اسلام میں پہلے ہی جو اتنے فرقے ہیں تو پھر ایک نیا فرقہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟
امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بعض لوگوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ ہم اسلام کی تعلیم پر عمل کر رہے ہیں اور پہلے ہی جو اتنے فرقے ہیں تو پھر ایک نیا فرقہ بنانے کی کیا ضرورت ہے اور آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ہمارے احمدی بھی معترضین کی یہ باتیں سن کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ اُس زمانے میں اور آجکل بھی بعض ایسے ہیں جو خاموش ہو جاتے ہیں کہ کیا جواب دیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی ضرورت کیا ہے؟ کیا ہم نماز روزہ نہیں کرتے ہیں؟ وہ اس طرح پر دھوکہ دیتے ہیں۔ اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ جو ناواقف ہوتے ہیں ایسی باتوں کو سن کر دھوکہ کھا جاویں اور ان کے ساتھ مل کر یہ کہہ دیں کہ جس حالت میں ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور وِرد وظائف کرتے ہیں۔ پھر کیوں یہ پھوٹ ڈال دی؟‘‘ (کہ نیا فرقہ بنا دیا۔ تو کیوں پھوٹ ڈال دی۔ ہم نماز روزہ کر رہے ہیں تو تمہارے اندر شامل ہونے کی، ایک نیا فتنہ فساد پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’یاد رکھو کہ ایسی باتیں کم سمجھی اور معرفت کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ میرا اپنا کام نہیں ہے۔ یہ پھوٹ اگر ڈال دی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے جس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔‘‘ (میں نے تو قائم نہیں کیا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔) ’’کیونکہ ایمانی حالت کمزور ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ ایمانی قوت بالکل ہی معدوم ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حقیقی ایمان کی روح پھونکے جو اس سلسلہ کے ذریعہ سے اس نے چاہا ہے۔ ایسی صورت میں ان لوگوں کا اعتراض بیجااور بیہودہ ہے۔ پس یادرکھو کہ ایسا وسوسہ ہرگز ہر گز کسی کے دل میں نہیں آنا چاہئے اور اگر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے تو یہ وسوسہ آہی نہیں سکتا۔ غور سے کام نہ لینے کے سبب ہی سے وسوسہ آتا ہے جو ظاہری حالت پر نظر کر کے کہہ د یتے ہیں کہ اور بھی مسلمان ہیں۔ اس قسم کے وسوسوں سے انسان جلد ہلاک ہو جاتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’میں نے بعض خطوط اس قسم کے لوگوں کے دیکھے ہیں جو بظاہر ہمارے سلسلہ میں ہیں‘‘(بیعت کی ہوئی ہے) ’’اور کہتے ہیں کہ ہم سے جب یہ کہا گیا کہ دوسرے مسلمان بھی بظاہر نماز پڑھتے ہیں اور کلمہ پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور نیک معلوم ہوتے ہیں پھر اس نئے سلسلہ کی کیا حاجت ہے؟‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ’’یہ لوگ باوجود یکہ ہماری بیعت میں داخل ہیں ایسے وسوسے اور اعتراض سن کر لکھتے ہیں کہ ہم کو اس کاجواب نہیں آیا۔ ایسے خطوط پڑھ کر مجھے ایسے لوگوں پر افسوس اور رحم آتا ہے کہ انہوں نے ہماری اصل غرض اور منشاء کو نہیں سمجھا۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ رسمی طور پر یہ لوگ ہماری طرح شعائرِ اسلام بجالاتے ہیں اور فرائض الٰہی ادا کرتے ہیں حالانکہ حقیقت کی روح ان میں نہیں ہو تی‘‘۔ (صرف فرضی طور پہ نہیں کرنا۔ ظاہری طور پر نہیں کرنا بلکہ حقیقی طور پر عبادت بھی ہونی چاہئے اور دوسرے فرائض بھی ادا ہونے چاہئیں۔) ’’اس لیے یہ باتیں اور وساوس سحر کی طرح کام کرتے ہیں۔‘‘ (وسوسے آجاتے ہیں اور جو باتیں کر رہے ہوتے ہیں اس کا اثر پھر ان پہ جادو کی طرح ہو جاتا ہے۔) ’’وہ ایسے وقت نہیں سوچتے کہ ہم حقیقی ایمان پیدا کر نا چا ہتے ہیں جو انسان کو گناہ کی موت سے بچا لیتا ہے اور ان رسوم وعادات کے پیرو لوگوں میں وہ بات نہیں۔ ان کی نظر ظاہر پر ہے حقیقت پر نگاہ نہیں۔ ان کے ہاتھ میں چھلکا ہے جس میں مغزنہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد۶صفحہ ۲۳۷تا ۲۳۹) پس بیشک ظاہری عمل تو مسلمان کرتے ہیں لیکن روح ان میں نہیں ہے۔ تقویٰ نہیں ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳؍مارچ ۲۰۱۸ء)



