متفرق مضامین

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور مقام

(’ابو لطفی‘)

جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ہے، ایسا ہی میرا نام امتی بھی رکھا گیا ہے، تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپﷺ کے ذریعے ملا ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کے بارے میں اِس بنیادی بات کو مدّنظر رکھنا نہایت ضروری ہے جو آپ علیہ السلام نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی ہے: ’’سو میں نے خدا کے فضل سے، نہ اپنے ہنر سے، اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔ اور میرے لیے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا، اگر میں اپنے سید و مولا فخر الانبیاء اور خیرالوریٰ حضرت محمدمصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو میں نے جو کچھ پایا، اس پیروی سے پایا۔ اور میں سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا، اور نہ معرفت کاملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔‘‘( حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۶۴-۶۵)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بہت پہلے رؤیا و کشوف اور الہام شروع ہو گئے تھے۔ ۱۸۷۶ء میں آپؑ کوآپؑ کے والد ماجد کی وفات کے بارے میں الہام ہوا :وَالسَّماءِوَالطَّارِقِ۔ یعنی قسم ہے آسمان کی،اور قسم ہے رات کے حادثے کی۔ اور حضورؑ کو اس کی یہ تفہیم ہوئی کہ آج رات آپؑ کے والد ماجد کی وفات ہوگی۔ چنانچہ اس الہام کے مطابق اُس رات آپؑ کے والد صاحب کی وفات ہوئی۔

حضورؑ کے دعاوی کی ترتیب وار

ماموریت کا پہلا الہام۔۱۸۸۲ء میں آپؑ کو ماموریت کا پہلا الہام ہوا جس کے الفاظ یہ تھے: یَااَحْمَدُبَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ۔ مَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمیٰ۔اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَقَوْمًا مَّا اُنْذِرَ آبَاءُھُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ یعنی اے احمد، خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ تو نے چلایا، وہ تو نے نہیں چلایا، بلکہ خدا نے چلایا۔ خدا نے تجھے قران سکھایا، تا ان لوگوں کوتُو ڈرائے جن کے باپ دادوں کو اِنذار نہیں کیا گیا، اور تا خدا کی حجت پوری ہو، اور مجرموں کی راہ کھل جائے۔ کہہ دے میں خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اوراوّل المومنین ہوں۔

(۱) دعوائے مجدّدیت ۱۸۸۵ء

مندرجہ بالا الہام میں کسی معین منصب مجدِّد وغیرہ کا ذکر نہیں،لہٰذا آپؑ نے کسی منصب کا دعویٰ نہیں کیا۔ خدا کے مامور خود بخود کوئی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ خدا کے واضح حکم پر کوئی اقدام کرتے ہیں۔ پھر ۱۸۸۵ء میں خدا تعالیٰ نے آپؑ پر مجدد ہونے کا انکشاف فرمایا۔ حضورؑ فرماتے ہیں :’’جب تیرہویں صدی کا اخیر ہوا اورچودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خداتعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تُو اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ… قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ ( کتاب البریّہ،روحانی خزائن جلد۱۳صفحہ ۲۰۱حاشیہ)

آپؑ کے دعوائے مجددیت کے بعد بعض کی طرف سے درخواست کی گئی کہ آپؑ مجدد وقت ہیں تو ہماری بیعت قبول فرمائیں مگرآپؑ نے انہیں یہی جواب دیا کہ خدا کے اِذن کے بغیر میں ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

بیعت لینے کے بارے میں الہام: ۱۸۸۸ء میں آپؑ کو بیعت لینے کےبارے میں الہام ہوا: فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰہِ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ۔یعنی جب تو عزم کر لے تو اللہ تعالیٰ پر توکّل کر، اور ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے تحت کشتی تیار کر۔ جو لوگ تیری بیعت کریں گے وہ اللہ کی بیعت کریں گے۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوگا۔

چنانچہ آپؑ نے ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کولدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔ اُس وقت حضورؑ کا دعویٰ صرف مجددیت کا تھا۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیعت کا حکم ۱۸۸۸ء میں ہوا۔ مگر بیعت ۱۸۸۹ء میں حضورؑ نے لی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ الہام کے الفاظ پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ فوری طور پر بیعت لینے کا حکم نہیں تھا۔ ’’اِذَاعَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ‘‘۔اِذاجب ماضی پر آئے تو اس کے معنے مضارع کے ہو جاتے ہیں اور ترجمہ یہ ہوگا کہ جب تو (بیعت لینے کا) عزم کر لے تو خدا پر توکل کرنا۔ پس اس حکم کی فوری تعمیل مقصود نہ تھی۔ بات یہ ہے کہ حضور ؑ نے نہ چاہا کہ ہر قسم کے رطب و یا بس لوگ جماعت میں شامل ہوں، بلکہ صرف وہی سلسلہ بیعت میں داخل ہوں جو وفاداری کا مادہ رکھتے ہیں۔ اور آپؑ منتظرر ہے کہ کوئی ایسی تقریب پیدا ہو کہ مخلص اور غیر مخلص ممتاز ہو جائیں۔چنانچہ جب ۱۸۸۸ء میں بشیر اول کی وفات ہوئی تو کچے لوگ بدظن ہو گئے کہ پیشگوئی تو لمبی عمر پانے والے بیٹے کی تھی، مگر وہ بیٹا تو بچپن میں فوت ہو گیا۔ حالانکہ وہ پیش گوئی جو مصلح موعود کی پیدائش سے تعلق رکھتی تھی وہ اِس بیٹے کے بارے میں نہیں تھی۔ بہرحال جب اس تقریب سے مخلص اور غیر مخلص میں فرق ہو گیا تب آپؑ نے بیعت کرنے والوں کے لیے اعلان کیا کہ ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ءکو لدھیانہ پہنچ جائیں۔

(۲) دعوائے مسیح موعود ومہدی معہود ۱۸۹۱ء

حضورؑ کو ۱۸۹۰ء میں الہام ہوا :’’مسیح ابن مریم فوت ہوچکا ہے، اور اس کے رنگ میں ہو کر تُو آیا ہے۔‘‘ وَکَان وَعْدًا مَفْعُوْلًا۔ (تذکرہ صفحہ ۱۸۶-۱۸۷)

وَعْدًا مَفْعُوْلًا سے مراد وہ وعدہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث شریف میں کیا گیا ہے: کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (بخاری۔کتاب احادیث الانبیاء۔باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)۔یعنی تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں ابن مریم نزول فرما ہو گا اور وہ تمہارا امام ہوگا جو تم ہی میں سے ہوگا۔ چنانچہ آپؑ نے ۱۸۹۱ء میں فرمایا :’’ اس زمانہ کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا، اور اُن حملوں کو دفع کرنا، اور ان کے فلسفہ کو جو مخالفِ قران ہے دلائل قویہّ کے ساتھ توڑنا، اور اُن پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے۔ کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں اسلام کے لیے جو بغیر تائید الٰہی دور نہیں ہو سکتی، عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں جن کے دُور کرنے کے لیے ضرور تھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی آوے …‘‘(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۴۱)

حدیث شریف میں آنے والے مسیح کو امام مہدی بھی کہا گیا ہے، چنانچہ آپ نے مسیحیت کے ساتھ مہدویت کا بھی دعویٰ فرمایا۔ آپؑ نے فرمایا: ’’ آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا، سو اِس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا، اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدِّث کی شاگردی اختیار کی ہے۔ پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے، اور اَسرارِ دین بلاواسطہ میرے پر کھولے گئے۔ ‘‘ (ایام صلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۴)

حدیث شریف میں ہے۔ لَاالْمَہْدِیُّ اِلَّا عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ (ابن ماجہ ابواب الفتن۔باب شدۃ الزمان)

(۳) دعوائے نبوت۔نومبر ۱۹۰۱ء

آپؑ کے الہامات میں پہلے سے ہی نبی اور رسول کے الفاظ موجود تھے۔ مسیح سے افضلیت کو جزئی فضیلت قرار دیتے تھے۔ نبی اور رسول کی تاویل محدَّث فرماتے۔ اس تعلق میں آپؑ فرماتے ہیں: ’’…اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے، اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا، تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی، اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا، اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا، مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۳،۱۵۴)

نبی کی اقسام :حضرت آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے تک صرف دو قسم کے انبیاء کرام مبعوث ہوئے۔(۱) تشریعی نبی (۲)غیر تشریعی نبی، اور یہ غیرتشریعی نبی بغیر کسی تشریعی نبی کے افاضہ روحانیہ کے براہ راست نبوت کے مقام پر فائز تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپﷺ ان دونوں اقسام کے انبیاء میں سے آخری نبی ہوئے۔ آپ خاتم النبیین کے مقام پر فائز تھے، آپؐ کے بعد مذکورہ بالا اقسام کے انبیاء اب نہیں آ سکتے۔ آپؐ کی مہر نبوت کی تصدیق سے اب صرف وہ نبی آ سکتا ہے جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض اور افاضہ روحانیہ کے کمال کی برکت سے،فنافی الرسول ہو کر ظلی، بروزی، امتی نبی ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھوکہ کھاتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اُس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اِس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلَحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِفاضہ رُوحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لیے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔اس لیے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظِلّ ہے نہ کہ اصلی نبوت۔ اِسی وجہ سے میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ہے، ایسا ہی میرا نام امتی بھی رکھا گیا ہے، تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپﷺ کے ذریعے ملا ہے۔‘‘(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۴ حاشیہ)

( اصلی نبوت،ظلی نبوت کے مقابلے پر ہے۔ یہاں اصلی کا لفظ نقلی کے مقابلے پر استعمال نہیں ہوا)

یاد رہے کہ انبیاء از خود کوئی دعویٰ نہیں کرتے، جوں جوں خدا بتاتا ہے، کہتے چلے جاتے ہیں۔ کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا:یَاخَیْرَالْبَرِیَّۃِ،اے مخلوق میں سے سب سے بہتر۔ تو آپﷺ نے فرمایا: ذَاک اِبْرَاھیْمُ علیہ السلام۔ یعنی وہ تو ابراہیم بہتر ہیں(مسلم کتاب الفضائل)۔پھر فرمایا: مَنْ قَالَ أَنَاخَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ۔ (بخاری کتاب التفسیر۔ سورۃ النساء) یعنی جس نے کہا میں یونس بن متّٰی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا۔ لیکن بعد میں فرمایا:اَنَاسَیِّدُوُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ۔ (سنن ابن ماجہ۔ کتاب الزھد) یعنی میں تمام ابنائے آدم کا سردار ہوں، اور میں اس پر نہیں اِتراتا۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ آپؑ کے جس منصب کی خبر دیتا رہا، آپؑ اس کا دعویٰ فرماتے رہے۔

(۴) دعوائے کرشن۔ ۱۹۰۴ء

اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اپنے الہام میں کرشن کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :’’ہے کرشن رُودر گوپال،تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے‘‘( لیکچر سیالکوٹ،روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۲۲۹)

(لفظ رُودر کا معنی ہے درندوں اور سؤروں کو قتل کرنے والا، یعنی دلائل اور نشانوں سے۔ گوپال کا مطلب ہے گائیوں کو پالنے والا، یعنی اپنے انفاس سے نیکوں کا مددگار)

چنانچہ آپؑ نے ہندوؤں کے لیے کاکرشن ہونےکا دعویٰ کرتے ہوئے فرمایا : ’’…میں اُن گناہوں کے دور کرنے کے لیے جن سے زمین پُر ہو گئی ہے، جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں، جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کی رُو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے۔ بلکہ کئی دفعہ وہ خدا جو زمین اور آسمان کا خدا ہے، اس نے میرے پر ظاہر کیا ہے، اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتایا ہے کہ تُو ہندوؤں کے لیے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود ہے‘‘۔( لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۸)

نیز فرمایا: ’’آریہ ورت کے محقق پنڈت بھی کرشن اوتار کا زمانہ یہی قرار دیتے ہیں۔ اور اس زمانہ میں اُس کے آنے کے منتظر ہیں۔گو وہ لوگ ابھی مجھ کو شناخت نہیں کرتے،مگر وہ زمانہ آتا ہے، بلکہ قریب ہے کہ مجھے شناخت کر لیں گے، کیونکہ خدا کا ہاتھ انہیں دکھائے گا کہ آنے والا یہی ہے‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۲۲، ۵۲۳)

حضرت کرشن کے بارے میں حدیث شریف ہے کہ کان فی الھند نبیّا اسود اللون اسمہ کاھنا۔ (تاریخ ہمدان دَیلمی باب الکاف)

یہاں کان فی الھند نبیٌّ ( ہند میں ایک نبی تھا) کی بجائے کان فی الھند نبیًّا فرمایا گیا ہے۔ نبیًّا منصُوب ہے جو کَانَ کی خبر ہے۔ کَانَ کا اسم کہاں ہے؟ کَانَ کا اسم ضمیر مستتر ھُوَ پیچھے راجع ہے اور ترجمہ ہے (وہ) ہند میں ایک نبی تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت کرشن کے متعلق بات ہو رہی تھی اور کہا گیا کہ وہ ہند میں ایک نبی تھا۔ اگر پوری روایت مِل جائے تو حضرت کرشن کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر روایت اِتنی ہی ہے تو پھر کَانَ کا اسم ضمیر مستتر ھُوَ، ضمیر الشاْن ہےجس کے لیے ظاہر مرجع کی ضرورت نہیں۔ ترجمہ یوں ہوگا: بات یہ ہے کہ ہند میں ایک نبی تھا…

حضرت مسیح موعودؑ نے یہ حدیث چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۸۲ پر درج فرمائی ہے۔ پہلے ایڈیشن میں حدیث کے الفاظ کی تشکیل نہیں کی گئی۔ روحانی خزائن میں الفاظ پر حرکات و سکنات لگا دی گئی ہیں: کَانَ فِی الْھِنْدِ نَبِیًّا اَسْوَدَ اللَّوْنِ اسْمُہٗ کَاھِنًا۔

آخری حصہ اِسْمُہٗ کَاھِنًا سے قبل ایک کَانَ محذوف ماننا پڑے گا یعنی (کَانَ) اِسْمُہٗ کَاھِنًا جو کَاھِنًا کو منصُوب کرے گا۔ اور یہ جملہ فعلیہ ہوگا جو محلًّا منصوب ہوگا اور وہ کَانَ جو حدیث کے شروع میں ہے اس کی خبر ثالث ہوگا۔ پہلی خبر نَبِیًّا، دوسری خبر اَسْوَدَ اللَّوْنِ، اور کَاھِنًا تیسری خبر۔ اور اس تیسری خبر کا ترجمہ ہوگا اس کا نام کاہن تھا۔ کاہن کا لفظ کنھیّا کا مُعرّب ہوگا۔

قواعد عربی کے لحاظ سے کَانَ محذوف کے بغیر بھی جملہ درست ہے۔ لیکن اِس صورت میں کَاھِنًا کی بجائے یہ لفظ کَاھِنَا ہوگا،یعنی اس کا آخری حرف الف اصلی ہوگا نام کا حصہ ہوگاجبکہ کَاھِنًا کا الف فتحہ تنوینیہ کی علامت ہے۔ اور یہ لفظ اِسْمُہٗ مبتدأ کی خبر مرفوع بضمۃ مقدرۃ ہوگی۔ اسمُہٗ کَاھِنَا جملہ اسمیہ ہوگا جو محلًا منصوب ہوگا اور حدیث کے شروع میں جو کَانَ ہے اس کی خبر ثالث ہوگا۔ کَاھِنَا لفظ کنھیّا کا مُعَرّب ہے۔ ہند و حضرت کرشن کو کرشن یا کِشن کنھیّا کے نام سے پکارتے ہیں۔

مندرجہ بالا دونوں توجیہات درست ہیں۔

تاریخ ہمدان دیلمی کے علاوہ کتاب دستور العلماء اَو جامع العلوم فی اصطلاحات الفنون میں بھی کرشن کے نبی ہونے کا ذکر ہے۔

اس کتاب کے جزء ثالث کے صفحہ ۸۱ پر مؤلف رقم طراز ہے: وَاعْلَمْ أَنَّ رَجُلًا کَانَ فی الْھِنْدِ اسْمُہٗ کَان وَلَہٗ اَسْمَاءٌ شَتّٰی عِنْدَ الْبَرَاھِمَۃِ کَالُکِشْنِ وَغَیْرِ ذٰلِک… وَوِلَادَتُہٗ فِی مَتْھرَا وَ نَشُوْہُ و نَمَاؤُہٗ فِی ’’                 کَوْکَلْ‘‘… وَکَانَ اَسْوَدَ اللَّوْنِ شَدِیْدًا۔ قِیْلَ اِنَّہٗ کَانَ نَبِیًّا۔ وَتَمَسَّکُوْا فِی ذٰلِک بِمَا فِیْ تَفْسِیْرِ الْمَدَارِکِ فِیْ تَفْسِیْرِ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ: مِنْھُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ…

عبارت کی تشکیل اور ترجمہ خاکسار کی طرف سے:اور جان لو کہ ہند میں ایک شخص تھا، اس کا نام کَان تھا (یہ کتابت کی غلطی ہے، یہ لفظ کَاھِن ہے۔) اور برہمنوں کے نزدیک اس کے کئی نام ہیں جیسے کِشن وغیرہ۔ اس کی پیدائش متھرا کی ہے اور نشوونما کوکل… وہ شدید سیاہ رنگ کا تھا۔ کہا گیا ہے کہ وہ نبی تھا اور اس بات کو انہوں نے اختیار کیا جیسا کہ تفسیر مدارک میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تفسیر میں ہے کہ ’’ ان رسولوں میں سے بعض کا ذکر ہم نے تیرے سامنے کر دیا ہے اور بعض کا ذکر ہم نے تیرے سامنے نہیں کیا‘‘…

کتاب دستور العلماء… ۱۴۲۱ھ مطابق ۲۰۰۰ء دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان نے شائع کی۔ اس کے مؤلف القاضی عبد النبی بن عبد الرسول الاحمد نگری ہیں۔ یہ احمد نگر ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر کا ایک شہر ہے۔

حدیث میں اَسْوَدَ اللَّوْنِ سیاہ فام کا ذکر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندی میں کرشن کا معنیٰ سیاہ ہے۔

(۵) دعوائے مجدد الْفِ آخر ۱۹۰۴ء:

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۴ء میں یہ دعویٰ فرمایا کہ آپؑ صرف چودھویں صدی کے مجدد نہیں، بلکہ آخری ہزار سال کے بھی مجدد ہیں۔ فرمایا: ’’ اور یہ امام جو خداتعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے، وہ مجدد صدی بھی ہے اور مجدد الْفِ آخر بھی ‘‘۔ (لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۰۸)

واضح ہو کہ خلافت علی منہاج النبوۃکی موجودگی میں صدی کے مجدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چنانچہ دیکھ لیں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد خلافت راشدہ جو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ تھی کوئی مجدد نہیں آیا۔ پہلی صدی کا مجدد پہلی صدی کے شروع میں نہیں آیا کیونکہ خلافت راشدہ موجود تھی، بلکہ دوسری صدی کے شروع میں پہلے مجدد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ آئے۔ اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق آپؑ کی خلافت تا قیامت ہے لہٰذا خلافت ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تجدید کے کام کو جاری رکھے گی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:’’ خلیفہ تو خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے، اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے، پھر اُس کی موجودگی میں مجدد کس طرح آسکتا ہے۔‘‘ ( الفضل ۸ اپریل ۱۹۴۷ء)

پیچھے ذکر آیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ الف آخر ہے یعنی آخری ہزار سال گویا اس کے بعد قیامت آجائے گی لیکن یاد رہے کہ آپؑ نےیہ بھی لکھاہےکہ’’… اور ممکن ہے کہ سات ہزار سال کے بعد قیامت صغریٰ ہو،جس سے دنیا کی ایک بڑی تبدیلی مراد ہو، نہ کہ قیامت کُبریٰ‘‘ ( تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ۲۵۱)

(۶)دعوائے ذوالقرنین۔ ۱۹۰۸ء:

حضورؑ نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ذوالقرنین ہونے کا دعویٰ فرمایا آپ علیہ السلام فرماتےہیں:’’ اسی طرح خداتعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا، کیونکہ خدا تعالیٰ کی میری نسبت یہ وحی مقدس کہ جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ،جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کا رسول تمام نبیوں کے پیرائیوں میں، یہ چاہتی ہے کہ مجھ میں ذوالقرنین کے بھی صفات ہوں، کیونکہ سورہ کہف سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین بھی صاحبِ وحی تھا۔ خدا تعالیٰ نے اس کی نسبت فرمایا ہے قُلْنَا یٰذااْلَقْرنَیْنِ پس اس وحی الہی کی رُو سے کہ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء اس امت کے لیے ذوالقرنین مَیں ہوں۔ اور قرآن شریف میں مثالی طور پر میری نسبت پیش گوئی موجود ہے، مگر اُن کے لیے جو فراست رکھتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ذوالقرنین وہ ہوتا ہے جو دو صدیوں کو پانے والا ہو۔ اور میری نسبت یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے جس قدر اپنے اپنے طور پر صدیوں کی تقسیم کر رکھی ہے، اُن تمام تقسیموں کے لحاظ سے جب دیکھا جائے تو ظاہر ہوگا کہ میں نے ہر ایک قوم کی دو صدیوں کو پا لیا ہے۔ میری عمر اس وقت تخمیناً ۶۷ سال ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس حساب سے جیسا کہ میں نے دو ہجری صدیوں کو پالیا ہے، ا یسا ہی دو عیسائی صدیوں کو بھی پا لیا ہے، اور ایسا ہی دو ہندی صدیوں کو بھی جن کا سَن بکِرماجیت سے شروع ہوتا ہے، اور میں نے جہاں تک ممکن تھا قدیم زمانہ کے تمام ممالک شرقی اور غربی کی مقرر شدہ صدیوں کا ملاحظہ کیا ہے، کوئی قوم ایسی نہیں جس کی مقرر کردہ صدیوں میں سے دو صدئیں میں نے نہ پائی ہوں۔ اور بعض احادیث میں بھی آ چکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔غرض بموجب نص وحی الٰہی کےمَیں ذوالقرنین ہوں …‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۸-۱۱۹)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ جب تک امت محمدیہ میں کوئی ایسا وجود نہ ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی تمام رسولوں سے افضل ہو، اُس وقت تک امت محمدیہ دوسری امتوں سے افضل ثابت نہیں ہوسکتی… اس آیت میں مسیح اور مہدی کی، جو ایک ہی وجود ہیں،پیشگوئی کی گئی ہے، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ہم آپ کو ایک روحانی بیٹا عطا کرنے والے ہیں جس کے پیدا ہونے پر آپ کی امت دوسرے انبیاء کی امتوں پر فضیلت پا جائے گی کیونکہ وہ بیٹا آپﷺ کی امت سے ہوگا اور پہلے لوگوں سے افضل‘‘(تفسیر کبیر۔ تفسیر سورۃ الکوثر)

حضرت امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اثنا عشریہ کے پانچویں امام فرماتے ہیں: ’’یقول (المھدی) : يَا مَعْشَرَ الْخَلَائِقِ ! اَلَا وَمَنْ اَرَادَ اَنْ يَنْظُرَ اِلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَاِسْمَاعِيْلَ فَهَا اَنَا ذَا اِبْرَاهِيْمُ وَاسْمَاعِيْلُ۔ اَلَا وَمَن اَرَادَ اَنْ يَّنْظُرَ اِلٰى مُوْسىٰ وٰيُوْشَعَ فَهَا اَنَا ذَا مُوْسىٰ وَيُوْشَعُ۔ اَلَا وَمَن اَرَادَ اَنْ يَّنْظُرَ اِلٰى عِيْسٰى وشَمْعُوْنَ فَهَا اَنَا عِيْسٰى وشَمْعُوْنُ. اَلَا وَمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّنْظُرَ اِلٰى مُحَمَّدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَاَمِيْرِالْمُؤْمِنِيْنَ فَهَا اَنا ذَا مُحَمَّدٌصلی اللّٰہ علیہ وآلہ و سلم وَاَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘(بجارالانوار، جلد ۱۳ صفحہ ۲۰۲) ترجمہ :(امام مہدی) کہے گا :اے لوگو! سنو،جو ابراہیم اور اسماعیل کو دیکھنا چاہے، تو مَیں ہوں ابراہیم اور اسماعیل۔سنو۔ جو موسیٰ اور یوشع کو دیکھنا چاہے، تو میَں ہوں موسی ٰاور یوشع۔ سنو اور جو عیسیٰ اور شمعون کو دیکھنا چاہے، تو میں ہوں عیسیٰ اور شمعون۔ سنو، اور جو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور امیر المومنین کو دیکھنا چاہے تو میں ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین۔

بعض روایتوں میں اور کئی انبیاء کے نام بھی شامل ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’…میں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں، بلکہ اور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھا دئیے ہیں، اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے، میں آدمؑ ہوں۔ میں نوحؑ ہوں۔ میں ابراہیمؑ ہوں۔ میں اسحاقؑ ہوں۔ میں یعقوبؑ ہوں۔ میں اسماعیلؑ ہوں۔ میں موسیٰؑ ہوں۔ میں داؤدؑ ہوں۔ میں عیسیٰؑ ابن مریم ہوں۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اِسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دئیے اور میری نسبت جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ فرمایا، یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو…‘‘( تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۲۱)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عظیم الشان مقام پہلے سے پیشگوئیوں میں بیان شدہ ہے۔

مزید پڑھیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ اور چند نادان دوست

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button