پنجاب میں طاعون کی وبا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم پیشگوئی کا ظہور
کیا کوئی انسان …اپنے محض قیاس کی بنا پر یہ پیشگوئی کر سکتا ہے کہ طاعون بہت زیادہ پھیلے گی اور پوری دنیا کے تمام ممالک میں سے اس ملک کے اس صوبہ کے لوگ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے؟ یقینی طور پر ہر انسان کا ذہن اس کا جواب نفی میں دے گا
لوقا کی انجیل کے مطابق جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں واقعہ صلیب کا وقت قریب آ رہا تھا تو آپ اپنے پیروکارں کو اس مرحلے کے بارے میں خبردار کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ آپ اپنی دوسری آمد کے بارے میں بھی پیشگوئیاں بیان فرمارہے تھے۔ ان دنوں میں آپؑ کے شاگردوں نے آپؑ سے یہ دریافت کیا: ’’اے استاد پھر یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور جب ہونے کو ہوں تو اس وقت کا کیا نشان ہے؟اس نے کہا خبردار گمراہ نہ ہونا کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ میں ہی ہوں اور یہ بھی کہ وقت نزدیک آ پہنچا ہے۔ تم ان کے پیچھے نہ چلے جانا اور جب لڑائیوں اور فسادوں کی افواہیں سنو تو گبھرا نہ جانا کیونکہ ان کا پہلے واقع ہونا ضرور ہے لیکن اس وقت فوراََ خاتمہ نہ ہوگا۔
پھر اس نے ان سے کہا کہ قوم قوم پر اور سلطنت سلطنت پر چڑھائی کرے گی۔ اور بڑے بڑے بھونچال آئیں گے اور جا بجا کال اور مری پڑے گی اور آسمان پر بڑی بڑی دہشناک باتیں اور نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ ‘‘(لوقا باب ۲۱)
پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مری کا لفظ وبائوں اور خاص طور پر طاعون اور ہیضہ کی وبائوں کے بارے میں بولا جاتا ہے(فیروزاللغات )۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی آمدثانی کی جو علامات بیان فرمائیں وہ من و عن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد پر پوری ہوئیں۔ لیکن اس مضمون میں ہم ان میں سے ایک علامت کے بارے میں کچھ حقائق بیان کریں گے۔ ان حقائق کے مطالعہ کے بعد پڑھنے والے خود اپنی آزادانہ رائے قائم کر سکتے ہیں۔
ہندوستان میں طاعون کی آمد
انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں سب سے پہلے طاعون نے بمبئی شہر میں قدم رکھا۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بمبئی کے اندر ۱۸۹۶ء کے برسات کے موسم میں لوگ طاعون سے بیمار ہونا شروع ہوئے اور اموات کا بھیانک سلسلہ شروع ہوا۔ اس وبا کا آغاز کس طرح ہوا؟ اور کس راستے سے طاعون ہندوستان میں داخل ہوئی؟اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بمبئی میں ابتدائی طور پر اس کے مریض مانڈوی کے علاقے میں دریافت ہوئے تھے۔ مانڈوی جنوبی بمبئی میں وہ علاقہ ہے جو کہ بندرگاہ اور گوداموں کے قریب ہے، اس لیے یہ گمان بھی کیا گیا کہ طاعون کے جراثیم ہانگ کانگ یا کہیں اور سے سمندر کے راستہ یہاں تک پہنچے ہیں۔ کیونکہ بمبئی سے قبل ۱۸۹۴ء میں ہانگ کانگ میں طاعون سے اموات شروع ہو چکی تھیں اور محققین کا خیال ہے کہ ہانگ کانگ میں یہ وبا جنوبی چین سے پہنچی تھی جہاں ۱۸۶۶ء میں اس بیماری کے مریض دریافت ہونا شروع ہو گئے تھے۔ تحقیقات سے یہ امکان بھی سامنے آیا تھا کہ اس مرحلے سے قبل بھی بمبئی میں ڈاکٹر ایسے مریضوں کو دیکھ رہے تھے جن کو گلٹیاں اور بخار تھا اور ممکن ہے کہ ان مریضوں کی صحیح تشخیص نہ ہوئی ہو اور اصل میں انہیں بھی طاعون کا مرض لاحق ہو۔

ڈاکٹر گیبریل وائیگاس ایک پرتگالی ڈاکٹر تھے جو کہ مانڈوی کے علاقے میں پریکٹس کرتے تھے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ اس وبا کے شروع میں کچھ مریضوں میں طاعون کی تشخیص کی تھی۔۲۹ ستمبر کو بمبئی کے حکام نے ہندوستان کی مرکزی حکومت کو تار سے اطلاع دی کہ بمبئی میں طاعون کے مریض دیکھے گئے ہیں۔ خطرے کی گھنٹی بجنے کے بعد مرکزی حکومت نے جراثیم کی سائنس (Microbiology) کے چوٹی کے ماہر والدیمر ہیفکائن (Waldemar Haffkine)کو فوری طور پر بمبئی جا کر تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ہیفکائن اس سے قبل ہیضہ کا حفاظتی ٹیکہ تیار کر کے شہرت حاصل کر چکے تھے اور اس وقت ہندوستان میں برطانوی حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ان کی خدمات حاصل کی ہوئی تھیں۔ ۱۳ اکتوبر ۱۸۹۶ء کو والدیمر ہیفکائن نے سائنسی تجزیہ کے بعد حکومت کو یہ رپورٹ بھجوائی کہ فی الحقیقت بمبئی میں طاعون یعنی Bubonic Plague کے مریض موجود ہیں۔ جب تحقیقات شروع ہوئیں توجلد ہی حکومت کو احساس ہو گیا کہ طاعون پورے شہر میں موجود ہے۔ ۸ اکتوبر ۱۸۹۶ء کو ہیفکائن نے بمبئی کے گرانٹ میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں محدود وسائل اور عملہ کے ساتھ اس تحقیق کا آغاز کر دیا کہ اس بیماری کی نوعیت کیا ہے، یہ کس طرح پھیلتی ہے، کیا جانور بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے علاج اور بچائو کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟
بمبئی میں طاعون پھیلتی ہے
اکتوبر اور نومبر ۱۸۹۶ء کے دوران بمبئی شہر میں سینکڑوں لوگ طاعون کے مرض میں مبتلا ہوئے اور ان میں سے کچھ کی اموات بھی ہوئیں لیکن اس مرحلے پر یہ آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے کہ یہ ابتدا ایک خوفناک وبا میں تبدیل ہوجائے گی بلکہ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جلد اس پر قابو پا لیا جائے گا۔دسمبر میں یہ تعداد ۱۶۰۰ سے تجاوز کر گئی۔ جنوری ۱۸۹۷ء میں یہ تعداد دو ہزار تین سو اور فروری میں تین ہزار سے زائد تھی۔ مگر مئی کے مہینہ سے یہ تعداد پھر ایک ہزار سے نیچے آ گئی اور پھر کچھ مہینے یہ تعداد ایک ہزار سے نیچے ہی رہی۔ بمبئی کے قریب ماہی گیروں کے دیہات میں بھی طاعون کے مریض دریافت ہونا شروع ہوئے۔ابھی یہ اس وبا کی بالکل ابتدا ہی تھی اور بمبئی تک محدود لیکن اس مرحلہ پر بھی بڑی تعداد میں لوگ بمبئی کی آبادی شہر چھوڑ کر باہر جانے لگی۔اس وقت بمبئی کی آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ سے کم تھی لیکن اکتوبر ۱۸۹۶ء سے فروری ۱۸۹۷ء کے درمیان کم و بیش چار لاکھ افراد طاعون کی دہشت سے شہر چھوڑ کر باہر منتقل ہو گئے تھے۔اس وقت انتظامی طور پر بمبئی پریذیڈنسی کے علاقہ میں سندھ بمبئی کے علاوہ ہندوستان کے مغربی ساحل کا وسیع علاقہ شامل تھا۔
(Report of the Indian Plague Commission Vol V. Published by His Majesty‘s Stationary‘s Office 1901, p6-9)
طاعون کے ٹیکے کی دریافت
اس دوران بمبئی میں ہیفکائن طاعون کے حفاظتی ٹیکے پر حیران کن تیزی سے اپنا کام آگے بڑھا رہے تھے۔سب سے پہلے انہوں نے پلیگ کے جراثیم علیحدہ کر کے broth پر ان کی پرورش کی۔ broth وہ مائع ہوتا ہے جس میں جراثیم کی خوراک اور نشوونما کا مواد مہیا ہوتا ہے اور اس طرح جراثیم بڑھ کر اس قابل ہوجاتے ہیں کہ ان سے تجربات کیے جاسکیں۔ اس طریق پر جراثیم حاصل کر کے انہیں ایک خاص درجہ حرارت یعنی ایک گھنٹہ کے لیے ۷۰ سنٹی گریڈپر رکھ کر یا کاربولک ایسڈ کی ہلکی مقدار سے مردہ کیا گیا۔ اس طریق سے یہ جراثیم مر کر اس قابل تو نہیں رہتے کہ جب انہیں کسی جانور میں داخل کیا جائے تو وہ طاعون کی بیماری پیدا کریں لیکن اگر انہیں انجکشن سے جسم میں داخل کیا جائے توان کی وجہ سے جسم میں طاعون کے جراثیم سے بچانے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہیفکائن نے کچھ خرگوشوں میں یہ مردہ جراثیم انجکشن کے ذریعے داخل کیے اور کچھ خرگوشوں میں یہ مردہ جراثیم داخل نہیں کیے گئے۔ بعد میں جب ان سب خرگوشوں میں انجکشن سے طاعون کے زندہ جراثیم داخل کیے گئے تو وہ خرگوش محفوظ رہے جنہیں مردہ جراثیم کی صورت میں طاعون کا حفاظتی ٹیکہ مل چکا تھا اور وہ خرگوش بیمار ہونا اور مرنا شروع ہو گئے جنہیں پہلے یہ ٹیکہ نہیں لگایا گیا تھا۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا تھا کہ خرگوشوں کی حد تک طاعون کا یہ حفاظتی ٹیکہ کامیاب رہا تھا۔ اس کے بعد یہ سوال رہ جاتا تھا کہ کیا انسانوں کو ایسا حفاظتی ٹیکہ لگانا محفوظ رہے گا؟ اس سوال کو حل کرنے کے لیے ہیفکائن نے ہمت کر کے حرارت سے مارے گئے ایسے طاعون کے دس ملی لیٹر جراثیم کا ٹیکہ اپنے آپ کو لگوایا۔ ایک دو دن کے لیے انہیں بخار ہوا مگر اس کے بعد کوئی اور بد اثر ظاہر نہ ہوا۔ جنوری ۱۸۹۷ء میں ہیفکائن نے اس اہم پیش رفت کی اطلاع اعلیٰ حکام کو کر دی۔اس کے بعد طب کے پیشے سے منسلک ستر لوگوں کو یہ ٹیکہ لگایا گیا۔ بعض میں ٹیکے کا رد عمل کچھ زیادہ ہوا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ انجکشن کی مقدار کم کر دی جائے۔جنوری ۱۸۹۷ء میں اس ٹیکے کو آزمانے کا ایک اَور موقع پیدا ہوا۔ بمبئی کی جیل میں طاعون نے پھیلنا شروع کیا۔ کم و بیش نصف کو یہ حفاظتی ٹیکہ لگایا گیا اور نصف کو نہیں لگایا گیا۔ جن کو ٹیکہ لگایا گیا تھا ان میں سے صرف دو کو طاعون کا مرض ہوا اور کسی کی موت نہیں ہوئی اور جن کو یہ ٹیکہ نہیں لگایا گیا تھا ان میں سے بارہ کو طاعون لاحق ہوا اور ان میں چھ قیدیوں کی موت ہو گئی۔ ان شواہد سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ٹیکہ طاعون سے بچانے کے لیے ایک کار آمد طریقہ ثابت ہوگا۔(Indian Medical Research Memoirs, no 27, March 1933. P 3-10)
طاعون کا مزید پھیلائو
اب اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس ٹیکے کو وسیع پیمانے پر تیار کیا جائے۔ حکومت نے عملہ اور عمارت مہیا کی اور جراثیم کی پرورش اور ٹیکہ کی تیاری کے مزید بہتر طریق تلاش کرنے کا کام شروع کیا گیا۔
اب اس وبا نے بمبئی سے باہر ارد گرد بمبئی پریذیڈنسی کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنا شروع کیا اور کونکن ساحل پر جو بھارت کا مغربی ساحل ہے۔ سورت سے رتناگری کے اضلاع میں اور بارودا ریاست، دکن کے ضلع پونا، پالنپور، احمد آباد، ناسک اور ارد گرد کے دوسرے علاقوں میں بھی اس بیماری نے قدم جمانے شروع کیے اور بعض مقامات پر تو ہزاروں لوگ طاعون کے مرض میں مبتلا ہوئے۔اس کے بعد سندھ کی باری تھی جو کہ بمبئی کے علاقے سے منسلک تھا اور انتظامی طور پر بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ شمار ہوتا تھا۔ کراچی، حیدر آباد، شکار پور اور سکھر میں طاعون کے مریضوں کی تشخیص شروع ہوئی لیکن ابھی اس وبا نے خوفناک صورت حال اختیار نہیں کی تھی اور جلد ہی بیماری کا زور ختم ہونا شروع ہوا اور ۱۷؍اگست ۱۸۹۷ء کو یہ سرکاری اعلامیہ جاری کیا گیا کہ کراچی اور سندھ میں اب طاعون کا خاتمہ ہو گیا ہے اور چرچوں میں اس حوالے سے خوشی منانے کی تقریبات منعقد کی گئیں۔البتہ دسمبر۱۸۹۷ء میں کرناٹک کے صوبہ میں کچھ وارداتیں ہوئیں اور اس سال کے آخر میں بمبئی شہر میں اس بیماری نے دوبارہ زور پکڑا۔
جون ۱۸۹۷ء تک بمبئی پریذیڈنسی کی حکومت کی حدود کے باہر صرف چند کیس گوالیار کے ایک مقام پر اورشمال مغربی صوبہ میں اور راجپوتانہ میں کچھ کیس ہوئے تھے لیکن ان علاقوں میں وبا کی صورت حال پیدا نہیں ہوئی تھی۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو ستمبر ۱۸۹۷ء میں ضلع جالندھر اور ہوشیارپور کے کچھ دیہات میں طاعون کے مریض دریافت ہونے شروع ہوئے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا کہ ضلع جالندھر کے ایک گائوں کھتکر کلاں میں چوہے مرنے شروع ہوئے۔ یہ طاعون کی موجودگی کی علامت سمجھی جاتی ہے کیونکہ چوہوں سے یہ جراثیم ایک قسم کے پسو کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ستمبر میں کچھ مریضوں کو طاعون کی علامات شروع ہوئیں اور اسی گائوں میں اِکّادُکّا اموات بھی ہوئیں۔ ان اموات کے متعلق یہ غالب خیال تھا کہ یہ طاعون کی وجہ سے ہو ئی تھیں۔اکتوبر کے مہینے میں ضلع جالندھر میں طاعون سے آٹھ اشخاص کی اموات رپورٹ کی گئیں۔ضلع جالندھر کے محدود علاقے میں ایک دو دوسرے دیہات میں طاعون کے مریض دریافت ہوئے تھے، اس کے ساتھ ضلع ہوشیار پور کے ایک گائوں گڑھی میں بھی طاعون کے مریض پائے گئے۔
(Report of the Indian Plague Commission Vol V. Published by His Majesty‘s Stationary‘s Office 1901, p6- 9)
اکتوبر کے مہینے میں ضلع جالندھر میں طاعون کے ۷۲؍مریض دریافت ہوئے اور ان میں سے ۳۹ کی اموات ہوئیں۔ حکومت نے فوری طور پر طاعون کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کیے اور ایک ہزار سے اوپر افراد کے اس گائوں کو باہر کیمپ میں منتقل کر دیا گیا اور اس کے فوری طور پر مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ اس کے علاوہ نومبر میں ایک قریب کے گائوں جالندھر خورد اور کھتکر خورد میں بھی طاعون کے مریض دریافت ہوئے۔ بہرکیف ۱۸۹۷ء کے آخر تک یہ کیفیت تھی کہ ضلع جالندھر کے چار دیہات اور ضلع ہوشیار پور کے ایک گائوں میں طاعون کے مریض پائے گئے تھے۔ گو دسمبر ۱۸۹۷ء میں ضلع جالندھر کے چند دیہات میں طاعون سے ۷۷ اموات اور ضلع ہوشیار پور کے ایک گائوں میں ۲۰ اموات ہوئی تھیں۔ لیکن جنوری ۱۸۹۸ء میں یہ معلوم ہو رہا تھا کہ پنجاب کے ان دو مقامات پر جو محدود طاعون موجودتھی اس پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس مہینے میں کسی نئے گائوں میں طاعون کا مریض دریافت نہیں ہوا اور جنوری ۱۸۹۸ء کے شروع میں کھتکر کلاں کے گائوں کو طاعون سے پاک قرار دے دیا گیااور اس مہینے میں ضلع جالندھر میں ۱۱ اور ضلع ہوشیار پور میں ۱۲ اموات ہوئیں اور بظاہر یہی معلوم ہوتا تھا کہ اب اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ بیماری پنجاب کی حدود میں زیادہ پھیلے گی۔
جہاں تک طاعون سے اموات کا تعلق ہے تو اس مرحلے تک یعنی ۱۸۹۸ء کے آغاز پریہ المیہ بڑی حد تک بمبئی پریذیڈنسی کے علاقے تک محدود تھا۔ برطانوی ہندوستان کے دوسرے صوبے کم از کم طاعون کی بڑی تعداد میں اموات سے محفوظ تھے۔البتہ یہ صوبے خطرہ میں ضرور تھے۔
(REPORT ON THE OUTBREAK OF PLAGUE IN THE JULLUNDUR AND HOSHIARPUR DISTRICTS OF THE PUNJAB ,1897-98 By C.H. James , Printed at Civil and Military Gazette Press 1898. P 1-6)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی
اس پس منظر میں فروری ۱۸۹۸ء کے آغاز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’ طاعون‘‘ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع فرمایا۔ یہ اشتہار ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: ’’اس مرض نے جس قدربمبئی اور دوسرے شہروں اور دیہات پر حملے کئے اور کررہی ہے اُن کو لکھنے کی ضرورت نہیں۔ دو سال کے عرصہ میں ہزاروں بچے اس مرض سے یتیم ہو گئے اور ہزارہا گھر ویران ہو گئے۔ دوست اپنے دوستوں سے اور عزیز اپنے عزیزوں سے ہمیشہ کے لئے جدا کئے گئے اور ابھی انتہاء نہیں…‘‘
اس اشتہار کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ عظیم پیشگوئی درج فرمائی : ’’اور ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے۔ اور میں خوب جانتا ہوں کہ جو لوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو ۶ فروری ۱۸۹۸ء روز یکشنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔‘‘ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئیندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد جاڑے میں پھیلے گا لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ۳۹۰۔۳۹۳)
اسی اشتہار کے آخر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نصیحت فرمائی :’’یاد رکھو کہ سخت خطرہ کے دن ہیں اور بلا دروازہ پر ہے۔ نیکی اختیار کرو اور نیک کام بجا لائو۔‘‘
سب سے پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ پیشگوئی سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔
۱۔ طاعون پنجاب میں پھیلے گی۔
۲۔ طاعون پنجاب کے چند مقامات تک محدود نہیں ہوگی۔بلکہ بہت سے مقامات پر پھیلے گی۔
۳۔ یہ وبا کوئی معمولی وبا نہیں ہو گی بلکہ بہت زیادہ خوفناک ہو گی۔
۴۔ اس وبا کا آغاز کسی طویل عرصہ کے بعد نہیں ہو گا بلکہ دو چار سالوں میں ہی ہو جائے گا۔
پیشگوئی کے وقت کی صورت حال
اس مرحلے پر یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ظاہری طور پر اس بات کے کیا امکانات نظر آ رہے تھے کہ پنجاب کے مختلف مقامات طاعون کی خوفناک وبا کی زد میں آ جائیں گے؟جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ جب یہ پیشگوئی شائع کی گئی تو وبا زیادہ تر بمبئی پریذیڈنسی کے علاقوں تک محدود تھی۔پنجاب میں تو اب تک طاعون کی کل اموات کا سلسلہ صرف چند سو تک محدود تھا اور اس اشتہار میں یہ معین کیا گیا تھا کہ خاص طور پر پنجاب اس وبا کا نشانہ بنے گا۔ اگر انسانی اندازے کی بنا پر کوئی پیشگوئی کی جاتی تو بنگال، مدراس، یو پی سی پی یا کسی اور صوبہ کی نشاندہی بھی کی جاسکتی تھی۔ ابھی بمبئی کے علاقے میں بھی ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی تھی یہ کہا جائے کہ طاعون کی وبا قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ جیسا کہ بعد میں واضح اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے اس وقت جو بمبئی میں جو صورت حال تھی اس کا اس صورت حال سے جوکچھ سالوں میں پیدا ہوئی اور کچھ دہائیوں تک لکھوکھا انسانوں کو اپنا شکار بناتی رہی کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی شائع فرمائی اس وقت تک طاعون سے بچانے والا ٹیکہ ایجاد ہو چکا تھا اور تجربات یہی بتا رہے تھے کہ یہ ٹیکہ موثر ثابت ہو گا۔
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار میں ذکرتھا پنجاب میں طاعون کی بھیانک تباہ کاری تو پوری طرح چند سالوں میں ظاہر ہونی تھی، لیکن جونہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیشگوئی شائع فرمائی تو پنجاب میں ایسے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے جن کے متعلق ماہرین کی رائے ہے کہ اسی وقت مشکلات کی ابتدا شروع ہوگئی تھی۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ پنجاب کے اندر جنوری ۱۸۹۸ء میں بہتر صورت حال نظر آ رہی تھی کہ اس مہینے میں کسی نئے گائوں میں طاعون داخل نہیں ہوئی تھی اور پنجاب کے جس گائوں سے طاعون شروع ہوئی تھی، اسے بھی طاعون سے پاک قرار دے دیا گیا تھا۔لیکن فروری ۱۸۹۸ء کے آغاز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ پیشگوئی شائع فرمائی تھی کہ پنجاب کے مختلف مقامات طاعون کی بھیانک وبا کا شکار بنیں گے۔چنانچہ فروری میں ہی ضلع جالندھر کے دس نئے دیہات میں طاعون کے بیمار دریافت ہوئے اور ضلع ہوشیار پور کے پانچ نئے دیہات میں یہ وبا داخل ہوئی اور اس مہینے کے دوارن ضلع جالندھر میں طاعون سے ۱۲۱ افراد کی اور ضلع ہوشیار پور میں ۷۲ افراد کی اموات ہوئیں۔چنانچہ جس سرکاری رپورٹ کا نیچے حوالہ دیا گیا ہے اس کے صفحہ۷ پر لکھا ہے: With the onset of February our real troubles began یعنی فروری کے آغاز کے ساتھ ہی ہماری حقیقی مشکلات شروع ہو گئیں۔
مارچ ۱۸۹۸ء میں پنجاب کے ضلع جالندھر میں طاعون سے ۵۶۴ اور اسی صوبے کے ضلع ہوشیارپور میں ۱۳۲ میں اموات ہوئیں۔ اپریل کے مہینہ میں طاعون نے ۳۴ نئے دیہات میں قدم رکھا۔اسی مہینے میں ضلع جالندھر میں ۴۹۱ افراد طاعون کے ہاتھوں موت کے منہ میں پہنچ گئے اور ضلع ہوشیار پور میں ۱۱۹ اموات ہوئیں۔گو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی تھی پنجاب میں طاعون کی حقیقی تباہ کاری تو دو تین سالوں میں شروع ہونی تھی اور پنجاب کے مختلف مقامات پر ظاہر ہونی تھی لیکن اس پیشگوئی کے ظہور کے فوری بعد ہی ایسے آثار ظاہر ہونے شروع گئے تھے جو کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کی طرف بلا رہے تھے۔
(REPORT ON THE OUTBREAK OF PLAGUE IN THE JULLUNDUR AND HOSHIARPUR DISTRICTS OF THE PUNJAB ,1897-98 By C.H. James , Printed at Civil and Military Gazette Press 1898. P 1-6)
پنجاب میں طاعون زور پکڑتی ہے
ایک تحقیق کے مطابق ۱۸۹۸ء میں یعنی جس سال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی شائع فرمائی تھی پنجاب میں طاعون سے ۱۸۷۱ء اموات ہوئی تھیں اور اس سال میں بمبئی، میسور اور حیدرآباد دکن میں پنجاب سے کافی زیادہ اموات ہوئی تھیں اور بمبئی میں ہونے والی اموات تو ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھیں۔اس سے اگلے سال یعنی ۱۸۹۹ء میں پنجاب میں ہونے والی اموات کی تعداد ۲۵۳ تھی۔اس صوبے کی نسبت بمبئی میں ہونے والی اموات ایک لاکھ سے زائد اور بنگال، مدراس، میسور، سی پی اور حیدر آباد دکن میں ہونے والی اموات کی تعداد بھی پنجاب سے زائد تھی۔۱۹۰۰ء میں ہندوستان میں طاعون کی وجہ سے لقمۂ اجل بننے والوں کی تعداد میں کمی آئی اور مذکورہ بالا صوبوں میں پنجاب کی نسبت اموات زیادہ ہوئی تھیں۔ حفاظتی ٹیکے کی وجہ سے یہ امید بڑھ گئی ہو گی کہ اب یہ وبا اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھے گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی تھی ۱۹۰۱ء میں کچھ اَور ہی آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ ہندوستان بھر میں ہونے والی اموات بھی تین گنا ہو گئیں اور پنجاب ہونے والی اموات میں بھی کافی اضافہ ہوا اور یہ تعداد بڑھ کر اٹھارہ ہزارسے آگے بڑھ گئی اور یہ بالکل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ہورہا تھا۔
اور اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں تو گویا قیامت برپا ہوگئی۔ ہندوستان میں اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد کئی گنا اضافہ کے ساتھ پانچ لاکھ چوہتر ہزار سے بڑھ گئی اور باقی سب صوبوں اور ریاستوں کی نسبت پنجاب میں سب سے زیادہ یعنی دو لاکھ اکہتر ہزار سے زائد لوگ طاعون میں مبتلا ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔آج کے دور کی نسبت اس زمانے میں آبادی بہت کم تھی۔ ۱۹۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی اڑھائی کروڑ سے بھی کم تھی۔ گویا صرف اس ایک سال میں صوبے کی آبادی کے ایک فیصد سے زیادہ افراد طاعون سے موت کا شکار ہوگئے اور ابھی یہ اس المیہ کی ابتدا تھی۔اصل تباہ کاری نے ابھی شروع ہونا تھا۔
(https://www.google.com/url?client=internal-element-cse&cx=607be843f6e864d2f&q=https://www.statista.com/statistics/1115019/plague-deaths-india-circa-accessed on 9th Feb 2026)
پنجاب میں طاعون کا راستہ روکنے کی کاوشیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعلان
اس مرحلے پر یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس وقت پنجاب میں طاعون پھیل رہی تھی تو اس وقت حکومت کتنے بڑے پیمانے پرحفاظتی ٹیکے کے ذرریعہ اس وبا کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔پنجاب کی حکومت نے ستمبر۱۹۰۲ء میں ایک اعلان شائع کیا کہ اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر طاعون کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں۔ چنانچہ ستمبر ۱۹۰۲ء کے Indian Medical Gazette میں حکومت کا یہ اعلان شائع ہوا کہ اس وقت پنجاب کے تیرہ اضلاع میں یہ وبا قابو سے باہر ہو رہی ہے اور اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ آئندہ پانچ ماہ میں ان متاثرہ اضلاع میں ۶۵لاکھ افراد کو یہ ٹیکے لگوائے جائیں اور اس غرض کے لیے بجٹ مخصوص کیا جا رہا ہے اور میڈیکل ٹیم مقرر کی جا رہی ہے۔ اس دور کے لحاظ سے یہ بہت بڑا قدم تھا کہ اس حفاظتی ٹیکے کو اتنے بڑے پیمانے پر لگایا جائے اور اس خبر کا عنوان تھا :
There Remains Only Inoculation
یعنی اب صرف حفاظتی ٹیکہ کا راستہ بچا ہے۔
جب حکومت نے پنجاب میں طاعون کو روکنے کے لیے اس تدبیر کا اعلان کیا تو اس کے ایک ماہ بعد یعنی ۵ اکتوبر کوحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ’کشتی نوح ‘ شائع فرمائی۔ اس میں آ پؑ نے تحریر فرمایا : ’’شکر کا مقام ہے کہ گورنمنٹ عالیہ انگریزی نے اپنی رعایا پر رحم کر کے دوبارہ طاعون سے بچانے کے لئے ٹیکا کی تجویز کی اور بندگان خدا کی بہبودی کے لئے کئی لاکھ روپے کا بوجھ اپنے سر پر ڈال لیا۔ درحقیقت یہ وہ کام ہے جس کا شکر گذاری سے استقبال کرنا دانشمند رعایا کا فرض ہے اور سخت نادان اور اور اپنے نفس کا وہ شخص دشمن ہے کہ جو ٹیکا کے بارے میں بدظنی کرے کیونکہ یہ بارہا تجربہ میں آ چکا ہے کہ یہ محتاط گورنمنٹ کسی خطرناک علاج پر عمل درآمد کرانا نہیں چاہتی بلکہ بہت سے تجارب کے بعد ایسے امور میں جو تدبیر فی الحقیقت مفید ثابت ہوتی ہے اسی کو پیش کرتی ہے۔ سو یہ بات اہلیت اور انسانیت سے بعید ہے کہ جس سچی خیر خواہی کے لئے یہ گورنمنٹ لکھوکھہا روپیہ گورنمنٹ خرچ کرتی ہے اور کر چکی ہے اس کی یہ داد دی جائے کہ گورنمنٹ کو اس سردردی اور صرف زر سے اپنا کوئی خاص مطلب ہے۔وہ رعایا بدقسمت ہے کہ بد ظنی میں اس درجہ تک پہنچ جائے۔کچھ شک نہیں کہ اس وقت تک جو تدبیر اس عالم اسباب میں اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ آئی وہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ یہ ہے کہ ٹیکا کرایا جائے۔ اس سے کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ تدبیر مفید پائی گئی ہے اور بندی رعایت اسباب تمام رعایا کا فرض ہے کہ اس پر کاربند ہو کر وہ غم جو گورنمنٹ کو ان کی جانوں کے لئے ہے اس سے اسکو سبکدوش کریں۔ لیکن ہم بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے۔ اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانے میں انسانوں کے لیے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے۔سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔ اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہو گا تا وہ قوموں میں فرق کرکے دکھلاوے۔ لیکن وہ جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے۔ اس کے لیے مت دلگیر ہو۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱۔۲)
یہ واضح ہے کہ اب تک یہ عظیم نشان ظاہرہونا شروع ہوچکا تھا کہ جس وقت پیشگوئی کی گئی اس وقت پنجاب میں طاعون برائے نام موجود تھی اور اس وسیع صوبے میں صرف چند دیہات اس سے متاثر ہوئے تھے اور اس وقت یہی معلوم ہوتا تھا کہ اس بیماری کو بڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس بیماری کی زیادہ تر تباہ کاریاں بمبئی پریذیڈنسی میں ظاہر ہو رہی تھیں۔ جب کشتی نوح کی اشاعت ہوئی تو اس وقت پیشگوئی کے مطابق پنجاب کے مختلف مقامات پر طاعون کی تباہ کاریاں شروع ہو چکی تھیں اور اس وقت سائنسی طور پر اس وبا کا یہی موثر طریقہ سامنے آیا تھا کہ لوگوں کو اس کا حفاظتی ٹیکہ لگایا جائے۔ اس مرحلے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف یہ پیشگوئی شائع فرمائی کہ میں اور میرے سچے پیروکار اس سے محفوظ رہیں گے بلکہ یہ اعلان بھی فرمایا کہ احمدی اس کا حفاظتی ٹیکہ بھی نہیں لگوائیں گے تا کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ حفاظت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے تھی۔
سانحہ ملکوال
بہر حال حکومت کی طرف سے پنجاب میں اس حفاظتی ٹیکہ لگانے کی مہم پورے زور و شور سے شروع کر دی گئی۔ ’’کشتی نوح‘‘ کی اشاعت کے ٹھیک پچیس روز بعد ایک عظیم سانحہ کا آغاز ہوا جس نے حفاظتی ٹیکوں کی اس مہم کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا اور اب تک طبی جرائد میں اس کی بابت بحث ہوتی ہے۔۳۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو پنجاب میں ملکوال کے مقام پر بہت سے لوگوں کو ایک ایسی بوتل سے حفاظتی ٹیکہ لگایا گیا جس کا نمبر 53N تھا۔ یہ بوتل اپنے کھلنے سے ۴۱ روز قبل بمبئی کی لیبارٹری میں تیار ہوئی تھی۔ ۴ اور ۵ نومبر کو ان میں سے ۱۹ افراد میں تشنج (Tetanus)کی علامات ظاہر ہوئیں اور چند روز میں یہ افراد انتقال کر گئے۔ظاہر ہے یہ سانحہ طاعون کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔طاعون کا ٹیکہ تیار کرنے والے سائنسدان ہیفکائن کو ان کی لیبارٹری سے معطل کر دیا گیا اور یہ تحقیقات شروع ہوئیں کہ تشنج یعنی Tetanus کے جراثیم اس ٹیکے کے مواد میں کیسے شامل ہوئے؟ کیا یہ آلودگی بمبئی کی لیبارٹری میں ہوئی تھی جہاں پر یہ ٹیکے تیار ہوتے تھے یا جب ملکوال میں یہ بوتل کھولی گئی تو اس وقت یہ ٹیکہ ان جراثیم سے آلودہ ہو گیا تھا؟ ڈاکٹر الیٹ جو کہ ملکوال میں ٹیکے لگانے پر مقرر تھے کا بیان تھا کہ انہوں نے استعمال سے پہلے حسب قواعد ٹیکے کے مواد کا جائزہ لیا تھا اور سونگھ کر بھی دیکھا تھا کہ کہیں یہ مواد کسی اور جراثیم سے آلودہ تو نہیں ہے۔ لیکن ان کے مطابق یہ ٹیکہ ٹھیک حالت میں تھا۔ تحقیقات پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب کمپائونڈر نے ایک زنبور (forceps)سے بوتل کا کارک کھولا تو اس سے قبل یہ زنبور گر گیا تھا اور اس نے بغیر صحیح طور پر اس کو جراثیم سے پاک کیے استعمال کیا تھااور شروع میں جن انیس افراد کو ٹیکہ لگایا گیا انہیں تشنج ہوا لیکن اس کے بعد اسی سرنج کو کاربولک ایسڈ سے صاف کر کے سولہ افراد کو ٹیکہ لگایا گیا تو ان کو تشنج کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
سانحہ ملکوال کی تحقیقات
اب خاص طور پر پنجاب میں لوگ طاعون کا حفاظتی ٹیکہ لگاتے ہوئے ڈر رہے تھے۔ اس حادثے کی تحقیقات نے طول پکڑا اور مزید جائزہ کے لیے سارا ریکارڈ انگلستان کے لسٹر انسٹی ٹیوٹ کو بھجوایا گیا۔ہندوستان کی لیبارٹریوں میں اور انگلستان میں لسٹر انسٹی ٹیوٹ کی لیبارٹری میں جانوروں پر بھی تجربات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ملکوال میں ٹیکہ لگانے والوں کو تشنج ہونے کی وجہ کیا تھی اور ممکنہ طور پر یہ کس کا قصور ہو سکتا تھا کیونکہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے ٹیکوں کی مہم پر نہایت بُرا اثر پڑ رہا تھا اور اب ہندوستان میں طاعون کی وبا کے شعلے قابو سے باہر ہو رہے تھے۔
اس دوران ہیفکائن کو ان کی لیبارٹری اور کام سے علیحدہ کر دیا گیا۔بمبئی کے تحقیقاتی کمیشن نے یہ رپورٹ دی تھی کہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آلودگی بمبئی کی لیبارٹری میں ہوئی تھی۔ ۱۹۰۶ء میں لسٹر انسٹی ٹیوٹ نے اپنی آخری رپورٹ یہ دی کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ جب یہ ٹیکہ ملکوال پہنچا تو تشنج کے جراثیم سے آلودہ تھا لیکن اس کے ساتھ تضاد یہ تھا کہ یہ بھی لکھا کہ ڈیوٹی پر ڈاکٹر نے جب ٹیکے کے مواد کو سونگھا تھا تو اس میں بدبو موجود نہیں تھی جو کہ تشنج کے جراثیم کی موجودگی میں ہونی چاہیے تھی۔اس لیے ہیفکائن کو باقاعدہ قصوروار نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ہیفکائن اپنی بھرپور کوششوں کے با وجود اپنے نام سے یہ داغ دور نہیں کرپائے تھے۔ ابھی بھی انہیں بحال نہیں کیا گیا تھا۔ جب یہ معاملہ کچھ سالوں تک طول پکڑ گیا تواس میدان کے بہت سے چوٹی کے سائنسدانوں نے ہیفکائن کی حمایت میں لکھنا شروع کیا۔ان سائنسدانوں میں نوبیل انعام حاصل کرنے والے ڈاکٹر رونلڈ روس (Ronald Ross)بھی شامل تھے۔
انہوں نے ایک مشہور سائنسی جریدے میں لکھا کہ اس امر کے کوئی واضح شواہد ابھی تک نہیں ملے کہ ان جراثیم سے آلودگی بمبئی کی لیبارٹری میں ہوئی تھی کہ لگاتے وقت ملکوال میں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود رپورٹوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ ہیفکائن کی غلطی ہےاور اس وجہ سے لوگ یہ ٹیکہ لگاتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں اور وہ ہزاروں جانیں جو کہ بچائی جاسکتی تھیں ضائع ہو رہی ہیں اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ جراثیم اس بوتل میں بمبئی کی لیبارٹری میں داخل ہوگئے تو بھی کیا اس لیبارٹری میں ہونے والی ہر غلطی کا ذمہ دار اس کے انچارج ہیفکائن کو قرار دیا جائے گا؟ انہوں نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں سائنسدانوں سے اچھا سلوک نہیں کیا جاتا اور بجائے اس کے کہ ہیفکائن کی خدمات کو سراہا جاتا، ان کو بے جا الزامات اور تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
(The Lancet. Feb 2 1907. P299-302)
(Journal of the Royal Institute of Public Health , Vol. 15, No. 3 (MARCH, 1907), pp. 157-167 (11 pages)
(Nature March 21 1907. P 486-487)
سالہاسال کی بحث کے بعد ۱۹۰۷ء میں ہیفکائن کو بری الذمہ قرار دیا گیا اور انہیں کلکتہ کی ایک لیبارٹری کا ڈائریکٹر ان چیف بنایا گیا لیکن ملکوال کے حادثے کا آسیب ابھی بھی ان کا پیچھا کر رہا تھا اور انہیں تحقیق کی اجازت تو تھی مگر انسانوں پر نئے حفاظتی ٹیکوں کے تجربات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔اب ان کی نئی تحقیق آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔ ۱۹۱۴ء میں انہوں نے ۵۵ سال کی عمر میں ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ البتہ ۱۸۹۷ء اور ۱۹۲۵ء کے درمیان طاعون کے اڑھائی کروڑ حفاظتی ٹیکے تیار کیے گئے اور لوگوں کو لگائے گئے اور مختلف سائنسی تجزیوں کے مطابق اس سے طاعون لگنے کے امکانات پچاس سے پچاسی فیصد تک کم ہو جاتے تھے۔
اس کے بعد ہیفکائن پہلے فرانس اور پھر سوئٹزرلینڈ گئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ صیہونی تحریک میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ اور انہوں نے ہندوستان میں قیام کے دوران اپنے دوست سر آغا خان سوئم کی وساطت سے یہ کوشش کی تھی کہ اس وقت ترکی کے سلطان فلسطین کا علاقہ یہودیوں کی آبادکاری کے لیے دے دیں اور اپنی زندگی کے باقی سال وہ مشرقی یورپ میں آباد یہودی برادری کی تعلیمی ترقی کے لیے کاوشیں کرتے رہے۔انہوں نے ساری عمر شادی نہیں کی تھی۔ ۱۹۳۰ء میں ستر سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی تصنیف ’مواہب الرحمٰن ‘ میں سانحہ ملکوال کا ذکر تفصیل سے فرمایا ہے اور مرنے والوں کے نام بھی درج فرمائے ہیں۔یہ واقعہ ابھی بھی طبی لٹریچر میں زیر بحث آتا ہے اور اس کے بارے میں تحقیقات شائع ہوتی ہیں کہ حفاظتی ٹیکوں کی اتنی بڑی مہم کو ہلا دینے والے واقعہ کا ذمہ دار کون تھا؟
ہندوستان طاعون سے کس قدر متاثر ہوا؟
بہر حال جیسا کہ یہ حقائق تاریخ کا حصہ ہیں کہ حفاظتی ٹیکوں کی سر توڑ مہم چلانے کے باوجود یہ وبا بھیانک سے بھیانک ترشکل اختیار کرتی گئی۔ پنجاب کے اعداد و شمار بیان کرنے سے پہلے ہم پورے ہندوستان کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں تا کہ ہم جان سکیں کہ کیا یہ معمولی وبا تھی؟ یا کوئی مختصر دورانیہ کا مسئلہ تھا جو کہ چند سالوں کے بعد ختم ہو گیا؟ یا پھر طاعون کی یہ وبا ایک تاریخی سنگ میل تھی؟ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انذار اور پیشگوئی کے مطابق ایک طویل عرصہ تباہ کاری مچا کر اس پیشگوئی کی صداقت کا اعلان کیا۔

ان اعداد و شمار کے جائزے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ صرف طاعون سے اموات کے اعداد و شمار ہیں، جن لوگوں کو طاعون ہوئی اور وہ زندہ رہے وہ ان میں شامل نہیں ہیں۔ اور یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ یہ صرف وہ اعداد و شمار ہیں جو کہ حکومت کے علم میں آئے۔ طاعون سے ہونے والی اموات کا ایک بڑا حصہ ایسا تھا جو کہ ریکارڈ نہیں کیا گیا اور سرکاری اعداد و شمار میں نہیں آیا۔ مندرجہ ذیل جدول(Table)میں دہائیوں کے حساب سے طاعونی اموات درج ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ وبا محض تین چار سال تک نہیں رہی بلکہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تباہی مچا کر اس پیشگوئی اور انذار کے منجانب اللہ ہونے کا اعلان کرتی رہی۔ یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس دور میں متحدہ ہندوستان جس میں موجودہ دور کے چار ممالک شامل ہیں کل آبادی ۲۹ کروڑ تھی جن میں سے ساٹھ لاکھ اس وبا کے صرف پہلے دس سالوں میں طاعون کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گئے تھے۔اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور ۱۹۵۸ء تک آزاد بھارت میں ہزاروں کے حساب سے طاعون کی اموات ہو رہی تھیں۔
دورانیہ – ہندوستان میں طاعون سےہونے والی اموات کی تعداد
۱۸۹۸–۱۹۰۸ء – ۶,۰۳۲,۶۹۳
۱۹۰۹–۱۹۱۸ء- ۴,۲۲۱,۵۲۹
۱۹۱۹–۱۹۲۸ء – ۱,۷۶۲,۷۱۸
۱۹۲۹–۱۹۳۸ء – ۴۲۲,۸۸۰
۱۹۳۹–۱۹۴۸ء- ۲۶۸,۵۹۶
۱۹۴۹–۱۹۵۸ء- ۵۹,۰۵۹
طاعون سے کُل اموات ۱۲,۷۶۷,۴۷۵
جدول ۱: دہائیوں کے حساب سے
ہندوستان میں طاعون سے ہونے والی اموات
پنجاب میں طاعون نے کتنی تباہی مچائی؟
چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس رؤیا کا ذکر کیا گیا تھا اس میں خاص طور پر یہ ذکر تھا کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے پنجاب میں مختلف مقامات پر طاعون کے پودے لگا رہے ہیں۔ اس لیے اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہندوستان میں دوسرے صوبوں کے مقابلے پر پنجاب میں طاعون سے کتنی اموات ہوئیں۔ مندرجہ ذیل جدول یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر چہ جس وقت یہ پیشگوئی شائع کی گئی اس وقت صرف دو اضلاع کے چند دیہات میں طاعون نے قدم رکھا تھا اور یہی سمجھا جا رہا تھا کہ ٹیکے اور دوسرے اقدامات کی مدد سے اس پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن جب اس پیشگوئی میں مقرر کردہ وقت آیا تھا تو پنجاب میں اتنی بری طرح طاعون پھیلی کہ اس صوبہ نے اس بد نصیبی میں باقی سب صوبوں سے زیادہ حصہ لیا۔جدول ۲ میں ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ۱۸۹۸ء اور ۱۹۳۲ء کے درمیان اوسط آبادی، طاعون سے ہونے والی اموات، طاعون سے شرح اموات وغیرہ درج ہیں۔ ان پر سرسری نظر ہی اس پیشگوئی کی عظمت کو ظاہر کر دیتی ہے۔
نیچے جدول۲ میں مختلف صوبوں کے درج کیے گئے اعداد و شمار ایک واضح تصویر پیش کر رہے ہیں۔ خواہ ان سالوں میں طاعون کی کل اموات کو لیا جائے یا ہندوستان بھر میں ہونے والی اموات کے فیصد کو لیا جائے یا اس دوران ایک ہزار کی آبادی میں طاعون کے مرض سے مرنے والوں کی شرح کو لیا جائے، ہر لحاظ سے پنجاب اس وبا سے سب سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ مدراس، بنگال، یوپی اور بہار و اڑیسہ کے صوبوں کی آبادیاں پنجاب سے کافی زیادہ تھیں لیکن طاعونی اموات کے المیہ میں پنجاب نے سب سے زیادہ حصہ لیا۔ جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پیشگوئی کو شائع فرمایا تھا اس صورت حال کا کوئی سائنسی اور عقلی امکان موجود نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی وجہ بھی بیان فرمائی تھی کہ تکذیب، استہزا اور مخالفت میں اس صوبہ نے سب سے زیادہ حصہ لیا تھا۔ گو دوسرے صوبے بھی اس سے متاثر ہوئے لیکن یہ بد نصیبی سب سے زیادہ پنجاب کے حصہ میں آئی۔
طاعون کا عالمی پھیلائو
آخر میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ طاعون کی یہ عالمی وبا (Pandemic)صرف ہندوستان اور برما تک محدود نہیں تھی۔ یہ وبا جسے طاعون کی تیسری عالمی وبا بھی کہا جاتا ہے چین سے شروع ہوئی پھر ہندوستان کے علاوہ جاوا، ہند چینی کے علاقوں، مڈغاسکر، جنوبی وسطی اور مشرقی افریقی ممالک، ایکواڈار، پیرو، وینزویلا، برازیل، بولیویا، ارجنٹائن، عراق، ایران، عرب ممالک، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مغربی ریاستوں اور ہوائی تک بھی پہنچی یورپ بڑی حد تک اس سے محفوظ رہا ہے۔ جن ممالک میں اس بلا نے قدم رکھا تھا وہاں بھی بہت اموات ہوئیں لیکن کسی بھی ملک میں پنجاب جتنی تباہی نہیں ہوئی۔

ان سب میں سے چین کی مثال لے لیں۔ یہ ایک بڑی آبادی والا اور گنجان آباد ملک ہے اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ طاعون کی یہ عالمی وبا چین سے شروع ہوئی تھی۔ اس سے قبل کہ یہ بیماری ہندوستان پہنچتی چین میں طاعون سے ہزاروں کے حساب سے اموات شروع ہو چکی تھیں اور وہاں پر طاعون کا حفاظتی ٹیکہ بھی نہیں لگایا جا رہا تھا۔ اس کے باوجود سارے چین میں ان تمام دہائیوں میں طاعون سے کل اموات بائیس لاکھ ہوئیں جو کہ ہندوستان کے علاوہ باقی ممالک سے بہت زیادہ تھیں۔ لیکن جیسا کہ اوپر در ج کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں صرف پنجاب کے صوبہ میں جو کہ چین کے مقابل پر کئی گنا چھوٹی آبادی کا علاقہ تھا اور جہاں اس دور میں میسر بہترین حفاظتی طریقہ بہت بڑے پیمانے پر اپنایا جارہا تھا اس سے کم مدت میں چونتیس لاکھ سے زیاہ لوگ طاعون سے ہلاک ہوئے۔ کیا کوئی انسان اس پس منظر میں اپنے محض قیاس کی بنا پر یہ پیشگوئی کر سکتا ہے کہ طاعون بہت زیادہ پھیلے گی اور پوری دنیا کے تمام ممالک میں سے اس ملک کے اس صوبہ کے لوگ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے؟ یقینی طور پر ہر انسان کا ذہن اس کا جواب نفی میں دے گا۔
(Y Liu, J Tan The Atlas of Plague and Its Environment in the People›s Republic of China (Science Press, Beijing), pp. I–IV (2000)
مزید پڑھیں: ایپسٹائن فائلز ۔ دجال کا ایک فتنۂ عمیق




