عذابِ نار سے بچنے کی دعا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یہ دعا کرو کہ ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ اس میں صرف آخرت کے عذاب نار کی طرف ہی توجہ نہیں دلائی گئی بلکہ اس سے بچنے کی دعا کرو جو اس دنیا کی بھی آگ ہے۔ اس دنیا میں بھی آگ کا عذاب ہوتا ہے۔ پس اس دعا میں دنیا اور آخرت دونوں کے عذابِ نار سے بچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔ دنیا کے عذابِ نار جو ہیں وہ بھی قسماقسم کے ہیں، مصیبتیں ہیں اور دکھ ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو عذاب کے بجائے حَسَنَہ بن جاتے ہیں۔ اس دنیا میں عذابِ نار کی ایک مثال جیسا کہ میں نے ذکر کیا آجکل بعض ملکوں کے جو حالات ہیں وہ بھی ہیں۔ کوئی پتہ نہیں کہ گھر بیٹھے یا بازار میں پھرتے ہوئے کہاں سے بندوق کی گولی آئے اور کوئی گولہ پھٹے اور انسان کو لہو لہان کر دے یا اُس کی زندگی لے لے۔ کئی جانیں اسی طرح ضائع ہو جاتی ہیں۔ جہاں ایسی باتیں ہورہی ہوں، عمل ہو رہے ہوں، اس طرح کی زندگی ہو تو وہاں جب کوئی عذابِ نار سے بچاؤ کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے ان چیزوں سے بچا لیتا ہے۔ آجکل کے شرور جو دہشت گردوں نے پیدا کئے ہوئے ہیں، اُن سے بچنے کے لئے بھی یہ وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی دعا ہے۔
… پس آجکل تو جگہ جگہ آگ کے پھندے ان دہشت گردوں نے لگائے ہوئے ہیں۔ ان کے عذاب سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہت دعا کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کس وقت کہاں کیا ہونا ہے۔ اس لئے انسان اُس سے مانگے کہ میرا گھر میں رہنا اور میرا باہر نکلنا تیرے فضل سے میرے لئے حَسَنَہ کا باعث بن جائے اور ان عذابوں سے مجھے بچا لے۔ اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی مجھے بچا۔
(خطبہ جمعہ ۸؍مارچ۲۰۱۳ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۹؍مارچ ۲۰۱۳ء)
مزید پڑھیں: آخری عشرہ جہنم سے بچاؤ کا عشرہ



