متفرق مضامین

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ اور چند نادان دوست

یہ ایک حقیقت ہے کہ ان چند نادان دوستوں کی وجہ سے شجرہ محمدی کے پھولوں کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے پھل کثرت سے ہوتے ہیں اور خوبیوں والے ہوتے ہیں

انسانی معاشرت میں دوستی کا تعلق ایسا ہے کہ اس میں انجانے میں نا خوشگوار باتیں بھی رونما ہو جاتی ہیں۔دوست یا خیرخواہ سے دانستہ یاغیر دانستہ طور پر ایسی باتیں سرزد ہو جاتی ہیں جس کا نتیجہ خیر خواہی کے برعکس نکلتا ہے۔ایسے واقعات مامور من اللہ کے ساتھیوں سے بھی ظہور میں آجاتے ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بھی بعض ایسے حالات پیش آئے ہیں۔ ان میں سے چند واقعات کا ذکر کرنا یہاں مقصود ہے۔اس سے حضرت اقدسؑ کی عظمت شان کا پتا لگتا ہے اور نادان دوست کی حقیقت کا بھی پتا چل جاتا ہے لیکن نہیں کہہ سکتے کہ حضرت اقدسؑ کے تمام نادان دوست بُرے ہیں کیونکہ نیتوں کا معاملہ بھی چلتا ہے جیسا اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے اور اس کے مطابق اس کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔

نادان دوستوں کے سلسلے میں ایک نادان دوست کا ذکر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں یوں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا آپ نے دعویٰ کرنے میں غلطی سے کام لیا ہے۔اگر آپ پہلے مولویوں کے سامنے یہ بات پیش فرماتے کہ اسلام کی حالت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے عقیدہ کی وجہ سے سخت خطرہ میں ہے۔مسلمان روز بروز کم ہو رہے اور عیسائی بن رہے ہیں اس کا علاج بتا ئیں تو اس وقت سب کے سب یہ کہہ دیتے کہ اس کا علاج آپ ہی سوچیں۔پھر آپ ان کو اس کا علاج یہ بتاتے کہ قرآن مجید سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہے۔اس پر سب مولوی کہتے کہ بہت اچھی بات آپ نے سوچی ہے۔پھر دوسرا امران مولویوں کے سامنے یہ پیش فرماتے کہ حدیثوں میں عیسیٰ کے آنے کا ذکر ہے، غیر مسلم قومیں اگر اس پر معترض ہوں تو اس کا کیا جواب ہو گا۔اس وقت بھی مولوی یہ کہتے کہ آپ ہی اس کا جواب ہمیں بتائیں آپ جواب میں یہ فرماتے کہ عیسیٰ سے مراد وہ عیسیٰ نہیں جو ایک دفعہ دنیا میں آچکا ہے بلکہ عیسیٰ سے مراد مثیل عیسیٰ ہے۔پھر تیسرا امریہ پیش فرماتے کہ حدیثوں میں عیسیٰ کے زمانہ کے متعلق جو علامات بیان ہوئی ہیں ان میں سے بعض اس زمانہ میں نظر آتی ہیں پس کیوں نہ علماء امت میں سے ایک شخص کے متعلق کہا جائے کہ وہی مثیل مسیح ہے تو سب علماء اس پر کہتے کہ یہ بالکل درست ہے اور آپ سے زیادہ مستحق اس دعویٰ کا کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد آپ دعویٰ کر دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بات سن کر فرمایا کہ بے شک اگر انسانی منصوبہ ہو تا تو میں ایسا ہی کرتا۔(خطبات محمود جلد ۳ صفحہ ۴۰۹-۴۱۰)

اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ’’ ہم کیا خدا تعالیٰ نے ہمارے سب کاروبار اور اعضا اور ہاتھ اور زبان اور ہر ایک حرکت و سکون کو اپنے قبضہ میں کررکھا ہے جس طرح اُس کی مرضی ہوتی ہے وہ ہمیں چلاتا ہے اور ہم اُسی طرح چلتے ہیں۔ہمارا اس میں کچھ اختیار نہیں۔‘‘(الحکم مورخہ۲۴؍ جون۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱) (تذکرہ صفحہ ۷۹)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے احباب میں غالب اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ہر طرح اخلاص سے آپ کی اطاعت کرتے تھے۔ چند ایسے بھی تھے جو اپنی سمجھ کے مطابق حضرت اقدس علیہ السلام کو ایسے مشورے دیتے تھے جو آپ علیہ السلام کے نزدیک ہرگز قابل قبول نہیں تھے۔ ایسے ہی دوستوں میں ایک کا نام خواجہ کمال الدین تھا جو وکالت کا پیشہ رکھتے تھے۔ انہوں نے کئی موقعوں پر حضرت اقدس علیہ السلام کی خوب خدمت کی ہے جبکہ ایک ایسا بھی واقعہ سامنے آیا کہ انہوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایسی صلاح پیش کی کہ وہ فقط نادان دوست والا معاملہ تھا۔ چنانچہ امر واقعہ یہ ہے کہ مشہور معاند احمدیت سعداللہ لدھیانوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتایا کہ وہ ابتر رہے گا۔اب اس واقعہ کی تفصیل حضرت مولوی محمد ابراہیم بقاپوریؓ کی چشم دید روایت سے یوں ہے کہ ’’مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے(حضرت مرزا بشیر احمدؓ) بیان کیا کہ جب حقیقۃ الوحی طبع ہو رہی تھی۔ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ جو حقیقۃ الوحی میں سعد اللہ لدھیانوی کے بیٹے کے نامرد ہونے کے متعلق تحدی کی گئی ہے اس کو کاٹ دیا جاوے۔کیونکہ اگر اس نے مقدمہ کر دیا تو نامرد ثابت کرنا مشکل ہوگا۔مگر حضرت صاحب نے انکار کیا۔خواجہ صاحب نے پھر عرض کیا کہ اس سے مشکلات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ خواجہ صاحب اگر اس نے مقدمہ کیا تو ہم آپ کو وکیل نہیں کریں گے۔اس کے کچھ دن بعد جب خواجہ صاحب لاہور چلے گئے تو مولوی محمد علی صاحب نے سیر کے وقت حضرت صاحب سے عرض کیا کہ خواجہ صاحب کا خط آیا ہے کہ مجھے سعداللہ کے متعلق اتنا فکر ہے کہ بعض اوقات رات کو نیند نہیں آتی یا تو وہ مر جاوے یا حضرت صاحب اس کے بیٹے کے نامرد ہونے کے الفاظ اپنی کتاب سے کاٹ دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ سعد اللہ کو جلد ہی موت دے دے۔اس کے چند دن بعد تار آیا کہ سعداللہ لدھیانوی مر گیا ہے اور حضرت صاحب نے سیر میں اس کا ذکر کیا اور مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اب خواجہ صاحب کو لکھ دیں کہ آپ تو کہتے تھے کہ وہ الفاظ کاٹ دیں۔لیکن اب تو ہمیں اور بھی لکھنا پڑا۔(سیرۃ المہدی جلد ۱ صفحہ ۳۵۱-۳۵۲)

خواجہ کمال الدین صاحب کی طرح مولوی محمد علی صاحب خودبھی نادان دوست ہی تھے۔چنانچہ اسی سعداللہ لدھیانوی کے حوالے سے حضرت اقدس علیہ السلام کے الہام کی اشاعت کے وقت اپنی گھبراہٹ میں نادان دوست کا نمونہ دکھا دیا۔چنانچہ شیخ عبدالرحمٰن مصری صاحب کا بیان ہے کہ’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز ظہر کے بعد مسجد میں بیٹھ گئے ان دنوں میں آپ نے شیخ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا اور اس کا بیٹا جواب موجود ہے وہ نامرد ہے گویا اس کی اولاد آگے نہیں چلے گی (خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعد اللہ سخت معاند تھا اور حضرت مسیح موعود کے خلاف بہت بیہودہ گوئی کیا کرتا تھا) مگرا بھی آپ کی یہ تحریر شائع نہ ہوئی تھی۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے آپ سے عرض کیا کہ ایسا لکھنا قانون کے خلاف ہے۔اس کالڑ کا اگر مقدمہ کر دے تو پھر اس بات کا کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ وہ واقعی نامرد ہے۔حضرت صاحب پہلے نرمی کے ساتھ مناسب طریق پر جواب دیتے رہے مگر جب مولوی محمد علی صاحب نے بار بار پیش کیا اور اپنی رائے پر اصرار کیا تو حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے غصے کے لہجے میں فرمایا: “ جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آ جاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا”(سیرۃ المہدی جلد ۱ صفحہ ۳۱)

دراصل ان دونوں اصحاب خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کا عرفانی مقام خدا تعالیٰ کے الہامی کلام کی عظمت کو سمجھنے سے قاصر تھا۔

اسی طرح کی کم فہمی کے ایک اور صاحب تھے مولوی محمد احسن امروہی مرحوم۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے کیونکہ ان کی عادت تھی کہ حضرت اقدس کی اندھا دھند تائید کرتے مگر کبھی کبھی کسی تسلسل میں نادان دوستی کا عمل کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ ان کے تعلق سے ایک واقعہ کا یوں ذکر فرماتے ہیں:’’مو لوی محمد احسن صا حب امروہی میں یہ مرض تھا کہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام جب بھی کوئی بات کرتے وہ درمیان میں جلدی جلدی بو لنا شروع کر د یتے تھے اور واہ واہ! اور سبحان اللہ کہنے لگ جاتے مثلاً حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام جب کسی گفتگو میں فر ما تے کہ قر آ ن کریم نے فلا ں بات نہایت لطیف طور پر بیان کی ہے تو وہ کہنا شروع کر دیتے تھے کہ سبحا ن اللہ بڑی لطیف بات ہے کس کی طاقت ہے کہ ایسی بات کہہ سکے۔ایک دفعہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام سیر کے لیے جا رہے تھے میں بھی ساتھ تھا کہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مجھے آج ایک الہام ہوا ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام اور بندے کے کلام میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔جب حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے یہ بات بیان فرمائی تو مولوی محمداحسن صاحب نے جھٹ ہاتھ مارنے شروع کردئیے اور کہا حضور فرق؟! خدا کے کلام اور بندہ کے کلام میں زمین اور آسمان کا فرق ہے حضور خدا کا کلام خدا کا کلام اور بندے کا کلام بندے کا کلام،بھلا ممکن ہے بندہ اپنے کلام میں خدا کا مقا بلہ کر سکے؟ یہ تو بالکل ناممکن ہے۔جب وہ ذرا خاموش ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر بات شروع کی اور فرمایا دیکھو حریری عربی ادب کے لحا ظ سے کمال کو پہنچا ہوا تھا مگر الہام الٰہی میں جو باریکیاں ہوتی ہیں وہ اس کے کلام میں کہاں ہیں؟مولوی محمد احسن صاحب نے پھر کہنا شروع کردیا حضور حریری! بھلا حریری میں رکھا ہی کیا ہے؟ اس کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا کے کلام کا مقابلہ کرسکے۔خدا کا کلام جس شان اور عظمت کاحامل ہوتا ہے بھلا حریری کی طاقت ہے کہ اس جیسا کلام کہہ سکے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مثلاً یہ فقرہ ہے ابھی وہ فقرہ مولوی محمد احسن صاحب نے سنا ہی تھا کہ انہوں نے جھٹ کہنا شروع کردیا۔حضور یہ بھی کوئی فقرہ ہے۔یہ بھی کوئی عربی ہے۔حریری کیا جانتا ہے کہ عربی کیا ہوتی ہے؟ حالانکہ وہ الہام تھا حریری کا فقرہ نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔مولوی صاحب! سنیے تو سہی یہ حریری کا فقرہ نہیں یہ تو وہ الہام ہے جو مجھ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اب دیکھو مولوی محمد احسن صاحب مولوی آدمی تھے۔رات دن عربی کتابیں پڑھنے میں مشغول رہتے تھے اور اگر سٹائل کو پہچاننا ایسا ہی آسان کام ہوتا تو وہ فوراً پہچان لیتے کہ یہ انسانی کلام ہے یا خدائی کلام مگر پھر بھی وہ غلطی کرگئے اور انہوں نے الہام کو انسانی کلام سمجھ لیا۔‘‘(تفسیر کبیر جلد ۱۳ صفحہ ۲۲۳)

تا ہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ان چند نادان دوستوں کی وجہ سے شجرہ محمدی کے پھولوں کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے پھل کثرت سے ہوتے ہیں اور خوبیوں والے ہوتے ہیں چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کے افراد کی عمومی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں۔اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہوتو وہ شاذ و نادر میں داخل ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دست بردار ہو جاؤ تو وہ دست بردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا۔مگر دل میں خوش ہوں۔‘‘ (سیرۃالمہدی جلد اول صفحہ ۱۵۰)

(اعزاز الدین۔ انڈیا)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: حدیث نبویﷺ میں لیکھرام سے متعلق پیشگوئی کا ذکر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button