جماعت احمدیہ جاپان کی بعض مساعی
جاپان میں فصلوں کی کاشت کے موسم کا آغاز اور شنتو مت کی دعائیہ تقریب
جاپان کا قومی مذہب شنتوازم مظاہر فطرت کی عقیدت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ شنتومت ہر چیز میں خدا کے جلوہ کا قائل ہے بلکہ بسا اوقات انہی مظاہر فطرت کو خدا سمجھ لیا جاتا ہے۔ شنتو معابد بتوں سے خالی ہوتے ہیں مگر ہر چیز میں خدا کی جلوہ گری کا تصور اس مذہب کو وحدت الوجود کے عقیدہ سے ملتا جلتا بنادیتا ہے۔
مورخہ ۱۷؍فروری ۲۰۲۶ء کو ناگویا میں Wakamiya Hachiman Shrine (جو شنتو مت کی ایک معروف عبادت گاہ ہے) میں مکرم انیس رئیس صاحب صدر جماعت و مبلغ انچارج جاپان اور دیگر مبلغین جاپان کو، ان کی عبادت کے ایک خصوصی دن کے موقع پر مدعو کیا گیا۔

یہ عبادت خاص طور پر سردیوں کے رخصت ہونے اور بہار کی آمد کے ساتھ فصلوں کی کاشت کے موسم کے حوالے سے تھی۔ اس موقع پر جاپان بھر میں شنتو معابد، دعاؤں اور عبادات کا اہتمام کرتے ہیں اور یہ مناجات کرتے ہیں کہ اس سال چاول کی فصل خصوصاً اور رزق کے دیگر ذرائع عموماً طوفانوں، مصائب اور قدرتی آفات سے محفوظ رہیں اور ملک ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن رہے۔
جب ہم شنتو معبد پہنچے تو معبدکے مذہبی پیشوا اور ان کے نائبین مختلف رنگوں کے روایتی لباس میں خوش آمدید کہنے کے ليے موجود تھے۔ انہوں نے جاپان کے روایتی انداز میں جھک کر تقریب میں شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔ شنتو روایات کے مطابق مخصوص عبادات کے موقع پر مذہبی پیشوا سر پر مخصوص ٹوپی پہنتے ہیں جبکہ عبادت میں شریک دیگر مہمانوں کا ٹوپی کے بغیر شامل ہونا روایات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

چونکہ یہ تقریب جاپان میں فصلوں کی کاشت کے موسم کے حوالے سے تھی لہٰذا تقریب کے پہلو میں یہی رنگ جھلک رہا تھا۔ معبد کے مرکزی مقام پر دعائیہ رنگ میں چاول، درختوں کے پتے اور مختلف انواع واقسام کے پھل نذر کيے گئے، معبد کے سربراہ نے جاپانی زبان میں آفات اور مصائب سے بچنے کی دعائیں کیں اور شنتو مت کے ماننے والے بعض نمائندہ احباب نے درختوں کے سرسبز پتوں کو معبد کی نذر کرتے ہوئے ملک کی خوشحالی اور خوش بختی کے ليے دعائیں پیش کیں۔
بعد ازاں مہمانوں کی تواضع جاپانی ثقافتی کھانوں سے کی گئی۔ پروگرام کے اختتام پر ہیڈ پریسٹ کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی جس میں شنتو مت کی عبادات کے طریق، خصوصاً چاول سے متعلق مذہبی و ثقافتی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اسلام میں رزق کی اہمیت، اس کی قدرو منزلت اور دیگر خوبصورت اسلامی تعلیمات کا تعارف بھی پیش کیا گیا۔ مزید برآں انہیں مسجد کے دورہ کی دعوت بھی دی گئی۔
جاپان میں بین المذاہب تقریب میں مختلف ممالک کے سفراء اور جماعت احمدیہ کی شرکت
ٹوکیو میں انٹرفیتھ کاؤنسل کی دعوت پر جماعت احمدیہ جاپان کے وفد نے مورخہ ۱۸؍فروری ۲۰۲۶ء ٹوکیو کے علاقے شنجوکو میں واقع ایک یہودی معبد میں Holocaust Remembrance Day کے حوالے سے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں مختلف ممالک کے سفیروں، جاپانی ممبران پارلیمنٹ، مذاہب عالم کے نمائندگان اور دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر بطور نمائندہ اسلام، جماعت احمدیہ جاپان کی طرف سے مکرم نیشنل صدر و مبلغ انچارج صاحب کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ ان کے توسط سے مبلغین جاپان کو بھی اس تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔

تقریب کے دوران مختلف سفیروں اور سیاسی شخصیات سے تعارف کا موقع ملا۔ خصوصاً اسرائیلی سفیر نے اسلام احمدیت کے نمائندگان کو دیکھ کر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔
ملاقاتوں کے دوران صدر صاحب نے جماعت احمدیہ کا تعارف کرواتے ہوئے اسلام کی پر امن اور حقیقی تعلیمات کے بارے میں بتایا نیزمسجد آنے کی دعوت بھی دی۔
اللہ تعالیٰ ایسے مواقع اسلام کے پُرامن پیغام کو دنیا کے مختلف طبقات تک پہنچانے کا ذریعہ بنائے اور باہمی احترام و ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہو۔ آمین
مسجد بیت الاحد، جاپان کا مقامی لوگوں کا دورہ
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد بیت الاحد، جاپان کے دورہ کے لیے مقامی جاپانی احباب پر مشتمل ایک معزز وفد مورخہ ۲۱؍فروری ۲۰۲۶ء کو تشریف لایا۔ وفد کا نہایت خوش اخلاقی اور محبت بھرے انداز میں استقبال کیا گیا اور انہیں مسجد کا تعارف کرواتے ہوئے اس کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کیے گئے۔
دوران دورہ مہمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کا جامع تعارف پیش کیا گیا جس میں توحید، رسالت، عبادات، اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کے اصولوں پر روشنی ڈالی گئی۔ خصوصی طور پر قرآن کریم کی حقوق العباد پر مشتمل خوبصورت تعلیمات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ مہمانوں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور نہایت توجہ سے گفتگو سنی۔ آخر میں انہیں تعارفی لٹریچر بھی بطور تحفہ پیش کیا گیا تاکہ وہ مزید مطالعہ کر سکیں۔

خوش آئند امر یہ تھا کہ دورہ کرنے والے جاپانی احباب نے اپنے مثبت تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ دوبارہ اپنے مزید ساتھیوں کے ساتھ مسجد کے دورہ کی خواہش ظاہر کی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
جماعت احمدیہ جاپان میں جلسہ یوم مصلح موعود کا بابرکت انعقاد
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ جاپان کو مورخہ ۲۲؍فروری ۲۰۲۶ء کو جماعت ناگویا کے زیر اہتمام مسجد بیت الاحد میں جلسہ یوم مصلح موعود منعقد کرنے کی توفیق ملی۔
جلسہ کی صدارت مکرم مبلغ انچارج صاحب جاپان نے کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم و نظم سے ہوا۔ مکرم نابغ محمود صاحب مبلغ سلسلہ نے پیشگوئی مصلح موعود کے الفاظ پڑھ کر سنائے بعدہٗ خاکسار (مبلغ سلسلہ) نے یوم مصلح موعود منانےکے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کی روشنی میں موجودہ دور میں اس پیشگوئی کی اہمیت اور خلافت سے وابستگی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں مکرم حزقیل احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے جاپانی زبان میں تقریر کرتے ہوئے مقامی مہمانوں کو پیشگوئی مصلح موعود کا تعارف کروایا اور حضرت مصلح موعودؓ کے علمی، تبلیغی اور انتظامی کارناموں پر روشنی ڈالی۔ مکرم مرزا حامد بیگ صاحب صدر جماعت ناگویا نے نئے آنے والے مربیان سلسلہ کو خوش آمدید کہا اور احباب جماعت کو تلقین کی کہ وہ مربیان کرام سے قریبی تعلق رکھیں، ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور دینی و تربیتی امور میں ان سے استفادہ کرتے رہیں۔ اختتامی کلمات میں مکرم صدر صاحب نے رمضان المبارک کی مناسبت سے خصوصی دعاؤں کی تحریک کی اور اجتماعی دعا کے بعد یہ بابرکت پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔
جاپان کے قومی دن کے موقع پر مسجد بیت الاحد میں ایک دعائیہ تقریب
جاپان بھر میں ۲۳؍فروری کو شہنشاہ جاپان کی سالگرہ منائی جاتی ہے اور اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف تقریبات اور پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ جاپانی روایات کے مطابق شہنشاہ اپنے اہل خاندان کے ساتھ بالکونی میں نمودار ہوتے اور ہاتھ ہلاکر اپنے پرستاروں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد بیت الاحد جاپان میں اس مناسبت سے ایک دعائیہ تقریب کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر ایک مشہور جاپانی تنظیم نے کیلیگرافی کا خوبصورت مظاہرہ پیش کیا اور قرآن کریم کی آیات کو عربی اور جاپانی زبان میں خوش خطی سے تحریر کرکے جاپان کی سلامتی اور خوشحالی کے ليے دعائیں کی گئیں۔
اس سلسلہ میں وفد نے سب سے پہلے مسجد بیت الاحد کا دورہ کیا جس دوران مہمانوں کو مسجد بیت الاحد کا تعارف کروایا گیا۔ مکرم نیشنل صدر ومبلغ انچارج صاحب نے مہمانوں کو مسجد بیت الاحد میں خوش آمدید کہا۔ تنظیم کے سربراہ جناب Miyamoto صاحب نے بتایا کہ تقریباً دس سال قبل جماعت احمدیہ سے تعارف کے دوران جب انہیں قرآن کریم کی تعلیم اور آنحضرتﷺ کے ارشادات سے آگاہی ہوئی تو وہ اس خوبصورت تعلیم کے گرویدہ ہوگئے، خصوصاً یہ حدیث کہ ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے‘‘ سن کر وہ بےحد متاثر ہوئے۔
تقریب کے باقاعدہ آغاز کے بعد اسلامی لباس میں ملبوس ایک خاتون کیلیگرافر نے نہایت خوبصورتی سے جاپانی زبان میں امن کا پیغام تحریر کیا اور قرآن کریم کی آیت ’’نٓ وَالۡقَلَمِ وَمَا یَسۡطُرُوۡنَ‘‘بھی لکھی۔ نیز اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًاکا جاپانی ترجمہ نہایت خوش خطی سے تحریر کیا۔
بعد ازاں حاضرین نے بھی امن اور سلامتی کے پیغام پر مبنی اقوال اور نصائح خوش خطی سے تحریر کیں۔ اس موقع پر مکرم نیشنل صدر صاحب نے مختصر تقریر کرتے ہوئے شہنشاہ جاپان کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے جاپان کی امن و سلامتی اور قیامِ امن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اس پروگرام میں ۲۰؍جاپانی مہمانان کرام نے شرکت کی اور کیلیگرافی کی تقریب کے بعد مکرم حزقیل احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے مہمانوں کو اسلام کا تعارف کروانے کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے امن عالم کے بارہ میں ارشادات جاپانی ترجمہ کے ساتھ پیش کيے۔ نیز مہمانوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے موجودہ زمانہ میں امن عالم کے ليے اسلام احمدیت کے کردار اور حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں مہمانوں کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔
جاپان کے قومی دن کے موقع پر بین المذاہب کانفرنس میں جماعتی وفد کی شرکت
اسی روز ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ایسی ہی ایک تقریب جاپان کے شہر کوبے میں منعقد ہوئی جس میں اسلام، یہودیت، مسیحیت، بدھ مت اور شنتو مذہب کے نمائندگان شامل ہوئے۔
یاد رہے کہ یہ تقریب ایک یہودی معبد میں منعقد ہوئی جس میں اسلام کی نمائندگی مکرم مبلغ انچارج صاحب جاپان، مکرم نابغ محمود صاحب مبلغ سلسلہ جاپان اور خاکسار (مبلغ سلسلہ) نے کی۔یہودیت کی طرف سے ربی سموئیل صاحب، مسیحیت کے فرقہ رومن کیتھولک کی طرف سے کوبے کے بشپ صاحب اور بدھ مت کی نمائندگی میں ایک مشہور راہب جناب ناکاجیما صاحب شریک ہوئے۔
سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داریاں مکرم مبلغ انچارج صاحب نے اداکیں جبکہ اس پروگرام کے میزبان جناب Tatsuhiko Miyamotoصاحب نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ جاپان میں بسنے والے تمام مذاہب باہم محبت اور ہم آہنگی کی فضا میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے دنیا میں قیام امن کے لیے ایک مثال بننے والے ہوں۔
مکرم مبلغ انچارج صاحب نے اسلامی تعلیم کے چند نمونے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام دیگر مذاہب کے احترام اور باہم بات چیت کے فروغ پر زوردیتا ہے ۔ تمام مذاہب کے بانیوں اور اسلام سے پہلے کے انبیاء اور برگزیدہ ہستیوں کو بھی نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مشترک باتوں پر اکٹھا ہونے کی دعوت دے کر امن عالم کی بنیاد ڈالتا ہے ۔
بین المذاہب کانفرنس کے بعد یہودی معبد میں کیلیگرافی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں دنیا میں امن وعافیت کے قیام، جنگوں کے خاتمہ اور سب انسانوں کی فلاح و بہبود پر مشتمل خوبصورت پیغامات خوش خطی سے تحریر کیے گئےتھے۔
پروگرام کے اختتام پر بشپ آف کوبے کی دعوت پر مبلغین سلسلہ نے کوبے شہر کے مرکزی گرجے کا دورہ بھی کیا جہاں بشپ صاحب نے گرجے کی تاریخ اور اپنی سرگرمیوں کا تعارف کروایا۔
(رپورٹ:دانیال داؤد۔ مبلغ سلسلہ جاپان)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہیومینٹی فرسٹ جارجیا کا رمضان فوڈ پروگرام ۲۰۲۶ء




