الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

ہم عصر صوفیائے کرام کی طرف سے حضرت امام آخرالزماںؑ کی تصدیق

حضرت مسیح موعودؑ کے بعض ہم عصر علمائے کرام کی طرف سے آپؑ کے دعاوی کی تصدیق کے حوالے سے چند بیانات (مرسلہ مکرم نذیر احمد سانول صاحب) روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۸؍جون۲۰۱۴ء میں شامل اشاعت ہیں۔

٭…حضرت خواجہ غلام فرید صاحبؒ آف چاچڑاں شریف ۱۸۴۲ء میں پیدا ہوئے ۱۹۰۱ء میں وفات پائی۔ ’’اشارات فریدی‘‘ میں تحریر ہے کہ ایک شخص حافظ مگوں نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متعلق ناروا باتیں کہیں تو حضرت خواجہ صاحب کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ نے اُس کو تنبیہ کی اور ڈانٹا۔ اُس نے عرض کی کہ قبلہ! جبکہ مرزا صاحب میں حضرت عیسیٰ بن مریم کے حالات اور صفات اور مہدی موعود کے اوصاف نہیں پائے جاتے تو ہم کس طرح اعتبار کرلیں کہ وہ عیسیٰ اور مہدی ہیں۔ حضور خواجہ صاحب نے فرمایا کہ مہدی کے اوصاف پوشیدہ اور چھپے ہوئے ہیں، وہ اوصاف ایسے نہیں جیسے لوگوں کے دلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں، پس کیا تعجب ہے کہ یہی مرزا غلام احمد صاحب مہدی ہوں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بارہ دجّال ہیں پس اسی قدر مہدی ہیں۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ عیسیٰ اور مہدی ایک ہی شخص ہے۔ یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ مہدی کی تمام علامات جو کہ لوگوں کے دلوں میں اُن کے اپنے خیال اور فہم کے مطابق بیٹھی ہوئی ہیں ظاہر ہوجائیں۔ بلکہ اے حافظ! بات دوسری طرح ہے۔ اگر اُسی طرح ہوتا جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں تو تمام دنیا مہدی برحق کو جان لیتی اور اُس پر ایمان لے آتی۔ اگر ہر نبی کی اُمّت پر اپنے وقت کے نبی کا حال منکشف ہو جاتا تو تمام مسلمان ہوجاتے۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ کے اوصاف و علامات کتب سماویہ میں لکھے ہوئے تھے اور جب آنحضرتﷺ ظاہر ہوئے تو جن لوگوں پر آپؐ کا معاملہ ظاہر ہوگیا وہ تو ایمان لے آئے لیکن جس گروہ پر آپؐ کا حال نہ کھلا تو انہوں نے انکار کردیا۔ اسی طرح مہدی کا حال ہے۔ پس اگر مرزا صاحب مہدی ہوں تو کون سی بات مانع ہے۔

٭…دیوبند مسلک کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے حوالے سے علامہ عبدالماجد دریابادی مرحوم کا ایک بیان کتاب ’’سچی باتیں‘‘میں شامل ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ غالباً ۱۹۳۰ء میں حکیم الامّت تھانویؒ کی محفل خصوصی میں حاضری کی سعادت حاصل تھی۔ ذکر مرزائے قادیانی اور اُن کی جماعت کا تھا اور ظاہر ہے کہ ذکر ’’ذکرِخیر‘‘ نہ تھا۔ حاضرین میں سے کسی نے بڑے جوش سے کہا کہ حضرت! ان لوگوں کا دین بھی کوئی دین ہے، نہ خدا کو مانیں نہ رسولؐ کو۔ حضرت نے معاً لہجہ بدل کر ارشاد فرمایا کہ یہ زیادتی ہے، توحید میں ہمارا اُن کا کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف رسالت میں ہے اور اُس کے بھی صرف ایک باب میں یعنی عقیدہ ختم رسالت میں۔ بات کو بات کی جگہ پر رکھنا چاہیے۔

٭… جناب مولانا نور محمد صاحب نقشبندی چشتی اپنے ’’معجزنما کلام قرآن شریف مترجم‘‘ کے دیباچہ میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’اُسی زمانہ میں پادری لیفرائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھاکر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصے میں ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہوکر بڑا تلاطم برپا کیا۔ …حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لیے اُس کے خیال میں کارگر ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہوگئے۔ لیفرائے اور اُس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰؑ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہوکر دفن ہوچکے ہیں اور جس عیسیٰؑ کے آنے کی خبر ہے وہ مَیں ہوں۔ پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کرلو۔ اس ترکیب سے اُس نے لیفرائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اُس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہوگیا اور اس ترکیب سے اُس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔‘‘ (صفحہ۳۰)

………٭………٭………٭………

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کادوستوں اور غیروں سے حُسنِ سلوک

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے صدسالہ جوبلی سوونیئر ۲۰۱۳ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے قلم سے ایک مضمون ’’الفضل‘‘ کی ایک پرانی اشاعت سے منقول ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوستوں اور غیروں سے حُسنِ سلوک اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑکو اللہ تعالیٰ نے ایسا دل عطا کیا تھاجو محبت اور وفاداری کے جذبات سے معمور تھا۔ آپؑ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے کسی محبت کی عمارت کو کھڑا کرکے پھر اس کے گرانے میں کبھی پہل نہیں کی۔ مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی آپؑ کے بچپن کے دوست اور ہم مجلس تھے مگر آپؑ کے دعویٰ مسیحیت پر آکر انہیں ٹھوکرلگ گئی اور ا نہوں نے نہ صرف دوستی کے رشتہ کو توڑ دیا بلکہ آپؑ کے اشد ترین مخالفوں میں سے ہوگئے اور آپؑ کے خلاف کفر کا فتویٰ لگانے میں سب سے پہل کی۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ کے دل میں آخر وقت تک ان کی دوستی کی یاد زندہ رہی اور گو آپؑ نے خدا کی خاطر ان سے قطع تعلق کرلیا اور ان کی فتنہ انگیزیوں کے ازالے کے لیے ان کے اعتراضات کے جواب میں زوردار مضامین بھی لکھے۔ مگر ان کی دوستی کے زمانہ کو آپؑ کبھی نہیں بھولے اور ان کے ساتھ قطع تعلق ہو جانے کو ہمیشہ تلخی کے ساتھ یاد رکھا۔ چنانچہ اپنے آخری زمانہ کے اشعار میں مولوی صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’تُو نے تو اس محبت کے درخت کوکاٹ دیا جوہم دونوں نے مل کر بچپن میں لگایا تھا مگر میرا دل محبت کے معاملہ میں کوتاہی کرنے والا نہیںہے۔‘‘ (براہین ا حمدیہ حصہ پنجم)

جب کوئی دوست کچھ عرصے کی جدائی کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کو ملتا تو اُسے دیکھ کر آپؑ کا چہرہ یوں شگفتہ ہو جاتا تھا جیسے ایک بند کلی اچانک پھول کی صورت میں کھِل جاوے۔ اور دوستوں کے رخصت ہونے پر آپؑ کے دل کوازحد صدمہ پہنچتا تھا۔ ایک دفعہ جب آپؑ نے اپنے بڑے فرزند حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ کے قرآن شریف ختم کرنے پر آمین لکھی اور اس تقریب پر بعض بیرونی دوستوں کو بھی بلا کراپنی خوشی میں شریک فرمایا تواس وقت آپؑ نے اس آمین میں اپنے دوستوں کے آنے کا بھی ذکر کیا۔ اور پھر ان کے واپس جانے کا خیال کرکے اپنے غم کا اظہار یوں فرمایا ؎

مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت

دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت

پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِی

دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے

گر سَو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے

شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے

یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِی

اوائل میں آپؑ کا قاعدہ تھا کہ آپؑ اپنے دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ مل کر مکان کے مردانہ حصہ میں کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور یہ مجلس اس بےتکلّفی کی ہوتی تھی اور ہر قسم کے موضوع پر ایسے غیررسمی رنگ میں گفتگو کاسلسلہ رہتا تھا کہ گویا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا بھی دسترخوان بچھ جاتاتھا۔ ان موقعوں پرآپؑ ہر مہمان کا خود خیال رکھتے اور ا س بات کی نگرانی فرماتے کہ ہر شخص کے سامنے دسترخوان کی ہرچیز پہنچ جائے۔ عموماًہر مہمان سے ذاتی طور پر دریافت فرماتے تھے کہ اسے کسی خاص چیز مثلاً دودھ یاچائے یا پان وغیرہ کی عادت تو نہیںاور پھر حتی الوسع ہر ایک کے لیے اس کی عادت کے مطابق چیز مہیافرماتے۔ جب کوئی خاص دوست قادیان سے واپس جانے لگتا تو آپؑ عموماً اس کی مشایعت کے لیے ڈیڑھ دو میل تک اس کے ساتھ جاتے اور بڑی محبت اور عزت کے ساتھ رخصت کرکے واپس آتے۔

آپؑ کی یہ بھی خواہش رہتی تھی کہ جو دوست قادیان میں آئیں وہ حتی الوسع آپؑ کے پاس آپؑ کے مکان کے ایک حصے میں ہی قیام کریں۔ فرمایاکرتے تھے کہ زندگی کا اعتبار نہیں، جتناعرصہ پاس رہنے کا موقع مل سکے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ اس طرح آپؑ کے مکان کا ہر حصہ گویا ایک مستقل مہمان خانہ بن گیاتھا اور کمرہ کمرہ مہمانوں میں بٹا رہتاتھا۔ مگر جگہ کی تنگی کے باوجود آپؑ دوستوں کے ساتھ مل کررہنے میں انتہائی راحت پاتے تھے۔مجھے اچھی طرح یادہے کہ وہ معززین جو آج کل بڑے بڑے وسیع مکانوں اور کوٹھیوں میں رہ کر بھی تنگی محسوس کرتے ہیں حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں ایک ایک کمرے میں سمٹے ہوئے رہتے تھے اور اسی میں خوشی پاتے تھے۔

قادیان میں حضرت مسیح موعودؑ کے والد صاحب کے زمانے کا ایک باغ ہے جس میں مختلف قسم کے ثمردار درخت ہیں۔ جب پھل کا موسم آتا تو آپؑ اپنے دوستوں اور مہمانوں کو ساتھ لے کر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور موسم کا پھل تڑواکر سب دوستوں کے ساتھ مل کر نہایت بےتکلّفی سے نوش فرماتے۔ اس وقت یوں نظر آتا تھا کہ گویا ایک مشفق باپ کے اردگرد اس کی معصوم اولاد گھیرا ڈالے بیٹھی ہے۔ ان مجلسوں میں بےتکلّفی اور محبت کے ماحول میں علم و معرفت کا چشمہ جاری رہتا تھا۔

حضرت مسیح موعودؑکی دوستی کی بنیاد اس اصول پر تھی کہ دوستی اور دشمنی دونوں خدا کے لیے ہونی چاہئیں نہ کہ اپنے نفس کے لیے یا دنیا کے لیے۔ اسی لیے آپؑ کی دوستی میں امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں تھا اور آپؑ کی محبت کے وسیع دریا سے بڑے اور چھوٹے ایک سا حصہ پاتے تھے۔

سورۃ المائدہ آیت۹ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: چاہیے کہ کسی قوم یا فرقہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان کے معاملہ میں عدل وانصاف کا طریق ترک کردو۔ بلکہ تمہیں ہر حال میں ہر فریق اور ہر شخص کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے۔ قرآن شریف کی یہ زرّیں تعلیم حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی کا نمایاں اصول تھی۔ آپؑ اکثرفرمایا کرتے تھے کہ ہمیں کسی شخص کی ذات سے عداوت نہیں ہے بلکہ صرف جھوٹے اور گندے خیالات سے دشمنی ہے۔ چنانچہ ذاتی امور کے حوالے سے آپؑ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ نہایت درجہ مشفقانہ سلوک تھا۔ جب آپؑ کے بعض چچازاد بھائیوں نے جو آپؑ کے خونی دشمن تھے آپؑ کے مکان کے سامنے دیوار کھینچ کر آپؑ کو اور آپؑ کے مہمانوں کو سخت تکلیف میں مبتلا کردیا اور پھر بالآخر مقدمہ میں خدا نے آپؑ کو فتح عطا کی اور ان لوگوں کو خود اپنے ہاتھ سے دیوارگرانی پڑی تو اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کے وکیل نے آپؑ سے اجازت لیے بغیر ان لوگوں کے خلاف خرچہ کی ڈگری جاری کروا دی۔ اس پر اُنہوں نے گھبرا کر حضرت مسیح موعودؑکی خدمت میں عاجزی کا خط بھجواکر رحم کی التجا کی۔ آپؑ نے نہ صرف ڈگری کے اجرا کو فوراً رُکوا دیا بلکہ ان سے معذرت بھی کی کہ میری لاعلمی میں یہ کارروائی ہوئی ہے جس کا مجھے افسوس ہے اور اپنے وکیل کو ملامت فرمائی کہ ہم سے پوچھے بغیر خرچہ کی ڈگری کا اجرا کیوں کروایا گیا ہے۔اگر اس موقعہ پر کوئی اَور ہوتا تو وہ دشمن کی ذلّت او ر تباہی کو انتہا تک پہنچا کر صبر کرتا۔ مگر آپؑ نے ان حالات میں بھی احسان سے کام لیا اور اس بات کا شاندار ثبوت پیش کیاکہ آپؑ کو صرف گندے خیالات اور گندے اعمال سے دشمنی ہے نہ کہ کسی انسان سے۔

اسی طرح جب ایک خطرناک مقدمہ قتل میں آپؑ کے اشد ترین مخالف مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی آپؑ کے خلاف بطور گواہ پیش ہوئے اور آپؑ کے وکیل نے مولوی صاحب کی گواہی کو کمزور کر نے کے لیے ان کے بعض خاندانی اور ذاتی امور کے متعلق اُن پر جرح کرنی چاہی تو حضرت مسیح موعودؑنے بڑی ناراضگی کے ساتھ اپنے وکیل کو روک دیا اور فرمایا کہ خواہ کچھ ہو مَیں اس قسم کے سوالا ت کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اور اس طرح گویا اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔

جب حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کے مطابق پنڈت لیکھرام لاہور میں قتل ہوئے تو گوپیشگوئی کے پورا ہونے پر آپؑ خداتعالیٰ کا شکر بجا لائے مگر ساتھ ہی انسانی ہمدردی میں آپؑ نے افسوس کا بھی اظہار کیا اور باربا ر فرمایا کہ ہمیں یہ درد ہے کہ پنڈت صاحب نے ہماری بات نہیں مانی اور خدا اور اس کے رسول کے متعلق گستاخی کے طریق کو اختیار کرکے اور ہمارے ساتھ مباہلہ کرکے اپنی تباہی کا بیج بولیا۔

قادیان کے بعض آریہ سماجی جو حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف پراپیگنڈے میں حصہ لیتے رہتے تھے مگر جب بھی انہیں کوئی ضرورت پیش آتی یا کوئی بیماری لاحق ہوتی تو وہ آپؑ کے پاس آتے اور آپؑ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت درجہ ہمدردانہ اور محسنانہ سلوک فرماتے۔ چنانچہ لالہ بڈھا مل جو آپؑ کے سخت مخالف تھے اور جب منارۃالمسیح بننے لگا تو ا ن لوگو ںنے حکام سے شکایت کی کہ اس سے ہمارے گھروں کی بےپردگی ہوگی۔ اس پر ایک افسر قادیان آیا اور اس کی معیت میں لالہ بڈھامل اور بعض دوسرے مقامی ہندو اور غیراحمدی احباب حضرت مسیح موعودؑکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؑ نے افسر کوسمجھایا کہ یہ شکایت محض ہماری دشمنی کی وجہ سے کی گئی ہے ورنہ اس میں بےپردگی کا کوئی سوال نہیں۔ اور اگر بالفرض کوئی بےپردگی ہوگی تو اس کا اثر ہم پر بھی ویسا ہی پڑے گا جیساکہ ان پر۔ اور فرمایا کہ ہم تو صرف ایک دینی غرض سے یہ مینارہ تعمیر کروانے لگے ہیں ورنہ ہمیں ایسی چیزوں پر روپیہ خرچ کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔ اسی گفتگوکے دوران میں آپؑ نے اس افسر سے فرمایا کہ اب یہ لالہ بڈھا مل صاحب ہیں، آپ ان سے پوچھئے کہ کیا کبھی کوئی ایسا موقعہ آیا ہے کہ جب یہ مجھے کوئی نقصان پہنچاسکتے ہوں اور انہوں نے اس موقعہ کو خالی جانے دیا ہو۔ اور پھر انہی سے پوچھئے کہ کیا کبھی ایساہوا ہے کہ انہیں فائدہ پہنچانے کا کوئی موقعہ مجھے ملاہو اور مَیں نے اس سے دریغ کیا ہو۔ حضرت مسیح موعودؑکی اس گفتگو کے وقت لالہ بڈھامل اپنا سرنیچے ڈالے بیٹھے رہے اور ایک لفظ تک منہ پر نہیں لاسکے۔

الغرض حضر ت مسیح موعودؑ کا وجود ایک مجسم رحمت تھا ہر انسان کے لیے، اپنے خاندان کے لیے اور رحمت تھا اپنے دوستوں کے لیے اور رحمت تھا اپنے دشمنوں کے لیے۔

………٭………٭………٭………

حضرت مسیح موعودؑ کے چند علمی اعجاز

حضرت مسیح موعودؑکے علمی اعجاز کے حوالے سے مکرم اخلاق احمد انجم صاحب کی ایک تقریر مجلس انصاراللہ برطانیہ کے مجلّہ ’’انصارالدین‘‘ ستمبر و اکتوبر ۲۰۱۴ء میں شائع ہوئی ہے۔

حضورعلیہ السلام کو مارچ ۱۸۸۲ء میں ماموریت کا پہلا الہام ہوا جس میں یہ فرمایا گیا کہ تیرا سب سے بڑا ہتھیار قرآن کریم اور اس کے علوم ہوں گے اور تیرے علمی معجزات اس کے گرد چکر لگائیں گے۔ فرمایا: اے احمد! اللہ نے تجھے برکت دی ہے پس اسلام کی حمایت میں اپنی قلم کے ذریعہ جو تُو نے دشمنوں کی طرف تیر چلائے ہیںوہ تُو نے نہیں چلائے بلکہ دراصل خداتعالیٰ نے ہی چلائے ہیں۔اِسی رحمٰن خدا نے تجھے قرآن کا علم عطا کیا ہے تاکہ تُو ان لوگوں کو ہشیار کرے جن کے باپ دادے ہشیار نہیں کیے گئے۔اور تا مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے۔ اب تُو دنیا میں اعلان کر دے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور بنایا گیا ہے اور اپنی ماموریت پر مَیں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ (براہینِ احمدیہ)

پھر ایک مرتبہ الہام ہوا: الرّحمان علَّم القرآن۔ یَااحمد فاضیت الرحم علی شفتیک۔ یعنی خدا نے تجھے اے احمد قرآن سکھا دیا اور تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ آپؑ فر ماتے ہیں اس الہام کی تفہیم مجھے اس طرح پر ہوئی کہ کرامت اور نشان کے طور پر قرآن اور زبانی قرآن کی نسبت دو طرح کی نعمتیں مجھ کو عطا کی گئیں ہیں۔ایک یہ کہ معارفِ عالیہ، فرقانِ حمید بطور خارق عادت مجھ کو سکھلائے گئے جس میں دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دوسرے یہ کہ زبانی قرآن یعنی عربی میں وہ بلاغت اور فصاحت مجھے دی گئی کہ اگر تمام علمائے مخالفین باہم اتفاق کر کے اس میں بھی میرا مقابلہ کرنا چاہیں تو ناکام و نا مراد رہیں گے۔اور وہ دیکھ لیں گے کہ جو حلاوت اور بلاغت اور فصاحت لسانِ عربی مع التزام حقائق و معارف و نکات میرے کلام میں ہے وہ ان کو اور ان کے دوستوں اور ان کے استادوں اور ان کے بزرگوں کو ہرگز حاصل نہیں۔ (تریاق القلوب جلد۱۵صفحہ۲۳۰)

دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں

قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میں قرآن مجید کے معجزہ کے ظِلّ کے طور پر فصاحت و بلاغت کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں جو میرا مقابلہ کرسکے۔ (ضرورۃ الامام)

نیز فرمایا: ’’مَیں خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاءپردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب مَیں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو یوں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصّہ پر تقسیم ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلۂ الفاظ اور معنی کا میرے سامنے آجاتا ہے اور مَیں اس کو لکھتا جاتا ہوں کہ اس تحریر میں مجھے کوئی مشقّت نہیں اٹھا نا پڑتی۔ …‘‘ (نزول مسیح)

٭…حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا ایک انقلاب انگیز علمی معجزہ ’’براہینِ احمدیہ‘‘ ہے۔یہ وہ کتاب ہے جو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی اور اس نے قطبی نام پایا۔ آپؑ نے اس کتاب میں دین اسلام اور نبوتِ محمدیہ اور قرآن شریف کی حقانیت کو عقلی اور نقلی طور سے ثابت کرنے کے لیے تین سو مضبوط دلائل پیش فرمائے ہیں اور عیسائی، آریہ اور نیچریہ، ہنود اور برہمو سماج وغیرہ جمیع المذاہب مخالفِ اسلام کو ازروئے تحقیق ردّ فرمایا ہے۔ آپؑ نے دوسرے مذاہب کو چیلنج دیا اور دس ہزار روپے کے انعام کا اشتہار بھی دیا کہ اگر کوئی مخالف یا مکذّب اسلام اپنی مذہبی کتاب سے تمام دلائل یا نصف یا خمس تک پیش کرنے سے قاصر ہو تو ہمارے دلائل کو ہی نمبروار توڑدے تو بلاتأمل اس کو دس ہزار روپیہ تک ا نعام دیا جائے گا۔ لیکن آج تک کوئی اس علمی معجزہ کا جواب نہیں دے سکا۔

براہین احمدیہ کے منصہ شہود پر آتے ہی عیسائیت کا فولادی قلعہ جس کی پشت پناہی ۱۸۵۷ء کے بعد سے حکومت کی پوری مشینری کر رہی تھی پاش پاش ہو گیا۔

٭…آپؑ کا ایک علمی معجزہ وہ عظیم الشان لیکچر ہے جو جلسۂ مذاہب عالم کے موقع پر لاہور میں سنایا گیا اور ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے بارے میں آپؑ نے یہ اعلان فر مایا کہ مجھے خدائے علیم نے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا اور اسلام کو اس کے ذریعہ ایک نمایاں فتح حاصل ہوگی۔ چنانچہ اس مضمون کے پڑھے جانے کے بعد بلااستثناء ہر زبان پر یہی کلمہ جاری تھا کہ اس مضمون کے سامنے سارے مضامین ماند پڑگئے۔ ایک اخبار لکھتا ہے: ’’مرزا صاحب نے نہ صرف مسائلِ قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظ ِقرآن کی فلالوجی اور فلاسفی بھی ساتھ ساتھ بیان کردی۔ غرضیکہ مرزا صاحب کا لیکچر بحیثیتِ مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق و حکم و اسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الٰہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہلِ مذاہب ششدر رہ گئے۔ لیکچر ایسا پُرلطف اور ایسا عظیم الشان تھاکہ بجز سننے کے اس کا لطفِ بیان نہیں آسکتا۔‘‘(اخبار ’’چودھویں صدی‘‘ یکم فروری ۱۸۹۷ء)

اس عظیم الشان علمی معجزے کے بارے میںحضرت مسیح موعودؑ خود فرماتے ہیں:’’ہر ایک فرقہ کی شہادت اور نیز انگریزی اخباروں کی شہادت سے میری پیش گوئی پوری ہو گئی کہ مضمون با لا رہا۔ یہ مقابلہ اُس مقابلہ کی مانند تھا جو موسیٰ نبی کو ساحروں کے ساتھ کرنا پڑا تھا کیونکہ اس مجمع میں مختلف خیالات کے آدمیوں نے اپنے اپنے مذہب کے متعلق تقریریں سنائی تھیں جن میں سے بعض عیسائی تھے اور بعض سناتن دھرم کے ہندو اور بعض آریہ سماج کے ہندو اور بعض برہمو اور بعض سکھ اور بعض ہمارے مخالف مسلمان تھے۔ اور سب نے اپنی اپنی لاٹھیوں کے خیالی سانپ بنائے تھے لیکن جبکہ خدا نے میرے ہاتھ سے اسلامی راستی کا عصا ایک پاک اور پُرمعارف تقریر کے پیرایہ میں اُن کے مقابل پر چھوڑا تو وہ اژدھا بن کر سب کو نگل گیا اور آج تک قوم میں میری اس تقریر کا تعریف کے ساتھ چرچا ہے جو میرے منہ سے نکلی تھی۔ فالحمدللہ علیٰ ذلک۔‘‘ (حقیقۃالوحی)

٭…حضرت مسیح موعودؑ کا ایک علمی معجزہ کتاب ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ہے جو ۱۸۹۲ء کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کی تحریر کے دوران آپؑ کو رسول کریمؐ کی دو مرتبہ زیارت ہوئی اور حضرت نبی کریمﷺ نے اس تالیف پر بہت خوشنودی کا اظہار فر مایا۔ آپؑ فر ماتے ہیں کہ ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فر شتہ بلند آواز سے لوگوں کے دلوں کو اس کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے: ھذا کتاب مبارک فقوموا للاجلال والاکرام۔ یعنی یہ کتاب مبارک ہے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس میں مقامِ فنا، بقا، لقاء روح القدس کی دائمی رفاقت اور ملائک و جنات کے وجود کے ثبوت پر جدید زاویے سے روشنی ڈالی گئی ہے اور کتاب میں وہ قوت اور شوکت ہے کہ سطر سطر سے تائیدِ حق کا جلوہ نظرآتا ہے۔

اس کتاب کا ایک حصہ عربی زبان میں ہے اور یہ عربی میں آپؑ کی پہلی تحریر تھی۔ اس کی تحریک یوں ہوئی کہ جب آپؑ کتاب مکمل کرچکے تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے عرض کیا کہ اس کتاب میں اُن فقراء اور پیرزادوں کی طرف بھی بطور دعوت و اتمامِ حجت ایک خط شامل ہونا چاہیے جو بدعات میں دن رات غرق اوراس سلسلے سے بےخبر ہیں جس کو خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔ آپؑ کا ارادہ تھا کہ یہ خط اردو میں لکھا جائے لیکن رات کو بعض اشاراتِ الہامی میں آپؑ کو عربی لکھنے کی تحریک ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے حضورؑ دعا کرنے پر آپؑ کو رات ہی رات میں عربی کا چالیس ہزار مادہ سکھا دیا گیا۔ چنانچہ آپؑ نے اس الہامی قوّت سے التبلیغ کے نام سے فصیح و بلیغ عربی میں ایک خط تحریر فر مایا جس میں آپؑ نے ہندوستان، عرب، ایران، ترکی،مصر اور دیگر ممالک کے پیرزادوں، سجادہ نشینوں، زاہدوں، صوفیوں اور خانقاہ نشینوں تک پیغامِ حق پہنچایا۔ اس کتاب کے بارے میں ایک عرب فاضل نے کہا کہ اسے پڑھ کر ایسا وجد طاری ہوا کہ دل میں آیا کہ سر کے بَل رقص کرتا ہوا قادیان پہنچوں۔ طرابلس کے مشہور عالم السیّد محمد سعید شامی نے اسے پڑھتے ہی بے ساختہ کہا: ’’واللہ ایسی عبارت عرب نہیں لکھ سکتا‘‘ اور بالآخر اسی سے متأثر ہوکر احمدیت قبول کرلی۔

٭…التبلیغ کے آخر میں آنحضرتﷺ کی شانِ اقدس میں ایک معجزہ نما عربی قصیدہ بھی حضورؑ نے رَقم فر مایا جو آپ اپنی نظیر ہے۔ جب حضوؑر یہ قصیدہ لکھ چکے تو آپؑ کا روئے مبارک فرطِ مسّرت سے چمک اُٹھا اور آپؑ نے فر مایا یہ قصیدہ جنابِ الٰہی میں قبول ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے فر مایا ہے کہ جو شخص یہ قصیدہ حفظ کرے گا اور ہمیشہ پڑھے گا تو مَیں اُس کے دل میں اپنی اور اپنے رسولؐ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گااور اپنا قرب عطا کروں گا۔

٭…حضورؑ نے قریباً اکیس عربی تصانیف فرمائیں۔ نیز دعویٰ فر مایا کہ عربی میں بلیغ عبارت کی آمد کا معجزہ بحرِ ذخّار کی طرح مجھے دیا گیا ہے اور ایسی کامل اور معجزانہ قدرت عطا فرمائی گئی ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا شخص نہیں ٹھہر سکتا۔ آپؑ نے بڑی تحدّی کے ساتھ اپنی عربی دانی کے مقابل پرمخالفین کو بار بار بلایا۔ آپؑ نے یہاں تک اعلان فرمایا کہ اگر کوئی فرد اس مقابلہ کی جرأت نہیں کرسکتا تو میری طرف سے اجازت ہے کہ سب مل کر میرے مقابلہ پر آؤ اور میرے جیسی فصیح اور بلیغ اور معارف سے پُر عربی لکھ کر دکھاؤ۔ آپؑ نے اپنے چیلنج کو عربوں، مصریوں اور شامیوں تک وسیع کردیا لیکن کوئی بھی آپؑ کے مقابلہ پر نہ آیا۔

٭…خطبہ الہامیہ بھی حضرت مسیح موعوؑد کا عظیم الشان علمی معجزہ ہے۔ حضورؑ فرماتے ہیں:۱۱؍اپریل ۱۹۰۰ء کو عید الاضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہوا: کلام افصحت من لدن رب کریم۔ یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔ تب مَیں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریرعربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور مَیں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الٰہی کے، بیان کر سکے۔ سبحان اللہ اُس وقت ایک غیبی چشمہ کھُل رہا تھا کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔ خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لیے ایک نشان تھا۔ یہ علمی معجزہ خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتا۔ (ماخوذ از حقیقۃالوحی نشان۱۶۵)

٭…۱۸۹۵ء میں آپؑ نے خدا سے علم پا کر اعلان فر مایا کہ عربی ’’امّ الالسنہ‘‘ یعنی تمام دوسری زبانوں کی ماں ہے۔ اس سے دنیا کے موجودہ دَور کی ساری زبانیں نکلی ہیں جو بعد میں آہستہ آہستہ بدل کر نئی صورتیں اختیار کرگئی ہیں۔ اسی لیے خدا نے اپنی آخری شریعت عربی زبان میں نازل فرمائی۔آپؑ فرماتے ہیں کہ آیت ’’لِتُنْذِرَ اُمُّ القُریٰ‘‘ میں مجھ پر کھولا گیا کہ یہ آیت عربی زبان کے فضائل پر دلالت کرتی ہے اور اشارہ کرتی ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں کی اور قرآن مجید تمام پہلی کتابوں کی ماں ہے۔

نیز فر مایا: ’’مجھے خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اس بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور اُمّ الالسنہ جس کے لیے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی دانوں نے اپنی جگہ اور آریہ قوم نے اپنی جگہ دعوے کیے کہ انہی کی وہ زبان ہے، وہ عربی مبین ہے اور دوسرے تمام دعویدار غلطی اور خطا پر ہیں۔‘‘ (منن الرحمن صفحہ ۱۸۸)

آپؑ فرماتے ہیں: سو خدا نے مبین کے لفظ کو عربی کے لیے ایک خاص صفت ٹھہرایا اور یہ عربی کے صفاتِ خاصہ میں سے ہے اور کوئی دوسری زبان اس صفت میں اس کی شریک نہیں۔ اور اس زبان کی بلاغت کی طرف اشارہ کیا اور نیز یہ کہ یہ زبان کامل اور ہر یک امر احتیاج پرمحیط ہے۔

عربی زبان کی فضیلت اور کمال اور فوق الالسنہ ہونے کے دلائل مبسوط طور پر لکھنے کے بعد آپؑ نے دوسروں کو چیلنج بھی کیا۔ فرماتے ہیں:’’اب ہر ایک کو اختیار ہے کہ ہماری کتاب کے چھپنے کے بعد اگر ممکن ہو تو یہ کمالات سنسکرت یا کسی اَور زبان میں ثابت کرے …ہم نے اس کتاب کے ساتھ پانچ ہزار روپے کا انعامی اشتہار شائع کر دیا ہے جو فتح یابی کی حالت میں بغیر حرج کے وہ روپیہ ان کو وصول ہوجائے گا۔‘‘

اس تحقیق سے کہ عربی زبان الہامی اور امّ الا لسنہ ہے آپؑ نے اسلام کی عالمگیر فتح کی بنیاد رکھ دی۔کیونکہ اس سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام کتابوں میں سے جو مختلف زبانوں میں مخصوص قوموں کی اصلاح کے لیے انبیاء پر نازل ہوئیں، اعلیٰ اور ارفع، اتم اور اکمل اور خاتم الکتب اور اُمّ الکتب قرآن مجید ہے اور رسولوں میں سے خاتم النّبیین اور خاتم الرسل حضرت سیّدنا محمد مصطفیٰﷺ ہیں۔

٭…حضرت مسیح موعودؑ کا ایک علمی معجزہ وہ ہے جس نے دنیائے مسیحیت میں تہلکہ مچا دیا یعنی یہود کا یہ اعتقاد کہ حضرت مسیحؑ صلیب پر لٹکائے گئے ہیں اور صلیب پر ہی فوت ہوئے اور نعوذباللہ لعنتی موت مرے۔ اور عیسائیوں کا اعتقاد کہ مسیحؑ صلیب پر فوت ہوکر مسیحیوں کے گناہوں کا کفارہ ہوئے۔ نیز عام مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ مسیحؑ صلیب پر لٹکائے نہیں گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھالیا اور آج بھی آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے قرآن کریم سے یہ بتایا کہ حضرت مسیح صلیب پر لٹکائے گئے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے اُنہیں زندہ ہونے کی حالت میں صلیب سے اتار لیا اور تین دن کے لیے زمین دوز پناہ گاہ میں علاج معالجہ کے بعد آپؑ افغانستان سے ہوتے ہوئے کشمیر تشریف لائے اور یہیں آپؑ کی وفات ہوئی۔ حضورؑ نے قرآن کریم کی تیس آیات سے بھی حضرت مسیح ناصریؑ کی طبعی موت کو ثابت فر مایا۔ آپؑ کا یہ دعویٰ ٹھوس دلائل اور قاطع براہین پر مبنی تھا جس کی تائید ایک طرف تاریخی اور واقعاتی شواہد سے ملتی ہے تو دوسری طرف بےشمار منقولی دلائلِ کتبِ مقدسہ اس تحقیق کی صداقت پر دال ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی بیشتر تصانیف میں اس تحقیق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور ایک مکمل کتاب ’’مسیح ہندوستان میں ‘‘تحریرفرمائی جس میں تمام شواہد لکھ کر عیسائیت کے صلیبی عقیدے کو پاش پاش کرکے کاسرِ صلیب ہونے کا حق بھی ادا کر دیا۔

٭…رسول کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود کے زمانے میں جنگ موقوف ہو جائے گی۔ چنانچہ حضورؑ نے اپنی تصنیف ’’گورنمنٹ انگریزی اور جہاد‘‘ میں مسئلہ جہاد پر جامع رنگ میں روشنی ڈالی اور قرآن و حدیث سے ثابت کیا کہ اسلام سے بڑھ کر صلح و امن کا علمبردار کوئی مذہب نہیں ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ مسئلہ جہاد کو جس طرح مسلمان علماء نے سمجھ رکھا ہے وہ ہر گز صحیح نہیں۔ بلکہ جہاد کا لفظ جُہد سے مشتَق ہے جس کے معنی کوشش کرنے کے ہیں اور مجازی طور پر دینی لڑائیوں کے لیے بولا گیا ہے۔ آپؑ نے قرآن کریم سے ثابت کیا کہ آنحضورﷺ کی ساری جنگیں دفاعی تھیں اور مذہب کو پھیلانے کے لیے ہر گز نہیں تھیں۔ پس اصل جہاد اپنے نفسوں کو پاک کرنا ہے۔

٭…حضرت مسیح موعودؑ کا ایک علمی اعجاز ’’اعجازالمسیح‘‘ کی تصنیف ہے جس میں آپؑ نے عربی زبان میں سورت فاتحہ کی تفسیر لکھی ہے۔ جو نہ صرف زبان کے لحاظ سے بلکہ معنوی لطافت کے لحاظ سے بھی نہایت بلند پایہ مقام رکھتی ہے۔ اس کتاب کا محرّک پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور اُن کے مریدوں کی مخالفت ہوئی۔ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف کتابیں شائع کیں جن میں آپؑ پر ناگوار حملے کیے اور مقابلے کی دعوت دی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے پیرصاحب کو سورت فاتحہ کی عربی تفسیر لکھنے کی دعوت دی اور اس کی میعاد ۱۵؍دسمبر۱۹۰۰ء سے ۲۵؍فروری۱۹۰۱ء تک مقرر فرمائی۔ آپؑ نے پیر صاحب کو یہ اجازت بھی دی کہ وہ اس تفسیر میں دنیا کے علماء اور عربی دانوں سے مدد لے لیں۔ پھر اگر بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب اُن کی تفسیر کو جامع لوازم بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پُر خیال کریں تو پانسو روپیہ ان کو انعام دوں گا اور اپنی تمام کتابیں جلا دوں گا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا۔

اس اعلان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعودؑ نے مدّتِ معینہ کے اندر ۲۳؍فروری ۱۹۰۱ء کو فصیح و بلیغ عربی زبان میں سورت فاتحہ کی تفسیر شائع کردی جو ایک عظیم الشان نشان اور بےمثال علمی معجزہ ہے۔ آپؑ نے اس کتاب کے سرورق پر بطور تحدی فرمایا کہ یہ ایک لا جواب کتاب ہے جو شخص بھی غصّہ میں آ کر اس کتاب کا جواب لکھنے کے لیے تیار ہو گا وہ نادم ہوگا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوگا۔چنانچہ اس عظیم الشان پیش گوئی کے مطابق نہ پیر صاحب کو اور نہ عرب و عجم کے کسی اَور عالم و فاضل کو اس کتاب کا فصیح عربی میں جواب دینے کی جرأت ہو سکی۔

٭…حضرت مسیح موعودؑ نے جب قرآن کریم کی تفسیر پر مشتمل بعض عربی کتب تصنیف فر مائیں تو مخالفین نے ان کی قدرو منزلت کم کرنے کے لیے اَعَانَہٗ عَلَیہِ قَوْمٌ اٰ خَرُوْنَ۔ (الفرقان:۵) کا الزام لگایا۔اس الزام سے آپؑ کی بریّت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک تقریب پیدا کی۔ چنانچہ مدّ ضلع امرتسر میں حضورؑ کے نمائندہ حضرت مولوی محمدسرور شاہؓ اور اہلِ حدیث مولوی ثناءاللہ امرتسری کے درمیان ۲۹ اور ۳۰؍اکتوبر۱۹۰۲ء کو ایک منا ظرہ منعقد ہوا۔ حضورؑ نے پانچ دن کے مختصر عرصے میں ۱۵۳۳؍اشعار پر مشتمل ایک طویل قصیدہ مع ترجمہ رقم فر مایا جس میں مباحثہ مدّ کے حالات تفصیلاً درج تھے اور اس کے بارے میں یہ کہنا نا ممکن تھا کہ اسے پہلے سے لکھوایا گیا ہے۔ حضورؑ نے اس مترجم قصیدہ کو دس دن کے اندر چھپوا کر مولوی ثناء اللہ امرتسری اور بعض دوسرے علماء کو بھجوایا اور دس ہزار روپے کے انعامی چیلنج کے ساتھ یہ بھی تحریر فرمایا کہ اگر بیس دن میں انہوں نے اِس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔ اِس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہیے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔ پھر آپؑ نے پورے یقین اور تحّدی کے ساتھ فرمایا: ’’دیکھو! مَیں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اِس نشان پر حَصر رکھتا ہوں۔ اگر میں صادق ہوں اور خدا جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہ ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بناسکیں اور اردو مضمون کا رَدّ لکھ سکیں کیونکہ خداتعالیٰ ان کی قلموں کوتوڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غبی کردے گا۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ثابت ہوا۔

حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانیؓ فر ماتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کی روانی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑوں پر برسا ہوا پانی بہتا ہے۔ بظاہر اس کا کوئی رُخ معلوم نہیں ہوتا مگر وہ خود اپنا رُخ بناتا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کی تحریروں میں الٰہی جلال ہے اور وہ تصنع سے بالا ہیں۔ جس طرح پہاڑوں کے قدرتی مناظر ان تصویروں سے کہیں زیادہ دلفریب ہوتے ہیں جو انسان سالہاسال کی محنت سے تیار کر کے میوزیم میں رکھتا ہے … اسی طرح حضرت مسیح موعود کی عبارت بھی سب سے فائق ہے۔‘‘ ( خطباتِ محمود جلد۱۳)

نیز فر مایا : ’’حضرت مسیح موعودؑ کی تحریر کے اندر اس قدر روانی، زور اور سلاست پائی جاتی ہے کہ باوجود سادہ الفاظ کے، باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جن سے عام طور پر دنیا ناواقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کام مبالغہ،جھوٹ اور نمائشی آر ا ئش سے خالی ہوتا ہے اس کے اندر ایک ایسا جذب اور ایسی کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جا رہی ہیں اور جس طرح جب ایک زمیندار گھاس والی زمین پر ہل چلانے کے بعد سہاگہ پھیرتا ہے تو سہاگہ کے گرد گھاس لپٹتا جاتا ہے اسی طرح معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعودؑ کی تحریر انسانوں کے قلوب کو اپنے ساتھ لپیٹتی جارہی ہے۔‘‘ (خطباتِ محمود جلد۱۳)

………٭………٭………٭………

’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے‘‘

رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ (اردو) کے پہلے شمارے مطبوعہ جنوری۱۹۰۲ء میں حضورعلیہ السلام کے نام کے بغیر ایک مضمون بعنوان’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے‘‘ شائع ہوا تھا۔ تاہم طرزِ تحریر اور مضمون کی اندرونی اور بیرونی شہادات سے ثابت ہے کہ یہ مضمون حضرت مسیح موعودؑ کا ہی تحریر فرمایا ہوا ہے۔ اسی رسالہ کے انگریزی ایڈیشن مطبوعہ ۲۰؍جنوری ۱۹۰۲ء میں بھی یہ مضمون شامل کیا گیا۔ چنانچہ اس شمارے میں شامل دو مضامین ’’گناہ سے نجات کیوں کر ممکن ہے‘‘ اور ’’اُخروی زندگی ‘‘کے لیے پسندیدگی کا اظہار مشہور مصنف ٹالسٹائی نے بھی متعلقہ رسالے کے مطالعہ کے بعد کیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے یہ مضمون پہلی بار روحانی خزائن کے کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن ۲۰۰۸ء میں شامل کیا گیا ہے۔ترتیب کے لحاظ سے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ۷۰ویں کتاب ہے جو کہ روحانی خزائن کی اٹھارھویںجلد میں چھٹے نمبر پر موجود ہے۔ رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد۲۰۱۴ء نمبر۱ میں اس مختصر کتابچہ کا تعارف مکرمہ درّثمین احمد صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون میں عیسائی مشنریوں کے نجات سے متعلق تصور کہ ’’حضرت عیسیٰؑ نے انسانوںکو گناہوں سے نجات دلانے کی خاطر صلیب پر قربانی دی‘‘ کی اصلاح فرمائی ہے۔ اس عقیدے کے نتیجے میں سادہ لوح مسلمان متاثر ہورہے تھے۔ حضورؑ نے اس تصورِنجات کو ردّ فرماتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ ہر شخص اپنے گناہوں اور اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ لہٰذا نجات کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان ازخود جدوجہد کرے تاکہ اپنے گناہوں سے نجات پائے۔ ہم جس قدر جسمانی حالت میں ترقی کرگئے ہیں اسی قدر ہم روحانیت میں تنزل میں ہیں۔ دنیا کا کاروبار دو کششوں پر چلتا ہے جس پہلو میں یقین کی قوت زیادہ ہے وہ دوسرے پہلو کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ برائی کی کشش کے مقابل پرخداتعالیٰ آسمانی کشش کو ظاہر کرے اور جب دو مخالف اور پُر زور کششیں باہم ٹکرائیں تو ضروری ہے کہ ایک کشش دوسری کو فنا کردے یادونوں فنا ہوجائیں۔ اس ضمن میں آپؑ نے مختلف الہامی کتابوں سے مثالیں دے کر اس لڑائی کے مختلف ادوار بیان کیے اور فرمایا کہ اس حساب کی رو سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ زمانہ نور اور ظلمت کی لڑائی کا آخری زمانہ ہے۔ ظلمت اپنے پورے زوروں پر ہے اور اسلام کی سچائی اب محض نام کی رہ گئی ہے اور رسمی عقیدے، رسمی نمازیں اور رسمی علم اس روشنی کو بحال نہیں کرسکتیں۔اس کے لیے ایسے آسمانی نورکے منارکی ضرورت ہے جس کی روشنی سے تمام دنیا منور ہوجائے۔

آپؑ نے لفظ منار کی بھی نہایت لطیف تشریح فرمائی کہ منار اس نفسِ مقدس، مطہر اوربلند ہمت کا نام ہے جو انسانِ کامل کو ملتا ہے۔اسی لیے مسیح موعود کی خاص طور پر آمد اور منار کے پاس اترنے سے مراد ایک جلالی طور کی آمد ہے جو خدائی رنگ اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ پس مسیح موعود کا آنا دو رنگ میں ہوگا۔ اول کہ وہ دور ابتلاء اور تکلیفوں کا ہوگا۔تب اس کی جلالی آمد کا وقت آجائے گا اور ان پر یہ ظاہر کیا جائے گا کہ آنے والا سچا اور خدا کی جانب سے ہے جس کی پیشگوئیاں روایتوں اور حدیثوں میں مذکور ہیں۔ مذہب میں یہ قوت ہے کہ اس کے لیے کسی تلوار کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ اپنی سچائی کو عقلی دلائل سے یا آسمانی شہادتوں سے بآسانی ثابت کرسکتا ہے۔

اس کے بعد آپؑ نے قانونِ قدرت کے ان تین اہم حقوق کا ذکر کیا جو بنی نوع سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں لوگوںنے اپنے مفاد کی خاطر تبدیل کرلیا اور اس کام میں مولوی بھی شریک ہیں۔ نیز آپؑ نے عیسائی مذہب کی غلط اور فرسودہ تعلیم اور ان کے نظریات کو ردّ کیا اور باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ دونوںمذاہب ہی افراط وتفریط کا شکار ہو چکے ہیں مگر مسلمانوں میںبہت سے ایسے ہیں جو بندوں کے حقوق کو تلف کرتے ہیں جبکہ عیسائیوں نے تو خدا کے حقوق کو تلف کردیا یہاںتک کہ ایک انسان کو خدا بنا ڈالا۔

حضورؑ فرماتے ہیں کہ قدرتی طور پر انسان ہر اس چیز سے اپنے تئیں بچاتا ہے جس کے مضر اثرات سے وہ واقف ہوتا ہے لہٰذا گناہگاروں کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے وجود اور یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس پر کامل ایمان اس کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو توڑے اور گناہ کرے۔ خدا کی ذات کا کامل عرفان اور اس کی ذات پر یقین ہی وہ پانی ہے جو گناہ کے نقوش کو دھوئے گا اور لوح سینہ کو صاف کرکے ربانی نقوش کے لیے مستعد کردے گا اور اس لیے تم کوشش کرو تا کہ تمہیں توفیق ملے اور ڈھونڈو تاکہ تم کو یہ میسر ہو اور دلوں کو نرم کرو تاکہ تمہیں ان باتوں کی سمجھ آسکے کیونکہ سخت دل کبھی سچائی کو نہیں پا سکتا۔

اسلام کا دیگر بڑے مذاہب سے موازنہ کرتے ہوئے حضورؑ مزید فرماتے ہیں کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم بغیر اس راہ کے کہ خدا کی عظمت تمہارے دل میں قائم ہو اور اس زندہ خدا کا جلال تم پر کھلے اور اس کا اقتدار تم پر ظاہر ہو اور دل یقین کی روشنی سے بھر جائے کسی اور طریق سے تم گناہ سے سچی نفرت کرسکو۔ ہرگز نہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی خدا اور ایک ہی قانون۔ صرف مذہب اسلام ہی ہے جو انسان کوخدا تعالیٰ کی کامل معرفت دیتا اور اس کی ذات کا کامل یقین دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے گناہ سے نجات دلاتا ہے۔

………٭………٭………٭………

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۲۱؍مارچ۲۰۱۵ء میں مکرم انور ندیم علوی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

دُور ہے اس سے خزاں اب مسکراتی ہے بہار
ایک سو چھبیس سالوں کا شجر یہ سایہ دار
پیارے آقاؑ نے جو بویا تخم اپنے ہاتھ سے
آبیاری خون سے کرتے رہے پھر جاں نثار
اُس مرید باوفا کا نام نامی ہے ’’لطیف‘‘
رحمتیں ہوں اُس پہ حق کی بےحساب و بےشمار
’’نور دیں‘‘ کے نُور کا چمکا ستارہ اس طرح
ظلمتوں کی شب کا دامن بھی ہوا ہے تار تار
’’حضرت فضل عمر‘‘ فہم و فراست کا نشاں
کانِ علم و فضل تھا اور قیدیوں کا رستگار
’’ناصر دیں‘‘ امن کا شہزادہ اُلفت کا سفیر
ابتلاؤں میں بھی تھا وہ صبر کا اِک کوہسار
’’حضرت طاہر‘‘ خدا کا شیر ہر میدان میں
کامیاب و کامراں دیکھا بفضل کردگار
’’حضرت مسرور‘‘ صلح و آشتی کا ہیں نشاں
امن عالم کے لیے بےچین ہر پل بےقرار
چار جانب اس طرح پھیلی نوائے قادیاں
نیک فطرت کے لیے صدہا نشاں لیل و نہار
لہلہاتا پیڑ ہے یہ آندھیوں میں بےخطر
دیدۂ بینا! نشاں آئیں نظر تجھ کو ہزار

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۸؍نومبر۲۰۱۴ء میں مکرم آصف محمود ڈار صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جس میں اردو زبان کے مسیحِ زماں کی غلامی میں آنے سے پیدا ہونے والے انقلاب کو اردو زبان کی زبانی نظم کیا گیا ہے۔ یہ مختصر نظم ہدیۂ قارئین ہے:

مَیں غلامِ مسیح زماں ہو گئی
ہے حقیقت کہ مَیں جاوداں ہو گئی
تیری خدمت میں حاضر ہوئی جب سے مَیں
تب سے عرب و عجم کی زباں ہو گئی
وہ خزائن جو صدیوں سے مدفون تھے
اُن خزائن سے مَیں ضوفشاں ہو گئی
سب زبانوں کی جامع ہوئی بےگُماں
تیری برکت سے مَیں گلفشاں ہو گئی
تُو ہے سلطان تحریر و تقریر کا
مَیں ہوں خوش بخت تیری زباں ہوگئی
مجھ کو بویا فقیروں نے تیرے لیے
تیری تحریر سے مَیں جواں ہو گئی
میرؔ و غالبؔ نے سینچا تھا مجھ کو کبھی
تجھ کو پایا تو رشکِ جناں ہو گئی

مزید پڑھیں: پنجاب میں طاعون کی وبا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم پیشگوئی کا ظہور

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button