ہر احمدی قیامِ امن کے لئے جدوجہد کرے(قسط اول)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ یکم جولائی ۱۹۳۲ء)
۱۹۳۲ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے ملک سے فتنہ و فساد کی روح کو مٹانے اور امن شکن تحریکات کا مقابلہ کرنے کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
عارف انسان وہی ہوتا ہے جو ہر چیز کی حقیقت سمجھ کر اس کے مطابق سوچتا اور عمل کرتا ہے۔ اور انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ انسان موقع اور محل دیکھ کر کام کرتا ہے۔ مگر جانور کے لئے ایک راستہ مقرر ہے جس پر وہ بلا سوچے سمجھے چلا جاتا ہے
تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔
…میں نے متواتر اپنی جماعت کے دوستوں کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ دنیا میں تمام چیزیں مذہبی یا غیر مذہبی نہیں ہوتیں اور تمام چیزیں دینی یا دنیوی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے درمیان بھی مدارج ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان مدارج پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ بعض دینی باتیں ایسی ہیں کہ وہ ایک رنگ میں دنیاوی ہو جاتی ہیں اور بعض دنیاوی باتیں ایسی ہیں جو اپنے اندر دین کا ایک رنگ رکھتی ہیں۔ اسلام نے اس مدارج کے نوع کو اس مدارج کے اختلاف کو اس مدارج کے وسیع دائرہ کو اس قدر کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ اگر ہم صرف اسلام کی اس خوبی کو ہی لے کر کھڑے ہو جائیں تو کوئی غیر مذہب والا اس خوبی کے لحاظ سے ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ اور در حقیقت کسی چیز سے واقف آدمی جس عمدگی سے اس خوبی سے آگاہ ہوتا ہے دوسرا نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ملک میں ایک مثل مشہور ہے کہ کوئی شخص بھوکا تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ برہمنوں کی کسی جگہ دعوت ہے۔ وہ تھا تو مسلمان لیکن اس نے برہمنوں کی ذاتوں کے کچھ نام سنے ہوئے تھے۔ بھوک کی شدت کی وجہ سے کفر اس کے ایمان پر غالب آگیا اور اس نے خیال کیا چلو برہمن بن کر ہی اس وقت کھانا کھالیں۔ وہ یہ سوچ کر کھانا کھانے چلا گیا۔ لوگوں نے جب اس سے پوچھا کہ تم کون ہوتے ہو تو چونکہ اسے معلوم تھا کہ یہاں کن لوگوں کی دعوت ہے کہنے لگا بر ہمن۔ انہوں نے پوچھا کون برہمن۔ کہنے لگا گوڑ برہمن۔ یہ بھی اس نے کہیں سے سنا ہوا تھا۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ کون سی گوت میں سے ہو۔ کہنے لگا کہیں گوت در گوت بھی ہوتا ہے۔ وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ بناوٹی برہمن ہے۔ انہوں نے اسے مار پیٹ کر باہر نکال دیا۔ تو نا واقف ایک چیز کو بالکل سرسری نظر سے دیکھتا ہے لیکن واقف آدمی اس کی باریکیوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ ایک انگریز کے نزدیک ایک آم صرف ایک پھل ہے جو کھانے کے کام آتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کے نزدیک اس کی حقیقت نہیں۔ لیکن اس سے زیادہ واقفیت رکھنے والا جانتا ہے کہ فلاں مقام میں کس قسم کا آم ہوتا ہے اور فلاں مقام میں کیسا۔ وہ لمبی اور چھوٹی گٹھلیوں والے آموں کی اقسام بتائے گا۔ لیکن اگر ایک باغبان سے پوچھو تو وہ آم کی بیسیوں اقسام گناتا چلا جائے گا۔ اور ایک فن زراعت کا ماہر اس سے بھی باریک باتیں بیان کر سکے گا۔ غرض کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز لے لو اس میں بھی باریکیاں نکلتی آئیں گی۔ اور اس کی بھی اقسام در اقسام ہوتی چلی جائیں گی۔ اور یہ بات علم کی ترقی سے وابستہ ہے۔ جوں جوں علم بڑھتا جائے ، اسی نسبت سے کسی چیز کی اقسام بھی معلوم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ایک چاولوں کا تاجر جتنی چاولوں کی اقسام بیان کرے گا گھروں میں کھانے اور پکانے والے بیان نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح گیہوں کی جس قدر اقسام ہیں اگر انہیں ہی بیان کرنا شروع کر دیا جائے تو کھانے والے سن کر حیران ہو جائیں گے۔ غرض چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز تک کی یہی حالت ہے۔ چیونٹی کو دیکھو تو اس کی بہت سی اقسام ہوں گی۔ مٹی کا ذرہ لے لو تو اس کے بھی بہت سے اجزاء ہوں گے۔ حالانکہ عام لوگوں کے نزدیک وہ ایک ذرہ ہی ہو گا۔ اور اس سے بڑھ کر اس کی کوئی حقیقت نہ ہوگی۔ انسانی جسم کی بناوٹ کو ہی دیکھ لو۔ علم الابدان کے واقف اس کی کتنی باریکیاں بیان کرتے ہیں۔ ہڈیوں کی اقسام، مختلف جوڑوں کا تناسب خون میں امتیاز یہ سب باتیں وہ بیان کرتے ہیں۔ اور اب تو یہاں تک اس علم نے ترقی کی ہے کہ ماہرین فن جسم سے خون لے کر بتا دیتے ہیں کہ فلاں شخص کا فلاں بیٹا ہے یا نہیں۔ کیونکہ خون کی اقسام ہیں جن سے جسم کے اعضاء بنتے ہیں۔ اور ماہرین ان کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ اس شخص میں اس قسم کا خون موجود ہے یا نہیں۔ چنانچہ جرمنی میں پچھلے ایام میں ایک ریاست کا فیصلہ اسی علم کی رو سے ہوا۔ باپ کہتا کہ فلاں میرا بیٹا نہیں۔ آخر جب بیٹا بننے والے کا خون دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر خون کی ایک ایسی قسم تھی جو اس نسل کے خون میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی جس میں سے وہ شخص تھا جسے باپ کہا جاتا تھا۔ گورنمنٹ نے اس فیصلہ کو قائم رکھا اور قرار دیا کہ یہ اس کا بیٹا نہیں ہے۔

غرض اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چیزوں میں عظیم الشان تنویع پیدا کی ہے۔ اور قرآن مجید میں اس کا بار بار ذکر آیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ ہر چیز کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ مگر ان اقسام کے متعلق دیگر مذاہب بالکل خاموش ہیں۔ اور اگر ہم اسلام کی ان تشریحات کو بیان کرنا شروع کر دیں تو اس کے ماتحت اسلام کی عظیم الشان فضیلت ظاہر ہو سکتی ہے۔ مگر عام لوگ اس حقیقت سے آنکھ بند کرتے ہوئے صرف دین اور دنیا کے دو لفظ اپنے سامنے رکھتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو یا تو دینی کہہ دیں گے یا دنیوی۔ حالانکہ
حقیقت یہ ہے کہ باوجود دینی ہونے کے ایک چیز دنیوی ہو سکتی ہے۔ اور ایک چیز دنیوی دائرہ کے اندر ہوتے ہوئے دینی بن جاتی ہے۔
مگر ایک ماہر فن اور روحانی عارف ہی ان باتوں کو سمجھ سکتا ہے۔ ناواقف آدمی ایسے مقامات پر دھوکا کھا جاتا ہے۔ بسااوقات حد سے زیادہ ایک دینی حکم کے قَشر کی طرف چلے جانا اسے دنیاوی کام بنا دیتا ہے۔ اور بسا اوقات اگر ایک دنیاوی کام کو دینی نظر سے دیکھیں تو وہ دین کا کام نظر آتا ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مسلمان رئیس کسی طبی مشورہ کے لئے میرے پاس آئے۔ میرا ایک عزیز بھی پاس بیٹھا تھا۔ اس رئیس کا پاجامہ ذرا نیچے ڈھلکا ہوا تھا۔ یا نسبتاً ذر المبا تھا۔ بہرحال اس پاجامے سے ٹخنے چھپے ہوئے تھے۔ چونکہ احادیث میں آتا ہے کہ پاجامہ اس طرح نہیں ہونا چاہئے جو ٹخنوں سے نیچے ہو، جس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عرب میں رؤساء اپنی امارت جتانے کے لئے ایسا کیا کرتے تھے۔ اس زمانہ میں کپڑا کم ہوتا تھا اس لئے غرباء پر اپنی بڑائی جتانے کے لئے امیر لوگ کپڑا لٹکا کر چلا کرتے تھے۔ اور چونکہ یہ کبر اور خیلاء کی علامت تھی اس لئے رسول کریم ﷺ نے اس سے روک دیا۔ حضرت خلیفہ اولؓ فرماتے میرے اس عزیز نے مسواک لی اور اس رئیس کے ٹخنوں پر مار کر کہا یہ حصہ تمہارا دوزخ میں جائے گا۔ اس شخص کے دل میں نہ اسلام تھا نہ اسلام کی محبت باقی تھی۔ صرف ایک نام اسے حاصل تھا اور امید کی جاسکتی تھی کہ کسی وقت اس نام کی وجہ سے ہی اسلام کے متعلق ورثہ کی محبت اس پر غالب آجائے اور وہ حقیقی مسلمان بن سکے۔ مگر جب ایک بھری مجلس میں اس کے ساتھ ایسا سلوک ہوا تو اس نے کہہ دیا کس بے وقوف نے تمہیں بتایا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ یہ نتیجہ تھا اس تقشر کا اس ظاہری چیز کی طرف مائل ہو جانے کا جسے مسواک مارنے والے نے اسلام سمجھ رکھا تھا۔ بظاہر اس کا یہ دینی فعل تھا مگر یہ دین کا نہ رہا بلکہ دنیا کا بن گیا۔ کیونکہ قشر دنیا سے تعلق رکھتا ہے دین سے تعلق رکھنے والی چیز مغز ہے۔ اسی طرح اگر کوئی انسان نماز میں ظاہری حرکات کی حد سے زیادہ پابندی کرتا ہے اور خلوص اور محبت الہٰی کو نظرانداز کرکے ہر وقت اس فکر میں رہتا ہے کہ اس کی کمر اتنی جھکنی چاہئے۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ذرا بھی ادھر اُدھر نہ ہوں اور وہ اسی ادھیڑ بن میں اپنا وقت گزار دیتا ہے تو اس کی نماز دینی کام نہ رہا بلکہ دنیا کا کام بن گیا۔ ایسا شخص جب نماز پڑھ رہا ہو تو بظاہر دینی فعل کر رہا ہو گا مگر دراصل وہ اپنا تمام وقت دنیا کے کام میں صرف کر رہا ہو گا۔ اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص جو بظاہر دنیا کا کام کر رہا ہو لیکن اس کے مدنظر خدا تعالیٰ کی رضا ہو ، اس کا کام دین میں شمار ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بارہا فرمایا کرتے تھے کہ صوفیاء کا مشہور مقولہ ہے مومن کی یہ حالت ہونی چاہئے که دست در کار و دل با یار – ایسا انسان بظاہر تجارت کر رہا ہوتا ہے یا صنعت و حرفت کا کام کر رہا ہوتا ہے مگر اس کا سودا کرنا بھی خدا کی محبت کو ابھارنے والا ہوتا ہے۔ اور اس کا تجارت کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کو کھینچتا ہے۔
سید عبد القادر صاحب جیلانی کے متعلق لکھا ہے وہ ہمیشہ نہایت فاخرہ لباس پہنا کرتے اور اچھے سے اچھا کھانا کھایا کرتے۔ ان پر کسی نے اعتراض کیا تو آپؒ نے فرمایا میں تو اس وقت تک کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا اے عبدالقادر! تجھے میری ہی ذات کی قسم فلاں قسم کا کپڑا پہن۔ اور میں نہیں کھاتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے نہیں کہتا اے عبد القادر! تجھے میری ہی ذات کی قسم فلاں قسم کا کھانا کھا ۔ اب وہی لباس اور وہی کھانا جو ایک دو سرے انسان کے لئے دنیا ہے سید عبدالقادر صاحب جیلانی کے لئے دین بن گیا۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ کسی کام کے لئے کہے کہ ایسا کر تو وہ دین نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر ایک شخص نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ اس کے دوست کہتے ہیں کہ تو نماز پڑھا کریا یہ کہ اگر اس نے نماز نہ پڑھی تو لوگ اعتراض کریں گے کہ تو بے نماز ہے وہ تو نماز پڑھ کر دنیا کماتا ہے اور دین حاصل نہیں کرتا۔ اسی طرح میں نے دیکھا ہے لوگ حج کو جاتے ہیں مگر اکثر اس لئے جاتے ہیں کہ حاجی کہلائیں اور لوگ ان سے خوش ہو جائیں۔ ایسے لوگ بھی دین کا کام کر کے دنیا کماتے اور دین سے دور ہو جاتے ہیں۔
میں جب حج کو گیا تو میں نے ایک شخص دیکھا کہ وہ منٰی کو جاتے ہوئے جب خصوصیت سے اس بات کا حکم ہے کہ تسبیح و تحمید کی جائے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو اور عام باتیں نہ کی جائیں نہایت ہی گندے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا۔ اتفاق سے آتے وقت ہم جہاز میں اکٹھے ہو گئے۔ میں نے اس وقت دریافت کیا تو وہ کہنے لگا میں حج کے لئے نہیں آتا تھا۔ مجھے تو میرے باپ نے مجبور کر کے یہاں بھیج دیا۔ وجہ یہ کہ ہمارے ارد گرد جس قدر دکان دار ہیں وہ سب حاجی بن گئے ہیں اور لوگ ان سے زیادہ خرید و فروخت کرتے ہیں۔ میرے باپ نے مجھے بھیجا کہ میں بھی حاجی بن جاؤں تالوگ ہمارے ہاں سے مال خریدیں۔ اس شخص کی اخلاقی حالت یہاں تک گری ہوئی تھی کہ ایک نابینا شخص نے چالیس روپے اس کے پاس امانت رکھے مگر وہ کھاگیا۔ حالانکہ وہ مالدار تھا اور جو حالات اس نے بیان کئے ان سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ لکھ پتی ہے۔ مگر باوجود اس کے وہ ایک اندھے کے چالیس روپے امانت کے کھا گیا اور اسے کچھ بھی حیا نہ آئی بلکہ اپنے آپ کو ایسا دیندار سمجھتا تھا کہ جب اسے پتہ لگا کہ میں کون ہوں اور کہاں کا رہنے والا ہوں تو ایک دن جبکہ میں تختہ جہاز پر ٹہل رہا تھا وہ مجھے دیکھ کر اونچی آواز سے کہنے لگا میں حیران ہوں ایسا شخص اس جہاز پر ٹہل رہا ہے اور پھر بھی یہ جہاز غرق نہیں ہوتا۔ مجھے اس کی اس بات پر ہنسی آئی اور میں نے دل میں کہا کہ آخر یہ خود بھی تو اسی جہاز پر ٹہل رہا ہے۔ غرض ایسا حج اگر چہ بظاہر دین کا کام دکھائی دیتا ہے مگر یہ دین کا کام نہیں بلکہ دنیا کا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض دنیاوی کام ہوتے ہیں کہ وہ ایک وقت میں دینی ہو جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیمار ہوئے۔ آپ کو بخار اور سخت کھانسی کی تکلیف تھی۔ اس قدر کھانسی کہ ڈاکٹر عبد الحکیم نے یہ سن کر اعلان کر دیا کہ ان کو سِل ہو گئی ہے۔ اور یہ اسی مرض سے فوت ہوں گے۔ عبدالحکیم کا چونکہ شیطان سے تعلق تھا اور شیطان کا کام ہی ہے کہ وہ جھوٹی خبریں دیا کرتا ہے اور وہ بھی واقعہ کے بعد اس لئے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیمار ہوئے شدید کھانسی اور بخار کی تکلیف ہوئی یہ خبر سن کر عبدالحکیم نے اعلان کر دیا کہ ان کو سِل ہو گئی ہے۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو سخت کھانسی تھی اور چونکہ دوائی مَیں پلایا کرتا تھا اس لئے مجھے آپ کی حالت معلوم ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن کوئی دوست آئے اور کچھ پھل بطور تحفہ لائے۔ حضرت مسیح موعود اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا پھل ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کیلا ہے اور سنگترہ یا کوئی اَور چیز جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہی۔ لیکن وہ نزلہ پیدا کرنے والی ترش چیز تھی۔ آپ نے فرمایا کہ لاؤ مجھے کھانے کے لئے دو۔ میں چونکہ دوائی پلایا کرتا تھا اس لئےمیں اپنے آپ کو ڈاکٹری کا ماہر خیال کرتا تھا۔ میں نے کہا آپ کو سخت کھانسی ہے اور یہ چیزیں کھانسی میں مضرّ ہوتی ہیں ، اس لئے آپ نہ کھائیں۔ مگر آپ مسکرائے اور فرمایا نہیں میں کھانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی اور موقع ہو تا تو میں نہ مانتا مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد تھا اس لئے میں نے پھل پیش کر دیا اور آپ کھانے لگے۔ میں دل میں کڑھتا کہ اب آپ کو کھانسی کی زیادہ تکلیف ہو جائے گی۔ مگر آپ کھاتے جاتے اور مسکراتے جاتے۔ جب کھا چکے تو فرمایا مجھے ابھی کھانسی کے دور ہونے کے متعلق الہام ہو ا تھا۔ چونکہ الہام یہ بتاتا تھا کہ اب کھانسی جاتی رہی ہے اس لئے اس وقت میرا پر ہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو تا۔ اب دیکھو وہی پھل جو عام انسان کے لئے کھانا دنیا ہے اور وہی پھل جس کا نزلہ اور کھانسی کے مریض کے لئے کھانا منع ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ثواب کا موجب بن گیا اور ہمارے لئے ایمان کی ترقی کا باعث ہوا۔ غرض یہ ایک عام جہالت ہے جو اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ دین اور دنیا کے کاموں کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اور
مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ بھی اس غلط فہمی میں مبتلاء ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض الفاظ ہوتے ہیں کہ یہ کام دین کا ہے اور یہ دنیا کا۔ اور وہ اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ساری دینی چیزیں ایک وقت میں دنیاوی بن جاتی ہیں اور ساری دنیاوی چیزیں ایک وقت میں دینی ہو سکتی ہیں۔
حالات کے مطابق ان باتوں میں تغیر ہو تا رہتا ہے۔ اور پھر ان کی بھی آگے اقسام ہیں اور ان اقسام کی آگے اقسام ہیں۔ اور انہیں کے صحیح طور پر جاننے کا نام عرفان ہے۔
یہی چیزیں جن کو عام لوگ نہیں سمجھتے جب ایک انسان ان پر غور کرتا اور سمجھ لیتا ہے تو وہ عارف بن جاتا ہے۔
ابھی جب ہم ڈلہوزی سے آرہے تھے مفتی صاحب میرے ساتھ تھے۔ کوئی بات انہوں نے نجات کے متعلق کہی۔ میں نے کہا میں تو سمجھتا ہوں کہ عرفان کے ساتھ ہی نجات کا مفہوم بھی بدلتا جاتا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر الہٰی صفات کے مطابق ہم حقیقی نجات کی تفصیلات کو بیان کرنا شروع کریں تو کئی اپنے آدمی بھی ہمیں ملحد اور کافر کہنے لگ جائیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ صفات الہٰیہ کے ماتحت ہم جو نجات کا مفہوم دیکھتے ہیں وہ بالکل مختلف ہے اس سے جو عام لوگ سمجھ رہے ہیں۔ عام آدمی صرف اتناہی دیکھتے ہیں کہ میں فلاں پارٹی میں ہوں اور دوسرا شخص فلاں پارٹی میں۔ پس میرا جنت حاصل کرنے کا حق ہے لیکن دو سرا دوزخ میں جائے گا۔ حالانکہ اگر ہم اس امر کو صفات الٰہیہ کے ماتحت دیکھیں تو بسا اوقات جسے کوئی دوزخ کا اہل قرار دے رہا ہو گا جنت کا وارث ہوجائے گا۔ اور جنت کا اپنے آپ کو حقدار سمجھنے والا دوزخ میں گر جائے گا۔ اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ لیکن کئی نادان ایسے ہوں گے کہ اگر میں اس کی مزید تشریح کروں تو وہ کہیں گے اس میں کچھ الحاد کا رنگ پایا جاتا ہے۔ حالانکہ در حقیقت ان کا ایسا کہنا اس بات کا نتیجہ ہو گا کہ انہیں خدا تعالیٰ کی صفات پر نگاہ دوڑانے کا موقع نہیں ملا اور مجھے خدا تعالیٰ کی مختلف صفات دیکھنے کا موقع مل گیا۔ پس وہ ایماندار تو کہلائیں گے لیکن ان میں اور مجھ میں وہی فرق ہو گا جو بینا اور نابینا میں ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکیوں اور بدیوں کی اتنی اقسام ہیں اور حالات کے مطابق جو ان میں تغیر ہوتا ہے وہ اتنا وسیع ہے کہ بسا اوقات جس کو ہم نیکی سمجھ رہے ہوتے ہیں بدی ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات جس کو ہم بدی سمجھ رہے ہوتے ہیں نیکی ہوتی ہے۔ کئی بے وقوف ایسے ہیں جو اب بھی کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ بات کہ آپ اچھے کپڑے پہن لیتے اور اچھا کھانا کھا لیا کرتے تھے ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور اس اعتراض کا حل بڑا مشکل ہے حالانکہ یہ محض جہالت کی بات ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے لئے جو چیز بدی ہوتی ہے دوسرے کے لئے نیکی ہوجاتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا فلاں کے ہاتھ میں میں کسریٰ کے کنگن دیکھتا ہوں۔ اور جس کے متعلق آپ نے فرمایا وہ عورت نہیں بلکہ مرد تھا۔ اور مردوں کے لئے کنگن پہننا نا جائز ہے۔ مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے ایسے دیکھا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایک دفعہ حضرت عمرؓ کو رسول کریم ﷺ نے ریشمی جبہّ دیا۔ آپ اسے پہن کر مجلس میں آئے۔ جب رسول کریمﷺ نے دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا۔ اور آپ نے فرمایا یہ کیا کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا یا رسول اللہ! آپ نے ہی تو مجھے یہ ریشمی جبہ دیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا دینے کے یہ معنے تو نہیں تھے کہ خود پہن لو گے۔ اب دیکھو وہی رسول کریم ﷺ جو یا تو ریشم کا جبہ پہننے پر ناراض ہوتے ہیں یہ فرماتے ہیں کہ فلاں شخص کے ہاتھ میں میں کسریٰ کے کنگن دیکھتا ہوں۔ آخر ایک زمانہ آیا کہ کسریٰ کی حکومت کو مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور کسریٰ کے کنگن مال غنیمت میں آئے۔ اس وقت وہی عمر جو ریشم کا جبہّ پہننے پر زجر کھا چکے تھے اس شخص کو بلاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کنگن پہن لو۔ وہ صحابی پروٹسٹ کرتا اور کہتا مردوں کے لئے کنگن پہننا نا جائز ہے۔ مگر آپ کہتے میں جائز نا جائز نہیں جانتا۔ انہیں پہنو ورنہ میں کوڑے ماروں گا۔ میں نے رسول کریم ﷺ سے تمہارے متعلق سنا ہے کہ آپ نے تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھے آخر اسے کنگن پہنائے گئے۔ غرض وہی کنگن جو میرے اور تمہارے ہاتھ میں گناہ بن جاتے ہیں اس صحابی کے ہاتھ میں ثواب کا موجب ہو گئے۔ پس
عارف انسان وہی ہوتا ہے جو ہر چیز کی حقیقت سمجھ کر اس کے مطابق سوچتا اور عمل کرتا ہے۔
اور انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ انسان موقع اور محل دیکھ کر کام کرتا ہے۔ مگر جانور کے لئے ایک راستہ مقرر ہے جس پر وہ بلا سوچے سمجھے چلا جاتا ہے۔
میں نے پچھلے دنوں جب کشمیر کا کام شروع کیا تو کئی اپنی جماعت کے لوگ مجھے کہتے کہ یہ دنیا کا کام ہے اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کی بینائی ہوتی تو وہ سمجھتے کہ یہ دنیا کا کام نہیں بلکہ دین کا کام ہے۔ اسی طرح کئی اور ایسے کام ہیں جو دنیا کے نظر آتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ دین کے ہیں اور جب میں ان میں دخل دوں تو بعضوں کو ٹھو کر لگ جاتی ہے۔ مگر میں ایسے موقعوں پر ان کی ٹھوکر کی پرواہ نہیں کیا کر تا کیونکہ ہم کسی کے اعتراض کرنے سے سچائی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر چہ اس وقت میرے ذہن میں کئی ضروری باتیں ہیں مگر میں دوستوں کو ایک خاص بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی بہت توجہ دلائی ہے۔ مگر کئی دوست ایسے ہیں کہ وہ اسے بھی دنیا کا کام خیال کرتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود عليه الصلوٰۃ والسلام نے اس امر پر بہت ہی زور دیا ہے اور اتنا زور دیا ہے کہ اس پر عمل کرنا دین کی باتوں پر عمل کرنے کے مترادف ہو گیا ہے کہ ملک سے فتنہ و فساد کی روح کو مٹانا اور امن شکن تحریکات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے میں انہیں احمدی ہی کہوں گا کیونکہ نابینا بھی آخر انسان ہی کہلاتا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔ انہیں شرم کیوں آتی ہے اس لئے کہ ان کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی۔ اگر ان کی اندرونی آنکھ کھلی ہوتی تو وہ سوچتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تائید کےبدلہ میں انگریزوں سے کیا حاصل کیا۔ دنیا میں جو شخص کوئی تعلیم دیتا یا کسی کی تائید کرتا ہے تو وہ عموماً کسی فائدے کے لئے ہی کرتا ہے یا کوئی بات اس لئے بری یا شرم والی کہلا سکتی ہے کہ اس میں ہمارا ذاتی فائدہ ہو۔ مگر
کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کبھی اس کے بدلہ میں گورنمنٹ سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بجائے کوئی فائدہ اٹھانے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی تمام زندگی میں گورنمنٹ سے تکلیفیں اٹھاتے رہے۔ کبھی مقدمات آپ پر دائر ر ہے ، کبھی مکانات کی تلاشیاں ہو ئیں ، کبھی پولیس والے آموجود ہوتے ، کبھی کوئی شاخسانہ کھڑا کر دیا جاتا اور کبھی کوئی اور۔
اس طرح ساری عمر حضرت مسیح موعود عليه الصلوٰۃ والسلام انگریزی حکومت سے تکلیف اٹھاتے رہے۔ مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچا اور باوجود اس کے کہ ہمیشہ آپ کو تکلیفیں دی جاتی رہیں ، آپ ہمیشہ ملک میں فساد کو روکنے اور امن شکن تحریکات کو کچلنے کی تعلیم دیتے رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے قریب جاکر انگریزوں میں ایک شخص پیدا ہوا اور وہ پہلا شخص تھا جس نے انگریزوں میں سے محسوس کیا کہ احمدیہ جماعت پر اس کی عظیم الشان خدمات کے باوجود بےانتہاء ظلم کیا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اسے بھی زیادہ دیر زندہ رہنا نصیب نہ ہوا۔ وہ سابق گورنر پنجاب سرڈ ینزل ایبٹسن تھے۔ ان سے پہلے ہر احمدی کو باغی سمجھا جاتا رہا اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ لوگ حکومت کا باغی سمجھتے رہے۔ گو ظاہر میں ایسا نہیں کہتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ انگریز پہلے یہی خیال کرتے تھے کہ احمدیہ جماعت باغیوں کا گروہ ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گو ظاہر میں گورنمنٹ برطانیہ سے وفاداری کا اظہار کرتے ہیں مگر در پردہ حکومت کے خلاف ہیں۔ سرڈ ینزل ایبٹسن جب گور نر ہوئے تو انہوں نے کہا افسوس ہے کہ وہ جماعت جو سب سے زیادہ گورنمنٹ کی وفادار تھی اس پر سب سے زیادہ ظلم کیا گیا۔ اور چونکہ وہ بیماری میں ہی گور نر ہوئے تھے اس لئے کہنے لگے اگر خدا نے مجھے زندگی دی تو میں اس ظلم کے ازالہ کی کوشش کروں گا۔ لیکن وہ اس بیماری سے جان بر نہ ہو سکے اور جلد ہی فوت ہوگئے۔ اس لحاظ سے کہ انہوں نے ان مظالم کو جو حضرت مسیح موعود عليه الصلوٰة والسلام پر ہوئے محسوس کیا ہمارے دل میں ان کی عزت بہت سے گورنروں، وائسراؤں بلکہ کئی بادشاہوں سے بھی زیادہ ہے اور ہم ان کا بہت زیادہ ادب اور احترام کرتے ہیں۔ پس اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو گورنمنٹ سے ذرہ بھر بھی فائدہ نہ ہوا پھربھی آپ نے گورنمنٹ کی تائید کی اور اپنی ہر کتاب میں اس کا ذکر کیا۔ اس میں شبہ نہیں حالات کے بدلنے سے بعض تبدیلیاں بھی ہوجاتی ہیں اور میں اس امر کا قائل ہوں۔ مگر دنیا میں کبھی اصول نہیں بدلا کرتے۔
جب ملک میں فتنہ و فساد برپا ہو جب لوٹ مار اور قتل کے واقعات ہو رہے ہوں اور جب بےگناہوں پر بلاوجہ گولیاں چلائی جاتی اور دہشت انگیزی کے حادثات رونما ہوتے ہوں، اس وقت ہر مومن کا کام ہے کہ وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے کھڑا ہو اور وہ اس وقت تک چین نہ لے جب تک ایسی امن شکن تحریکات کا کلی طور پر سد باب نہ ہو جائے۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: عید انہی کی ہےجنہوں نےاپنے فرائض مفوّضہ کو پورا کیا




