یادِ رفتگاں

مکرم مرزا امتیاز احمد صاحب

سابق امیرجماعت احمدیہ ضلع حیدرآبادسندھ

حدیث نبوی ﷺ اُذْکُرُوْامَحَاسِنَ مَوْتَاکُمْ کے تحت دیرینہ خادمِ سلسلہ اوراپنے عزیز چچا مرزا امتیاز احمد صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع حیدرآبادسندھ کی بابت تحریر کرنا مقصود ہےجو ۱۹؍فروری ۲۰۲۵ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ

ہمارے خاندان کا تعلق چار کوٹ دھیری رلیوٹ، ضلع راجوری جموں وکشمیر سے ہے۔ خلافتِ اُولیٰ کے زمانے میں ہمارے پڑدادا مکرم علم دین صاحب نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے دادامرزا نذیر احمد اپنے بڑے بھائی و دیگر افراد ِخاندان کے ساتھ جموں و کشمیر سے ہجرت کرکے چک جمال ضلع جہلم میں آکر آباد ہوگئے۔ کچھ سال بعد داداجان اپنی فیملی کے ساتھ سندھ چلے گئے جہاں آپ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زرعی زمینوں طاہر آباد، محمود آباد اور مبارک آباد اسٹیٹس میں بطور کارکن کام کرتے رہے۔ بعدازاں دادا جان نے بشیرآباد اسٹیٹ میں مستقل رہائش اختیار کرلی۔

خاکسار کے چچا مرزا امتیاز احمد یکم اکتوبر ۱۹۶۵ء کو طاہرآباد اسٹیٹ ضلع عمر کوٹ سندھ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بی۔اے تک تعلیم حاصل کی اور میڈیکل اسٹور کھول لیا۔ خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ نے نوجوانی سے لے کر زندگی کے آخری لمحہ تک قریباً چالیس سال سے زائد عرصہ تک تنظیمی اور جماعتی سطح پر، مقامی جماعت کی مجلس عاملہ اور امارت ضلع حیدرآباد کی عاملہ میں مختلف شعبہ جات میں خد متِ دین کی توفیق پائی۔ آپ کومجلس خدام الاحمدیہ میں بیس سال سے زائد عرصہ مختلف حیثیتوں میں بطور ناظم اطفال و قائد مجلس بشیرآباد،سنہ ۹۰ء کی دہائی میں ابتداءًقائد ضلع حیدرآباد اور پھر ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۵ء تک مجلس انصاراللہ کا رُکن بننے تک قائد علاقہ حیدرآبادخدمت کی توفیق ملی۔ مجلس انصاراللہ میں ۲۰۰۶ء سے ۲۰۲۲ء تک ۱۶؍سال ناظم اعلیٰ مجلس انصار اللہ ضلع حیدرآباد کی حیثیت سےخدمت کی توفیق پائی۔ جماعت احمدیہ بشیرآباد اسٹیٹ میں سیکرٹری امورِعامہ، قاضی سلسلہ نیز صدرجماعت اوربطور سیکرٹری وقفِ جدید ضلع حیدرآباد نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔ بطور صدر جماعت بشیرآباد اسٹیٹ خدمت کےعرصے میں خلافتِ ثانیہ کے عہدِ مبارک میں تعمیر ہونے والی مقامی مسجد جو کہ مقامی ضرورت کےلحاظ سےبہت چھوٹی پڑچکی تھی کی ازسرِنَو تعمیر کے لیے ذاتی دلچسپی اور توجہ سے مرکز سے تمام نقشہ جات، گرانٹ اور عطیات کی منظوری حاصل کی اور تعمیر کاکام شروع کروایااور ایک نئی اور وسیع وعریض مسجد اور مسجد سے ملحقہ حصہ میں نئے مربی ہاؤس کی تعمیر ہوئی۔ آپ کو متعدد بار بطور نمائندہ مجلس مشاورت میں شرکت کی بھی توفیق ملی۔ بوقت وفات آپ بحیثیت امیر ضلع حیدرآباد خدمات بجالارہے تھے۔

چچا جان مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، باقاعدگی سے تلاوت ِقرآن کریم کرنے والے، دعاگو، انتہائی ملنسار، منکسرالمزاج، مہمان نواز، نفیس، سادہ طبع، صائب الرائے، خوش اخلاق، یتامیٰ، بیوگان، مساکین اور غرباء کی بےلوث مدد کرنے والے نافع الناس وجود تھے۔ ہمیشہ چندہ جات کی بروقت ادائیگی کرتے اور ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ خلافت سے بھی انتہائی عقیدت و محبت کا تعلق تھا۔ خلافت کی ہر آواز پر لبّیک کہنے والے اور نظام جماعت کی مکمل پاسداری کرنے والی شخصیت تھے۔ ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھا۔ افراد خانہ کی تربیت کے لیےہمیشہ اپنا عملی نمونہ پیش کرتے، گذشتہ کئی سال سے مساجد میں نماز تراویح کی اجازت نہ ہونے کے باعث رمضان المبارک میں گھر پر نماز تراویح کا اہتمام کرتے۔

خاکسار نے جب سے ہوش سنبھالاآپ کو جماعتی خدمت پر کمر بستہ پایا۔ضلعی اور علاقائی سطح پر خدمت کے دوران باقاعدگی سے مجالس کا دورہ کرتے بعض اوقات یہ دورہ تین دن کا بھی ہوتا۔ ا ِن دوروں کی وجہ سے اُن علاقوں میں موجود احبابِ جماعت سے ذاتی تعلق قائم کیا۔ سنہ ۹۰ء کی دہائی اورسنہ ۲۰۰۰ء کے ابتدائی سالوں میں وسائل کی بہت کمی تھی لیکن کبھی اِس کمی کو جماعتی کاموں میں روک نہ بننے دیا۔ ابتداء میں ذاتی موٹر سائیکل نہ تھا دُوردراز کی جماعتوں کے دورہ کے لیے کبھی بشیرآباد اسٹیٹ کے مینیجر صاحب سے اور کبھی ایک مقامی احمدی دوست سے موٹر سائیکل لے کر بھی دورہ کرتے۔ شروع میں گاؤں سےقریباً سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے شہر میں فون کی سہولت میسرتھی۔ مرکز سے فوری رابطہ کے لیےوہاں جاکر فون کرتے، مرکز بھی فوری رابطہ کی ضرورت پیش آنے پر اُسی شہر میں موجود ٹیلیفون پررابطہ کرکے پیغام دے دیتا اور آپ پیغام ملنے پر وہاں جاکر مرکز سے رابطہ کرلیتے۔ گاؤں میں جب ٹیلیفون کی سہولت آئی تو گھر اور میڈیکل اسٹور دونوں جگہ ٹیلیفون لگوایا تاکہ مرکز کو رابطہ میں کوئی دِقّت پیش نہ آئے۔ دورانِ ماہ جو بھی کام کیا ہوتا اس کی رپورٹ مرکز کو باقاعدگی سے بھجواتے۔ عموماً یہ رپورٹس میڈیکل اسٹور سے گھر واپسی پر نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد تیار کرتے، بعض اوقات بجلی نہ ہوتی تو مٹی کے تیل والی لالٹین جلاکر رات گئے تک رپورٹس کی تیاری میں مصروف رہتے۔ اپنے ہاتھ سے کاغذ پر حاشیہ لگا کر رپورٹس تحریر کرتے۔ کپڑے کا ایک تھیلا بنوایا ہوا تھا اُس میں مرکزی ڈاک ڈال کر میڈیکل اسٹور پر ساتھ لے جاتے اور فارغ اوقات میں وہاں بھی کام کرتےرہتے، وہ کپڑے کا تھیلا ہی عملاً آپ کا مکمل دفتر تھا۔ آپ کی قیادت میں ہمیشہ حیدرآباد ضلع اور علاقہ نمایاں پوزیشنز حاصل کرتا رہا۔ مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس انصاراللہ میں خدمات کےدوران تنظیموں کے سالانہ اجتماعات باقاعدگی سے منعقد کرواتے رہے جن میں مرکز سے صدران مجلس واراکین بطور مرکزی مہمان تشریف لاتے رہے۔ مرکزِسلسلہ میں ہونے والی میٹنگز میں اپنے ذاتی خرچ پر اور اپنے کاموں کا ہرج کرکےبھی شرکت کرتے۔ اِس دفعہ بھی مرکزی میٹنگ کی غرض سے ربوہ روانہ ہوئے اور میٹنگ کے بعد وہیں اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئے۔ مرکزی عہدیداران کے ساتھ بھی آپ کا ایک خاص احترام اورپیار و محبت کا تعلق تھا، نمایاں جماعتی خدمات کے باعث آپ کی شخصیت مرکزِ سلسلہ میں بشیرآباد اسٹیٹ اور ضلع حیدرآبادکی پہچان تھی۔

آپ کا ڈاکٹر عبد المنان صدیقی صاحب شہید آف میرپورخاص کے ساتھ ایک خاص پیار ومحبت بھرا برادرانہ تعلق تھا۔ آپ نے ڈاکٹر صاحب شہید کے ساتھ ایک لمبا عرصہ تنظیمی سطح پر خدمت کی بھی توفیق پائی۔ جماعتی معاملات کے علاوہ ذاتی معاملات میں بھی آپ ڈاکٹر صاحب شہید سے مشورہ اور راہنمائی ضرور لیتے۔ چونکہ آپ بھی پیشہ کے اعتبار سے طِب سے ہی منسلک تھے اور ذاتی میڈیکل اسٹور چلاتے تھے اِس لحاظ سے بھی بہت سے مریضوں کو بوقتِ ضرورت ڈاکٹر صاحب شہید کے ہسپتال میں علاج معالجہ اور آپریشن وغیرہ کی غرض سے بھجوایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب شہیدبھی آپ کی وساطت سے آنے والے مریضوں سےغیر معمولی حُسنِ سلوک فرماتے جس کی وجہ سے ایسے مریضوں کو دوبارہ یا اُن کے کسی اور عزیز رشتہ دار کو ضرورت پیش آنے پرڈاکٹر صاحب شہیدکا ہسپتال ہی اُن کی پہلی ترجیح ہوتا۔ان مریضوں کی اکثریت غیراز جماعت اور ہندو مذہب کے پیروکار ہوتے۔ گویا یہ بھی دونوں خدامِ سلسلہ کی ایک خاموش تبلیغ تھی۔

آپ کا میڈیکل اسٹور ایک ایسے علاقے میں تھا جہاں اکثریتی کاروبارغیرازجماعت افراد کے ہیں مگرآپ کی نیک فطرت، ایمانداری اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے علاقے کے بہت سے سندھی وڈیروں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ بعض اوقات غیر از جماعت دوست آپ کے پاس اپنی امانتیں بھی رکھواتے اور پھر آپ اُن کےمطالبہ پر اُن کو لوٹا دیتے۔ آپ کے انہی غیرازجماعت دوستوں کوخدا تعالیٰ نےآپ کی حفاظت کا ذریعہ بھی بنایا ہواتھا۔ یہ صاحبِ اثر ورسوخ غیرازجماعت دوست آپ کے پاس میڈیکل اسٹور پر آکر کچھ وقت گزارتے جس کی وجہ سے مخالفین ظاہری طور پرکسی بھی قسم کی شر انگیزی سےاورنقصان پہنچانے سے باز رہتے، گو اندرونی طور پر شدید مخالفت اور نفرت کرتے تھے۔ تین غیرازجماعت دوست آپ کی وفات پرسندھ سے ربوہ آئے اور جنازہ وتدفین میں بھی شامل ہوئے۔

خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل وکرم سے آپ کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی۔ بہت سارے مریض کسی ڈاکٹر سے علاج کروانے کی بجائے آپ کے پاس میڈیکل اسٹور پر آکر بیماری کی تفصیلات بتاتے، آپ تشخیص کرکے دوائی دیتے اور خدا تعالیٰ شفا عطافرمادیتا۔ ہومیوپیتھک سے بھی خاص لگاؤ تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل زیرِ مطالعہ رکھتےاور انگریزی دوائیوں کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھی ادویات بھی مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے۔چچا جان کی رہائش ہمارے آبائی گھر بشیرآباد اسٹیٹ میں تھی، ہماری ضعیف العمر دادی جان بھی وہیں رہائش پذیر ہیں۔ آپ نےہمیشہ اپنی والدہ کی ہر ضرورت کا خیال رکھااور ان کی ہر طرح سے خدمت کی کوشش کی۔ ہماری دادی جان کی نظام وصیّت میں شمولیت اور قادیان جاکر مزار مبارک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حاضری اور دیگر مقامات مقدسہ کی زیارت کی بڑی خواہش تھی، الحمد للہ آپ کو اپنی والدہ کی اِن دونوں خواہشات کی تکمیل کروانے کی توفیق ملی۔ ہمارے بڑے تایا جن کی دسمبر۲۰۲۳ء میں وفات ہوئی تھی وہ بھی گذشتہ کئی سال سےآپ کے ساتھ آبائی گھر میں ہی مقیم تھے۔ اُن کی بھی تمام ضروریات کا اچھے طریق پر خیال رکھا اور بیمار ہونے پرہر طرح سے علاج معالجہ کی کوشش کرتے رہے۔

آپ کو ایک لمبا عرصہ مکرم چودھری تنویر احمد صاحب امیر ضلع میرپورخاص سندھ کے ساتھ تنظیمی سطح پر خدمت کی توفیق ملی، وہ تحریر کرتے ہیں کہ ہمارے ایک بہت ہی پیارے اور بزرگ ساتھی مکرم مرزا امتیاز حمد صاحب امیر ضلع حیدرآباداس دارِ فانی سے کوچ کرگئےاور اپنے مولائے حقیقی سے جاملے ۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔آپ کی شخصیت میں عاجزی،انکساری اور دھیما پن نمایاں وصف تھا، بہت نرمی سے کلام کرتے۔ خاکسار نے ان کے ساتھ متعدد سفر کیے، جب سے یہ امیر ضلع بنے جب بھی ربوہ جانا ہوتا ہمارے ساتھ سفر کرتے۔ اس کے علاوہ بھی خاکسار کا ان سے بہت پرانا تعلق رہا ہے۔ کبھی میں نے ان کے ماتھے پر شکن اور انہیں غصہ کرتے نہیں دیکھا۔ بہت ہی ملنسار اور عفوودرگزر کرنے والے تھے لیکن اپنی طبیعت کی نرمی کے باوجود بھی جماعتی وقار اور خلافت کے حکم کی تعمیل کے لیےان کا حوصلہ بہت مضبوط ہوا کرتا تھااور جب بھی پیارے آقا کی طرف سے کو ئی نصیحت بیان ہوتی یا مرکز سے کوئی کام کرنے کا حکم ہوتاتو اِسی فکر میں رہتے کہ جس طرح ہوسکے جلد سے جلد اس بات پر عملدرآمد ہوجائے جو خلیفہ وقت ہم سے توقعات رکھتے ہیں۔ پھر مرکزی ڈاک کا جواب دینے میں بہت مستعد تھےوفات سے قبل بھی ہم لوگ ربوہ میں ہی ایک میٹنگ کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے وہاں بھی انہوں نے گویا اپنے کمرہ میں ہی دفتر بنایا ہوا تھا۔ ان کی وفات کے بعد بھی خاکسار نے ان کا سامان دیکھا تو اس میں مرکزی خطوط کے جواب تھےاور ایک خط یہ ابھی لکھ رہے تھے جو ادھورا ان کے سامان سے ملا۔ پھر مرحوم کی یہ خوبی بھی عیاں تھی کہ مشورہ کرنے میں کبھی روک محسوس نہیں کرتے تھے۔ خاکسار ان سے عمر میں چھوٹا تھا لیکن کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیابلکہ ہمیشہ ہی ہرکام میں مشورہ کے لیے رابطہ کرتے۔ خاکسار جب ناظم اعلیٰ انصاراللہ علاقہ میرپورخاص تھا یہ نائب ناظم علاقہ تھے اور اطاعت میں اول درجہ پر تھے ۔اس وقت یہ ناظم اعلیٰ انصاراللہ ضلع حیدرآباد بھی رہےاور ان کا شمار ان ساتھیوں میں ہوتا تھا کہ ابھی کوئی بات کہی اور فوراً انہوں نے اس کے لیے کوشش شروع کردی اور جب تک کام مکمل نہیں کرلیا تب تک اس کام میں لگے رہے۔ پھر کام کرنے کے لیے نئے نئے طریقے سوچا کرتے تھے کہ اس طرح کام کریں گے تو بہتری آئے گی۔اپنی وفات سے پہلے بھی اظہار کیا کہ میٹنگز بہت کی ہیں لیکن اس طرح فائدہ نظر نہیں آیا جس طرح ہونا چاہیے۔اب میں گھر گھر جاکر دورہ کروں گا اور ان شاء اللہ کام میں بہتری آئے گی۔ پھر جماعتی کام کے علاوہ اپنے علاقے کےغیراز جماعت لوگوں میں بھی بہت مقبول تھے کیونکہ میڈیکل کی فیلڈ سے تعلق رکھتے تھے اور بہت ہمدرد تھے۔اگر مریضوں کے پاس پیسے نہ ہوتے تو انہیں اپنی طرف سے مفت ادویات دے دیا کرتے تھے۔ ان کی وفات پر ایک کثیر تعداد اظہار افسوس کے لیے آئی ، سب کا یہی کہنا تھا کہ ان کا جانا ہمارے علاقہ کے لیے ایک خلا چھوڑ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت ورحمت کاسلوک فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر ِجمیل عطا فرمائے اور اِن جیسے فدایانِ خلافت جماعت کو عطاکرتا چلاجائے۔ آمین

مکرم رشید احمد طیب صاحب نے بیان کیا کہ محترم مرزا امتیاز احمد صاحب کو ہم نے اپنے بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمتِ دین میں بڑا ہی نمایاں کردار ادا کرتے دیکھا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ۱۹۸۴-۸۵ء میں جب خاکسار مجلس اطفال الاحمدیہ کے آخری سالوں میں تھاتو مرزا امتیاز احمد صاحب ہمارے ناظم اطفال ہواکرتے تھےاس وقت انہوں نے بڑی شفقت، پیار اور بڑی محنت سےجماعتی روایات کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہماری تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ مرکزی ہدایات کی روشنی میں اطفال الاحمدیہ کے سارے پروگرام منعقد کروایا کرتے تھے۔ اس کے بعد سے ہم نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا قدم آگے سے آگے ہی رہا ہے۔ ضلع حیدرآباد کی سب سے بڑی مجلس اور سب سے بڑی جماعت بشیرآباد کے قائد مجلس رہے۔ بعد میں اور مختلف عہدوں پر بھی ان کو خدمت کا موقع ملا۔ جماعت احمدیہ بشیرآباد کے صدر بھی رہے۔ اللہ کے فضل سے ضلعی سطح پر جب ان کو خدمت کا موقع ملا ہے تو قیادت ضلع میں مختلف عہدوں پر خدمت کرتے ہوئے قائد ضلع اور پھر قائد علاقہ حیدرآباد کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پائی۔ امارت ضلع میں بھی مختلف عہدوں پر خدمت کرتے رہےاور پھرآخری چند سال امیر ضلع کے طور پرماشاء اللہ بڑے اعلیٰ رنگ میں خدمت کررہے تھے۔ بطور امیر ضلع اکثر اُن کے ٹیلیفون آتے تھے تو بہت حیرت ہوتی تھی کہ اپنے ضلع کے ایک ایک فرد کے حوالے سے اُن کو احساس تھا۔ مریم شادی فنڈ کے لیے کسی دور دراز کے گاؤں کے کسی غریب فرد جماعت کی درخواست آئی ہوتی تو ان کو فکر ہوتی تھی کہ بچی کی شادی کے دن قریب ہیں ابھی تک منظوری نہیں آئی یا اگر منظوری ہوگئی ہے توہمیں بتادیں ہم یہیں سے ادائیگی کروادیتے ہیں مرکز سے ہمیں بعد میں وصولی ہوتی رہے گی۔ اسی طرح ضلع کی مختلف جماعتوں کے بعض بزرگوں کے، کچھ بیماروں کے اور کچھ دیگر ضرورتمندوں کے وظائف جاری ہیں تو اس حوالے سے بھی خاکسار سے رابطہ کرتے رہتے تھے اورایک ایک کی اُن کو فکر ہوتی تھی کہ کسی کو کوئی مشکل و پریشانی نہ ہو۔

اس کے علاوہ جماعتی میٹنگز میں بڑے جذبہ سے اپنے کام کاج کاہرج کرتے ہوئے پہنچتے تھے۔ جہاں علاقے کے احمدی احباب کے ساتھ آپ کا گہراتعلق تھا تو وہیں بہت سے غیر از جماعت افراد سے بھی بڑا اچھا تعلق تھا۔ علاقے کا ہر فردجماعت یہ سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ امتیاز صاحب کا دوسروں سے نمایاں تعلق ہے۔ اس کا عملی ثبوت ہم نے اُن کے جنازہ پر دیکھاکہ دور دراز سےلوگ ان کے جنازے پر پہنچے۔ سندھ سے پنجاب کا لمبا سفر ہے، سخت سفر ہے اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ سفر کرکے جن سے کوئی رشتہ داری بھی نہیں ہے صرف جماعتی تعلق تھاوہ لوگ یہ سفر کرکےربوہ پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ تین سندھی غیر از جماعت افراد بھی اسی محبت میں پہنچے ہیں کہ امتیاز صاحب کے ساتھ ہمارا ساری عمر کا تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ نےاپنے فضل سے آپ کو دین ودنیا دونوں لحاظ سے بڑی عزت اور مقام عطا فرمایا تھا۔

آپ کا میڈیکل اسٹور ایک چھوٹے سے شہرسنجرچانگ میں واقع ہے۔ مکرم قاسم امتیاز صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر

مرا مقصود و مطلوب و تمنّا خدمتِ خلق است

ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسمم ہمیں راہم

کے مطابق اِن کی زندگی نظر آتی ہے۔اپنے احمدی احباب کےعلاوہ دیگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کی بھی خدمت کی۔ دوسرے لفظوں میں وقت کے مسیح سے فیض پاکر سنجرچانگ جیسے مضافاتی وپسماندہ علاقہ کے لوگوں کے لیے مسیحا تھے۔ مسلم و غیرمسلم ہندو برادری بیماری میں علاج معالجہ کے لیے ڈاکٹر کی بجائےآپ سے علاج کروانا پسند کرتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کی وفات پر اپنوں کے ساتھ ساتھ غیر احمدی و غیر مسلم حلقہ احباب غمگین و اشکبار ہےاور ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔مزید یہ کہ باوجود آجکل کی مادہ پرست دنیا کے ان کا وجود قرآنی آیت لَاتُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ کے مطابق زندگی گزارنے والا تھا۔ عبادت و زُہد میں انہیں ایک خاص شغف تھا۔بڑی خشوع و خضوع سے عبادت کرتے اور عین اس وقت جب لوگ کاروبار میں مصروف ہوتے تب سنجرچانگ کی احمدیہ مسجد میں انہیں روتے ہوئے نوافل پڑھتے ہوئے اکثر دیکھا۔ آپ کو دکان میں بھی عبادت کرتے ہوئے اپنے اور غیر دیکھتے جس کا یقیناً غیروں پر بھی بڑا رعب اور اثر تھا۔ باوجودیکہ بعض ایسے لوگ جو ایسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں جو جماعت کے حق میں بہتر نہیں مگر وہ بھی اپنے علاج معالجہ کے سلسلہ میں آپ سے مشورہ کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔

مکرم نصیر احمد کھرل صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مرزا امتیاز احمد صاحب حقیقی معنوں میں عبادت گزار اور خلافت کے حقیقی مطیع تھے۔ مرحوم کا جہاں ہر فردِ جماعت کے ساتھ محبت وشفقت کا سلوک تھا وہیں واقفین کے ساتھ بھی نہایت محبت وشفقت اور احترام کا سلوک کرتےاور واقفین کے ساتھ ہر لحاظ سے تعاون کرتے اور کوشش کرتے کہ ضلع میں کسی واقفِ زندگی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو۔ مرحوم لازمی چندہ جات یا دیگر مالی تحریکات کے سال کے اختتام کے موقع پر تمام کام چھوڑ کر حیدرآباد شہر تشریف لے آتے اور انتظامیہ وواقفین کے ساتھ آخری کارروائی میں نہایت سنجیدگی اور فکر سے کام کرتے اور جب تک مکملclosing اور مرکز کو اس کی اطلاع نہ ہوجاتی نہایت ہی بےچینی سے دفتر میں بیٹھے رہتے اور کام مکمل ہوجانے پر جہاں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے وہیں خصوصی تعاون کرنے والوں کا بھی ذاتی طور پر شکریہ ادا کرتے۔خاکسار جب کبھی ان سے ملنے بشیرآباد گیاوہاں حسبِ توفیق مہمان نوازی کرتے اور جب رخصت ہوتا تو خواہ کتنی ہی رات گزر چکی ہوتی عموماً راستہ میں ہی آپ کا فون آجاتاخیریت دریافت کرتےاور کہتے کہ گھر پہنچ کر اطلاع دیں۔ جب بھی گھر پہنچ کر اطلاع دی یوں ہی محسوس ہوا کہ جاگ رہے ہیں اور سوئے نہیں کہ ہمارے خیریت سے پہنچ جانے کی اطلاع مل جائے۔ غریبوں کی نہایت ہمدردی اور پردہ پوشی سے مدد کرتے اور کوشش کرتے کہ جن افراد کی مالی مدد ہوئی ہے وہ ہمیشہ پردہ میں رہیں۔ مرکز سے جو حکم آتے فوری طور پر ان پر عملدرآمد کی کوشش کرتے۔خاکسار نے اپنے واقفین بھائیوں سے بھی ان کے حوالہ سے ہمیشہ خیر کی بات ہی سنی اور ہمیشہ تمام واقفین نے ان کی تعریف ہی کی کہ امیر صاحب ضلع ہمیشہ ہمارے اور افراد جماعت کے ساتھ ایک مثالی تعلق رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی نیکیاں جاری رکھنے والے افراد ِجماعت سلسلہ کو عطافرماتا رہے۔ آمین

پیارے چچا جان مرکزی میٹنگ میں شمولیت کے لیے ۱۵؍فروری۲۰۲۵ء کو ربوہ پہنچے، ۱۶؍فروری کو میٹنگ میں شرکت کی۔۱۸؍فروری کی صبح آپ کو دل کے دورے کے باعث طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ لے جایا گیا جہاں آپ ۱۹؍فروری ۲۰۲۵ء کوبوقتِ عشاء بقضائے الٰہی وفات پاگئے، اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے، آپ کی نمازِجنازہ ۲۱؍فروری ۲۰۲۵ء بروز جمعہ ربوہ میں مکرم ومحترم ناظر صاحب اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے پڑھائی اور بہشتی مقبرہ دارالفضل میں تدفین عمل میں آئی۔ پیارے آقا سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ بیان فرمودہ ۴؍اپریل ۲۰۲۵ء میں دیگر مرحومین کے ساتھ آپ کا بھی ذکرخیر فرمایا اور نمازجناہ غائب پڑھائی۔اللہ تعالیٰ آپ سے مغفرت ورحم کا سلوک فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اپنے پیاروں کا قرب عطا کرے۔آمین ثم آمین

(م۔احمد)

مزید پڑھیں: نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے(حدیث نبوی ﷺ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button