قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
چوں نیائی زیرِ تابِ آفتاب
کَے فتد بر تو شعاعے در حجاب
جب تک تو سورج کی روشنی کے سامنے نہیں آتا۔ تو پردہ کے پیچھے تجھ پر اس کی روشنی کیونکر پڑ سکتی ہے
آبِ شور اندر کفت ہست اے عزیز
نازہا کم کن اگر داری تمیز
اے عزیز! تیری ہتھیلی میں تو کھاری پانی ہے۔ اگر کچھ تمیز ہے تو اس پر فخر نہ کر
آبِ جاں بخشی ز جاناں آیدت
رَو طلب میکن اگر جاں بایدت
زندگی بخش پانی تو محبوب سے ملے گا۔ اگر زندگی درکار ہے تو جا اور اُس سے مانگ
ہست آں آب بقا بس ناپدید
کس بجز مصباحِ حق راہش ندید
وہ آبِ حیات بالکل مخفی ہے۔ اور اس کا راستہ خدائی چراغ کے بغیر کسی نے نہیں دیکھا
آں خیالاتے که بینی از خرد
پرتوِ آں ہم ز وحیٔ حق رسد
وہ خیالات جو تو اپنی عقل سے معلوم کر لیتا ہے، اُن کی روشنی بھی خدا کی وحی سے ملتی ہے
لیک چشم دیدنت چون باز نیست
زیں دلِ تو محرمِ ایں راز نیست
لیکن چونکہ تیری روحانی آنکھ کھلی ہوئی نہیں۔ اس لیے تیرا دل اس راز سے واقف نہیں
سرکشی از حق کہ من دانا دلم
حاجتِ وحیش ندارم عاقلم
تو خدا کا نافرمان ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ میں دانا ہوں اور اس کی وحی کی مجھے ضرورت نہیں میں عقل رکھتا ہوں
لغزش تو حاجتے پیدا کُند
در دمے عقلِ ترا رسوا کند
مگر تیری لغزش تجھے حاجتمند بنا دے گی اور دم بھر میں تیری عقل کی قلعی کھول دے گی
عقل تو گور مجسّس از بروں
و اندرونش چیست یک لاشے زبوں
تیری عقل باہر سے پختہ مقبرہ کی مانند خوشنما ہے مگر اس کے اندر کیا ہے؟ ایک گندی لاش
منتہائے عقل تعلیمِ خداست
ہر صداقت را ظہور از انبیاست
خدا کی تعلیم ہی عقل کو کمال تک پہنچاتی ہے اور انبیاء سے ہی ہر صداقت کا ظہور ہوتا ہے
ہر کہ علمے یافت از تعلیم یافت
تافت آں روئے کزو روئے نتافت
جس نے کچھ حاصل کیا وہ تعلیم سے حاصل کیا وہ منہ روشن ہو گیا جس نے خدا سے رخ نہ پھیرا
با زبانِ حال گوید روزگار
اے قصیرالعمر گیر آمرزگار
وقت زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ اے تھوڑی عمر والے انسان! استاد پکڑ
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۷۱تا ۱۷۲، بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۸۶-۸۷)
مزید پڑھیں: ضرورتِ الہام




