متفرق

صنعت وتجارت

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں: ’’ہمارے ہاں یہ بات رواج پکڑ گئی کہ جس کو کوئی علم ملا،اس نے سینہ بہ سینہ اپنی اولاد میں چلانا شروع کر دیا۔ اور یہ سینہ بہ سینہ کا محاورہ سوائے مشرق کے دنیا میں اور کہیں ملتا ہی نہیں ۔ عجیب و غریب محاورہ ہے اور لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ راز سات پشتوں سے سینہ بہ سینہ ہمارے خاندان میں چلا آرہا ہے۔ راز سینہ بہ سینہ تو آرہا ہے لیکن ساری قوم کو دفن کر گیا۔ مغرب نے اس کے برعکس اپنے علوم کو ترویج دی ہے ۔ اگر کسی کے ہاتھ چھوٹا سا نکتہ بھی آیا ہے تو اس نے اس کی تشہیر کی ہے اور تمام قوم کو اس میں شامل کیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہرفرد کی دولت ساری قوم کی دولت بن گئی ، صرف اس کی ذاتی دولت نہ رہی۔ اس طرح ہر فرد نے جو سیکھا ،وہ بھی اس کومل گیا اور اس نے آگے دوسروں کو بھی عطا کیا۔‘‘(خطبات طاہر جلد دوم صفحہ ۲۲۵)

(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button