متفرق مضامین

اسلام اور اینٹی سیمیٹزم

(ڈاکٹر محمد داؤد مجوکہ)

التسبیح فی رَدِّ القول الضریع

قرآن کریم کی جن آیات پر اعتراض کیا گیا ہے ان کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ جہاں یہود پر تنقید کی گئی ہے وہاں بعض اعمال کا ذکر ہو رہا ہے اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اگر وہ ان اعمال سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال درست کر لیں تو اس تنقید کے نیچے نہ ہوں گے۔ یہی بات قرآن کریم مسیحیوں، مشرکین وغیرہ دوسری اقوام کے متعلق بھی کہتا ہے۔ پس قرآن کریم پر نسلی تعصب کا الزام ہر لحاظ سے غلط ہے

آج کل اسلام پر جو بڑے اعتراضات ہو رہے ہیں ان میں سے ایک اینٹی سیمیٹزم ہے۔ یعنی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور آنحضورؐ نے یہود کے ساتھ نفرت، نسل پرستی اور امتیازی سلوک پر مبنی برتاؤ کی تعلیم دی ہے۔ اسی وجہ سے مسلمان ہمیشہ سے یہود کے ساتھ نفرت کرتے آئے ہیں۔ اس بات کا تعلق عرب۔اسرائیل جھگڑے یا یورپی اینٹی سیمیٹزم کے مسلمان معاشروں میں پھیلنے سے نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ یہ اعتراض کرنے والے اور ان کی مذہبی تعلیم کس قدر نسل پرستانہ ہے اور اس وقت اس اعتراض کو اچھالنے کا مقصد کیا ہے، اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ وہ مذہب ہرگز خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا جو اُن امور سے نفرت کی تعلیم دے جو کسی انسان کے اختیار میں نہیں مثلاً رنگ، نسل، معذوری، جسمانی ساخت وغیرہ۔ نفرت صرف بد اعمال سے جائز ہو سکتی ہے، بے قصور یا مجبور انسانوں سے نہیں۔ انسانی ضمیر ایسی ناانصافی پر مبنی تعلیم کو کبھی قبول نہیں کر سکتا چہ جائیکہ وہ خدا کی طرف منسوب ہو۔

اگر کہا جائے کہ پھر خدا نے بعض قوموں کو سزا کیوں دی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی قومی سطح کی سزا بد اعمال کا نتیجہ تھی کسی قوم یا نسل سے تعلق کا نہیں۔ مثلاً نوحؑ کی قوم کو سزا ملی تو نوحؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو اسی قوم سے ہونے کے باوجود بچا لیا گیا جبکہ ان کا بیٹا نوحؑ کی اولاد ہونے کے باوجود سزا سے نہ بچ سکا: وَاصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَوَحۡیِنَا وَلَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ…قُلۡنَا احۡمِلۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَاَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ وَمَنۡ اٰمَنَ…وَحَالَ بَیۡنَہُمَا الۡمَوۡجُ فَکَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِیۡنَ (ھود: ۳۸تا ۴۴) ہماری نگاہوں کے سامنے اور ہماری ہدایات کے مطابق کشتی بنا۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے، ان کے متعلق میرے ساتھ بات مت کرنا، وہ ضرور غرق ہوں گے…ہم نے اسے کہا کہ کشتی میں ہر قسم کے جوڑے رکھ اور اپنے اہل و عیال کو بھی، سوائے ان کے جن کے متعلق بات ہو چکی ہے، اور ان کو بھی جو ایمان لائے ہیں… تب نوحؑ اور اس کے بیٹے کے درمیان پانی کی لہر حائل ہو گئی اور وہ غرق ہونے والوں میں ہو گیا۔

اس سے ظاہر ہے کہ یہ سزا بد اعمال کا نتیجہ تھی۔ اگر نسل کو سزا دینا ہوتی تو اسی نسل کے بعض لوگوں کو بچایا نہ جاتا اور اگر صرف نوحؑ کی نسل کو بچانا ہوتا تو آپؑ کا بیٹا غرق نہ ہوتا۔البتہ یہ بات درست ہے کہ ایسی آفاقی سزاؤں کے وقت بعض بےقصور بھی مارے جاتے ہیں۔ ان سے انصاف کا معاملہ خدا پر ہے۔ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى (طٰہٰ :۵۳) میرا ربّ نہ تو غلطی کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔

قرآن کریم اور آنحضورؐ پر اعتراض

قرآن کریم پر اینٹی سیمیٹزم کا اعتراض متعدد مصنفین نے کیا ہے ۔ ایک مصنف لکھتے ہیں:

‘‘Numerous in volume and overwhelming in content are the Qur’anic passages, which serve as the basis of Muslim elemental anti-Semitism…Qur’an and hadiths (traditions of Muhammad) have numerous passages which proclaim enmity towards the Jews who are declared to be deceivers, conspirers, and killers of Muhammad (by poisoning him)’’ (R. Israeli, Muslim Anti-Semitism in Christian Europe, 2009, Page 2)

یعنی ان کے نزدیک قرآن کریم میں کافی تعداد میں ایسی آیات ہیں جو مسلمانوں کی یہود سے نفرت کی بنیاد ہیں۔ ایک اور مصنف نے قرآن کریم کی ساٹھ سے زیادہ آیات پر یہود کے ساتھ نفرت اور امتیازی سلوک کا الزام لگایا ہے۔

(Andrew G. Bostom, The Legacy of Islamic Antisemitism)۔

قرآن کے ساتھ ساتھ آنحضورؐ پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ آپؐ نے یہود کے ساتھ نفرت کی تعلیم دی جو آج تک مسلمانوں کی یہود سے نفرت کی جڑ ہے :

“The very deep contemporary Arab and Muslim resentment of, anger against, and contempt toward Jews, Zionism, and Israel, has been embedded in the Arab/Muslim psyche for centuries not only as a sequel of the Arab-Israeli conflict, but principally as a result of the almost innate enmity the Prophet of Islam had taught and practiced towards the Jews he encountered” (R Israeli, Page ix)

مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اسلامی تعلیمات کا حقیقی، بنیادی، یقینی اور بالا ترین مآخذ قرآن کریم ہے۔ اس لیے باقی تمام احادیث، تاریخی روایات، اقوال ِبزرگان کی تشریح قرآن کریم کی روشنی میں کرنی ضروری ہے۔ اس لیے اس مضمون میں قرآن کریم کی آیات پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اصولی امور

آیات پر اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے اس ضمن میں چند اصولی امور کا بیان ضروری ہے۔

۱۔ اسلام ایک عالمی مذہب ہونے کا دعویدار اور تمام بنی نوع انسان کی برابری کا قائل ہے۔ اسلام کے نزدیک کوئی نسل کسی دوسری سے کمتر نہیں۔ فرمایا: قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا (الاعراف: ۱۵۹) اے وے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّاُنۡثٰی وَجَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ (الحجرات:۱۴) اے لوگو! ہم نے تم سب کو مرد و عورت سے ہی پیدا کیا ہے۔تمہاری قوموں اور قبیلوں میں تقسیم محض تعارف کے لیے ہے ورنہ تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت کے لائق وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا خوفی رکھتا ہے۔

اسی طرح آنحضورؐ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى۔ (احمد، مسند الانصار، ۲۳۴۸۹)اے لوگو! جان لو کہ تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ جان لو کہ عرب کو غیر عرب پر اور غیر عرب کو عرب پر کوئی برتری حاصل نہیں، نہ ہی سرخ کو سیاہ پر یا سیاہ کو سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔

پس اسلام میں قوم و رنگ و نسل و موروثی مذہب یا معاشرتی حیثیت کی وجہ سے تفریق کی وہ بنیاد، جس پر نفرت و امتیازی سلوک کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، موجود ہی نہیں۔

۲۔ اسلام یہودیت کے خدا کی طرف سے ہونے کی تصدیق کرتا اور یہود کے انبیاء کو برگزیدہ تسلیم کرتا ہے۔ پس ان سے نفرت کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ فرمایا:اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰٮۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّنُوۡرٌ ۚ یَحۡکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ الَّذِیۡنَ اَسۡلَمُوۡا لِلَّذِیۡنَ ہَادُوۡا …(المائدہ:۴۵)یقیناً ہم نے تورات اتاری اُس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔اس سے انبیاءجنہوں نے اپنے آپ کو(کلیۃً اللہ کے) فرمانبردار بنا دیا تھا یہود کے لئے فیصلہ کرتے تھے۔قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖیْمَ وَاِسۡمٰعِیۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَیَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَمَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَعِیۡسٰی وَمَاۤ اُوۡتِیَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ۖ وَنَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ۔(البقرۃ:۱۳۷)تم کہہ دو ہم اللہ پر ایمان لے آئے اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور (اس کی) اولاد کی طرف اتارا گیا۔ اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور اس پر بھی جو سب نبیوں کو ان کے ربّ کی طرف سے عطا کیا گیا۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَالۡحُکۡمَ وَالنُّبُوَّۃَ وَرَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ۔ (الجاثیہ :۱۷)ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت دی اور ان کو اچھا رزق دیا اور انہیں تمام اقوام پر فضیلت بخشی۔

۳۔ جب قرآن کریم کسی گروہ کا ذکر کرتا ہے تو اس سے مراد اس گروہ کا ہر یک فرد نہیں ہوتا بلکہ صرف اس برائی یا اچھائی پر عمل کرنے والے لوگ مراد ہوتے ہیں جن کا ذکر اُس جگہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ مثلاً انہی یہود کے متعلق فرمایا: لَیۡسُوۡا سَوَآءً مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتۡلُوۡنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآءَ الَّیۡلِ وَہُمۡ یَسۡجُدُوۡنَ۔یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَیُسَارِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ ؕ وَاُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ۔ وَمَا یَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلَنۡ یُّکۡفَرُوۡہُ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِیۡنَ۔ (آل عمران: ۱۱۴تا۱۱۶) تمام اہل کتاب برابر نہیں ہیں۔ انہی میں وہ بھی ہیں جو اپنے عہد پر قائم ہیں۔ وہ راتوں کو اٹھ کر اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور نیک باتوں کی طرف بلاتے اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور خیرات میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نیک لوگ ہیں۔ اور وہ جو بھی اچھا کام کریں گے تو اس کی ناقدری نہ ہو گی اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤی اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ۔ (الاعراف:۱۶۰)موسیٰ کی قوم میں سے ایک حصہ ایسا ہے جو حق کے ساتھ راہنمائی اور عدل کرتے ہیں۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ۔ (البقرۃ:۶۳) وہ لوگ جو ایمان لائے، یعنی مسلمان، اور وہ لوگ جو یہودی ہیں اور جو مسیحی ہیں اور جو صابی ہیں، ان میں سے جو بھی اللہ اور آنے والے دن پر ایمان لایا اور نیک کام کیے، تو اس کا بدلہ اس کے رب کے پاس ہے اور ان کو کوئی خوف نہ ہو گا نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَالۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَالۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا۔(النساء:۱۶۳)یہود میں سے جو پختہ علم رکھنے والے اور ایمان لانے والے ہیں۔ جو اس پر بھی ایمان لاتے ہیں جو تجھ پر اتارا گیا اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلا اتارا گیا اور عبادت کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو اللہ اور بعد میں آنے والے دن پر ایمان لاتے ہیں، ان کو ہم ضرور بہت بڑی جزا دیں گے۔ وَبَـٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰٓ إِسْحَـٰقَ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌۭ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِينٌ۔ (الصٰفات: ۱۱۴)ہم نے اسے (یعنی ابراھیم) کو برکت دی اور اسحاق کو بھی۔ ان کی اولاد میں سے وہ بھی ہیں جو بہت اچھے ہیں اور وہ بھی ہیں جو کھلے عام خود اپنے ہی اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔

اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک سب یہودی یا سب مسیحی ایک جیسے نہیں۔ قرآن کریم ان کے اعمال کے مطابق ان میں فرق کرتا ہے۔اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔

۴۔ جب ایک ہی بات مختلف اقوام کے متعلق کہی جائے تو اسے کسی ایک قوم کے متعلق نسلی تعصّب نہیں سمجھا جا سکتا۔ مثلاً اگر قرآن کریم جو الفاظ یہود کے متعلق استعمال فرماتا ہے وہی الفاظ عربوں یا مسلمانوں یا دیگر اقوام کے متعلق بھی استعمال فرماتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بات اینٹی سیمیٹزم ہے۔ مثلاً قرآن کریم عربوں کے متعلق فرماتا ہے:اَلۡاَعۡرَابُ اَشَدُّ کُفۡرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجۡدَرُ (التوبۃ: ۹۸) عرب بدو سب سے زیادہ سخت کافر ہیں اور منافق و سخت دل بھی۔ قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّاؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ۔(الحجرات: ۱۵)عرب بدو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے۔ ان کو کہہ دے نہیں! تم ایمان نہیں لائے بلکہ صرف ظاہری اطاعت کرتے ہو۔ ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل بھی نہیں ہوا۔اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ۔ (الانفال: ۵۶)اللہ کے نزدیک سب سے برے جانور وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے۔

اور آنحضورؐ نے مسلمانوں کے متعلق فرمایا : فَيُبَيِّتُهُمُ اللّٰهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ، وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ (صحیح بخاری، کتاب الاشربہ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر،۵۵۹۰) اللہ انہیں تباہ کرے گا اور ان پر غم و مصیبت کا پہاڑ گرائے گا اور ان کو مسخ کر کے قیامت تک کے لیے بندر اور سور بنا دے گا۔

پھر قرآن کریم فرماتا ہے: وَاَتۡبَعۡنٰہُمۡ فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا لَعۡنَۃً ۚ وَیَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ہُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِیۡنَ۔ (القصص:۴۳) (فرعون اور اس کے ساتھیوں)کے پیچھے ہم نے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی اور آخرت کے روز بھی وہ رسوا کیے جائیں گے۔ وَاُتۡبِعُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا لَعۡنَۃً وَّیَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا کَفَرُوۡا رَبَّہُمۡ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ ہُوۡدٍ۔ (ھود: ۶۱) اور ان پر اس دنیا میں بھی لعنت کی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ یقیناً عاد نے اپنے رب کی ناشکری کی، یقیناً ھود کی قوم عاد دور کر دی گئی۔

پس کسی جانور کے ساتھ تشبیہ یا کسی لعنت کا تعلق اعمال سے ہے، قوم یا مذہب سے نہیں۔ مثلاً فرمایا: اِنَّ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۪ وَلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ۔ (نور: ۲۴) جو لوگ لاعلم، پاک باز مومن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں، ان پر دنیا میں بھی لعنت بھیجی جائے گی اور آخرت میں بھی۔ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَالۡہُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَلۡعَنُہُمُ اللّٰہُ وَیَلۡعَنُہُمُ اللّٰعِنُوۡنَ ۔اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَاَصۡلَحُوۡا وَبَیَّنُوۡا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَہُمۡ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃُ اللّٰہِ وَالۡمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ۔(البقرۃ: ۱۶۰۔۱۶۳)جو لوگ اسے چھپاتے ہیں جو ہم نے کتاب میں لوگوں کے لیے واضح ہدایات اور نشانات کے طور پر اتارا ہے، ان پر اللہ بھی لعنت بھیجے گا اور وہ بھی لعنت بھیجیں گے جن کو لعنت بھیجنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ البتہ ان میں سے جو لوگ توبہ کریں گے اور اپنی اصلاح کریں گے اور حق کو ظاہر کر دیں گے، تو میں ان کی طرف جھکوں گا اور میں بہت جھکنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہوں۔ اور جو لوگ انکار کریں گے اور انکار ہی کی حالت میں مر جائیں گے، ان پر اللہ کی لعنت ہو گی اور فرشتوں کی بھی اور تمام لوگوں کی بھی۔

پس قرآن کریم کی تنقید کسی کی نسل پر نہیں بلکہ بد اعمال پر ہے، خواہ وہ کسی قوم کا فرد ہو۔ اسی لیے توبہ کی صورت میں اس لعنت سے بچنے کا بھی دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ پس ایسی تنقید کو نسلی تعصّب کہنا درست نہیں۔

۵۔ نئے مذہب کی ضرورت اسی وقت پیش آتی ہے جب سابقہ مذاہب کی تعلیم بگڑ جاتی ہے اور ان کے پیروکار راہ راست سے ہٹ جاتے ہیں۔ اگر اس وقت آ کر مذہب نے اپنے سے پہلے نظریات کی غلطیوں اور ان کے پیروکاروں کی غلط کاریوں کی نشاندہی نہیں کرنی تو اس کے آنے کا مقصد ہی کیا ہے؟ یہ ضروری اورتعمیری تنقید ہے جو نسلی تعصّب نہیں کہلاسکتی۔ نیا مذہب تو کیا، ایک ہی مذہب میں آنے والے انبیاء بھی اپنے وقت کے لوگوں پر تنقید کرتے اور ان کو بد نتائج سے خبردار کرتے ہیں جیسا کہ حضرت داؤدؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور دیگر نبیوں نے بھی کیا۔

یہ لوگ، جو اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کر رہے ہیں، کیا یہ نسلی تعصّب کو فروغ دے رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو اسلام کی یہودیوں یا مسیحیوں پر تنقید نسلی تعصّب کیسے ہو گئی؟ اگر ان کو اسلام پر تنقید کا حق ہے تو اسلام کو یہودیت اور مسیحیت اور دہریت وغیرہ پر تنقید حق کیوں نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر کسی کو ہر اس عمل ہر تنقید کا حق ہے جو اس کے نزدیک غلط ہے۔ البتہ کسی ایسی بات پر تنقید جائز نہیں جو انسان کے اختیار میں نہ ہو ۔ اس میں نسل بھی شامل ہے۔ چنانچہ اسلام نے کسی بھی جگہ کسی نسل پر غیر مشروط تنقید نہیں کی۔ اگر کی ہے تو اس قوم و نسل کے کسی بدعمل کی وجہ سے کی ہے اور اس کا اثر اسی عمل تک محدود ہے۔

۶۔ تمام تر مذہبی مخالفت اور سیاسی اختلافات کے باوجود قرآن کریم نے کہیں بھی یہود کے ساتھ بدسلوکی کی تعلیم نہیں دی۔ چنانچہ زمانہ حال کے ایک مشہور یہودی مستشرق لکھتے ہیں:

“It is important to note that the Qur’an does not call anywhere to “kill the Jews.” Neither does it single out „the Jews” as the enemy. Moreover, the Qur’an never associates Jews with the devil, despite the fact that al-shayṭān and iblīs occur as regular terms for Satan within it. These malicious sentiments and accusations against Jews were floating around in Christian writings by the time of Qur’anic emergence, yet the Qur’an does not pick them up. It would be wrong to label the Qur’an as antisemitic. The Qur’an does not racialize Jews, nor does it dehumanize them. It certainly does not call for their destruction.” (Reuven Firestone in Lange et al., An End to Antisemitism, Vol 2, P106)

باوجود اس حقیقت کے کہ قرآن کریم کے نزول کے وقت یہود کو کوئی دنیاوی طاقت حاصل نہیں تھی، ان کی کوئی حکومت نہ تھی، اس وقت کی سب سے طاقتور حکومت، یعنی بازنطینی سلطنت، یہود کے خلاف تھی، عرب کے نزدیک واقعہ حبشہ کی حکومت بھی یہود کے خلاف تھی اور مسیحی رہنما یہود پر مظالم روا رکھتے تھے، قرآن کریم نے کہیں یہود کے ساتھ بدسلوکی یا ظلم کی تعلیم نہیں دی نہ ہی ان کو کہیں بلا تفریق تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن نے پہلے پہل یہود سے امید رکھی لیکن جب یہود نے اس کا انکار کر دیا تو پھر ان پر سختی کی۔ لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہود کی عرب میں طاقت مکمل طور پر ختم ہو جانے کے بعد بھی قرآن کریم میں ان کے ساتھ بدسلوکی کی کوئی ایک بھی آیت نہیں۔ بلکہ قرآن کریم ان کے ساتھ درگزر کرنے اور ان کی طرف سے زیادتیوں کو معاف کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

یہود کو اسلام کی دعوت

مندرجہ بالا اصولوں کے موافق اسلام نے اپنے سے قبل مذاہب بشمول یہودیت کے پیروکاروں کے بداعمال کی نشاندہی فرمائی اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی جدید تعلیم کو قبول کرنے کی دعوت دی: یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَاَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ۔ وَاٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ وَلَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫ وَّاِیَّایَ فَاتَّقُوۡنِ۔وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۔وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ۔(البقرۃ:۴۱۔۴۴)اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی اور اس عہد کو پورا کرو جو تم نے میرے ساتھ باندھا تھا، پھر میں بھی اس عہد کو پورا کروں گا جو میں نے تمہارے ساتھ باندھا تھا اور صرف مجھ سے ہی ڈرو۔ جو کچھ میں نے اب نازل کیا ہے وہ اس کی تصدیق کر رہا ہے جو پہلے سے تمہارے پاس ہے، پس اس پر ایمان لاؤ اور اس کے اولین منکر مت بنو۔ حقیر دنیاوی فائدہ کے لیے میرے نشانوں کو نظر انداز مت کرو اور صرف مجھ سے ہی ڈرا کرو۔ دیکھو! جانتے بوجھتے حق کے کچھ حصہ کو چھپاتے ہوئے اس میں باطل مت ملایا کرو۔ خدا کی عبادت قائم کرو، اس کی راہ میں خرچ کرو اور اس کے سامنے پوری عاجزی اختیار کرنے والوں کی طرح جھک جاؤ۔

اس جگہ وضاحت کے ساتھ ’’یہود‘‘ کی بجائے ’’بنی اسرائیل‘‘ کہہ کر اس نسل کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ان کے مسلمان ہو جانے کے بعد بھی قائم رہنی تھی۔ جب قرآن کریم بنی اسرائیل کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دے رہا ہے تو وہ ان کے ساتھ نسلی تعصّب کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اس کے برعکس فرمایا: اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِہٖ ہُمۡ بِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ۔ وَاِذَا یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِہٖۤ اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ اِنَّا کُنَّا مِنۡ قَبۡلِہٖ مُسۡلِمِیۡنَ۔ (القصص: ۵۳۔۵۴)جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی تھی وہ اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ اور جب ان کے سامنے آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ تو ہمارے رب کی طرف اب نازل ہونے والا سچ ہے جبکہ ہم تو پہلے بھی اطاعت کرنے والے تھے۔ ان لوگوں کو دو گنا اجر ملے گا۔ کیونکہ انہوں نے الٰہی تعلیم کو مضبوطی سے پکڑے رکھا اور بدی کا جواب نیکی سے دیا اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا تھا اس میں سے خدا کی خاطر خرچ کیا۔

پس یہود کو، اگر وہ ایمان لائیں، دوہرا اجر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان کے بنی اسرائیل سے ہونے کا کوئی اثر ان کے روحانی مقام پر نہیں۔ بلکہ ان میں سے نیک لوگوں کو عرب کے مشرکین پر اسلام قبول کر کے برتری حاصل کرنے کا موقع مہیا کیا گیا ہے۔

یہود کے ساتھ معاشرت

اسلام نے دیگر مذاہب کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا ہے۔ خصوصاً یہود کے ساتھ معاشرتی تعلق کا قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ مذہبی طور پر اسلام کے سب سے قریب مذہب یہودیت ہے۔ اگر یہودیت کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کے بھی سب سے نزدیک مذہب اسلام ہے۔ توحید، حلال و حرام، ذبح، ختنہ، شادی، طلاق وغیرہ بہت سے امور میں اسلامی تعلیم یہودی تعلیم کے قریب ہے۔ قرآن کریم میں بانی اسلام، محمد ﷺ کو بانی یہودیت، موسیٰؑ کا مثیل قرار دیا گیا ہے: اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا۔ (المزمل: ۱۶) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح ایک پیغمبر بھیجا ہے جو تم پر گواہ ہے، جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف ایک پیغمبر بھیجا تھا۔

اس لیے کچھ تعجب کی بات نہیں کہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ ذکر حضرت موسیٰؑ کا کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں بنی اسرائیل میں معروف دیگر انبیاء نوحؑ، ابراھیمؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ، لوطؑ، ہارونؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یسعیاہؑ، حزقیلؑ، دانیالؑ، زکریاؑ، یحییٰؑ، کا ذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ یہ بات یہود کے ساتھ حسن معاشرت کی بنیاد ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ کس طرح حسن معاشرت قائم رہ سکتی ہے جن کے بزرگوں کو جھوٹا اور خدا پر افتراء کرنے والا سمجھا جائے؟ اس بنیاد کے بعد دو چیزیں اہم ترین ہوتی ہیں، ایک آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا، مل کر کھانا پینا وغیرہ۔ دوسری بات آپس میں شادی بیاہ۔ اگر یہ دو باتیں موجود ہوں تو باقی سب امور ان کی ذیل میں آ جاتے ہیں۔

اسلام نے یہود کے ساتھ ملنا، کھانا، ایک دوسرے کے ہاں جانا جائز قرار دیا ہے۔ فرمایا: وَطَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ ۪ وَطَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ (المائدہ: ۶) اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان کا بنایا ہوا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا بنایا ہوا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔

چنانچہ احادیث میں دو دفعہ تو معین طور پر خود آنحضورؐ کے یہود کے ہاں دعوت پر تشریف لے جانے اور ان کے ہاں کھانا کھانے کا ذکر محفوظ ہے: أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ (احمد، مسند المکثرین، ۱۳۲۰۱) ایک یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور روغن کی دعوت دی جو آپؐ نے قبول فرمائی۔ اسی طرح خیبر میں ایک یہودی عورت نے آپؐ کی دعوت کی جو آپؐ نے قبول فرمائی۔ (مسلم، کتاب السلام، باب السم)

ایک دوسرے کے ہاں جانے اور مل جل کر کھانے پینے سے بھی زیادہ اہم تعلق رشتہ داری کا ہے۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کے لیے یہودی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز قرار دیا اور ان کے حقوق کی حفاظت فرمائی:وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ مُحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ وَلَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخۡدَانٍ۔ (المائدہ: ۶)تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے پاک عورتیں تمہارے لیے جائز ہیں اگر تم ان کو حق مہر اور دیگر اخراجات ادا کرو، لیکن شرط یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ شادی کرو، فساد یا خفیہ دوستیاں نہیں۔

پس قرآن کریم نے عرب مسلمانوں کو اپنی قوم اور خاندان کی مشرک عورتوں کے ساتھ شادی کرنے سے منع فرما دیا (البقرۃ:۲۲۲)لیکن غیر قوم اور غیر مذہب سے تعلق رکھنے والی یہودی عورتوں سے شادی کی اجازت دی! خواہ وہ اسلام نہ لائیں اور اپنے یہودی یا مسیحی مذہب پر قائم رہیں۔ اگر قرآن کریم میں یہود کے متعلق کوئی نسلی تعصّب پایا جاتا تو کبھی ایسا نہ ہوتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک تفریق وتنقید کی وجہ رنگ و نسل نہیں بلکہ اعمال ہیں۔

خود آنحضورؐ نے بھی ایک یہودی خاتون سے شادی کی یعنی حضرت صفیہؓ سے، جن کو تمام مسلمان اُمّ المومنین یعنی مومنوں کی ماں کہتے ہیں۔(بخاری، کتاب الصلاۃ، باب ما یذکر فی الفخذ) گو حضرت صفیہؓ مسلمان ہو گئیں، مگر مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ شادی کے لیے یہ شرط نہیں ہے۔ اسی لیے آج بھی بعض مسلمان ایسی اہل کتاب خواتین سے شادی کرتے ہیں جو اپنے آبائی مذہب پر قائم رہتی ہیں۔

قرآنی آیات پر اعتراض

مختلف مصنفین نے جن قرآنی آیات پر اینٹی سیمیٹزم کا اعتراض کیا ہے ان کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جس میں یہود پر لعنت کا ذکر ہے۔ دوسرا وہ جس میں یہود کی مثال کسی جانور سے دی گئی ہے۔اور تیسرا حصہ وہ جہاں ان کی ذلت کا ذکر ہے۔

۱۔ یہود پر لعنت کا ذکر: قرآن کریم میں مختلف جگہ پر یہود پر لعنت کا ذکر ہے۔ درحقیقت یہ لعنت خود تورات نے ان پر ڈالی تھی۔ چنانچہ لکھا ہے: لیکن اگر تُو اَیسا نہ کرے کہ خُداوند اپنے خُدا کی بات سُن کر اُس کے سب احکام اور آئِین پر جو آج کے دِن مَیں تُجھ کو دیتا ہُوں اِحتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لَعنتیں تُجھ پر نازِل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ شہر میں بھی تُو لَعنتی ہو گا اور کھیت میں بھی لَعنتی ہو گا۔ تیرا ٹوکرا اور تیری کٹھوتی دونوں لَعنتی ٹھہریں گے۔ تیری اَولاد اور تیری زمِین کی پَیداوار اور تیرے گائے بَیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑ بکرِیوں کے بچّے لَعنتی ہوں گے۔ تُو اندر آتے لَعنتی ٹھہرے گا اور باہر جاتے بھی لَعنتی ٹھہرے گا۔ خُداوند اُن سب کاموں میں جِن کو تُو ہاتھ لگائے لَعنت اور اِضطراب اور پِھٹکار کو تُجھ پر نازِل کرے گا جب تک کہ تُو ہلاک ہو کر جلد نیست و نابُود نہ ہو جائے۔ یہ تیری اُن بداعمالِیوں کے سبب سے ہو گا جِن کو کرنے کی وجہ سے تُو مُجھ کو چھوڑ دے گا۔(استثناء باب ۲۸ آیت ۱۵ تا ۲۰)

یہی بات انہی شرائط کے ساتھ قرآن کریم نے دوہرائی ہے اور بتایا ہے کہ لعنت تعلیم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے نہ کہ کسی نسل یا مذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے۔ پس سب یہودیوں پر لعنت نہیں کی گئی بلکہ صرف ان پر کی گئی ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ اور توبہ کا دروازہ ہمیشہ سے کھلا ہے، جو چاہے ایمان اور نیک اعمال کے ذریعہ اس لعنت سے بچ سکتا ہے۔

۱۔لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ۔ کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ۔ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَفِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ۔ (المائدہ: ۷۹ تا ۸۱)بنی اسرائیل میں سے ان لوگوں پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت ڈالی گئی جنہوں نے انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نافرمان اور حد سے بڑھنے والے تھے۔ وہ بری حرکتیں کرنے والوں کو روکتے نہ تھے اور بہت برا تھا جو وہ کرتے تھے۔ تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا کہ وہ انکار کرنے والوں کے دوست ہیں اور اپنے لیے برے اعمال ہی آگے بھیجتے ہیں اس لیے اللہ ان کو سزا دے گا اور وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

جیسا کہ آیت کے ابتدائی الفاظ سے ظاہر ہے یہاں وضاحت سے اس لعنت کا ذکر ہے جو خود بنی اسرائیل کے انبیاء نے ہی ان پر ڈالی ہے۔ بائبل میں داؤدؑ کی بنی اسرائیل پر اس لعنت بھیجنے کا ذکر ہے۔(زبور باب ۱۰۹) اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے آپؑ پر نہایت سخت الزامات لگائے تھے (اور آج تک لگاتے ہیں) جن کے جواب میں آپؑ نے ان کے لیے ایسی سخت بد دعا کی کہ انسان پڑھ کر کانپ جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے بھی اپنے زمانہ کے یہود کے متعلق شدید افسوس کا اظہار کیا۔(متی باب ۲۳) اور انجیر کے درخت پر لعنت کی۔(مرقس باب ۱۱) بائبل کے مفسرین کے مطابق انجیر کے درخت سے یہود مراد ہیں۔ چنانچہ مستند جدید مفسرین میں سے مثلاً Kertelge اور Gnilka کا یہی خیال ہے۔ بلکہ جرمنی کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ چرچ کے بائبل کے متفقہ ترجمہ میں بھی یہی تشریح دی گئی ہے۔ (Kertelge, Markusevangelium, P112, Gnilka, Das Evangelium nach Markus, P125, Einheitsübersetzung, Mt. 21, 18-22)۔

۲۔ مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَیۡنَا وَاسۡمَعۡ غَیۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـیًّۢا بِاَلۡسِنَتِہِمۡ وَطَعۡنًا فِی الدِّیۡنِ ؕ وَلَوۡ اَنَّہُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانۡظُرۡنَا لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَلٰکِنۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا۔یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدۡبَارِہَاۤ اَوۡ نَلۡعَنَہُمۡ کَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰبَ السَّبۡتِ ؕ وَکَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا۔ (النساء: ۴۷تا ۴۸) جو لوگ یہودی ہیں ان میں سے بعض بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں، اب تو ہی سُن جبکہ تو سنتا ہی نہیں! اور اپنی زبان کو موڑتے ہوئے کہتے ہیں ’’راعنا‘‘ تاکہ دین کے معاملہ میں طعنہ دیں۔ اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور ہماری بات سن اور ’’انظرنا‘‘ بولتے، تو یہ ان کے لیے بہتر اور اچھا ہوتا۔ لیکن اللہ نے ان پر ان کے انکار کی وجہ سے لعنت ڈال دی ہے اس لیے ان میں سے چند لوگ ہی ایمان لائیں گے۔ اے لوگو جن کو کتاب دی گئی تھی، اس پر ایمان لاؤ جو ہم نے اب نازل کیا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے جو پہلے سے تمہارے پاس ہے، قبل اس کے کہ ہم چہروں کو بگاڑ کر اوندھا کر دیں یا ان پر لعنت ڈالیں جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنت ڈالی تھی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا ہے۔

ان آیات کا آغاز بھی انہی الفاظ سے ہوتا ہے کہ یہود میں سے ’’بعض ‘‘ لوگ ایسا کرتے ہیں یعنی سب نہیں۔ اور ان پر لعنت کا سبب انبیاء کی مخالفت بتایا ہے ، مذہب یا نسل نہیں۔ سبت کی خلاف ورزی کی سزا بائبل کے مطابق (گنتی ۱۵ آیات ۳۲ تا ۳۶) موت ہے۔ اور بائبل ہی کہتی ہے کہ سزائے موت پانے والا لعنتی ہوتا ہے۔ (استثناء باب ۲۱ آیات ۲۲۔۲۳) پس یہ لعنت بھی درحقیقت بائبل ہی کی بیان کردہ ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ان میں سے کچھ لوگ ایمان بھی لائیں گے۔ یعنی جو لعنتی کاموں سے بچے گا، خواہ کسی قوم یا مذہب سے ہو، اس لعنت سے باہر رہے گا۔

۳۔وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَقَفَّیۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫ وَاٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَاَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ فَفَرِیۡقًا کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَفَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ۔ وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤۡمِنُوۡنَ۔ وَلَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ وَکَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚۖ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ۔ (البقرۃ: ۸۸ تا ۹۰) ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے بعد متعدد پیغمبر بھیجے اور عیسیٰؑ بن مریم کو واضح نشانات کے ساتھ بھیجا اور اس کی مقدس روح سے مدد کی۔ کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی پیغمبر ایسی چیز لائے جو تمہیں پسند نہ ہو تو تم تکبر اختیار کرو گے؟ پھر تم نے کچھ کو تو جھٹلا دیا اور کچھ کو قتل کر دیا۔ انہوں نے کہا ہم بڑے لوگ ہیں ان باتوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ نہیں! بلکہ اللہ نے ان پر ان کے انکار کی وجہ سے لعنت کی ہے اس لیے وہ چند باتوں پر ہی ایمان لاتے ہیں۔ جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی جو اس کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس ہے، تو انہوں نے اس چیز کا انکار کر دیا جسے وہ پہچان چکے تھے حالانکہ وہ اس سے پہلے کافروں کے مقابل پر فتح کی دعا مانگا کرتے تھے۔ پس انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو۔

ان آیات میں ایک مرتبہ پھر وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ تمام یہودی لعنتی نہیں کیونکہ خدا کے بہت سے برگزیدہ نبی جن کا ذکر آیت کے آغاز میں ہے، وہ بھی اسی نسل اور اسی مذہب سے تھے اور ان نبیوں پر ایمان لانے والے لوگ بھی۔ سو یہاں بھی لعنت صرف ان لوگوں کے متعلق بتائی گئی ہے جنہوں نے اسرائیلی انبیاء کا انکار بلکہ ان کو قتل کیا۔ اس لیے وہ لوگ، جو ان باتوں میں ملوث نہیں، اس لعنت سے بری ہیں۔

۴۔ فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ لَعَنّٰہُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَہُمۡ قٰسِیَۃً ۚ یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ ۙ وَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوۡا بِہٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنۡہُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَاصۡفَحۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔ (المائدہ:۱۴) ان کے اپنے معاہدہ سے پھر جانے کے سبب ہم نے ان پر لعنت ڈالی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔وہ کلام کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرتے ہیں اور جو کچھ انہیں یاد دلایا گیا تھا اس کا ایک حصہ بھلا بیٹھے ہیں۔ تو ہمیشہ ان کی جانب سے خیانت کی اطلاع پاتا رہے گا، سوائے چند لوگوں کے، اس کے باوجود ان سے صرف نظر کر اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

یہاں بھی تورات کی اس لعنت کا ذکر ہے جو خدا کے ساتھ معاہدہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے ان پر ڈالی گئی تھی۔ لکھا ہے: تُم میرے سب حُکموں پر عمل نہ کرو بلکہ میرے عہد کو توڑوتو مَیں بھی تُمہارے ساتھ اِس طرح پیش آؤُں گا کہ دہشت اور تپِ دِق اور بُخار کو تُم پر مُقرّر کر دُوں گا جو تُمہاری آنکھوں کو چَوپٹ کر دیں گے اور تُمہاری جان کو گُھلا ڈالیں گے اور تُمہارا بیج بونا فضُول ہو گا کیونکہ تُمہارے دُشمن اُس کی فصل کھائیں گے۔اور مَیں خُود بھی تُمہارا مُخالِف ہو جاؤُں گا اور تُم اپنے دُشمنوں کے آگے شِکست کھاؤ گے اور جِن کو تُم سے عداوت ہے وُہی تُم پر حکمرانی کریں گے اور جب کوئی تُم کو رگیدتا بھی نہ ہو گا تب بھی تُم بھاگو گے۔ (احبار باب ۲۶ آیت ۱۵۔۱۷)

قرآن کریم نے آیت میں ’’سوائے چند لوگوں‘‘ کے الفاظ سے یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ اس جگہ بھی تمام لوگ مراد نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے خدا کے ساتھ کیا ہوا عہد توڑ دیا تھا۔ اور اس کا نتیجہ کیا نکالا ہے؟ یہ کہ ان سے درگزر کر اور ان کو معاف کر! کیا نسلی تعصّب کا یہ نتیجہ ہوتا ہے؟ تعصّب کا مقصد تو نفرت اور بدسلوکی ہوتا ہے جبکہ قرآن کریم عفو اور درگزر کرنے کا حکم دے رہا ہے۔

۵۔ قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَاَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ۔ قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَاللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَیۡہِ۔ (المائدہ: ۶۰ تا ۶۱) تو کہہ دے: اے اہل کتاب کیا تم ہم سے اس لیے دشمنی کرتے ہوکہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو اس نے ہم پر اتارا اور اس پر بھی جو اس سے پہلے اتارا گیا تھا یا اس لیے کہ تم میں سے اکثر حد اطاعت سے نکل جانے والے ہیں؟ تو کہہ دے: کیا میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو اللہ کے نزدیک اس سے بھی بری ہے؟ وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی ہو اور ان پر اس کا غضب بھڑکا ہو۔

یہاں بھی ’’اکثر‘‘ کے لفظ سے واضح فرمایا ہے کہ سب یہودی مراد نہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسیحیت اور اسلام کے نزدیک اکثر یہودی اطاعت کے دائرہ سے نکل گئے تھے تبھی حضرت عیسیٰؑ کو بھیجنے کی ضرورت پڑی۔ اگر یہود کی اکثریت راہ راست پر قائم رہتی تو مسیحؑ کیوں آتے ؟ پہلے نبیوں نے بھی ایسے لوگوں پر لعنت ڈالی ہے جو ان کی سخت مخالفت کرتے تھے اور ان پر الزامات لگاتے تھے، جیسا کہ حضرت داؤدؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے متعلق گزر چکا ہے۔

۶۔ وَتَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَاَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔ لَوۡلَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَاَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ۔ وَقَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُاللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ؕ غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ وَلَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّکُفۡرًا ؕ وَاَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ۙ وَیَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ۔ (المائدہ:۶۳۔۶۵) تو دیکھے گا کہ ان میں سے بہت سے لوگ گناہ اور دشمنی میں بڑھتے جاتے اور حرام کھاتے ہیں۔ بہت ہی برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ان کے ربی اور علماء ان کو گناہ کی بات کرنے اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بہت برا ہے جو وہ بناتے ہیں۔ یہود نے کہا خدا کی مٹھی بند ہے! ان پر یہ بات کہنے کے سبب لعنت کی گئی اور ان کی اپنی مٹھیاں بند کر دی گئی ہیں۔ ہرگز نہیں! اس کی دونوں مٹھیاں کھلی ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور جو کچھ تجھ پر اتارا گیا ہے، وہ ان کی اکثریت کو بغاوت اور انکار میں ہی بڑھاتا ہے۔ ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے بغض و دشمنی ڈال دی ہے۔ جب بھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں، اللہ اسے بجھا دیتا ہے۔ اور یہ زمین میں فساد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

ان دونوں آیات میں ’’کثیر‘‘ کا لفظ استعمال کر کے واضح کیا گیا ہے کہ یہاں بھی تمام لوگ مراد نہیں۔ نیز لعنت کی وجہ خدا تعالیٰ پر ایک اعتراض کرنا اور متکبر ہونا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو یہ اعتراض نہیں کرتے وہ اس لعنت کے دائرہ سے باہر ہیں۔

خلاصہ یہ کہ ان آیات کو سیاق و سباق میں دیکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے کہیں بھی تمام یہود کو لعنتی قرار نہیں دیا۔ ہر جگہ یہ واضح کیا ہے کہ صرف وہ لوگ مراد ہیں جو کہ مخصوص بد اعمال پر مُصر ہیں۔ ایسی لعنتیں خود یہود کے متعدد انبیاء نے ان پر بھیجی ہیں۔ جب قرآن کریم یہود کے انبیاء کو برگزیدہ اور خاص طور پر ان کے جد امجد، حضرت ابراھیمؑ، اور یہودیت کے بانی، حضرت موسیٰؑ، کو مقرب الٰہی تسلیم کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اگر یہودی ان بد اعمال سے باز آجائیں جن کا ذکر ان آیات میں ہے تو ان کے لیے اس لعنت سے بچنے کا راستہ کھلا ہے، تو پھر اس پر نسلی تعصّب کا الزام کیونکر لگایا جا سکتا ہے؟

۲۔ بندر، سور، گدھے سے تشبیہ: دوسرا اعتراض ان آیات پر کیا گیا ہے جن میں یہود کو بندر، سور اور گدھے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چنانچہ ایک مصنف نے اپنی کتاب کا عنوان ہی یہ رکھا ہے: Neil J Kressel, „The Sons of Pigs and Apes Muslim Antisemitism and the Conspiracy of Silence, Potomac Books, 2012۔ اس لیے ان آیات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ حسب سابق یہاں بھی ظاہر ہو گا کہ قرآن کریم نے کسی بھی جگہ تمام یہود کو ان الفاظ سے یاد نہیں کیا نہ ہی یہود کی نسل یا ان کے مذہب کو ایسا خطاب دیا ہے بلکہ بعض اعمال کرنے والوں کو ایسا کہا ہے۔ فرمایا: وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِیۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡکُمۡ فِی السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ۔ (البقرۃ: ۶۷) تم خوب جانتے ہو کہ تم میں سے جن لوگوں نے سبت کے معاملہ میں زیادتی کی ان کو ہم نے کہا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ۔ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ وَاَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ۔فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ۔(الاعراف: ۱۶۶) جب وہ اسے بھول گئے جو انکو یاد کروایا گیا تھا تو ہم نے برائی سے منع کرنے والوں کو بچا لیا اور جو ظلم کرنے والے تھے ان کو نافرمانی کرنے کی وجہ سے سخت عذاب میں مبتلا کر دیا۔ جب وہ ایسی حرکتیں کرنے لگے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں کہا کہ اب تم ذلیل بندر بن جاؤ۔ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَیۡہِ وَجَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَالۡخَنَازِیۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ۔ وَاِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ۔وَتَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَاَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔ (المائدہ: ۶۱۔۶۳) کیا میں تمہیں خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بری بات بتاؤں؟ یہ کہ اللہ کی کسی پر لعنت ہو اور اس پر اس کا غصہ بھڑکے اور ان میں سے کچھ کو اس نے بندر، سور اور شیطان کے مرید بنا دیا۔ یہ لوگ سب سے برے اور سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں حالانکہ وہ انکار کرتے ہوئے ہی مجلس میں داخل ہوتے ہیں اور انکار کرتے ہی وہاں سے نکلتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا چھپا رہے ہیں۔ تو دیکھے گا کہ ان میں سے بہت سے لوگ گناہ اور دشمنی کرنے اور حرام کھانے میں جلدی کرتے ہیں۔ بہت برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ مَثَلُ الَّذِیۡنَ حُمِّلُوا التَّوۡرٰٮۃَ ثُمَّ لَمۡ یَحۡمِلُوۡہَا کَمَثَلِ الۡحِمَارِ یَحۡمِلُ اَسۡفَارًا ؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ۔(الجمعہ :۶) ان لوگوں کی مثال، جن کو تورات دی گئی تھی مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا گدھے کی سی ہے جس نے کتابیں اٹھا رکھی ہوں۔ جو قوم اللہ کی آیات کا انکار کرے اس کی مثال کیا ہی بری ہے۔ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

ان آیات میں یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ یہود میں سے ایک گروہ ہدایت پر قائم اور نصیحت کرنے والا تھا جبکہ دوسرا گروہ نافرمان تھا۔ پہلے گروہ کے متعلق فرمایا کہ ان کو ہم نے بچا لیا۔ اور دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا کہ ان کو سزا دی گئی۔ سزا یہ تھی کہ ان کو بندر بنا دیا گیا۔ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ آنحضورؐ نے یہی الفاظ بندر اور سور مسلمانوں کے متعلق بھی استعمال فرمائے ہیں۔ پس بندر کہنے کی بنیاد کسی نسل یا مذہب پر نہیں ہے بلکہ اعمال پر ہے، خواہ وہ کسی قوم سے وقوع پذیر ہوں۔ اسی لیے مسلمانوں کے متعلق بھی یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ بندر محض مذہبی رسوم کی نقل کر سکتا اس میں روحانیت نہیں ہوتی، سور کھیتیاں اجاڑتا اور فساد برپا کرتا ہے جبکہ کتابیں اٹھانے والا گدھا بظاہر تو بہت علم رکھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔ یہ تینوں باتیں اعمال سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ نسل سے۔

۳۔ دیگر آیات: اعتراضات کے تیسرے زمرہ میں وہ آیات ہیں جن میں یہود کے متعلق بعض سزاؤں کا ذکر ہے۔ ان میں سے اہم ترین یہ ہیں:

۱۔ وَاِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِہَا وَقِثَّآئِہَا وَفُوۡمِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدۡنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ وَضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ۔ (البقرۃ:۶۲) اسی طرح وہ وقت بھی یاد کرو جب تم نے موسیٰؑ کو کہا تھا کہ ہم روز ایک ہی کھانا نہیں کھا سکتے۔ پس تو اپنے رب کو پکار کہ وہ ہمارے لیے زمین سے اگائی ہوئی چیزیں بھی پیدا کرے جیسا کہ ترکاریاں، کھیرے، لہسن، دال اور پیاز۔ اُس نے جواب دیا کیا تم وہ چیز جو بہتر ہے اس سے بدلنا چاہتے ہو جو کمتر ہے؟ اگر تم ایسا ہی چاہتے ہو تو کسی شہر میں چلے جاؤ وہاں تمہیں یہ سب ملے گا۔ ان پر ذلت اور مسکینی مسلط کر دی گئی۔ اور انہوں نے خدا کا غضب بھڑکایا۔ اور یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار اور نبیوں کو ناحق قتل کیا کرتے تھے۔ اور اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے بڑھنے والے تھے۔ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ اَیۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡمَسۡکَنَۃُ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ۔ (آل عمران ۱۱۳) خواہ وہ کہیں بھی ہوں ان پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے سوائے اس کے کہ اللہ یا لوگوں کے ساتھ معاہدہ کر لیں۔ اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور ان پر مسکینی مسلط کر دی گئی۔ اس کی وجہ تھی کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے اور اس لیے کہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔

یہ بات، اسی شرط کے ساتھ خود تورات نے بیان کی ہے۔ لکھا ہے: خُداوند اُن سب کاموں میں جِن کو تُو ہاتھ لگائے لَعنت اور اِضطراب اور پِھٹکار کو تُجھ پر نازِل کرے گا جب تک کہ تُو ہلاک ہو کر جلد نیست و نابُود نہ ہو جائے۔ یہ تیری اُن بداعمالِیوں کے سبب سے ہو گا جِن کو کرنے کی وجہ سے تُو مُجھ کو چھوڑ دے گا۔… خُداوند تُجھ کو تیرے دُشمنوں کے آگے شِکست دِلائے گا۔… دُنیا کی تمام سلطنتوں میں تُو مارا مارا پِھرے گا۔…تُو اپنے سب دھندوں میں ناکام رہے گا اور تُجھ پر ہمیشہ ظُلم ہی ہو گا اور تُو لُٹتا ہی رہے گا اور کوئی نہ ہو گا جو تُجھ کو بچائے۔…پردیسی جو تیرے درمیان ہو گا وہ تُجھ سے بڑھتا اور سرفراز ہوتا جائے گا پر تُو پست ہی پست ہوتا جائے گا۔ وہ تُجھ کو قرض دے گا پر تُو اُسے قرض نہ دے سکے گا۔ وہ سر ہو گا اور تُو دُم ٹھہرے گا۔ اور چُونکہ تُو خُداوند اپنے خُدا کے اُن حُکموں اور آئِین پر جِن کو اُس نے تُجھ کو دِیا ہے عمل کرنے کے لیے اُس کی بات نہیں سُنے گا اِس لیے یہ سب لَعنتیں تُجھ پر آئیں گی اور تیرے پِیچھے پڑی رہیں گی اور تُجھ کو لگیں گی جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے۔ (استثناء باب ۲۸ آیت ۲۰ تا ۴۵)

قرآن کریم اسی بات کو بیان فرما رہا ہے۔ وجہ بھی وہی ہے جو تورات میں لکھی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار جس میں وہ اس حد تک بڑھ جاتے تھے کہ آیات لانے والے انبیاء کے قتل کے درپے ہو جاتے تھے۔ اور یہ ذلت و مسکینی صرف انہی کے لیے ہے جو نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ورنہ موسیٰؑ، جن کی تورات میں یہ انذار لکھا ہے، سے لے کر مسیحؑ کے زمانہ تک بہت سے انبیاء اور دیگر بزرگ بھی اسی نسل اور اسی مذہب سے آئے، جن کو قرآن کریم خدا تعالیٰ کا مقرب اور انعام یافتہ قرار دیتا ہے۔

۲۔ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ٭ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ لِیَشۡتَرُوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا یَکۡسِبُوۡنَ(البقرۃ:۸۰)پس تباہی ہو ان لوگوں کے لیے جو حقیر دنیاوی فائدہ کے لیے کتاب میں اپنی طرف سے باتیں لکھ کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں۔ سو ان کے لیے تباہی ہو اس سبب سے جو وہ اپنی طرف سے لکھتے ہیں اور اس سبب سے جو وہ اس طریق پر کماتے ہیں۔

اس آیت پر اعتراض بھی ناقابل فہم ہے۔ یہاں بھی ایک مخصوص عمل کی مذمت کی گئی ہے۔ کسی نسل یا مذہب کی نہیں۔

۳۔ قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗ وَلَا یَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الۡحَقِّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ ‌یَّدٍ وَّہُمۡ صٰغِرُوۡنَ۔ (التوبہ:۲۹)اہل کتاب میں سے جو لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے نہیں رکتے اور سچے دین کی پیروی نہیں کرتے، ان کے ساتھ اس وقت تک مقابلہ کر جب تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ نہ دے دیں۔

اس جگہ اول تو اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ دونوں کا ذکر ہے اس لیے اس آیت پر اینٹی سیمیٹزم کا الزام بے معنی ہے۔ دوسرے یہاں بھی انہی اہل کتاب کی بات ہو رہی ہے جن کا ذکر اس سورۃ میں آغاز سے انجام تک چل رہا ہے یعنی وہ لوگ جو اسلام کے خلاف پہلے سے جنگیں کر رہے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی، تو اس کے بعد مسلمانوں کی یہود کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہوئی! پس یہ ایک عمومی تعلیم ہے کہ جو اہل کتاب پہلے سے جنگ کر رہے ہیں (اس سورت کے نزول کے وقت وہ بعض عرب مسیحی قبائل تھے نہ کہ یہودی) ان کے ساتھ جنگ جاری رکھو۔ اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ اس آیت کے باوجود مدینہ میں یہودی آباد رہے اور وہ جزیہ بھی نہیں دیتے تھے کیونکہ میثاق مدینہ میں ان کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا، انہوں نے اسے نہیں توڑا۔ چنانچہ آنحضورؐ کی وفات کے وقت بھی آپؐ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ (بخاری، کتاب الجہاد، ۲۹۱۶) جس سے ظاہر ہے کہ ان یہود کے ساتھ عام کاروباری اور تجارتی تعلقات بدستور جاری رہے۔

۴۔ وَّقُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَاَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا۔فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ وَکُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَقَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّقَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا۔ (النساء: ۱۵۵۔۱۵۶) ہم نے ان کو کہا کہ سبت کے معاملہ میں زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے ان باتوں پر پختہ عہد لیا۔ پھر اپنا عہد توڑنے کے سبب اور اللہ کی آیات کے انکار اور انبیاء کے ناحق قتل کے سبب اور اس لیے کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارے دل تو پردوں میں ہیں، ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس ان میں سے چند لوگ ہی ایمان لائیں گے۔

ان آیات میں اول تو استثنا رکھا گیا ہے کہ چند لوگ بہرحال ایمان لائیں گے۔ دوسرے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ جو سزا دی گئی، یعنی دل پر مہر کرنا، یہ ان کے اعمال کی وجہ سے تھی نہ کہ کسی نسل یا مذہب سے ہونے کے سبب۔ بائبل میں سبت توڑنے کی سزا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، لعنتی موت تھی۔

خلاصہ

پس کسی لحاظ سے دیکھیں قرآن کریم پر اینٹی سیمیٹزم کا الزام غلط ہے۔ اسلام میں نسلی امتیاز کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ اسلام یہودیت کو خدا کی طرف سے آنے والا ایک سچا مذہب بیان کرتا ہے۔ یہود کے بزرگ انبیاء کو سچا اور خدا کا مقرب مانتا ہے۔ یہود کو اسلام لانے کی دعوت دیتا ہے۔ یہود کے ساتھ حسن معاشرت کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کا ذبیحہ، ان کا کھانا، ان کے ہاں آنا جانا، یہودی عورتوں سے شادی تک جائز قرار دیتا ہے۔ البتہ یہود میں جو خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں اور ان کے اعمال میں جو بگاڑ آ چکا تھا، اس پر اسی طرح تنقید کرتا ہے اور اسی طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے جیسا کہ دیگر اقوام عربوں، بت پرستوں، مسیحیوں وغیرہ کے متعلق۔ اور ایسا کرنا ہر نئے مذہب کے لیے ضروری ہے ورنہ اس کی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن کریم یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ تمام یہود ایک جیسے نہیں۔ اور واضح کرتا ہے کہ یہود میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خدا اور یوم آخرت پر ایمان لاتے اور عبادت کرتے ہیں۔ ان کا اجر ان کو ضرور ملے گا۔ قرآن کریم کی جن آیات پر اعتراض کیا گیا ہے ان کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ جہاں یہود پر تنقید کی گئی ہے وہاں بعض اعمال کا ذکر ہو رہا ہے اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اگر وہ ان اعمال سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال درست کر لیں تو اس تنقید کے نیچے نہ ہوں گے۔ یہی بات قرآن کریم مسیحیوں، مشرکین وغیرہ دوسری اقوام کے متعلق بھی کہتا ہے۔ پس قرآن کریم پر نسلی تعصّب کا الزام ہر لحاظ سے غلط ہے۔

مزید پڑھیں: مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ(حدیث نبویؐ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button