نماز جمعہ اور عیدین کی اہمیت و فضیلت
وحدت کا مسئلہ بھی خوب سکھایا ہے۔ پہلے تو ہر محلے کے لوگوں کوپانچ بار مسجد میں اکٹھے ہو کر دعا مانگنے کا حکم دیا۔ پھر ہفتے میں ایک بار تمام گاؤں کے لوگوں کو جمع ہوکر دعا کرنے کا ارشاد کیا۔ پھر سال میں عیدین ہیں جن میں مومنوں کا اجتماع لازم ٹھہرایا۔ پھر ساری دنیا کے لیے مکہ مقرر فرمایا جہاں کل جہان کے اہل استطاعت مسلمان مل کر دعا کریں(حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ)
اسلام وہ کامل و اکمل دین ہےجس میں عبادت کا انتہائی مربوط، پاکیزہ اور حقیقی نظام موجودہے۔ چاہے یہ عبادت انفرادی ہو، اجتماعی یا عالمگیر۔خلوص ومحبت اور نیک نیتی سے کیا گیا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی نتیجہ خیر ہوتا ہے اور یہ عمل انسان کے مقصد پیدائش کو پورا کرتا، اس کی دنیا و آخرت سنوارتا اور اسے خالق حقیقی کے قریب کرتا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق نیک عمل کی جزا کی ضمانت اللہ نے دی ہے۔ جو کوئی ایمان کے ساتھ نیک عمل کرتا ہے اسے دنیا میں پرسکون اور پاکیزہ زندگی اور آخرت میں اس کے اعمال سے بڑھ کر بہترین بدلہ ملے گا کیونکہ مالکِ کُل کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
درج ذیل ارشاد رحمانی اس مژدہ جانفزا کو عام کرتے ہیں۔
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّاؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیۡلًا۔ (النساء:۱۲۳) اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک کام کئے ہیں ہم انہیں ضرور ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (اور وہ) ان میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ (ہے) اور اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہو سکتی ہے۔
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَلَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔(النحل:۹۸)جو کوئی مومن ہونے کی حالت میں نیک اور مناسب حال عمل کرے گا مرد ہو کہ عورت ہم اس کو یقیناً ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ہم ان (تمام لوگوں) کو ان کے بہترین عمل کے مطابق (ان کے تمام اعمال صالحہ کا) بدلہ دیں گے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا۔(الکہف:۱۳۱)(ہاں) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک (اور مناسب حال) عمل کیے ہیں (وہ یقیناً بڑے اجر پائیں گے) جنہوں نے اچھے کام کیے ہوں ہم ان کا اجر ہرگز ضائع نہیں کرتے۔
فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ۔(الزلزال:۸) پھر جس نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) نیکی کی ہوگی وہ اس (کے نتیجہ) کو دیکھ لے گا۔
وَمَنۡ یَّقۡتَرِفۡ حَسَنَۃً نَّزِدۡ لَہٗ فِیۡہَا حُسۡنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ۔ (الشوریٰ:۲۴) اور جو شخص کوئی نیکی کا کام کرتا ہے ہم اس کی نیکی کو اس کے لیے اور زیادہ حسین بنا دیتے ہیں اللہ بہت بخشنے والا (اور) قدر دان ہے۔
مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیۡرٌ مِّنۡہَا ۚ وَہُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ یَّوۡمَئِذٍ اٰمِنُوۡنَ۔(النمل:۹۰) جو کوئی نیکی کرے گا اس کو اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن خوف سےمحفوظ رہیں گے۔
دین اسلام میں ایک بہت ہی خاص عبادت پورے اہتمام کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی ہے۔ یہ اجتماعی عبادت کا انتہائی پاکیزہ نظام ہے جو مسلمان کو جسمانی طہارت، روحانی ترقی اور فضل ِالٰہی کے ابتغاء کی دعوت دیتا ہے۔ نماز جمعہ کی اہمیت و فضلیت اسی بات سے عیاں ہوجاتی ہے کہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کی رشدو ہدایت اور امراض روحانی سے شفائے کامل بخشنے والے مقدس و مطہر صحیفے میں ایک سورۃ اسی نام سے موسوم ہے، جو ببانگ دُہل یہ اعلان عام کر رہی ہے کہ جمعہ کے دن سب سے افضل وبہترین عمل نماز جمعہ کی ادئیگی اور اپنی سانسوں کو ذکر الٰہی سے معطر کرنا ہے۔ نیز ہادی کاملﷺ نے اپنے اسوہ کامل اورمطہر اقوال سے جمعہ کی ادائیگی کی اہمیت کو روز روشن کی طرح واضح فرمایا۔
ارشاد ربانی ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۔ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔ (الجمعہ:۱۰۔۱۱)اے مومنو! جب تم کو جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے (یعنی نماز جمعہ کے لئے) تو اللہ کے ذکر کے لیے جلدی جلدی جایا کرو۔ اور (خرید اور) فروخت کو چھوڑ دیا کرو اگر تم کچھ بھی علم رکھتے ہو تو یہ تمہارے لیے اچھی بات ہے۔اور جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جایا کرو اور اللہ کا فضل تلاش کیا کرو،اور اللہ کو بہت یاد کیا کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب صحیح بخاری کی ایک حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:’’ آیت اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِکے معنی یہ ہیں کہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کی ندا سن کر اس کا عملی جواب دینا فرض ہے۔ فَاسۡعَوۡا کا ارشاد اس فریضہ کی تعمیل کے بارہ میں تاکید مزید ہے۔ لفظ السَّعْیُ کے معنی ہیں کام کاج، کاروبار میں مشغولیت اور جدو جہد۔ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ کا یہ مفہوم ہے کہ جیسا دنیاوی مشاغل کے لیے اہتمام اور جدو جہد ہو ویسا ہی اہتمام اور جدو جہد نماز جمعہ کی ادئیگی کے لیے ہونا چاہیئے۔‘‘(صحیح البخاری جلد ۲ صفحہ ۲۷۴۔ نظارت نشرو اشاعت قادیان۔ ایڈیشن۲۰۰۶ء )
یوم جمعہ کے بارے میں فخر موجوداتﷺ کے فرمودات
اس بزم کن میں روزانہ مطلع تاباں سے عالم بقعہ نور بنتا ہے، مگر ہفتے کابہترین دن جس میں خورشید کا نورظہورپذیر ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے۔ خیر البشرﷺ کے یہ پاکیزہ ا قوال حشر اجساد تک اس صداقت پر گواہ رہیں گے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيْهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ۔(صحيح مسلم كِتَاب الْجُمُعَةِ باب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ حدیث نمبر: ۱۹۷۷)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے۔ اسی میں آدم ؑپیدا کیا گیا اور اسی میں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن اس میں سے نکالا گیا۔ اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔
عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ وَأَعْظَمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ، وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللّٰهُ فِيهِ آدَمَ، وَأَهْبَطَ اللّٰهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللّٰهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ اللّٰهَ فِيهَا الْعَبْدُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ، وَلَا رِيَاحٍ، وَلَا جِبَالٍ، وَلَا بَحْرٍ، إِلَّا وَهُنَّ يُشْفِقْنَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ۔(سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة والسنة بَابٌ في فَضْلِ الْجُمُعَةِحدیث: ۱۰۸۴) حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا:بیشک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہےاور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب دِنوں سے زیادہ عظمت والا ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی عظمت عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے، اس کی پانچ خصوصیات ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم کو پیدا کیا، اسی دن ان کو روئے زمین پہ اتارا، اسی دن اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی اللہ سے مانگے اللہ تعالیٰ اسے دے گا جب تک کہ حرام چیز کا سوال نہ کرےاور اسی دن قیامت آئے گی، جمعہ کے دن ہر مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ اور سمندر (قیامت کے آنے سے) ڈرتے رہتے ہیں۔
عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ قُبِضَ، وَفِيْهِ النَّفْخَةُ، وَفِيْهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيْهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ۔ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ۔ يَقُولُونَ: بَلِيتَ، فَقَالَ: إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ۔ (سنن ابي داودتفرح أبواب الجمعة باب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ حدیث نمبر۱۰۴۷) حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:بے شک تمہارے دنوں میں سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم کو پیدا کیا گیااسی دن ان کی وفات ہوئی اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن بےہوشی ہو گی۔ پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھو کیونکہ تمہارا درود یقیناًمیرے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اوس کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسولؐ! جب آپ آسودہ خاک ہو جائیں گے تو ہمارا درود آپ کو کیسے پیش کیاجائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: خدا تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔
ایک مسلمان کے لیے طہارت و نظافت اس کے ایمان جزو اور زندگی کا لازمہ ہے۔ اور جمعہ کے دن اس طرف خصوصی توجہ دینے اور اس کا اہتمام کرنے کا حکم ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَصَلَّى مَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ۔(صحيح مسلم كِتَاب الْجُمُعَةِ باب فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ،حدیث: ۱۹۸۷)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے غسل کیاپھر جمعہ کے لیے حاضر ہواجو اس کے مقدر تھا نماز پڑھی، پھر خاموشی سے سنتا رہا حتیٰ کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہو گیا پھر اس نے امام کے ساتھ نماز پڑھی تو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان اس سے مغفرت کا سلوک کیا جاتا ہے۔ اور تین دن زائد بھی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلّٰهِ تَعَالَى عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقٌّ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا۔(صحيح البخاري كِتَاب الْجُمُعَةِ بَابُ هَلْ عَلَى مَنْ لَمْ يَشْهَدِ الْجُمُعَةَ غُسْلٌ مِنَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَغَيْرِهِمْ حدیث نمبر: ۸۹۸)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ سات دنوں میں سے ایک دن نہائے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمُعَةِ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللّٰهُ تَعَالَى لَكُمْ عِيدًا فَاغْتَسِلُوا وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ۔ (سنن الکبری للبیھقی كتاب الطهارة باب الاغتسال للأعياد حدیث نمبر: ۱۴۲۷)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےایک جمعہ کے دن فرمایا : اے مسلمانوں کی جماعت ! بیشک اللہ نے اس دن کو تمہارے لیے عید بنایا ہے پس اس روز غسل کرو اور مسواک کو لازم پکڑو۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا۔ (صحيح مسلم كِتَاب الْجُمُعَةِ باب فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ،حدیث: ۱۹۸۸)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر جمعے کے لیے آیا غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا تو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان اس سے مغفرت کا سلوک کیا جاتا ہے۔ اور تین دن زائد بھی۔ اور جو کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا (ان سے کھیلتا رہا)اس نے لغو کام کیا۔
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيٰبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى۔ (صحيح البخاري كِتَاب الْجُمُعَةِ بَابُ الدُّهْنِ لِلْجُمُعَةِ حدیث نمبر: ۸۸۳) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسےپھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموشی سےسنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ۔(صحيح مسلم كِتَاب الطَّهَارَةِباب الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ حدیث: ۵۵۲)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے کہ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرا جمعہ، اور ایک رمضان سے رمضان کفارہ ہیں ان گناہوں کاجو ان کے درمیان ہیں۔ جبکہ اس نے کبائر گناہوں سے اجتناب کیا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، قَالَ: أَدْرَكَنِي أَبُو عَبْسٍ وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَلَى النَّارِ۔ (صحيح البخاري كِتَاب الْجُمُعَةِ بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الْجُمُعَةِ حدیث نمبر: ۹۰۷)ہم سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا۔ راستے میں ابوعبس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ پر حرام کر دے گا۔
جو مسلمان نماز جمعہ کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس سے غفلت برتتے ہیں انہیں شارع اسلامﷺ کی طرف سے سخت وعید سنائی گئی ہے۔
أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ، عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللّٰهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ ۔(صحيح مسلم كِتَاب الْجُمُعَةِ باب التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِحدیث نمبر۲۰۰۲) حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہﷺکو لکڑی کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ جمعہ چھوڑ دینے سے ضرور باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کے دلوں پر مہر کر دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ۔(صحيح مسلم كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة باب فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَاحدیث نمبر: ۱۴۸۵)حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایسے لوگوں کے لیے جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر مردوں کو جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔
عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللّٰهُ عَلَى قَلْبِهِ۔ (سنن ابي داودتفرح أبواب الجمعةباب التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ حدیث نمبر: ۱۰۵۲) صحابی رسول حضرت ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔
خلفائے کرام کے ارشادات
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں نے بڑے غور کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کی تاریخ پر فکر کی ہے اور میں اس صحیح نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سلسلہ زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب مسلمانوں نے ترک جمعہ کو کیا۔ فتنِ دجّال سے جو جمعہ کے آداب میں ڈرایا ہے یہ اشارہ تھا اس امر کی طرف کہ دجال کا فتنہ عظیم اس جمعہ میں ہونے والا ہے۔ (حقائق الفرقان جلد پنجم صفحہ ۳۴۷۔ایڈیشن ۲۰۲۴ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’…جماعت احمدیہ کو قائم فرمایا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمتیں دوبارہ حاصل کرکے دیں، ان کو اس پہلے مقام تک پہنچائیں جس سے وہ گر چکے ہیں اور جمعہ کے معاملے میں مَیں نہیں سمجھتا کہ ہم ابھی اس بات کے اہل ہیں کیونکہ ہم نے خود بھی وہ مقام ابھی حاصل نہیں کیا، یا حاصل کیا تھا تو کچھ حصہ کھو بیٹھے ہیں اور مغربی ممالک میں تو نہایت ہی دردناک حالت ہے۔ اکثر بچے آپ جمعہ پڑھنے نہیں آتے، اکثر عورتیں جمعہ نہیں پڑھنے آتیں۔ عورتوں کے اوپر تو فرض بھی نہیں بچوں کا بھی یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ فرض نہیں۔ مگر دینی تربیت کی خاطر ان کو زندہ رکھنے کے لیے ایک انتہائی ضروری چیز ہےجس سے آپ اگر ان کو بچپن میں محروم کر دیں گے تو جب جمعہ فرض ہوگا تو اس وقت بھی محروم رہیں گے۔ چنانچہ آپ یہاں انگلستان میں اوردیگریورپین ممالک میں جو بڑی نسلیں جمعہ کی عادی نہیں رہیں۔ ان کے ماں باپ کا قصورہے کہ انہوں نے بچپن میں ان کو عادی نہیں بنایا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ہمارےسکول ہیں ان میں جانا ہوتاہے اس لیے آپ کے لیے دو Choicesیا اختیارات ہیں جس میں سےجس کو چاہیں چن لیں۔ یا تو سکول کو اہمیت دیں، دنیاکی تعلیم کو اہمیت دیں یا پھر دین کو اہمیت دیں۔ اوران کی روحانی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھنے کا فیصلہ کرلیں کیونکہ جمعہ سے غافل بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے جماعتی لحاظ سے۔سوائے اس کے خداتعالیٰ خاص فضل فرماکر اکادکاکو واپس لے آئے مگر بالعموم نئی نسلیں آپ کی اقدار سے دورہونا شروع ہوجائیں گی اوریہ تنزل زیادہ تیز رفتار ہوتا چلا جائے گا وقت کے گزرنے کے ساتھ۔ اس لیے جمعہ کی طرف غیر معمولی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ (خطبہ جمعہ یکم جنوری ۱۹۸۸ء۔ خطبات طاہر جلد ۷ صفحہ ۱۲)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : ہر جمعہ کی اہمیت ہے جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہر جمعہ کو ہی اہتمام کریں اور تمام مصروفیات کو ہم ترک کریں۔ تمام کاموں اور کاروباروں سے وقفہ لیں اور مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح کھول کر اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ مومن کے ایمان کے معیار کو اونچا کرنے کے لیے ہر مومن پر جمعہ کی ادائیگی فرض ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کا منفی پہلو اور انذار بھی بیان فرما دیا کہ جان بوجھ کر جمعہ چھوڑنے والے کا دل نیکیوں کے بجا لانے کے لیے بالکل بند ہو جاتا ہے۔ پس بڑے خوف کا مقام ہے۔ سستیاں کرنے والوں کو اپنے جائزے لینے چاہئیں اور بغیر عذر کے بلا وجہ کی سستیاں ترک کرنی چاہئیں۔ (خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۲۰۱۵ء۔ خطبات مسرور جلد ۱۳ صفحہ ۴۲۱، ایڈیشن ۲۰۲۳ء)
یوم عید کی فضیلت و اہمیت
نماز جمعہ کے بعد ایک اَور اجتماعی عبادت جسے پوری شان و شوکت کے ساتھ بجا لانے کی تلقین فرمائی گئی ہے وہ عیدین کی نماز ہے۔یکم شوّال اور دس ذی الحج کو منائی جانے والی عیدیں ختم المرسلینﷺ کی امت کو خصوصی طور پر عطا ہوئیں۔ بار بار لوٹ کر آنے والے ان دو تہواروں میں اسلام نے عیش و طرب کا نمونہ نہیں رکھا جو اخلاقی قدروں کو بہا لے جائے اور انسان کے روحانی تقاضوں سے متصادم ہو،بلکہ ان میں عبادت کے ایسے پرجوش مظاہر رکھے ہیں جو روحانیت وللہیت اور صدق وخلوص کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔ باطنی صفائی کے ساتھ اسلامی تہواروں میں ظاہری طہارت و نظافت کا نمونہ بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ وضو،غسل، صاف ستھرا لباس، خوشبو، مسواک اور دیگر نظافتیں انسان کے ظاہر کو نکھارتی ہیں۔ اسلامی تہواروں میں طہارت و نظافت کے حصول کوباعث اجر وثواب بتایا گیا ہےجس کے حصول میں ایک طرف ظاہر کی آراستگی ہے اور دوسری طرف اس کے باطن پر پڑنے والے اثرات ہیں، کیونکہ ظاہر کی صفائی کا تزکیۂ باطن پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔ دونوں تہواروں میں نماز عید کو بڑے مجمع کے ساتھ ادا کرنا واجب رکھا گیا ہے۔ایک طرف یہ اجتماعی عبادت رحمتِ الٰہی کی توجہ کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف اسلامی معاشرے کے تمام طبقات کو اکٹھا ہونے اور اتحاد ویگانگت کے مظاہرہ کا سنہری موقع بھی بہم پہنچاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں تہواروں سے پہلے جن عبادات کی تکمیل ہوتی ہے ان میں بھی اجتماع کی شان نمایاں ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’ہر ایک قوم میں کچھ رسمیں، دستور اور عادات ہوتے ہیں۔ منجملہ ان کے میلے بھی ہیں جن کا متمدن اور غیر متمدن دونوں قوموں میں رواج ہے۔ میلے کے دن خوراک، لباس، میل و ملاقات میں خاص اور نمایاں تبدیلی ہوتی ہے۔ یہ فطرتی چیز تھی مگر اس میں بڑھتےبڑھتے ہواو ہوس کو بہت دخل ہو گیا…ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاں بڑے بڑے احسانات ہیں ان میں میلوں کی اصلاح بھی ہے۔ چونکہ یہ ایک فطرتی بات تھی اس لیے ان کو ضائع نہیں کیا بلکہ اصلاح کر دی۔ اور وہ یوں کہ جہاں ہر رسم و رواج کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے نیچے رکھ لیا وہاں ان میلوں میں بھی یہی بات پیدا کر دی۔ مثلاً عید کا میلہ ہے۔ آپ نے اس میں اوّل تو تکبیر کو لازم ٹھہرایا اور خدا کی تعظیم کے اظہار کے لیے وہ لفظ مقرر کیا جس سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں۔ صفات میں أَكْبَرُ سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں اور جامع جمیع صفات کاملہ ہونے کے لحاظ سے اللہ سے بڑھ کر اس مفہوم کو کوئی ظاہر نہیں کر سکتا۔ مخلوق پر شفقت کرنے کے لیے رمضان کی عید میں صدقۃ الفطر کو لازمی ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ نماز میں جب جاوے تو اس کو ادا کر لے اور پھر یہ صدقہ خاص جگہ جمع کرے تاکہ مساکین کو یقین ہوجائے کہ ہمارے حقوق کی حفاظت کی جائے گی۔
پھر یہ عید ہے اس میں مسا کین وغیرہم کے لیے سَيِّدُ طَعَامِ اللَّحْمُ(سنن ابن ماجه كتاب الأطعمةبَابُ اللَّحْمِ حدیث: ۳۳۰۵) یعنی گوشت کی مہمانی کی ہے۔ (خطبہ عیدالاضحی فرمودہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۹ء۔ مطبوعہ بدر قادیان ۳۰؍ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۔ جلد ۹ شمارہ ۱۰ )
رسول رحمتﷺ کے ان ارشادات سے عیدین کی اہمیت و فضلیت اور اہل اسلام کو خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے ملنے والی عطائے خاص کی وضاحت ہوتی ہے۔
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ:مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ۔ قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْر۔(سنن نسائي كتاب صلاة العيدين حدیث: ۱۵۵۷) (سنن ابي داود أبواب الجمعة باب صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ حدیث نمبر: ۱۱۳۴) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ نے دو دن کھیل کود کے لیے مقرر کر رکھے تھے۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ تو ان لوگوں نے کہا: (یا رسول الله !) ہم ان دو دنوں میں ایامِ جاہلیت میں کھیلتے کودتےتھے۔ رسول اللهﷺ نے فرمایا: الله تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں کی جگہ ان سے بہتر دن مرحمت فرمائے ہیں ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ۔(سنن ابي داود كِتَاب الْمَنَاسِكِ حدیث: ۱۷۶۵)حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ قُرْطٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ ۔ (المسند أحمد بن حنبل مسند الكوفيين حديث عبد الله بن قرط، عن النبي صلى الله عليه وسلم الرقم: ۱۹۰۷۵)
حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا: الله تعالیٰ کے ہاں دنوں میں سے سب سے عظمت والا دن یوم نحر (یعنی عید قربان) کا ہے، پھر یوم القر (یعنی ذو الحجہ کا بارھواں اور تیرھواں دن) ہے۔
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى: الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا۔ (صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ باب ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ مُفَارِقَاتٍ لِلرِّجَالِ حدیث: ۲۰۵۶) حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی میں کنواریوں، حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو لایا کریں۔ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں۔ اور بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپﷺ نے فرمایااس کی بہن اس کو اپنی چادر اوڑھنے کو دے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الطُّرُقِ، فَنَادَوْا: اغْدُوا يَامَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يَمُنُّ بِالْخَيْرِ، ثُمَّ يُثِيْبُ عَلَيْهِ الْجَزِيلَ، لَقَدْ أُمِرْتُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَقُمْتُمْ، وَأُمِرْتُمْ بِصِيَامِ النَّهَارِ فَصُمْتُمْ، وَأَطَعْتُمْ رَبَّكُمْ، فَاقْبِضُوا جَوَائِزَكُمْ، فَإِذَا صَلَّوْا، نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ، فَارْجِعُوْا رَاشِدِينَ إِلَى رِحَالِكُمْ، فَهُوَ يَوْمُ الْجَائِزَةِ، وَيُسَمَّى ذَلِكَ الْيَوْمُ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ الْجَائِزَةِ۔‘‘ (المعجم الكبير للطبراني باب الألف باب فيما أعد اللّٰه عز وجل للمؤمنين يوم الفطر من الكرامة، الرقم: ۶۱۷)حضرت سعید بن اوس انصاری رضی الله تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا:جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو فرشتے راستوں کے دروازے پر کھڑے ہو کر پکارتے ہیں: اے گروہِ مسلمین! کرم والے ربّ کی بارگاہ کی طرف چلو! وہی تمہیں نیکی کی توفیق عطا فرما کر احسان فرماتا ہے۔ پھر اس نیکی پر بہت بڑا ثواب عطا فرماتا ہے۔ تمہیں راتوں کو قیام کا حکم دیا گیا تو تم نے قیام کیا، دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزے بھی رکھے، اور تم نے اپنے پروردگار کی اطاعت و فرمانبرداری کی۔ اب جزائیں سمیٹ لو۔ پھر جب لوگ نماز پڑھتے ہیں تو ایک ندا دینے والا ندا دیتا ہے: سن لو! تمہارے رب نے تمہیں بخش دیا ہے، خیرات و برکات سمیٹتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ کیونکہ یہ انعام و اکرام کا دن ہے۔ آسمانوں میں اس دن کا نام یوم الجائزہ (انعام کا دن ) ہے۔
وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا كَانَتْ غَدَاةُ الْفِطْرِ بَعَثَ اللّٰهُ تَعَالَى مَلَائِكَةً فِي كُلِّ بَلَدٍ فَيَهْبِطُونَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَقُومُوْنَ عَلَى أَفْوَاهِ السِّكَكِ فَيُنَادُوْنَ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ جَمِيْعُ مَنْ خَلَقَ اللّٰهُ إِلا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ فَيَقُولُونَ: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اخْرُجُوا إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يَغْفِرُ الذَّنْبَ الْعَظِيْمَ، فَإِذَا بَرَزُوا فِي مُصَلاهُمْ يَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا مَلائِكَتِي مَا جَزَاءُ الْأَجِيْرِ إِذَا عَمِلَ عَمَلَهُ۔فَيَقُوْلُوْنَ: إِلَهَنَا وَسَيِّدَنَا جَزَاؤُهُ أَنْ تُوَفِّيَهُ أَجْرَهُ۔ فَيَقُولُ اللّٰهُ تَعَالَى: يَا مَلَائِكَتِي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ ثَوَابَهُمْ فِي صِيَامِهِمْ شَهْرَ رَمَضَانَ وَقِيَامِهِمْ رِضَايَ وَمَغْفِرَتِي۔ وَيَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: سَلُوْنِي فَوَعِزَّتِي وَجَلالِي لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا فِي جَمْعِكُمْ هَذَا لآخِرَتِكُمْ إِلَّا أَعْطَيْتُكُمُوهُ وَلَا لِدُنْيَا إِلَّا نَظَرْتُ لَكُم۔ انْصَرِفُوا مَغْفُورًا لَكُمْ قَدْ أَرْضَيْتُمُونِي وَرَضِيتُ عَنْكُمْ ۔ (كتاب التبصرة لابن الجوزي، المجلس التاسع في ذكر عيد الفطر صفحہ۱۰۶،المكتبة الشاملة) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ہر سرزمین پر بھیجتا ہے، وہ زمین پر اترتے ہیں اور آواز دیتے ہوئے تمام مخلوقات کو پکارتے ہوئے کہتے ہیں: اے محمدﷺ کی امت کے لوگو! جب امتی عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو جب کام کرنے والا اپنا کام کرتا ہے تو اس کا اجر کیا ہوتا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں، ’’ہمارے معبود اور مالک، اس کی جزا یہ ہے کہ آپ اسے اس کا حق دیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ان کے رمضان کے روزوں اور ان کے نماز میں کھڑے ہونے کو اپنی رضا اور بخشش قرار دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مجھ سے مانگو کیونکہ میری عظمت و جلال کی قسم تم آج اپنی اخروی زندگی کے لیے جو مانگو گے میں تمہیں عطا کروں اور دنیا کی جو حسنات مانگو گے اس کا خیال کروں۔ تم اس حال میں واپس جاؤ کہ میں نے تمہیں معاف کیا کیونکہ تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے راضی ہوں۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا يَوْمَ الْفِطْرِ أَنْ نُفَطِّرَ الْفُقَرَاءَ مِنْ إِخْوَانِنَا، وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ فَطَّرَ وَاحِدًا يُعْتَقُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ فَطَّرَ اثْنَيْنِ كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ، وَمَنْ فَطَّرَ ثَلاثَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَزَوَّجَهُ اللّٰهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ۔ قَالَ: وَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُطْعِمَ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ وَالْخُبْزَ والزيت والخبر وَاللَّبَنَ۔ وَكَانَ يَقُولُ آدِمُوا طَعَامَكُمْ يُؤْدَمْ لَكُمْ عَيْشُكُمْ۔يَقُولُ: يُلَيِّنُهُ۔ (كتاب التبصرة لابن الجوزي، المجلس التاسع في ذكر عيد الفطر۔ صفحہ۱۰۷۔ المكتبة الشاملة) حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللهﷺ ہمیں عید الفطر کے دن حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم اپنے فقراء بھائیوں کو کھانا کھلائیں۔ آپﷺ فرماتے تھے: جس نے کسی ایک کو کھانا کھلایا اسے جہنم سے آزاد کر دیا جائے گا، جس نے دو کو کھانا کھلایا اس کے لیے شرک اور نفاق سے پاک ہونا لکھ دیا جائے گا اور جس نے تین کو کھانا کھلایا اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی اور الله تعالیٰ اسےحورِ عین کا ساتھ عطا کرے گا۔ آپﷺ ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم روٹی اورگوشت، روٹی اور زیتون کا تیل،روٹی اور دودھ کھلائیں۔ آپﷺ فرماتے تھےتم سالن کے ساتھ کھانا کھایا کرو تمہاری زندگی تمہارے لیے اُلفت کا باعث ہوگی۔
جمعہ اور عید کا اجتماع
صا نع کائنات اللہ تعالیٰ نے گردش لیل و نہار اور ماہ و سال کے ادلنے بدلنے کا جو خوبصور ت نظام جاری فرمایا اس کے زیراثر ایک مسلمان کی زندگی میں کئی بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے علم و عمل کا کامل نمونہ قائم کرنے والے سید المرسلینﷺ کی پاکیزہ سنت اور ارشادات موجود ہیں، جو ہدیہ قارئین ہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: ’’مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ۔‘‘(سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة والسنة۔ بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ،حدیث نمبر ۱۳۱۲) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں دو عیدیں(عید اور جمعہ)جمع ہو گئیں تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا: جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے اور جو نہ چاہے نہ آئے۔
عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيْدَيْنِ فِي يَوْمٍ۔ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ۔قَالَ: ’’صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ‘‘۔ ثُمَّ قَالَ: ’’مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ‘‘۔(سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة والسنة۔ بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ،حدیث نمبر ۱۳۱۰)ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہاجی ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپﷺ کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپﷺ نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا :جو پڑھنا چاہے پڑھے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔ (سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة والسنة۔ بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ،حدیث نمبر ۱۳۱۱)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں۔
عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ’’أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ۔قَالَ: نَعَمْ صَلَّى الْعِيدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ‘‘۔(سنن نسائي كتاب صلاة العيدين بَابُ: الرُّخْصَةُ فِي التَّخَلُّفِ عَنْ الْجُمُعَةِ لِمَنْ شَهِدَ الْعِيدَ حدیث نمبر ۱۵۹۲) ایاس بن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہﷺ کے ساتھ عیدین میں رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں آپ نے صبح میں عید کی نماز پڑھی پھر آپ نے جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت دی۔
خلفائے کرام کے ارشادات
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عید میں تنگی نہیں کی بلکہ فرمایا کہ اگر جمعہ و عید اکٹھے ہوجائیں تو گاؤں کے لوگوں کو جو باہر سے شریک ہوئے ہیں جمعہ کے لیے انتظار کی تکلیف نہ دی جائے۔ وحدت کا مسئلہ بھی خوب سکھایا ہے۔ پہلے تو ہر محلے کے لوگوں کوپانچ بار مسجد میں اکٹھے ہو کر دعا مانگنے کا حکم دیا۔ پھر ہفتے میں ایک بار تمام گاؤں کے لوگوں کو جمع ہوکر دعا کرنے کا ارشاد کیا۔ پھر سال میں عیدین ہیں جن میں مومنوں کا اجتماع لازم ٹھہرایا۔ پھر ساری دنیا کے لیے مکہ مقرر فرمایا جہاں کل جہان کے اہل استطاعت مسلمان مل کر دعا کریں۔ (خطبہ عید الاضحی فرمودہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۹ء۔ مطبوعہ بدر قادیان ۳۰؍ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۔ جلد ۹ شمارہ ۱۰ )
حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا : رسول کریمﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا جب جمعہ اور عید جمع ہو جائیں تو اجازت ہے کہ جو لوگ چاہیں جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز ادا کرلیں مگر فرمایا ہم تو جمعہ ہی پڑھیں گے۔کل بھی میرے پاس ایک مفتی صاحب کا فتویٰ آیا تھا کہ بعض دوست کہتے ہیں اگر جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز ہوجائے تو قربانیوں میں ہم کو سہولت ہو جائے گی اور انہوں نے اس قسم کی حدیثیں لکھ کر ساتھ ہی بھجوا دی تھیں۔ میں نے ان کو یہی جواب دیا تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جمعہ اور عید جب جمع ہو جائیں تو جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھنے کی اجازت ہے مگر ہم تو وہی کریں گے جو رسول کریمﷺنے کیا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا اگر کوئی جمعہ کی بجائے ظہر کی نما زپڑھنا چاہے تو اسے اجازت ہے مگر ہم تو جمعہ ہی پڑھیں گے…ہمارا رب کیسا سخی ہے کہ اس نے ہمیں دودو ( عیدیں) دیں۔…یعنی جمعہ بھی آیا اور عید الاضحیہ بھی آئی اور اس طرح دو عیدیں خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے جمع کر دیں۔ اب جس کو دو دو چُپڑی ہوئی چپاتیاں ملیں وہ ایک کو کیوں ردّ کرے گا۔وہ تو دونوں لے گا۔سوائے اس کے کہ اسے کوئی خاص مجبوری پیش آ جائے اور اسی لیے رسول کریمﷺنے اجازت دی ہے کہ اگر کوئی مجبور ہو کر ظہر کی نماز پڑھ لے جمعہ نہ پڑھے تو دوسرے کو نہیں چاہئے کہ اس پر طعن کرے اور بعض لوگ ایسے ہوں جنہیں دونوں نمازیں ادا کرنے کی توفیق ہو تو دوسرے کو نہیں چاہئے کہ ان پر اعتراض کرے اور کہے کہ انہوں نے رخصت سے فائدہ نہ اٹھایا۔ (خطبہ عید الاضحی فرمودہ ۱۱؍فروری۱۹۳۸ء۔ مطبوعہ روزنامہ الفضل ۱۵ ؍مارچ ۱۹۳۸ء صفحہ ۱، ۲۔ جلد ۲۶ شمارہ ۶۰)
اسی طرح حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر عید اور جمعہ اکٹھے ہو جائیں تو جائز ہے کہ جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز پڑھ لی جائے۔لیکن یہ بھی جائز ہے کہ عید اور جمعہ دونوں ہی پڑھ لیے جائیں۔ کیونکہ ہماری شریعت نے ہر امر میں سہولت کو مدنظر رکھا ہے۔ چونکہ عام نمازیں اپنے اپنے محلوں میں ہوتی ہیں لیکن جمعہ کی نماز میں سارے شہر کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔اسی طرح عید کی نماز میں بھی سب لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دن میں دو ایسے اجتماع جن میں دور دور سے لوگ آ کر شامل ہوں مشکلات پیدا کر سکتا ہے اس لیے شریعت نے اجازت دی ہے کہ اگر لوگ برداشت نہ کر سکیں توجمعہ کی بجائے ظہر پڑھ لیں۔ بہرحال اصل غرض شریعت کی یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی میں زیادہ سے زیا دہ عرصہ کے لیے اکٹھے بیٹھ سکیں کیونکہ اسلام صرف دل کی صفائی کے لیے نہیں آیا۔ اسلام قومی ترقی اور معاشرت کے ارتقاء کے لیے بھی آیا ہے اور قوم اور معا شرت کا پتہ بغیر اجتماع میں شامل ہونے کے نہیں لگ سکتا۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍اگست ۱۹۵۳ء۔ خطبات محمود جلد ۳۴،صفحہ ۲۳۹)
عید اور جمعہ کے ایک ہی دن جمع ہو جانےپر نماز عید کی ادائیگی کے بعد نماز جمعہ یا نماز ظہر پڑھنے کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے محترم ناظم صاحب دارالافتاء کے نام اپنے مکتوب مورخہ ۱۶؍ مئی ۲۰۲۱ء میں فرمایا: ’’عید اور جمعہ کے ایک ہی دن جمع ہو جانےپر نماز عید کی ادائیگی کے بعد اس روز نماز جمعہ اور نماز ظہر دونوں نہ پڑھنے کے بارے میں تو صرف حضرت عبداللہ بن زبیرؓکا ہی موقف اور عمل ملتا ہے اور وہ بھی ایک مقطوع روایت پر مبنی ہے، نیز اس روایت کے دو راویوں کے بیان میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔ جبکہ مستند اور قابل اعتماد روایات میں تو حضورﷺ کی سنت اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کا یہی مسلک ملتا ہے کہ ان سب نے یا تو اس روز نماز عید کی ادائیگی کے بعد جمعہ بھی اپنے وقت پر ادا کیا ہےاور دور کے علاقوں سے آنے والوں کو جمعہ سے رخصت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں میں ظہر کی نماز ادا کر لیں۔ اور بعض مواقع پر نماز عید کی ادائیگی کے بعد جمعہ ادا نہیں کیا لیکن ظہر کی نماز ضرور اپنے وقت پر ادا کی گئی۔
یہی موقف اور عمل حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کا بھی ملتا ہے۔ سوائے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ایک مرتبہ کے عمل کے کہ جب آپ نے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کی اسی مذکورہ بالا روایت پر عمل کرتے ہوئے عید پڑھانے کے بعد نہ جمعہ ادا کیا اور نہ ظہر کی نماز پڑھی۔
لیکن حضرت عبداللہ بن زبیرؓکی یہ روایت آنحضورﷺ اور خلفائے راشدین کے کسی قول یا فعل پر مبنی نہیں ہے اس لیے صرف اس مقطوع روایت کی وجہ سےجس کے راویوں کے بیانات میں بھی تضاد موجود ہے فرض نماز کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس روایت پر مبنی حصہ کو فقہ احمدیہ سے حذف کر دیں۔ اور فقہ احمدیہ میں لکھیں کہ اگر عید اور جمعہ ایک دن میں جمع ہوتے ہیں تو نماز عید کی ادائیگی کے بعد اگر جمعہ نہ پڑھا جائے تو ظہر کی نماز اپنے وقت پر ضرور ادا کی جائے گی۔‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍جون۲۰۲۲ءصفحہ۱۲)
مزید پڑھیں: عفت وپاک دامنی …مقربان الٰہی کا شعار




