ربوہ کا موسم(۱۳؍تا۱۹؍مارچ ۲۰۲۶ء)
۱۳؍مارچ جمعۃ المبارک کو نماز فجر کے وقت موسم کچھ دن گرمی کی لہر آنے کے بعد آہستہ آہستہ ٹھنڈک کی طرف آ رہا تھا اور معمول کے مطابق اب خنکی کی طرف مائل تھا۔ دن بھر ٹھنڈی یخ ہوا چلتی رہی، شام کے وقت مطلع ابر آلود ہونا شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان گھنے بادلوں سے بھرگیا، ساتھ سرد ہوا کی وجہ سے موسم میں یکلخت تبدیلی آ گئی اور قدرے ٹھنڈا ہوگیا۔ جمعۃ المبارک اور ہفتہ کی درمیانی رات کو بادلوں میں گرج چمک ہونا شروع ہوگئی اور ساتھ ہی تیز بارش نے بھی رنگ جما دیا۔ رات ڈھائی بجے ہونے والی یہ موسلا دھار بارش ایک گھنٹہ کے بعد ہلکی ہوگئی اور بوندا باندی کی شکل اختیار کر گئی۔ ہفتہ کو دن کے وقت بادل کچھ کم ہوگئے لیکن تیز سرد ہوا رواں دواں رہی، موسم میں خنکی زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے گرم کپڑے اور کمبل وغیرہ نکال لیے۔ رمضان المبارک کے آغاز میں جتنی گرمی محسوس ہوتی تھی اتنا ہی اب سردی نے اپنا راج دوبارہ قائم کردیا۔ اتوار کو بھی علی الصبح گرج چمک شروع ہوگئی اور ایسا لگتا تھا کہ آج بھی خوب بارش ہوگی۔ لیکن جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں والا معاملہ ہوگیا، یہ بادل گرجتے اور چمکتے ہوئے ہی آگے چلے گئے۔ اتوار کو دن کے وقت ٹھنڈ کی یہی کیفیت رہی یخ بستہ بادِ صبا جاری تھی اور ٹمپریچر یکدم کئی درجے نیچے گِر گیا۔ سوموار اور منگل کو بھی ایسا ہی سرد موسم جاری رہا، فرق صرف یہ تھا کہ سرد ہوا کی رفتار میں کچھ کمی واقع ہوگئی تھی اور لوگوں کو روزوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت غیر مترقبہ نصیب ہوئی۔
بدھ کو صبح ہی سے آسمان پر بادلوں نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا۔ دن دس بجے بادل زیادہ گہرے ہوگئے اور ہلکی بارش بھی شروع ہوگئی جو وقفے وقفے سے جاری رہی۔ دوپہر کے وقت ان بادلوں کی وجہ سے دن کی روشنی کم ہوگئی اور دوپہر کے وقت شام کا گمان ہوتا تھا۔ جمعرات کو سردی میں کوئی فرق نہیں پڑا، دن بھر بادل چھائے رہے اور سرد ہوا بھی چلتی رہی، بعد دوپہر آسمان صاف ہونے کی وجہ سے سورج کو نکلنے کا موقع مل گیا اور دھوپ زمین پر بکھیر دی۔ لیکن یہ دھوپ کم تیز ہونے کی وجہ سے زیادہ محسوس نہ ہوتی تھی۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۲۰؍اور کم سے کم ۱۴؍درجہ سینٹی گریڈ رہا۔ (ابو سدید)




