متفرق مضامین

رمضان کا پیغام اور ہماری خوراک

(ظہیر احمد طاہر ابن مکرم نذیر احمد خادم مرحوم ومغفور۔جرمنی)

رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سےعظیم نعمت اور بڑا انعام ہے۔ اس ذریعہ سے ہمیں اپنے نفس کی اصلاح، روح کی پاکیزگی، تقویٰ کے حصول اورجسمانی صحت برقرار رکھنے میں مدد ملتیہے۔ رمضان ایمان کی مضبوطی اور گناہوں سے معافی کا خاص تحفہ ہے۔جس کا اجرخوداللہ تعالیٰ عطا فرماتاہے۔ یہ مہینہ نیکی، صبر اور شکر سکھانے والا مکمل اور جامع روحانی تجربہ ہے۔ روزے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارےاندر صبر،تقویٰ اور ضبطِ نفس کی عادت پیدا ہو۔ روزہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کواللہ تعالیٰ کے حکم اور اُس کی مرضی کے تابع کردیں۔رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے ربّ کی رضا کی خاطر حلال چیزوں کو چھوڑ سکتے ہیں تو حرام چیزوں سے بچنا کس قدر ضروری ہے۔
خوراک کا اصل مقصد کیا ہے ؟: غذا اس لیے کھائی جاتی ہے تاکہ ہماری زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔ ہمارا جسم تندرست اور توانا رہے، اُسے مناسب توانائی ملے، اس ذریعہ سے ہمارے خلیات کی مرمت ہوتی رہے اور وہ نشوونما پائیں۔ہمارے جسم کوفعال اورچاک وچوبند زندگی گزارنے کے لیے ضروری غذائی اجزاکی ضرورت ہوتی ہے جن میں وٹامنز اور منرلز شامل ہیں۔ متوازن غذا ہمارے جسمانی افعال کو منظم رکھتی ہےجس سے ہمارا مدافعتی نظام مضبوط رہتا ہے اور ہمیں بیماریوں سے بچانے میں مدددیتاہے۔ متوازن غذا دماغی تندرستی، ذہنی سکون، بہتر نیند اور جلد کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔مناسب اور عمدہ غذا کے استعمال سے ہمارا وزن متوازن رہتا ہےجس سے صحت مند زندگی گزارنے میں مدد ملتی ہے۔متوازن اور صحت بخش غذا (یعنی سبزیوں، پھلوں اور پروٹین) کا استعمال نہ صرف ہمیں بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ لمبی اور فعال زندگی کی کلید ہے۔
رمضان میں ہماری غذا: اکثر دیکھا گیا ہے کہ رمضان آتے ہی بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے۔ گھروں میں انواع و اقسام کے کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔سحری وافطاری میں دستر خوان پرطرح طرح کےپکوان سجا دیے جاتے ہیں۔گویاپکوان کے مقابلے کی ایک دوڑ ہر طرف شروع ہوجاتی ہے۔ حالانکہ رمضان کا ایک سبق یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی سادہ طریق پر گزارنا سیکھیں اور کھانے پینے میں اعتدال کی عادت ڈالیں۔ ہمارے اندر صبر کی عادت پیدا ہواور اس ذریعہ سے ہم جان پائیں کہ ایک غریب اور تنگ دست انسان کس طرح اپنی زندگی گزارتا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ہم سحری کے وقت اوردن بھر بھوکا پیاسارہنے کے بعد افطار میں حد سے زیادہ کھائیں پیئیں گے اور اپنے معدے کو بوجھل کر لیں گے تو کیا اس طرح ہم روزے کے اصل مقصد اور اُس کی روح کو سمجھ پائیں گے ؟
اسلام کا درس :اسلام نے زندگی کے ہر معاملہ میں اعتدال اور میانہ روی کا درس دیا ہے۔ رمضان کے علاوہ بھی جسمانی صحت برقرار رکھنے اور جسمانی نظام کو بہتررنگ میں اپنے امور کی انجام دہی کے لیے مناسب اور صحت مند غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ کھانا نہ صرف صحت کے لیے مضرہے بلکہ عبادت میں بھی سستی کا باعث ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ابنائے آدم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے:یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡازِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَکُلِّ مَسۡجِدٍ وَّکُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ(الاعراف:۳۲) اے ابنائے آدم! ہر مسجد میں اپنی زینت (یعنی لباسِ تقویٰ) ساتھ لے جایا کرو۔ اور کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں متوازن اور معتدل غذا کی تعلیم دی ہےیعنی کھانے پینے میں اعتدال کی عادت انسانی صحت برقرار رکھنے کے لیے بطور بنیاد کے ہے جو جدید سائنسی اصولوں سےبھی ہم آہنگ ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ صرف معتدل غذا ہی انسانی جسم کی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری نہیں ہے بلکہ پاکیزہ غذا اُس کی روحانی صلاحیتوں کو بڑھانے اور اُس کے نیک افعال میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآن شریف نے اپنے ماننے والوں کوحلال اور طیب غذا استعمال کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا ہے : یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوۡاخُطُوٰتِالشَّیۡطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ (البقرۃ :۱۶۹) اے لوگو! اُس میں سے حَلال اور طیّب کھاؤ جو زمین میں ہے اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو۔ یقیناً وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔
رمضان اور مناسب خوراک:سحری اور افطاری میں مناسب خوراک کے متعلق چند تجاویز ذیل میں درج کی جارہی ہیں اگر ان پر عمل کیا جائے تو اس سے ہمیں دیر پا توانائی ملے گی اور معدے پراضافی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ سحری کے وقت خاص طور پر یہ خیال رکھنا چاہیے کہ خوراک ایسی ہو جو دیر تک توانائی دےجس سےپیاس کم لگےاور وہ معدے پر زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ کاربوہائیڈریٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور لمبے وقت تک توانائی دیتے ہیں۔ براؤن روٹی یا چپاتی، دلیہ یا اوٹس، براؤن چاول اور دالیں ہماری بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتے ہیں اور جلد بھوک نہیں لگنے دیتے۔پروٹین پٹھوں کو مضبوط رکھتا ہے اور کمزوری سے بچاتا ہے۔ پروٹین سے دیر تک پیٹ بھرا رہتا ہے۔ اس لیے ابلے ہوئے انڈے یا کم تیل میں تیار کی گئی آملیٹ، دہی، دودھ، چنے یا چنے کی دال، مونگ پھلی یا چند بادام سے پروٹین مل سکتی ہے۔ اپنی غذا میں فائبر شامل کرنا چاہیے۔ فائبر قبض سے بچاتا ہے اور اس کے استعمال سے کم بھوک لگتی ہے۔ فائبر سیب، کیلے، ناشپاتی، سبزیوں اور ثابت اناج سے حاصل ہوتا ہے۔ سحری میں کم ازکم دو تین گلاس پانی پیئیں۔ دودھ یا کم نمک والی لسی بھی پی سکتے ہیں۔ زیادہ نمکین اشیاسے پرہیز کریں کیونکہ یہ پیاس بڑھاتی ہیں۔ زیادہ کافی یاچائے جسم سے پانی خارج کرتی ہے اس لیے ان کا استعمال کم سے کم کریں۔
افطار میں کیا کھائیں :روزہ آہستہ اور مرحلہ وار افطارکر نا چاہیے۔ سنت رسول ﷺ کے مطابق کھجور سے روزہ کھولنا بہتر ہے۔ کھجور فوری توانائی دیتی ہے اور بلڈ شوگر کونارمل کرتی ہے۔ایک یا دو تین کھجوریں کھاسکتے ہیں۔ پانی یانیم گرم پانی پیئیں۔ لیموں ملا پانی یا تازہ جوس بھی مناسب مقدار میں پی سکتے ہیں۔ فروٹ چاٹ، سبزیوں کاسوپ اور سلاد اگر میسر ہوتو وہ کھائیں تاکہ معدہ کھانے کے لیے تیار ہوجائے۔ دال یا سبزی، گرلڈ چکن یا ابلا گوشت لے سکتے ہیں۔ روٹی یا مناسب مقدار میں چاول۔ زیادہ پکوڑے، سموسےکھانے اورکولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں۔زیادہ تلی ہوئی چیزیں معدے میں تیزابیت، بدہضمی اور وزن بڑھانےکا سبب بنتی ہیں۔میٹھےپکوان (desserts )زیادہ مقدار میں نہ لیں، افطارکے فوراً بعد پیٹ بھر کرکھانا نہ کھائیں۔ افطار سے سحری تک وقفے وقفے سے پانی پیئیں۔ایک ساتھ زیادہ پانی پینے کی بجائے تھوڑا تھوڑا پینا بہتر ہے۔اگر کمزوری محسوس ہوتو پروٹین بڑھائیں، کھجور اور دودھ لے سکتے ہیں۔
رمضان کا پیغام:رمضان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ سادہ کھاؤ، کم کھاؤاور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ اپنے ارد گرد بسنے والوں کا خیال رکھو اور اُنہیں احساسِ محرومی سے بچانےکی عملی کوشش کرو۔ روزے کے دوران جب بھوک لگے تو ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ جو لوگ زندگی میں زیادہ تر دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ پس اگر ہم ان کی طرف توجہ دیں گے اور انہیں یاد رکھیں گے تو ہمارا ایسا کرنا رمضان کے بعد بھی ہمیں اس نیک کام کی طرف متوجہ رکھے گا۔ اس طرح معاشرے میں بسنے والے کمزور طبقات کی محرومیاں دور ہوں گی اور انہیں سارا سال مناسب خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولتیںمیسر آتی رہیں گی۔
روحانی اور جسمانی توازن:رمضان جہاں انسانیت کا درس دیتا ہے وہیں ہماری روح کی آبیاری کرتا ہے اور ہمارے جسم کی اصلاح کا باعث بنتاہے۔ رمضان کے دوران اگر سادہ اور متوازن غذا استعمال کی جائے تو ہمارا جسم بوجھل نہیں ہوگا اس طرح ہم زیادہ توجہ اور انہماک کےساتھ عبادت سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔لیکن اگر زیادہ تلی ہوئی اور بھاری غذا کھائیں گے توہماری طبیعت بوجھل ہوگی۔ اس طرح نہ تو عبادت میں دل لگے گا اور نہ ہی ہماری صحت برقرار رہے گی۔گویا رمضان ہمیں اپنے طرز زندگی میں اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہےتاکہ اس ذریعہ سے ہماری سوچ، ہماری عادات اورہمارا طرز زندگی تبدیل ہو اور اُس میں مثبت اور پاک تبدیلیاں رونما ہوں۔لیکن اگر ہم رمضان سے یہی سبق نہیں سیکھتےتو پھر فکر کی بات ہے کیونکہ صرف بھوکا پیاسا رکھنا رمضان کا مقصد نہیں۔ رمضان اس لیےنہیں آتا کہ ہم بے تحاشاکھا کھا کر اپنا وزن بڑھا لیں اوراپنی صحت کے خود ہی دشمن بن جائیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ روزہ ہمیں صبراور اپنے نفس پر ضبط کرناسکھاتا ہے۔ بھوک پر صبر، پیاس پر صبر، نفسانی خواہشات پر ضبط، غصے پر قابوپانا اور ناپسندیدہ باتوں سےبچناروزے کا درس ہے۔ اس لیےجسمانی غذا کو کم کرکے روحانی غذا کو بڑھانا، نمازوں کی بروقت اور باجماعت ادائیگی کا خیال رکھنا، خشوع وخضوع سے نوافل ادا کرنا، بکثرت تلاوت قرآن کریمکرنا اور اس کے زندگی بخش پیغام سے روحانی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کرنا، تسبیح وتحمید اور ذکرواذکار کے ذریعہ اپنے قلب وروح کو معطر رکھنا، صدقہ وخیرات اور نوع انسان کی ہمدردی وخیرخواہی کوہمہ وقت مدنظر رکھنایعنی نیکیوں کی ہر راہ پر چلنے اور اُنہیں برضا ورغبت اختیار کرنے کی کوشش کرنا اور ہر بدی کو بیزار ہوکر ترک کرنے میں لگے رہنا۔ یہی وہ پیغام ہے جو رمضان لےکر آتاہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان کے اصل مقصد کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ آمین۔

مزید پڑھیں: رمضان کا آخری عشرہ جہنم سے بچانے کا عشرہ ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button