ہماری پیاری والدہ سعیدہ بیگم صاحبہ
(طاہر احمد طارق۔نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ قادیان)
ماں کس کو پیاری نہیں ہوتی۔ قدرت نے دنیا میں ماں جیسی ایک عظیم رحمت رکھی ہے۔ جانوروں کی ہو یا پھر پرندوں وغیرہ کی ماں ہو، ہر کسی کو طبعی اور فطری طور پر ماں سے محبت ہوتی ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ ماں ہی ہے جس نے نہ صرف اپنے پیٹ میں رکھ کر اپنے خون سے پرورش کی بلکہ پھر پیدائش کے بعد تو زندگی کی آخری سانس تک اپنی اولاد کے لیے رحمت و شفقت کے پر پھیلائے رکھتی ہے۔ بلکہ اولاد چاہے کتنی ہی بڑی اور صاحبِ اولاد ہو جائے ماں کی ممتا اپنی اولاد کو دُکھی نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ اس وقت بھی جتنی طاقت اور بساط ہو اپنی اولاد کو اپنے پروں میں رکھنا چاہتی ہے۔
ہر ماں کی طرح میری پیاری والدہ بھی تھیں۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی جب ماں کو دیکھا تو ہر پل اولاد کے لیے آرام مہیا کرنے والی دیکھا۔ کون ایسا ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ ماں اپنے ہر بچے سے محبت نہیں کرتی وہ شخص وہ آنکھ نہیں رکھتا جس کو اپنی ماں میں محبت دکھائی نہیں دیتی۔
میں نے اس ابتدائی زمانہ میں جو ۱۹۷۸ء یا ۱۹۸۰ء کا ہوگا دیکھا کہ ہماری ماں صرف ماں نہیں، وہ باپ کا بھی کردار ادا کر رہی تھیں، نوکر بھی تھیں، مزدور بھی تھیں۔ غربت کا مقابلہ کرتے ہوئے ہماری ماں اپنے خاوند کے ساتھ مزدوروں جیسا کام کرتیں۔ جو ایک بہادر مرد کی طاقت میں نہیں ہوتا تھا۔ کس کے لیے ؟ اس لیے کہ وہ اپنے معصوموں کا نہ صرف اچھی طرح پیٹ پالنا چاہتی تھیں بلکہ ان کے روشن مستقبل کی فکر میں رہتی تھیں۔ اپنی ماں کو میں نے صحت کی حالت میں آرام کرتے نہیں دیکھا اور صحت کی حالت میں بھی بچوں کو آرام دلانے، اُن کی صحت کی فکر، اُن کی پڑھائی کی فکر اور اُن کی زندگی میں خوشیاں دیکھنے کی لگن میں رہتی تھیں۔ جس کے لیے میری ماں نے اپنی زندگی کے ہر آرام کو اپنے اوپر گویا حرام کر رکھا تھا۔ہر ماں کی طرح ہماری ماں بھی اپنی اولاد کی دینی، علمی، اخلاقی، اور تعلیمی ترقی دیکھنا چاہتی تھیں۔ اور اُس کے لیے اپنی قربانیاں پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتی تھیں۔ ماں کی نعمت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ناممکن ہے۔ اور نہ ہی کوئی شخص ماں کے حقوق ادا کر سکتا ہے۔
ہماری والدہ زندگی کا سفر کرتے کرتے مورخہ ۲۷؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو اپنے اصلی گھر اور مقام کی طرف روانہ ہوگئیں۔ والدہ اس وقت روانہ ہوئیں جس وقت ہمارے محبوب خلیفہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جلسہ سالانہ برطانیہ کا اختتامی خطاب فرما رہے تھے۔ یہ عاجز حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب سماعت کرنے کے ساتھ حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کا قریب سے دیدار بھی کر رہا تھا۔ جلسہ کے اختتام کے آدھ گھنٹہ بعد مجھے ہماری پیاری والدہ کے الوداع ہونے کی اطلاع ملی۔ حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب، دیدار، عالمی بیعت اور اُس کی عظیم روحانی کیفیت جو اسی روز ہوئی تھی دل عجیب لذت، سرور، مٹھاس اور تازگی محسوس کررہا تھا۔ اس لیے والدہ کی وفات کی خبر کا غم تلخ نہیں تھا بلکہ اس غم میں بھی ایک عجیب مٹھاس اور خوشبو لگی۔ ہر وفات پر جو اناللّٰہ وانا الیہ راجعون کہا جاتا ہے فوراً خاکسار نے کہا۔ بڑی ہی لذّت اور سکون کی کیفیت لگی۔ اور میں اس یقینِ کامل پر ہوں کہ خلافت کے دامن میں بیٹھ کر جو حظ اُٹھایا اسی کی عظیم برکت سے یہ حالت ہوئی۔
اللہ تعالیٰ ہماری والدہ مرحومہ کو اپنے ابدی گھر میں آباد رکھے۔ وہاں والدہ کو ہر خوشی، ہر آرام، ہر نعمت عطا کرے۔ اور والدہ مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔ فطری تقاضا ہے کہ یاد آتے ہی آنسو نکل جاتے ہیں۔ لیکن اے خدا ہم راضی ہیں اور ہمیں راضی رکھ اور تو ہی ہمیں صبر اور حوصلہ عطا فرما۔ آمین
ہماری والدہ کی پیدائش ریکارڈ کے مطابق ۱۹۵۰ء کو جماعت احمدیہ کالا بن کوٹلی میں ہوئی۔ اُن کے والد کا نام حسن محمد اور والدہ کا نام ناظر بی بی تھا۔ والدہ کی شادی چھوٹی عمر میں ہی ہو گئی تھی۔ ۱۹۶۴ءمیں شادی ہوئی اور ۱۹۶۵ء میں ہندو پاک کی جنگ کی وجہ سے پاکستان گئیں۔ پھر واپس چار کوٹ بھارت آ گئے۔ ہمارے خاندان میں احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت قاضی محمد اکبر بھٹی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے آئی۔
ہماری والدہ دنیاوی پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن انتہائی ذہین تھیں۔ گھر میں جو شخص بھی پرانی باتیں بھول جاتا تھا والدہ یاد دلاتی تھیں۔ والد صاحب لین دین، حساب وغیرہ والدہ سے کرواتے تھے۔ والد صاحب پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ والدہ قرآن کے علاوہ کچھ حد تک اُردو پڑھ سکتی تھیں۔ جب ہم چھوٹے بچے تھے والدہ لوریاں دلاتے ہوئے نظمیں سناتی تھیں اور بڑے لاڈ پیار سے پالتی تھیں۔ اور تربیت کے لیے جہاں سختی کی ضرورت ہوتی سختی بھی کرتی تھیں۔
ہماری والدہ ہر خاتون کی طرح خانہ داری امور کی نہ صرف مکمل ذمہ داری اُٹھاتی تھیں بلکہ والد صاحب کے شانہ بشانہ باہر کے کام، کھیتوں کے کام وغیرہ میں مکمل ساتھ دیتی تھیں۔ اپنے بچوں کی پرورش کے لیے دُور دراز سے خوراک کا سامان جو انسانوں اور جانوروں کی ضرورت ہوتی ہے، اپنے سر پر اٹھا کر لاتیں۔
ہماری والدہ بہت ہمت والی تھیں۔ والدہ کو زندگی میں آرام کرتے نہیں دیکھا۔ صحت کی خرابی میں بھی جب تک طاقت تھی اپنے سارے کام خود کرتیں اور کسی پر بوجھ بننا پسند نہیں کرتی تھیں۔ ہماری والدہ انتہائی نفاست پسند تھیں۔ کپڑوں کی، بستر کی، گھر کی صفائی کا بہت اہتمام کرتیں۔ برتن چاہے کتنا ہی صاف ہوجب تک خود نہ دھو لیں استعمال نہ کرتیں۔ سلیقہ شعاری، کفایت شعاری، قناعت، غریب پروری اور مہمان نوازی کو اپنا دستور بنائے رکھا۔
ہماری والدہ اپنے سارے بچوں سے محبت اور پیار کرتی ہی تھیں لیکن مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مجھ سے پیار کے علاوہ عزت بھی کرتی ہیں۔ خاکسار۱۹۸۸ء میں جامعہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوا تو پہلے سال ہی واپسی پر والدہ مرحومہ کا خاکسار کے ساتھ بات چیت کرنا بالکل بدل گیا تھا۔ یعنی ادب و احترام سے آپ کر کے بات کرتی تھیں۔ صرف یہ کہ یہ اب جامعہ احمدیہ میں داخل ہوگیا ہے واقفِ زندگی ہے۔ عجیب ادب واحترام کہ بعض دفعہ مجھے شرمندگی ہوتی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں میری والدہ مرحومہ نے میرے جامعہ احمدیہ میں داخلہ کے بعد کبھی مجھے کوئی گھریلو کام کرنے کے لیے نہیں کہا۔ یہ ادب کسی حد تک چھوٹے بھائی جو معلمِ سلسلہ ہے اُن کے ساتھ بھی تھا کہ آپ کہہ کر مخاطب ہوتی تھیں۔ بالکل یہی وصف خاکسار نے اپنی خالہ نور بیگم مرحومہ جن کی تدفین بھی بہشتی مقبرہ میں ہوئی ہے، میں بھی دیکھی کہ وہ بھی اپنے واقفینِ زندگی بچوں کے ساتھ ویسی ہی محبت اور احترام کا سلوک کرتی تھیں۔
جامعہ احمدیہ کے ابتدائی سالوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کی واپسی پر کسی گھریلو معاملہ میں خاکسار ناراض ہوا اور آتے وقت یہ کہہ دیا کہ اب آئندہ گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر نہیں آؤں گا، والدہ نے عین گرمیوں کی چھٹیوں سے قبل ہمارے ماموں زاد بھائی کو یہ بات بتائی تو انہوں نے مجھے گھر بلانے کے لیے یہ سکیم بنائی کہ ایمرجنسی ٹیلی گرام بھجوا دی کہ Mother serious, come soon۔ سالانہ امتحان چل رہے تھے۔ اچانک ایسی ٹیلیگرام ملنے پر ہیڈماسٹر صاحب کو دکھائی۔ انہوں نے شفقت سے رخصت دی کہ آپ کا امتحان بعد میں لے لیں گے۔ ٹیلی فون کا زمانہ نہیں تھا کہ حال دریافت کرتا۔ قادیان سے چار کوٹ کے سفر میں سو سو خیالات آئے کہ کیا پتا والدہ فوت ہو چکی ہوں گی۔ مجھے دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔ پورا سفر سینکڑوں خیالات دل میں بسائے ہوئے چارکوٹ پہنچا تو والدہ بخیر و عافیت تھیں۔ والدہ کو انتہائی تکلیف ہوئی کہ ایسا ٹیلی گرام کیوں کیا گیا۔ پھر خاکسار نے اُسی روز واپس آکر بقیہ امتحان دیا۔
جامعہ احمدیہ کے بعد خاکسار میدانِ تبلیغ میں صوبہ ہریانہ میں متعین تھا یہ غالباً ۲۰۰۴ء یا ۲۰۰۵ء کی بات ہے کہ بذریعہ فون اطلاع ملی کہ ہماری والدہ پیٹ کے مرض سے کافی تکلیف میں ہیں۔
راجوری میں ڈاکٹروں کو دکھایا گیا اور انہوں نے کہا کہ فوری جموں لے جائیں۔ جموں میں ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ تکلیف آخری اسٹیج سے بھی گزر رہی ہے۔ حالت اچھی نہیں ہے۔ کسی وقت جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ خاکسار کو یہ اطلاع ملی تو ماں کی محبت، ایک جذباتی کیفیت، فوری حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا کے لیے فیکس کی گئی اور خاکسار نے کہا کسی طرح والدہ کو بٹالہ لے آئیں۔ خاکسار بھی قادیان اور بٹالہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ موبائل کا زمانہ تو تھا۔ سارا سفر والدہ کا خیال آتا کہ اتنی نازک حالت میں سفر میں کیا ہوگا۔ بہت دعائیں کیں۔ والدہ کے پاس یا اُن کے ساتھ بھائیوں کے پاس موبائل نہیں تھا۔ آخر نا چیز کے بٹالہ حاضر ہونے سے قبل ہی اطلاع ملی کہ والدہ صاحبہ کا کامیاب آپریشن ہو چکا ہے۔ کچھ دن والدہ کی عیادت کی، پھر والدہ کو گھر چھوڑ کر اپنی خدمت پر حاضر ہوا۔
آپریشن کے بعد والدہ مرحومہ صحت یاب نہیں رہیں۔ وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ بیماری آ گھیرتی۔ والدہ کو کھانسی کی شکایت تو اس سے بھی پرانی تھی۔ ڈاکٹروں کی تشخیص ہوتی کہ الرجی ہے، دوائی لی جاتی، وقتی آرام ہوتا اور ایک مرتبہ ٹی بی کی تشخیص ہوئی وہ دوائی استعمال کی۔ بہرحال وقتی آرام آتا پھر تکلیف بڑھ جاتی۔ لیکن ہماری والدہ بدستور ایسی بیماریوں میں بھی اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو ادا کرتیں۔ گھر کے کام کاج اور کھیتی کے بھی کام میں کچھ حد تک مدد کرتیں۔ یہ اس لیے کہ والدہ اپنے بچوں کی ساری ذمہ داریاں ادا کرنے کی فکر میں رہتیں۔
سال ۲۰۱۳ء میں خاکسار کی تقرری بطور نائب ناظر اصلاح و ارشاد قادیان ہوئی تو کئی مرتبہ والدہ صاحبہ سے درخواست کی کہ کچھ عرصہ قادیان آکر میرے پاس رہیں لیکن گھریلو ذمہ داریاں، والد صاحب کا خیال وغیرہ حالات بتا کر ٹال دیتیں۔
ہماری والدہ نے اپنے بچوں کی ذمہ داریاں ادا کر دی تھیں۔ صرف چھوٹا بھائی تھا کہ اس کا رشتہ نہیں ہو رہا تھا اور اس کے لیے انتہائی پریشان اور فکرمند رہتیں اور کئی مرتبہ اس بارہ میں مجھ سے اظہار کرتیں۔ خاکسار اُن کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کو دعا کے لیے لکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے والدہ کی اس خواہش کو بھی پورا فرمایا اور بھائی کو صاحبِ اولاد دیکھ کر رخصت ہوئیں۔
۲۰۲۴ء سے ہی والدہ انتہائی کمزور ہو چکی تھیں۔ اور کئی مرتبہ ایسی حالت ہو جاتی لگتا کہ بس اب شاید زندگی کے آخری ایّام ہیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر کچھ اس قسم کی تھی کہ اس نے مجھے لندن بھجوانا تھا اور پھر میری والدہ کو اپنے پاس بلانا تھا تاکہ حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کی معیت اور اقتدا میں نمازیں ادا کرنے، حضور کے دیدار اور پھر جلسہ کے عظیم روحانی ماحول سے روح تروتازہ رہے اور والدہ کی وفات کا غم ہلکا لگے۔
جی ہاں کچھ ایسا ہی ہوا۔ والدہ محترمہ قادیان میں تھیں جب خاکسار کی بطور نمائندہ جلسہ سالانہ یوکے کی منظوری آئی۔ تو خوشی کی انتہا۔ دوسری طرف والدہ کا خیال۔ والدہ سے روزانہ ملاقات کا معمول بنایا، باتیں کرتا، اور دعائیں کرتا۔ لندن جلسہ سے قبل ایک ماہ والدہ کو آبائی وطن کشمیر چارکوٹ لے گئے۔ کیونکہ قادیان میں گرمی کافی تھی۔ جلسہ کے لیے لندن آنے سے تین روز قبل خاکسار اپنی پیاری والدہ سے ملاقات کے لیے گیا۔ اجتماعی دعا کے بعد خاکسار نے آخری مرتبہ اپنی والدہ کو الوداع کہا۔
لندن آنے پر مورخہ ۱۶ تا ۲۶؍جولائی روزانہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں والدہ کی صحت کے لیے دعا کی درخواست کرتا رہا۔ عجيب اتفاق اور خدا کی تقدیر کہ مورخہ ۲۷؍جولائی کو والدہ کی صحت کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خط نہیں لکھ سکا۔ جلسہ گاہ میں خیال آیا تو ارادہ کیا کہ کمرے میں جا کر لکھوں گا۔ لیکن نہیں معلوم تھا کہ آج والدہ کی صحت یابی کے لیے دعا کے لیے نہ لکھنا تقدیر ہے۔ آج والدہ کی اپنے اصلی مقام اور مکان کی طرف روانگی ہے۔ اختتامی خطاب کے معاً بعد برادرم لقمان احمد صاحب قادر نے بڑی حکمت اور بڑے اہتمام سے مجھے بتایا کہ خالہ اللہ کے حضورحاضرہوگئی ہیں۔ خاکسار نے بےاختیار انا للّٰہ و انا الیہ راجعونکہا۔
ان الفاظ کے کہتے ہی دل کو تو عجیب سکون ملا لیکن طبعی اور فطری کمزوری کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ بھلا کیا کر سکتے ہیں۔ حضور کی محبتوں، شفقتوں اور وہ روحانی بارش جو کبھی حديقة المہدی میں برستی ہے اور کبھی قصرِ خلافت کے گردو نواح اور اسلام آباد کی سبزہ زار زمین پر برستی ہے۔ مجھے تو اس سے لطف اندوز بھی ہونا ہے۔ اب فوری والدہ کے جنازہ کا آخری دیدار تو مشکل نظر آرہا تھا۔ خلافت کی اس نعمت کی برکتوں جیسے ماحول میں بقیہ وقت گزارنا ہی باعثِ تسکین سمجھا۔ اُس اللہ تعالیٰ کی ذات کا کس قدر شکر ادا کروں کہ خلیفۂ وقت کی اقتدا میں نمازیں ادا کرنے اور ان کے سجدوں، رکوع میں ساتھ دعائیں کرنے سے والدہ کی جدائی کا غم ہلکا ہوتا گیا۔ جب والدہ کا خیال آتا یا اپنے بچوں اور چھوٹی بہن سے بات کرتا تو جذبات بہ جاتے اور آنسو رواں ہو جاتے لیکن دل میں کسی وقت بھی کوئی بھی بے چینی کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی۔ الحمدللہ علىٰ ذٰلك
والدہ کا جنازہ ۲۸؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو قادیان لایا گیا اور بعد نماز مغرب نمازِ جنازہ کے بعدبہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔
حضور ایدہ للہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲؍اگست ۲۰۲۵ء میں والدہ محترمہ کا ذکر خیر فرمایا۔ بعدازاں نماز جنازہ غائب پڑھایا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ نذیر احمد صاحب۔یہ انڈیا کی ہیں۔ یہ بھی گذشتہ دنوں پچھتر سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔ طاہر احمد طارق صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد قادیان کی والدہ تھیں۔ بطور جماعتی نمائندہ یہ طاہراحمد صاحب یہاں انگلستان میں آئے ہوئے تھے۔ پیچھے سے ان کی والدہ کی وفات ہو گئی۔ اس لیے یہ ان کے جنازہ میں شامل نہیں ہو سکے۔ یہ بھی خدمت کرنے والا خاندان ہے۔ ان کے چھوٹے بیٹے، طاہر صاحب کے بھائی شبیر احمد صاحب بھی سلسلہ کے معلم ہیں اور اسی طرح ان کی بیٹی بھی مبلغ سلسلہ جبار صاحب کی اہلیہ ہیں۔ باقی دو بیٹے جو ہیں وہ بھی جماعت کی خدمت کرنے والے ہیں۔ کافی خدمت گزار خاندان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔
طاہر احمد طارق صاحب لکھتے ہیں کہ گذشتہ پچیس سال سے سانس کی تکلیف میں مبتلا تھیں اور بڑے صبر اور وقار سے اپنا بیماری کا عرصہ گزارا۔ کبھی شکوہ شکایت نہیں تھا۔ ان کا تعلق چار کوٹ راجوری، جموں کشمیر سے تھا۔ خاندان میں احمدیت کا نفوذ حضرت قاضی محمد اکبر بھٹی صاحبؓ صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہوا۔ پھر ان کے خاندان میں احمدیت پھیلی۔ بہت دیندار اور نماز اور روزہ کی پابند تھیں۔ معمولی پڑھی ہوئی تھیں لیکن بچپن میں ہمیں جب شام ہوتی تو قرآنی دعائیں، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں، احادیث اور انبیاء کے واقعات سناتیں۔ طبیعت کے اندر نفاست کا بہت زیادہ عنصر تھا۔ ملنسار اور اپنے تمام عزیزو اقارب سے محبت و شفقت کا سلوک کرنے والی تھیں۔ خلافت اور نظام سلسلہ سے بہت محبت تھی اور خود اپنے شوق سے ہمیں وقف کیا اور وقف کو نبھانے کی ہمیشہ تلقین کرتی رہیں۔ اور ہمیں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ تیار کر کے بھجواتیں اور اسی طرح دنیاوی تعلیم کی طرف بھی توجہ دی۔ ساری اولاد کو اچھی تعلیم دلوائی۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔(الفضل انٹرنیشنل۱۲؍ستمبر ۲۰۲۵ء)
حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتدا میں نمازوں میں والدہ کی مغفرت کے لیے بہت دعائیں کیں۔ اللہ کی تقدیر ہی ایسی تھی کہ والدہ کے غم اور جدائی کو خلافت کی محبت نے سمیٹ لیا۔ دعا ہے کہ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعائیں اب والدہ کی مغفرت کے حق میں قبول ہوں۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکرم مرزا امتیاز احمد صاحب




