کلام حضرت مسیح موعود ؑ

قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

عالمی را کور کرداست ایں خیال

سرنگوں افگندہ در چاہِ ضلال


اس خیال نے ایک دنیا کو اندھا اور بہرا کر دیا ہے اور انہیں گمراہی کے کنوئیں میں ڈال دیا ہے


ناز بر فطنت مکن گر فطنتے ست

در رہِ تو ایں خردمندی بتے ست


اگر کچھ عقل ہے تو اس عقل پر ناز نہ کر تیرے راستے میں یہ عقل ایک بُت ہے


عقل کاں با کبر میدارند خلق

ہست حمق و عقل پندارند خلق


تکبر سے ملی ہوئی وہ عقل جو لوگ رکھتے ہیں محض بیوقوفی ہے، پھر بھی لوگ اسے عقل سمجھتے ہیں


کبر شہرِ عقل را ویران کند

عاقلان را گمرہ و ناداں کند


تکبر عقل کے شہر کو ویران کر دیتا ہے اور عقلمندوں کو گمراہ اور نادان بنا دیتا ہے


آنچہ افزاید غرور و معجمی

چوں رساند تا خدایت اے غوی


جو چیز غرور اور تکبر کو بڑھاتی ہے اے گمراہ! وہ تجھے خدا تک کیونکر پہنچا سکتی ہے


خودروی در شرک اندازد ترا

توبہ کن از خودروی اے خود نما


خودروی تجھے شرک میں ڈال دے گی اے ریاکار! خودروی سے توبہ کر


ہست مشرک از سعادت دورتر

و از فیوضِ سرمدی مہجورتر


مشرک سعادت سے بہت دور ہے اور خدا کی دائمی رحمتوں سے پرے پھینکا گیا ہے


از خدا باشد خدا را یافتن

نے بہ مکر و حیله و تدبیر و فن


خدا کی مدد سے ہی خدا کو پا سکتے ہیں، نہ کہ چالاکی، حیلہ اور مکر و فریب کے ساتھ


تا نیائی پیشِ حق چوں طفلِ

خرد ہست جامِ تو سراسر پر ز درد


جب تک تو چھوٹے بچے کی طرح خدا کے سامنے نہ آئے گا تب تک تیرا جام صرف تلچھٹ سے ہی بھرا رہے گا


شرطِ فیضِ حق بود عجز و نیاز

کس ندیدہ آب بر جائے فراز


خدا کے فیضان کے لیے عجز و نیاز شرط ہے کسی نے پانی کو اونچی جگہ ٹھہرتے نہیں دیکھا


حق نیازی جوید آں جا ناز نیست

از پرِ خود تا درش پرواز نیست


خدا کو عاجزی پسند ہے، وہاں فخر کام نہیں آتا اپنے پروں سے اس تک اڑ کر نہیں پہنچ سکتے


عاجزان را پرورد ذاتِ اجل

سرکشاں محروم و مردودِ ازل


وہ بزرگ ذات عاجزوں کی پرورش کرتی ہے اور سرکش ہمیشہ محروم اور مردود رہتے ہیں

(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول ۱۷۱تا -۱۷۲ بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۸۴-۸۵)

مزید پڑھیں: قانونِ خدا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button