دنیا پہ امڈتے خوف وہراس کے نئے بادل اور ایک اعجازی پیشگوئی
آج سے ایک سوپچیس (۱۲۵) برس قبل ۱۱؍مئی ۱۹۰۶ء کو حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلا م کو الہام ہوا:
’’ کَشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کُشتیاں‘‘
(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۷۳۔ مطبوعہ بدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ بحوالہ تذکرہ ایڈیشن ۲۰۲۳ء صفحہ ۵۸۶)
عام طور پر کشتیاں اللہ تعالیٰ کے عطاکردہ بحری افضال سے استفادہ،سفر، تجارت، تعلیم وتحقیق اور تفریح کی غرض سے نیز امدادی اور دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کھیلوں کی دنیا میں اگرپہلوانوں کی کُشتیاں مٹی کے اکھاڑوں میں ہوتی ہیں تو کشتی رانی کی کُشتیاں یعنی مقابلے پانیوں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔
لیکن دفاع اور امن کے قیام کے نام پردنیا کی بڑی طاقتیں بڑے بڑے بحری بیڑے بھی تیار کرلیتی ہیں جن کااصل مقصد جنگ وجدل، استعماری طاقت کے مظاہرے، جغرافیائی توسیع پسندی اور غاصبانہ نو آبادیاتی حرص وہوا کی تسکین ہوتی ہے جن کی مدد سے کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ کیا جانا اور وہاں کے باشندوں کو طاقت کے زور پر یا معاشی طور پر اپنا غلام بنالینامقصود ہوتا ہے۔
پانیوں پر کشتیاں چلا کراس قسم کی کُشتیوں کا مظاہرہ جنگ عظیم اوّل اور دوم میں کیا گیا تھا۔ یا پھر چند ہفتوں قبل، جب دنیا کی سپر پاور امریکہ نے اپنے پانچ بڑے بحری بیڑے مشرق وسطیٰ کے گردا گرد پہنچا کر نہ صرف اس خطّے میں بسنے والوں، جن کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے، بلکہ پوری دنیا پر خوف وہراس اور چند دن سے رنج وغم کی فضا مسلط کردی ہے۔
ان بحری بیڑوں کی کُل تعداد مبینہ طورپر ۱۳؍بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے ایک کا نام یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ (USS Gerald R. Ford) ہے۔اس کے عملے کی تعداد پانچ ہزار بتائی جاتی ہے۔اس کی اونچائی ۲۵۰؍فٹ، لمبائی ۱،۰۹۲؍فٹ اور اس پر موجود لڑاکا طیاروں کی اوسط تعداد ۷۵؍کے لگ بھگ ہے۔ان لڑاکا طیاروں کی بھی کئی اقسام بتائی گئی ہیں۔
دوسرے بڑے بحری بیڑے کا نام یو ایس ایس ابراہام لنکن ہے۔اس کے عملہ کی تعداد ۵۶۸۰؍ لڑاکا طیاروں کی تعداد ۹۰؍اورلمبائی ۱۰۹۲؍فٹ بتائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ’’عملہ‘‘ میں ہر رینک اور نوعیت کا عملہ شامل ہے جن میں عسکری کمانڈر اور فوجی جوان،توپچی،میزائل ماہرین، پائلٹ، آئی ٹی ماہرین، تزویراتی ماہرین، انجنیئر وغیرہ سب شامل ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق مسلمان ملکوں پر مشتمل اس خطّے میں اتنی بھاری تعداد میں بحری بیڑوں کی موجودگی آج کے زمانے میں اسلامی جہاد کے بگڑے ہوئے تصور کی ترویج اور اس پر مبنی جارحانہ دھمکیوں کا منطقی شاخسانہ ہے جس کی آڑ میں استعماری طاقتیں عسکری غلبہ کے علاوہ دیگر بہت سے تزویراتی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ جبکہ یہ زمانہ دین کے لیے تلوار اٹھانے کا نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ دینِ اسلام کی اشاعت وترویج بذریعہ شمشیر کبھی بھی جائز قرار نہیں دی گئی۔حضرت امام آخرالزماں مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد بار نظم ونثرمیں مسلمانوں کی توجہ اس اہم پہلو کی طرف دلائی۔
’’اشاعت دیں بزور شمشیر حرام ہے‘‘ کے عنوان سے تصنیف کردہ ایک طویل نظم میں آپ علیہ السلام نے فرمایا:
اب چھوڑ دو جہاد کا اَے دوستو خیال
دِیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے تمام جنگوں کا اب اِختتام ہے
اب آسماں سے نُورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبیؐ کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبیؐ کی حدیث کو
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اُس خبیث کو
کیوں بھولتے ہو تم یَضَعُ الْحَرْب کی خبر
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
فرما چکا ہے سیّدِ کونین مصطفٰے
عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا اِلتوا
جب آئے گا تو صُلح کو وہ ساتھ لائے گا
جنگوں کے سِلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
حدیث میں موجود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واضح حکم اور پیشگوئی کی یاددہانی کراتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہی اشعار کے تسلسل میں بڑی شان کے ساتھ پھر فرماتے ہیں:
یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا
اِک معجزہ کے طور سے یہ پیش گوئی ہے
کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے
( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ۷۷۔۷۸)
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کو اس اعجازی پیشگوئی پر سوچنے اور عمل کرنے کے اہل افراد کی کل اکثریت عطا فرمائے۔آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اعتکاف کی فضیلت




