِ وَالتَسْبِیْحِ وَالدُّعَاءِ حدیث:۴۸۴۹) اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرمااور مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔
خلاصہ کلام یہ کہ اگرچہ توبہ و استغفار کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے لیکن کسی انسان کو اپنے انجام کی خبر نہیں کہ کب اور کس وقت قضاوقدر کا فیصلہ جاری ہو گا اور اُسے مالک حقیقی کے دربار میں بلا لیا جائے گا۔ اس لیے گناہ آلود زندگی بسر کرنا اور دلیر ہوتے جانا اُس کے لیے بہت نقصان کا باعث ہوسکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرٌ (سنن ابن ماجہ أبواب الزھد بَابُ ذِکْرِ التوبہ حدیث:۴۲۵۳) بے شک اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی توبہ قبول فرماتا رہتا ہے جب تک نزع کا عالم طاری نہ ہوجائے۔پس انتظار کرنے کی بجائے ہمیشہ توبہ و استغفار میں لگے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: اور ان لوگوں کی کوئی توبہ نہیں جو بدیاں کرتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے جب کسی کو موت آجائے تو وہ کہتا ہے میں اب ضرور توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو اس حالت میں مرجاتے ہیں کہ وہ کفار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ (النساء:۱۹)




