پس منظر و پیش منظر، عظیم قصیدہ اور سعید روحوں کی فتوحات کا تذکرہ
حضرت مسیح موعودؑ کی ایک عظیم کتاب۔آئینہ کمالات اسلام جس کادوسرا نام دافع الوساوس ہے
وہ کشتی جو حضرت مسیح موعودؑ نے تیار کی ہے اس میں آئینہ کمالات اسلام نے ایک زبردست کردار ادا کیا ہے اور اس کی ضرورت اور اہمیت آج بھی اتنی ہے جتنی کہ آج سے سو سال قبل تھی اور آئندہ بھی اسلام کو پیش کرنے کے لیے اس کی خوشہ چینی کے بغیر چارہ نہیں ہوگا
حضرت مسیح موعودؑ نے سلطان القلم کی حیثیت سے اسلام کی خاطر جو بے مثال قلمی جہاد کیا ہے وہ غیروں سے بھی اپنا لوہا منواچکا ہے۔ آپؑ نے ۸۵؍کے لگ بھگ کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ہر ایک نور حقائق، معرفت اور آسمانی برکتوں سے لبریز ہے۔ ان میں ’آئینہ کمالات اسلام‘ کو ایک خاص امتیازی مقام بھی حاصل ہے اور حضرت مسیح موعودؑ نے خود اسے ایک نشان اور قدرت حق کا نمونہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپؑ تحریر فرماتے ہیں:’’میں جانتا ہوں کہ اس نے یہ اپنا ایک نشان دکھلایا ہے۔ تاکہ معلوم ہو کہ وہ کیونکر اسلام کی غربت کے زمانہ میں اپنی خاص تائیدوں کے ساتھ اس کی حمایت کرتا ہے اور کیونکر ایک عاجز انسان کے دل پر تجلی کرکے لاکھوں آدمیوں کے منصوبوں کو خاک میں ملاتا اور ان کے حملوں کو پاش پاش کرکے دکھلا دیتا ہے … عزیزو! یہ کتاب قدرت حق کا ایک نمونہ ہے اور انسان کی معمولی کوششیں خود بخود اس قدر ذخیرہ معارف کا پیدا نہیں کرسکتیں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۶۵۲)
پس منظر
خداتعالیٰ کے اس نشان کو کامل طور پر سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر اور پیش منظر کو نگاہ میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے پہلے ان حالات پر نظر ڈالتے ہیں جن میں یہ نشان وقوع پذیر ہوا۔
قصہ آج سے ایک سو تینتیس قبل کا ہے جب اسلام کے خلاف ہر طرف ایک طوفان ضلالت برپا تھا جس کے اندر بیشمار طوفان موجزن تھے اور یہ سارے طوفان اندرونی اور بیرونی طور پر حق کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے درپے تھے اور اپنی شدت اور وسعت اور ہمہ گیری میں گذشتہ تمام زمانوں پر سبقت لے گئے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’بیرونی اور اندرونی فتنے انتہا کو پہنچ گئے۔ اگر تم ان تمام فتنوں کو ایک پلۂ میزان میں رکھو اور دوسرے پلہ کے لیے تمام حدیثوں اور سارے قرآن کریم میں تلاش کرو تو ان کے برابر کیا ان کا ہزارم حصہ بھی وہ فتنے قرآن اور حدیث کی رو سے ثابت نہیں ہوں گے۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۵۲)
مجموعہ طوفانات
فرمایا:’’ذرہ نظر اٹھاکر دیکھو کہ اسلام کو کس درجہ پر بلاؤں نے مجبور کرلیا ہے اور کیسے چاروں طرف سے اسلام پر مخالفوں کے تیر چھوٹ رہے ہیں اور کیسے کروڑہا نفسوں پر اس زہر نے اثر کردیا ہے۔ یہ علمی طوفان یہ عقلی طوفان، یہ فلسفی طوفان یہ مکر اور منصوبوں کا طوفان، یہ فسق اور فجور کا طوفان اور یہ لالچ اور طمع دینے کا طوفان یہ اباحت اور دہریت کا طوفان یہ شرک اور بدعت کا طوفان جو ہے ان سب طوفانوں کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو اور اگر طاقت ہے تو ان مجموعہ طوفانات کی کوئی پہلے زمانہ میں نظیر بیان کرو۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۲۵۳)
صداقت کی کشتی اس طوفان بلاخیز میں پھنسی ہوئی تھی۔ اس پر مستزاد ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی اور وہ اس طرح کہ اہل حق نے خود اپنے ہاتھوں اس کشتی کو ڈبونا شروع کر دیا اور مختلف مذاہب اور علوم جدیدہ کی طرف سے جو اعتراضات ہورہے تھے ان کا جواب دینا تو درکنار علماء نے ان کے مقابل پر پسپائی اختیارکرلی اور فلسفہ یورپ کی تاب نہ لاتے ہوئے اور یورپین فلاسفروں کے اعتراضات سے مرغوب ہو کر اپنے عقائد کی ایسی تشریحات کرنے لگے جو صریح طور پر نصوص قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے خلاف تھیں اور اس گھر کو اسی گھر کے چراغوں سے آگ لگ گئی۔ مثلاً تاثیرات دعا اور معجزات وغیرہ سے انکار کردیا گیا۔ سرسید احمد خان نے ملائکہ کے متعلق لکھا: ’’جن فرشتوں کا قرآن میں ذکر ہے ان کا کوئی اصلی وجود نہیں ہوسکتا بلکہ خدا کی بے انتہا قدرتوں کے ظہور کو اور ان قویٰ کو جو خدا نے اپنی تمام مخلوق میں مختلف قسم کے پیدا کئے ہیں ملک یا ملائکہ کہا ہے۔‘‘ (تفسیر القرآن جلدنمبر ۱ صفحہ۳۳)
حضرت مسیح موعودؑ نے اس عقیدے کا ذکر اس کتاب میں کیا۔ فرماتے ہیں: ’’وہ اس وحی سے منکر ہیں جو بذریعہ جبرائیل علیہ السلام انبیاء کو ملتی ہے اور الٰہی طاقتوں، غیب گوئی اور دیگر خوارق کو اپنے اندر رکھتی ہے اور خالصتاً آسمان سے نازل ہوتی ہے نہ کہ کوئی فطرتی قوت۔ اگر وہ بظاہر جبرائیل کو بھی مانتے ہیں مگر ان کا جبرائیل وہ نہیں ہے جس کو بالاتفاق بیس کروڑ مسلمان دنیا میں مان رہے ہیں۔ وہ کلام الٰہی کے بھی قائل ہیں مگر اس کلام کے نہیں جو خدا کا نور اور خدائی طاقتیں اپنے وجود میں رکھتا ہے بلکہ صرف ایک ملکہ فطرت جو انسانی ظرف کے اندازہ پر فیض الٰہی قبول کرتا ہے نہ وہ وحی جو خدائی کے چشمہ سے نکلی ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۲۲۶)
قرآنی کمالات
یہی حال دوسرے عقائد کا ہورہا تھا اور اس دہری قیامت نے اندھیر مچا رکھا تھا اور ان دو طرفہ حملوں سے دین کا محبوبانہ اور دلربا چہرہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہورہا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب خدا کی غیرت جوش میں آئی اور الٰہی نوشتوں کے مطابق اس نے اپنا مامور کھڑا کردیا۔ جس نے ان طوفانوں کے رخ پھیر دیے۔ حضرت مسیح موعود نے اسلام اور اس کے دلکش اور دلآویز چہرہ کو ظاہر کرنے کے لیے آئینہ کمالات اسلام تصنیف فرمائی اور دین کے محاسن اور کمالات بہت عمدگی کے ساتھ اس میں بیان فرمائے۔ اس کتاب کی اغراض بیان کرتے ہوئے خود فرماتے ہیں: ’’واضح ہو کہ یہ کتاب جس کا نام نامی عنوان میں درج ہے ان دنوں میں اس عاجز نے اس غرض سے لکھی ہے کہ دنیا کے لوگوں کو قرآن کریم کے کمالات معلوم ہوں اور اسلام کی اعلیٰ تعلیم سے ان کو اطلاع ملے۔‘‘ (روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۶۵۲)
پھر فرمایا: ’’یہ کتاب جس کا نام عنوان میں درج ہے میں نے بڑی محنت اور تحقیق اور تفتیش سے صرف اس غرض اور نیت سے تالیف کی ہے کہ تا اسلام کے کمالات اور قرآن کریم کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کروں اور مخالفین کو دکھلاؤں کہ فرقان حمید کن اغراض کے پورا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے اور انسان کے لیے اس کا کیا مقصد ہے اور اس مقصد میں کس قدر وہ دوسرے مذاہب سے امتیاز اور فضیلت رکھتا ہے اور بایں ہمہ اس کتاب میں ان تمام اوہام اور وساوس کا جواب بھی دیا گیا ہے جو کوتاہ نظر لوگ مدعیان اسلام ہو کر پھر ایسی باتیں منہ پر لاتے ہیں جو درحقیقت اللہ اور رسول اور قرآن کریم کی ان میں اہانت ہے۔ اسی وجہ سے اس کتاب کا دوسرا نام دافع الوساوس بھی رکھا گیا ہے لیکن ہر مقام اور ہر محل میں زور کے ساتھ اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں ایک دین اسلام ہی ہے جس کو دین اللہ کہنا چاہئے۔ جو سچائی کو سکھلاتا اور نجات کی حقیقی راہیں اس کے طالبوں کے لیے پیش کرتا ہے اور اخروی رستگاری کے لیے کسی بے گناہ کو پھانسی دینا نہیں چاہتا اور نہ انسان کو بخشا یش الٰہی سے ایسا نومید کرتا ہے کہ جب تک ایسا گنہگار انسان کروڑہا کیڑوں مکوڑوں وغیرہ حیوانات کی جون میں نہ پڑے تب تک کوئی سبیل اور کوئی چارہ اور کوئی علاج اس کے گناہ بخشے جانے کا نہیں۔ گویا اس دنیوی زندگی میں ایک صغیرہ گناہ کرنے سے بھی تمام دروازے رحمت کے بند ہو جاتے ہیں اور آخر انسان ایک لاعلاج بیماری سے بڑے درد اور دکھ کے ساتھ اور سخت نومیدی کی حالت میں دوسرے عالم کی طرف کوچ کرتا ہے بلکہ قرآن کریم میں نجات کی وہ صاف اور سیدھی اور پاک راہیں بتلائی گئی ہیں کہ جن سے نہ تو انسان کو خداتعالیٰ سے نومیدی پیدا ہوتی ہے اور نہ خدائے تعالیٰ کو کوئی ایسا نالائق کام کرنا پڑتا ہے کہ گناہ تو کوئی کرے اور سزا دوسرے کو دی جاوے۔ غرض یہ کتاب ان نادر اور نہایت لطیف تحقیقاتوں پر مشتمل ہے جو نہایت مفید اور آجکل روحانی ہیضہ سے بچنے کے لیے جو اپنے زہرناک مادہ سے ایک عالم کو ہلاک کرتا جاتا ہے نہایت مجرب اور شفا بخش شربت ہے اور چونکہ یہ کتاب بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کے فسادوں کی اصلاح پر مشتمل ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے میں یقین کرتا ہوں کہ کتاب اسلا م اور فرقان کریم اور حضرت سیدنا و مولانا خاتم الانبیاءﷺ کی برکات دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے ایک نہایت عمدہ اور مبارک ذریعہ ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد۱ صفحہ۳۵۲۔۳۵۳)
کتاب کے دو حصے
یہ عظیم الشان کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ اردو میں ہے اور دوسرا عربی میں۔ اردو حصہ کی تاریخ ۱۸۹۲ء ہے اور اس کا عربی حصہ ۱۸۹۳ء کے آغاز میں لکھا گیا اور یہ کتاب فروری ۱۸۹۳ء میں مطبع ریاض ہند قادیان سے شائع ہوئی۔یہ نادر روزگار کتاب جن ارفع مقاصد کو پورا کرنے کے لیے لکھی گئی وہ سوائے اللہ کی خاص تائید و نصرت کے تکمیل کو نہیں پہنچ سکتے تھے۔ چنانچہ کتاب کی تحریر کے دوران ہر کام پر غیرمعمولی افضال الٰہی آپ کے شامل حال رہے۔ حضرت مسیح موعودؑ انہی رحمتوں کے تذکرہ میں رقمطراز ہیں: ’’میں اس بات سے شرمندہ ہوں کہ میں نے یہ کہا کہ میں نے اس کو لکھا ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے اول سے آخر تک اس کے لکھنے میں آپ مجھ کو عجیب درعجیب مددیں دی ہیں اور وہ عجیب لطائف و نکات اس میں بھر دیئے ہیں کہ جو انسان کی معمولی طاقتوں سے بہت بڑھ کر ہیں … اس کتاب کی تحریر کے وقت دو دفعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مجھ کو ہوئی اور آپ نے اس کتاب کی تالیف پر بہت مسرت ظاہر کی۔‘‘(روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۶۵۲)
قبولیت اور زیارت رسولﷺ
حضورؑ نے اخبار نورافشاں کے جواب میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ درحقیقت روحانی قیامت کے مصداق ہمارے نبیﷺ ہیں پھر کچھ نعت نبی کریمﷺ لکھی اور کچھ مناقب و محامد صحابہ کرامؓ بھی لکھے۔ پھر فرماتے ہیں رات کو سویا تو مجھے ایک نہایت مبارک اور پاک رؤیا دکھایا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک وسیع مکان میں ہوں جس کے نہایت کشادہ اور وسیع دالان ہیں اور میں ایک جماعت کثیر کو ربانی حقائق و معارف سنارہا ہوں … میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جناب رسول اللہﷺہماری جماعت کے قریب ایک وسیع چبوترہ پر کھڑے ہیں اور یہ ہی گمان گزرتا ہے کہ چہل قدمی کررہے ہیں … اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ آںحضرتﷺ کے ہاتھ میں کتاب آئینہ کمالات اسلام ہے یعنی یہی کتاب اور یہ مقام جو اس وقت چھپا ہوا معلوم ہوتا ہے اورآنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت مبارک اس مقام پر رکھی ہوئی ہے کہ جہاں آنحضرتﷺکے محامد مبارکہ کا ذکر اور آپ کی پاک اور پُراثر اور اعلیٰ تعلیم کا بیان ہے اور ایک انگشت اس مقام پر بھی رکھی ہوتی ہے کہ جہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کے کمالات اور صدق و صفا کا بیان ہے اور آپ تبسم فرماتے ہیں اور کہتے ہیں: ھذا لی وھذا لاصحابی۔ یعنی یہ تعریف میرے لیے ہے اور یہ میرے اصحاب کے لیے اور پھر بعد اس کے خواب سے الہام کی طرف میری طبیعت متنزل ہوئی اور کشفی حالت پیدا ہوگئی تو کشفاً میرے پر ظاہر کیا گیا کہ اس مقام میں جو خداتعالیٰ کی تعریف ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا ظاہر کی اور پھر اس کی نسبت یہ الہام ہوا۔ھذاالثناء لی۔(ماخوذ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۲۱۵۔۲۱۷ حاشیہ) اس ضمن میں آپؑ نے یہ رؤیا بھی تحریر فرمایا ہے:’’ ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فرشتہ بلند آواز سے لوگوں کے دلوں کو اس کتاب کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے۔ھذا کتاب مبارک فقوموا للاجلال والاکرام۔ یعنی یہ کتاب مبارک ہے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔‘‘(روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۶۵۲)
ملائکة اللہ کی حقیقت
آئینہ کمالات اسلام میں حضورؑ نے دینی تعلیم کے بےشمار پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور دشمن کے اعتراضوں کے دندان شکن جواب دیتے ہوئے اصل حقیقت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے ان میں سے مثال کے طور پر صرف ایک مضمون کا ذکر کیا جاتا ہے جو ملائکة اللہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے۔ علماء ان کے وجود سے منکر ہوچکے تھے۔ اس لیے حضورؑ نے اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث فرمائی اور حضورؑ فرماتے ہیں: ’’فرشتوں کی ضرورت میں جس قدر مبسوط بحث آئینہ کمالات اسلام میں ہے اس کی نظیر کسی دوسری کتاب میں نہیں پاؤ گے۔‘‘ (برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ۲۷) اور یہ پہلو ایسا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور کو ایک منفرد شان عطا فرمائی ہے۔ آپؑ تحریر فرماتے ہیں: ’’واضح رہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے اثبات کے لیے خداتعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اس عاجز کو متفرد کیا ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۸۹)
جلالت و عظمت
آئینہ کمالات اسلام کے متعلق حضورؑ کے رؤیا و کشوف اور ارشادات اس عظیم الشان کتاب کے مقام کو واضح کرنے کے کافی ہیں۔ اس کی جلالت اور عظمت شان کے متعلق حضورؑ کے اپنے بیان اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ آپؑ اپنی تصانیف سرمہ چشم آریہ، فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام کا ذکر کرکے فرماتے ہیں:(ترجمہ) ایک اور کتاب ہے جو میں نے ان دنوں تالیف کی ہے اور وہ ان سب مذکورہ بالا کتب پر سبقت لے گئی ہے۔ اس کا نام دافع الوساوس ہے اور وہ ان لوگوں کے لیے حد درجہ نافع ہے جو دین کا حسن دکھانا اور مخالفوں کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ ص۵۴۷)
اور واقعۃً اس کتاب کی روحانی تاثیرات نے ہزاروں سعید روحوں کو اپنی طرف کھینچا اور دشمنوں کے منہ توڑ دیے اور وہ گھنگھور گھٹائیں چھٹ گئیں جو حق کے آفتاب کو چھپائے ہوئے تھیں اور وہ طوفان تھم گئے جن میں کشتی صداقت ہچکولے کھارہی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں اور بشارت پہنچاتا ہوں کہ اس ناخدا نے جو آسمان اور زمین کا خدا ہے زمین کے طوفان زدوں کی فریاد سن لی اور جیسا کہ اس نے اپنی پاک کلام میں طوفان کے وقت اپنے جہاز کو بچانے کا وعدہ کیا ہوا تھا وہ وعدہ پورا کیا اور اپنے پاک بندہ کو یعنی اس عاجز کو جو بول رہا ہے۔ اپنی طرف سے مامور کرکے وہ تدبیریں سمجھا دیں جو طوفان پر غالب آویں اور مال و متاع کے صندوقوں کو دریا میں پھینکنے کی حاجت نہ پڑے۔ اب قریب ہے جو آسمان سے یہ آواز آئے کہ وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ (ہود:۴۵) مگر ابھی تو طوفان زور میں ہے اسی طوفان کے وقت خداتعالیٰ نے اس عاجز کو مامور کیا اور فرمایا۔ واصنع الفلک باعیننا ووحینا۔ یعنی تُو ہمارے حکم سے اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی طیار کر اس کشتی کو اس طوفان سے کچھ خطرہ نہ ہوگا اور خدائے تعالیٰ کا ہاتھ اس پر ہوگا۔ سو وہ خالص اسلام کی کشتی یہی ہے جس پر سوار ہونے کے لیے میں لوگوں کو بلاتا ہوں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۲۶۱۔۲۶۲ حاشیہ)
آسمانی کشتی
وہ کشتی جو حضرت مسیح موعودؑ نے تیار کی ہے اس میں آئینہ کمالات اسلام نے ایک زبردست کردار ادا کیا ہے اور اس کی ضرورت اور اہمیت آج بھی اتنی ہے جتنی کہ آج سے سو سال قبل تھی اور آئندہ بھی اسلام کو پیش کرنے کے لیے اس کی خوشہ چینی کے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔ اسی لیے حضوؑر کی خواہش تھی کہ لوگ اس کا مطالعہ کرکے فائدہ اٹھائیں اور گھر گھر یہ کتاب پہنچے آپؑ فرماتے ہیں: ’’مجھے یہ بڑی خواہش ہے کہ مسلمانوں کی اولاد اور اسلام کے شرفاء کی ذریت جن کے سامنے نئے علوم کی لغزشیں دن بدن بڑھتی جاتی ہیں اس کتاب کو دیکھیں۔ اگر مجھے وسعت ہوتی تو میں تمام جلدوں کو مفت للہ تقسیم کر دیتا۔‘‘ (روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۶۵۲)
مندرجہ بالا بیانات اس منطقی نتیجہ کی طرف ہماری راہنمائی کرتے ہیں کہ آئینہ کمالات اسلام بھی ان روحانی خزانوں میں شامل ہے جو مسیح موعودؑ نے آکر دنیا میں تقسیم کیے ہیں۔ پس ان خزانوں سے جھولیاں بھرلیں اور ان کو اپنے دلوں میں محفوظ کرلیں۔ یہ کتاب حقائق و معارف کا ایک مرقع ہے جس کا ہر ورق پلٹنے سے ایک نئے جہان معانی کے دروازے کھل جاتے ہیں ایک گلشن ہے جس کا پتہ پتہ حق کے حسن کی داستانیں بیان کررہا ہے۔ آئیں! ان خوبصورت وادیوں میں داخل ہوں اور روحانی خوشبوؤں سے دل و دماغ کو معطر کریں۔ قلب و نظر کے بے رنگ گھر کو اس کے رنگوں سے سجائیں تا خود خدا اس میں اتر آئے اور ابدی جنتوں میں داخلے کا مژدہ سنائے۔
فتح کی بشارت
حضورؑ نے اپنے قلمی جہاد کے نتیجے میں غلبہ حق کی عظیم الشان بشارت اسی کتاب میں دی ہے۔ خدا کرے کہ یہ بشارت ہماری زندگیوں میں پوری ہو۔ آپ فرماتے ہیں:’’اس زمانہ میں جو مذہب اور علم کی نہایت سرگرمی سے لڑائی ہورہی ہے اس کو دیکھ کر اور علم کے مذہب پر حملے مشاہدہ کرکے بےدل نہیں ہونا چاہئے کہ اب کیا کریں یقیناً سمجھو کہ اس لڑائی میں اسلام کو مغلوب اور عاجز دشمن کی طرح صلح جوئی کی حاجت نہیں بلکہ اب زمانہ اسلام کی روحانی تلوار کا ہے جیسا کہ وہ پہلے کسی وقت اپنی ظاہری طاقت دکھلا چکا ہے۔ یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اس لڑائی میں بھی دشمن ذلت کے ساتھ پسپا ہوگا اور اسلام فتح پائے گا۔ حال کے علوم جدیدہ کیسے ہی زور آور حملے کریں کیسے ہی نئے نئے ہتھیاروں کے ساتھ چڑھ چڑھ کر آویں مگر انجام کار ان کے لیے ہزیمت ہے میں شکر نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ اسلام کی اعلیٰ طاقتوں کا مجھ کو علم دیا گیا ہے جس علم کی رو سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام نہ صرف فلسفہ جدیدہ کے حملہ سے اپنے تئیں بچائے گا بلکہ حال کے علوم مخالفہ کو جہالتیں ثابت کر دے گا۔ اسلام کی سلطنت کو ان چڑھائیوں سے کچھ بھی اندیشہ نہیں ہے جو فلسفہ اور طبعی کی طرف سے ہورہے ہیں۔ اس کے اقبال کے دن نزدیک ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر اس کی فتح کے نشان نمودار ہیں یہ اقبال روحانی ہے اور فتح بھی روحانی تا باطل علم کی مخالفانہ طاقتوں کو اس کی الٰہی طاقت ایسا ضعیف کرے کہ کالعدم کردیوے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۲۵۴۔۲۵۵ حاشیہ)
دوسرا حصہ اور پہلی عربی کتاب
۱۱ جنوری۱۸۹۳ ء کو جب حضرت مسیح موعودؑ اپنی معرکہ آراء کتاب آئینہ کمالات اسلام کے اُردو حصہ کی تالیف سے فارغ ہوئے تو حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے ایک مجلس میں حضرت اقدسؑ سے عرض کیا کہ اس کتاب کے ساتھ مسلمان فقراء اور پیر زادوں پر اتمام حجت کے لیے ایک خط بھی شائع ہونا چاہیے۔ جو خدا کے قائم کردہ ا س سلسلے سے بے خبر ہیں۔ حضورؑ کو یہ تجویز پسند آئی۔چنانچہ حضورؑ فرماتے ہیں: ’’میرا ارادہ یہ تھا کہ یہ خط اُردو میں لکھوں لیکن رات کو بعض ارشادات الہامی سے ایسا معلوم ہوا کہ یہ خط عربی میں لکھنا چاہئے اور یہ بھی الہام ہوا کہ ان لوگوں پر اثر بہت کم پڑے گا، ہاں اتمام حجت ہوگا۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۶۰)
چنانچہ آپ نے خداداد قوت و مقدرت سے نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں ’’التبلیغ‘‘ کے عنوان سے ایک خط لکھا جس میں آپ نے ہندوستان، عرب، مصر، شام، ایران، ترکی اور دیگر ممالک کے سجادہ نشینوں، زاہدوں، صوفیوں اور خانقاہ نشینوں تک پیغام حق پہنچایا۔ حضورؑ نے یہ پہلی عربی کتاب خداتعالیٰ کی خاص تائید ونصرت اور اس کے الہام اوراس کی خاص قدرت سے تالیف فرمائی۔اور اسے کتاب کا حصہ بنایا
اس کتاب میں حضورؑ نے عربوں کوبراہ راست مخاطب فرمایا اور خدا تعالیٰ کے الہام وانعام اور اس کی مددونصرت وقوت سے لکھی گئی اس کتاب کا تقاضا تھا کہ حضوؑر کا عربوں کو یہ خطاب بے مثال اور مؤثر ترین ہو اور اعجازی رنگ لیے ہوئے ہو۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جن الفاظ میں حضور نے عربوں کو مخاطب فرمایا وہ دل ودماغ پرایک عجیب کیفیت برپا کر دیتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں: تمہی میں سے وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے سارے دل اور ساری روح اور کامل عقل وسمجھ کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی اور خداکے دین اور اس کی پاک کتاب کی اشاعت کے لیے اپنے مال اور جانیں فدا کردیں۔ بے شک یہ فضائل آپ لوگوں ہی کا خاصہ ہیں اور جو آپ کی شایانِ شان عزت واحترام نہیں کرتا وہ یقیناً ظلم و زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اے میرے بھائیو! میں آپ کی خدمت میں یہ خط ایک زخمی دل اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ پس میری بات سنو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵صفحہ ۴۱۹۔ ۴۲۲)
’’اے عرب اور مصر اور بلاد شام وغیرہ کے برادران، جب مَیں نے دیکھا کہ یہ ایک عظیم نعمت ہے اورآسمان سے نازل ہونے والا مائدہ ہے اورعطاؤں والے خداکی طرف سے ایک قابل قدر نشان ہے تو میرے دل نے پسند نہیں کیا کہ میں آپ کو اس میں شریک نہ کروں۔چنانچہ مَیں نے اس کی تبلیغ کرنا فرض سمجھااور اسے ایسے قرض کے مشابہ دیکھا جس کا حق اس کو ادا کئے بغیر ادانہیں ہوتا۔ اب مَیں نے آپ کو وہ سب کہہ دیا ہے جو میرے لیے میرے رب کی طرف سے ظاہر ہوا ہے اور میں اس بات کے انتظار میں ہوںکہ تم کس طرح اس کا جواب دیتے ہو۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۴۸۸۔۴۹۰)
حضورؑ کے یہ پُر تاثیر کلمات ایسے ہیں کہ پتھر سے پتھر دل کو بھی پگھلا کے رکھ دیں۔لیکن اُس زمانہ میں حضورؑکی کتب کا عربوں تک پہنچنانہایت مشکل تھا اس لیے اس عرصہ میں شاید عرب ممالک کے کچھ زیادہ لوگوں پر اس تحریر کا جادوظاہر نہ ہوا۔لیکن تاریخ نے سینۂ قرطاس پر بصد فخر ایک مثال یوں محفوظ کی کہ طرابلس کے ایک مشہور عالم السید محمد سعید الشامی نے جب یہ کتاب پڑھی تو بے ساختہ کہا: ’’واللہ ایسی عبارت عرب نہیں لکھ سکتا۔‘‘ اور بالآخر اس سے متاثر ہو کر احمدیت قبول کرلی۔ (تاریخ احمدیت جلد۱ صفحہ۴۷۳)
بے نظیر قصیدہ
اسی کتاب ’’التبلیغ‘‘ کے آخر میں حضرت مسیح موعودؑ نے آنحضرتﷺ کی شان اقدس میں ایک معجزہ نما عربی قصیدہ بھی رقم فرمایا ہے جو چودہ سو سال کے لٹریچر میں اپنی نظیر آپ ہے۔ جب حضورؑ یہ قصیدہ لکھ چکے تو آپ کا روئے مبارک فرط مسرت سے چمک اٹھا اور آپؑ نے فرمایا: ’’یہ قصیدہ جناب الٰہی میں قبول ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ قصیدہ حفظ کرلے گا اور ہمیشہ پڑھے گا میں اس کے دل میں اپنی اور اپنے رسولﷺ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا، اور اپنا قرب عطا کروں گا‘‘۔ یہ قصیدہ جماعت کے ہر چھوٹے بڑے میں یکساں مقبو ل ہے۔ اس کی ابتدا اس شعر سے ہوتی ہے :
یا عین فیض اللّٰہ والعرفان
یسعی الیک الخلق کالظمآن
حضرت مسیح موعوؑد کی الہامی زبان کے بارے میں بعض یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضورؑ نے اچھی خاصی عربی پڑھی ہوئی تھی اورقادر الکلام تھے اور خدا کی طرف سے تعلیم محض ایک بنائی ہوئی بات ہے۔علامہ نیاز فتح پوری صاحب نے اس قصیدہ کے بارے میں لکھا: اب سے تقریباً ۶۵ سال قبل ۱۸۹۳ء کی بات ہے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دعویٰ تجدید ومہدویت سے ملک کی فضا گونج رہی تھی اور مخالفت کا اک طوفان ان کے خلاف برپا تھا۔ آریہ عیسائی اور مسلم علما ء سبھی ان کے مخالف تھے اور وہ تن تنہا ان تمام حریفوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انہوں نے مخالفین کو ھَل مِن مبارز کے متعدد چیلنج دیئے اور ان میں سے کوئی سامنے نہ آیا۔ ان پر منجملہ اور اتہامات میں سے ایک اتہام یہ بھی تھا کہ وہ عربی وفارسی سے نابلد ہیں۔ اسی اتہام کی تردید میں انہوں نے یہ قصیدہ نعت عربی میں لکھ کر مخالفین کو اس کا جواب لکھنے کی دعوت دی۔ لیکن ان میں سے کوئی بروئے نہ آیا۔مرزا صاحب کا یہ مشہور قصیدہ ۶۹اشعار پر مشتمل ہے۔ اپنے تمام لسانی محاسن کے لحاظ سے ایسی عجیب وغریب چیز ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا ایک ایسا شخص جس نے کسی مدرسہ میں زانوئے ادب تہ نہ کیا تھا کیونکر ایسا فصیح وبلیغ قصیدہ لکھنے پر قادر ہو گیا … یہ قصیدہ نہ صرف اپنی لسانی وفنی خصوصیات بلکہ اس والہانہ محبت کے لحاظ سے جو مرزا صاحب کو رسول اللہﷺ سے تھی بڑی پُر اثر چیز ہے۔ (تاریخ احمدیت جلد۱ صفحہ ۴۷۴، ۴۷۵)
اردو ترجمہ
التبلیغ کے عربی حصہ کا فارسی ترجمہ کرنے کی سعادت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ کو حاصل ہوئی۔ وہ اس ضمن میں ایک ایمان افروز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جن دنوں حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کا عربی حصہ لکھ رہے تھے حضور نے مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) کو ایک بڑا دو ورقہ اس زیر تصنیف کتاب کے مسودہ کا اس غرض سے دیا کہ فارسی میں ترجمہ کرنے کے لیے مجھے پہنچا دیا جائے وہ ایسا مضمون تھا کہ اس خداداد فصاحت و بلاغت پر حضرت کو ناز تھا۔ مگر مولوی صاحب سے یہ دو ورقہ کہیں گر گیا۔ چونکہ حضرت مسیح موعود مجھے ہر روز کا تازہ عربی مسودہ فارسی ترجمہ کے لیے ارسال فرمایا کرتے تھے اس لیے اس دن غیرمعمولی دیر ہونے پر مجھے طبعاً فکر پیدا ہوا اور میں نے مولوی نورالدین صاحب سے ذکر کیا کہ آج حضرت کی طرف سے مضمون نہیں آیا اور کاتب سر پر کھڑا ہے اور دیر ہورہی ہے معلوم نہیں کیا بات ہے۔ یہ الفاظ میرے منہ سے نکلنے تھے کہ مولوی نورالدین صاحب کا رنگ فق ہوگیا۔ کیونکہ دو ورقہ مولوی صاحب سے کہیں گرگیا تھا۔ بے حد تلاش کی مگر مضمون نہ ملا اور مولوی صاحب سخت پریشان تھے۔ حضرت مسیح موعود کو اطلاع ہوئی تو حسب معمول ہشاش بشاش مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اور خفا ہونا یا گھبراہٹ کا اظہار کرنا تو درکنار الٹا اپنی طرف سے معذرت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کو مسودہ کے گم ہونے سے ناحق تشویش ہوئی مجھے مولوی صاحب کی تکلیف کی وجہ سے بہت افسوس ہے۔ میرا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے گمشدہ کاغذ سے بہتر مضمون لکھنے کی توفیق عطا فرمادے گا۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد۲ صفحہ۵۹۱)
حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ کی بیعت
اس کتاب نے بڑی عظیم سعید روحوں کو فتح کیا جن میں سے اول حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ ہیں۔ جب امیر کابل عبدالرحمان کے عہد میں افغانستان اور ہندوستان کی سرحدوں کے تعین کے لیے کمیشن قائم ہوا تو افغان وفد میں حضرت صاحبزادہ صاحب بھی تھے۔ اس کمیشن نے جولائی تا دسمبر ۱۸۹۴ء چھ ماہ میں تاریخی ڈیورنڈ لائن قائم کی۔ کمیشن کے ارکان پاراچنار کے مقام پر دن کو حد بندی کا کام کرتے اور رات کو مختلف امور پر تبادلہ خیالات ہوتا۔ حسن اتفاق سے کمیشن کے محرر پشاور کے سید چن بادشاہ صاحب نے ایک مرتبہ دوران گفتگو میں سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کا تذکرہ کیا جس سے حضرت سید عبداللطیف صاحبؓ بڑے متاثر ہوئے۔ سیدچن بادشاہ صاحب نے آپ کی خواہش دیکھی تو حضرت اقدس کی ایک تصنیف ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ پیش کی جس کے مطالعہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب کو حضرت اقدس سے بے حد عقیدت و الفت پیدا ہوگئی۔ انہوں نے حضور سے رابطہ قائم کرنے کے لیے اپنے بعض خاص شاگردوں مثلاً حضرت مولوی عبدالرحمٰن صاحب، حضرت مولوی عبدالستار صاحب اور حضرت مولوی عبدالجلیل صاحب کو حضرت اقدس کی خدمت میں بار بار بھیجنا شروع کیا۔ (تاریخ احمدیت جلد۲ صفحہ۱۵۷)
بالآخر حضرت صاحبزادہ صاحب خود قادیان تشریف لائے بیعت کی اور پھر صدق و صفا کا عظیم نمونہ دکھایا۔اس کتاب کے کشتگان اور اس سے متاثر ہو کر احمدیت قبول کرنے والوں کی طویل فہرست اور واقعات ہیں جن کے لیے ایک اور مضمون درکار ہے۔ اللہ اس کتاب سے انسانیت کو فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: توبہ واستغفار کی ضرورت و اہمیت اور برکات




