ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۷)(قسط ۱۴۲)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
چینوپوڈیم
Chenopodium
(Jeros Oak)
چینوپوڈیم دائیں طرف کے آدھے جسم کے فالج کے لیے بھی مفید ہے۔ کندھے کے جوڑ کے درد کے لیے بھی مفید ہے۔ لائیکو پوڈیم دائیں کندھے کے جوڑ کے درد کی دوا ہے لیکن چینوپوڈیم میں دونوں طرف درد ہو تا ہے۔ چینوپوڈیم کے مریض میں بھی اوپیم کی طرح Apoplexyہوجانے کا رجحان ملتا ہےجو اوپیم میں بہت زیادہ ہے لیکن چینوپوڈیم کی Apoplexy بھی اوپیم کے مشابہ ہوتی ہے ایسے مریض کا چہرہ اچانک سرخ ہوجاتا ہے۔چینوپوڈیم کے مریض کو اچانک چکرآنے کا عارضہ بھی ہوتا ہے۔اور مستقل چکر آنے کا جو پیدائشی طور پر اس کی خلقت میں عارضہ پایا جاتا ہے،وہ بھی چینوپوڈیم کے امراض میں شامل ہے۔اس مرض کو Meniers,Disease کہتے ہیں۔اس میں باربار سخت چکروں کے دورے پڑتے ہیں جن کے ساتھ شدید قے بھی ہوجاتی ہے۔ اگر کسی شخص پر سستی طاری ہو جائے، بے حسی اور غشی کی حالت ہو، اعصاب میں نیم فالجی کیفیت پیدا ہو اور گلے کے غدود بڑھ جائیں تو یہ چیزیں بھی چینوپوڈیم کے دائرہ اثر میں آتی ہیں۔ (صفحہ۲۸۰)
چینینم آرس
Chininum ars
(Arsenite of Quinine)
چینینم آرس ان لوگوں کی دوا ہے جن کے خون کا نظام لمبی بیماریوں کی وجہ سے درہم برہم ہو چکا ہو، جگر کے افعال سست پڑ گئے ہوں اور ہڈیوں کے گودے میں نقص واقع ہو گیا ہو۔ خون کی کمی کی وجہ سے چہرہ پر ورم اور بے رونقی ہو، جھریاں پڑنے لگیں، چہرہ بہت بوڑھا دکھائی دے اور مریض بالکل کھو کھلا اور بے جان سا ہو۔ چینینم آرس ایسے مریضوں کے لیے مثالی دوا ہے لیکن اس کے باوجود چینینم آرس کے بنیادی مزاج کو سمجھے بغیر اس سے استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔(صفحہ۲۸۳)
ٹھنڈی ہوا سے چینینم آرس کی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔جسم میں ہروقت سردی کا ہلکا ہلکا احساس رہتا ہے۔مزمن اسہال پانی کی طرح اور متعفن ہوتے ہیں۔جسم میں جگہ جگہ ورمیں پائی جاتی ہیں۔حرکت سے سخت نفرت ہوتی ہےاور مریض بے حس و حرکت پڑا رہنا پسند کرتا ہے۔ چینینم آرس میں عضلاتی دھڑکن بھی پائی جاتی ہے جو سارے جسم میں انگلیوں کے کناروں تک محسوس ہوتی ہے۔ نبض کمزور اور باریک دھاگے کی طرح بہت ہلکی چلتی ہے۔(صفحہ۲۸۳-۲۸۴)
چینینم آرس میں لیکیسس کی طرح سونے کے بعد تکلیفیں بڑھتی ہیں۔جسم میں بے چینی رہتی ہے جو شام کو بڑھ جاتی ہے۔(صفحہ۲۸۴)
چینینم آرس کے مریض کو بخار ہو تو گھبرا کر بستر سے باہر نکلتا ہے۔ہروقت بے چین رہتا ہے۔آہستہ آہستہ زندگی سے مایوسی اور نفرت ہونے لگتی ہے،شور ناقابل برداشت ہوجاتا ہےاور یادداشت کمزور پڑجاتی ہے۔ایسے مریض جنہوں نے اپنی زندگی اوباشی اور عیاشی میں گزاری ہو ان میں چینینم آرس کی علامات کا پیدا ہونا زیادہ قرین قیاس ہے۔(صفحہ۲۸۴)
چینینم آرس میں اعصابی کمزوری اور خون کی کمی سے سوتے ہوئے جھٹکا لگتا ہے۔یہ علامت کئی اور دواؤں میں باربار زیربحث آچکی ہے۔چینینم آرس میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہےکہ اس میں اعصابی کمزوری اور خون کی کمی کی وجہ سے جھٹکا لگتا ہے۔کبھی درد کے احساس سے آنکھ کھل جاتی ہےاور درد بجلی کے کوندے کی طرح جسم میں پھیل جاتا ہے۔چینینم آرس میں جو تکلیف خون کا دباؤ کم ہونے سے ہوتی ہےوہی تکلیف آرنیکا، بیلا ڈونا وغیرہ میں خون کا دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوجاتی ہے۔بازو،ٹانگیں اور ہاتھ پاؤں سخت ٹھنڈے ہوجاتے ہیں لیکن پھر خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔چینینم آرس کی یہ خاص علامت ہے۔چینینم آرس میں دائیں پہلو میں زیادہ کمزوری ہوتی ہےمثلاً گردن کا دایاں حصہ اور دایاں بازو متاثر ہوتے ہیں۔کمزوری بڑھے تو تشنج ہونے لگتا ہے۔ رات کے وقت سر میں درد ہو تا ہے۔ نزلے سے بھی سردرد شروع ہو جاتا ہے۔ عموماً جب نزلہ دب جائے تو درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سر میں ہتھوڑے پڑنے کا احساس ہو تا ہے۔ یہ احساس عموماًخون کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ علامت نیٹرم میور میں بھی نمایاں ہوتی ہے کیونکہ یہ بھی خون کی کمی کی بہترین دوا ہے۔ اس میں خون میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ چینینم آرس میں خون کے سرخ ذرے کم ہونے کی وجہ سے خون کی کمی ہوتی ہے۔ اس لیے اس کی ور میں پھولی ہوئی اور کھوکھلی ہوتی ہیں۔ سر کے باہر بھی عضلات میں درد ہونے لگتا ہے، سردی میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ (صفحہ۲۸۴۔۲۸۵)
دل میں درد، تنگی اور گھٹن کا احساس، تشنج، سوجن، کمزوری اور دھڑ کن، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے، پنڈلیوں میں تشنج، جسم میں بائی کی دردیں، گھٹنوں اور ٹانگوں میں درد صرف رات کے آخری حصہ میں چین کی نیند آتی ہے۔یہ امر پیش نظر رکھنا لازمی ہے کہ مریض انتہائی کمی خون کا شکار ہو تو یہ دوا اوپر درج کردہ سب تکلیفوں میں مفید ہے۔ پرخون مریضوں میں یہ دوا کام نہیں کرتی۔ الاماشاء اللہ (صفحہ۲۸۷)
کولسٹرینم
Cholesterinum
اس کے مریض میں بے چینی اور بیزاری نمایاں ہوتی ہے۔مریض بے خوابی کا شکار بھی ہوجاتا ہے۔لیکن آرسینک والی کیفیت نہیں ہوتی اور نہ ہی کیمومیلا کی طرح چڑچڑاپن ظاہرہوتا ہے۔سانس میں گھٹن کے لیے بھی مفید دوا ہے۔مارفیا اس کے اثر کو زائل کردیتی ہے۔(صفحہ۲۸۹)
سیکوٹا وروسا
Cicuta virosa
(Water Hemlock)
سیکوٹا وروسا تشنجات کی چوٹی کی دوا ہے۔تشنج اور تشنجی جھٹکے اس کی خاص علامت ہیں۔ اگر اعصابی بے چینی ہو،زود حسی ہو اور معمولی دباؤ سے اعصاب جھنجھنااٹھیں تو بعض مریضوں کو تشنج شروع ہوجاتا ہےجو جسم کے مرکز سے کناروں کی طرف حرکت کرتا ہے۔سیکوٹا کی یہ علامت دوسری دواؤں کے برعکس ہےکیونکہ تشنجی کیفیت عموماً ہاتھ کی انگلیوں اور پاؤں کے تلووں سے شروع ہوکر اوپر جسم میں منتقل ہوتی ہے۔لیکن سیکوٹا میں تشنج اگر معدے سے شروع ہو تو حرکت کرکے باقی اعضاء میں پھیل جاتا ہے۔گردن میں اکڑاؤ اور تشنج شروع ہوتو وہ جسم کے نچلے حصوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔مرکز سے کناروں کی طرف حرکت اس دوا کی خاص علامت ہے۔اس دوا میں تشنج کا آغاز عموما ً معدہ یا دل کے ارد گرد سنساہٹ سے ہوتا ہے۔نازک اعصاب کو چوٹ لگ جائے یا کوئی کانٹا چبھ جائے تو اس کے نتیجہ میں تکلیف عموم سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔اگر اس سے تشنج ہوجائے تو یہ دوا مفید ہے۔آرنیکا اور لیڈم بھی بہت موثر دوائیں ہیں۔ ان کے علاوہ ہائی پیریکم،سٹیفی سیگریا اور روٹا بھی اعصاب کے زخمی ہونے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تکلیفوں میں بہت مفید ہیں۔(صفحہ۲۹۱)
سیکوٹا وروسا کی بعض علامات Catalepsy سے بھی ملتی ہیں۔اس بیماری میں ذہن تشنج کے نتیجہ میں عارضی طور پر سن ہوجاتا ہے۔مریض بھول جاتا ہے کہ وہ کون ہے اورکہاں ہے؟دماغ میں ایک لہر سی اٹھتی ہےجس کے نتیجہ میں مریض گردو پیش سے کلیتاً بے تعلق ہوجاتا ہے۔اس بیماری میں یہ دوا بہت اہم ہے۔ Catalepsy اور Apoplexy میں فرق یہ ہےکہ Apoplexy میں مریض دماغ میں خون جمنے کے نتیجہ میں بالکل بے حس و حرکت اور مفلوج سا ہوجاتا ہے۔Catalepsy میں گو بظاہر غافل دکھائی دیتا ہےلیکن اس سے کوئی بات کی جائے تو اس کا درست جواب دیتا ہے۔بعد ازاں اسے بالکل یاد نہیں رہتا کہ کیا ہوا تھا۔حال کے واقعات کو ماضی سے ملا دیتا ہے۔پرانے دوست کو مل کر بہت حیران ہوتا ہےکہ شاید اس سے پہلے بھی کبھی مل چکا ہو۔
سیکوٹا وروسا اس بیماری میں بہت مفید ہے جس میں سراور گردن کے عضلات تشنج کی وجہ سے پیچھے کی طرف کھنچ جاتے ہیں۔سیکوٹا وروسا میں تشنج گردن کے پیچھے ہوتا ہےاور مریض پیچھے کی طرف کمان کی طرح اکڑ جاتا ہے۔اس کے علاوہ دماغ کے ورم (Meningitis) سے پیدا ہونے والی اینٹھن کے لیے بھی بہت مفید دوا ہے۔مرگی کے دورہ میں اگر مریض غش کھا کر پیچھے کی طرف گرے تو اس میں یہی دوا کام آئے گی۔گویا مرگی سے ملتی جلتی بیماریوں میں اور چوٹ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تکلیفوں میں اس کی مخصوس علامتوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس کا تشنج مرکز سے باہر کی طرف حرکت کرتا ہے۔(صفحہ۲۹۱-۲۹۲)
اگر مرگی کا دورہ کسی اچانک خوف کے نتیجہ میں پڑے تو ایکونائٹ ایک ہزار فوری فائدہ تو پہنچا سکتی ہے،مستقل فائدہ نہیں پہنچاتی۔ سیکوٹا وروسا ایسے پیدا ہونے واے تشنج یا مرگی کی مستقل دوا ہے۔جب دورہ کی شدت ختم ہو تو ایسے مریضوں کا خوف غم میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اداسی چھا جاتی ہے۔یہ ایک زائد علامت ہے جو سیکوٹا وروسا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔(صفحہ۲۹۳)
یہ دوا پرانی چوٹوں سےپیدا شدہ تکالیف میں بھی مفید ہے۔خصوصا ً سر پر چوٹ کے بد اثرات بعض اوقات فالجی بیماریوں پر منتج ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اس میں نیٹرم سلف اور آرنیکا کام آتےہیں۔ان کے بعد اوپیم اور پلمبم کا نمبر آتا ہے۔ہاں اگر چوٹ سے تشنج ہونے لگے یا مرگی کے دورے پڑنے لگیں توسیکوٹاوروسا خدا کے فضل سے بہت مفید ثابت ہوگی۔ (صفحہ۲۹۳)
سیکوٹا و روسا میں تمام اعضا میں لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے۔ بازوؤں اور ٹانگوں میں کمزوری کا احساس اچانک جھٹکوں کے بعد شدید کمزوری، ٹانگیں لڑ کھڑاتی ہیں اور جسم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں، چکر آتے ہیں، سوتے ہوئے سر پر پسینہ آتا ہے۔ سیکوٹا میں آنکھوں کی ایک علامت یہ ہے کہ پڑھتے ہوئے حروف نظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ چیزیں نزدیک آتی ہوئی اور دور ہٹتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ قوت سامعہ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ نگلنے میں سخت وقت ہوتی ہے۔ گلا خشک غذا کی نالی میں تشنج، سخت پیاس، جلن، ہچکی، ریاح پیٹ میں اپھارہ بھی سیکوٹا و روسا کی علامات ہیں۔ صبح کے وقت اسہال اور پیشاب کی نہ ختم ہونے والی خواہش بھی موجود ہوتی ہے۔ سینہ میں تنگی اور گھٹن کا احساس، سانس لینے میں دقت، آلات تنفس کے عضلات میں تشنج، سینے میں گرمی کا احساس سبھی سیکوٹا میں پائے جاتے ہیں۔(صفحہ۲۹۴)
خواتین میں حیض کے ایام میں رحم اور دمچی میں شدید کھنچنے والا درد ہو تا ہے۔ وضع حمل کے وقت اور بعد میں تشنجی دورے پڑتے ہیں۔(صفحہ۲۹۴)
سیکوٹا وروسا میں چھونے سے، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے،چوٹوں سےاور تمباکو کےدھوئیں سے بیماریاں بڑھ جاتی ہیں اور گرمی سےآرام آتا ہے۔(صفحہ۲۹۴)
سائنا
Cina
سائنا میں تشنج بھی نمایاں ہوتا ہے۔اعضا میں اینٹھن ہوتی ہےاور جھٹکے لگتے ہیں۔اس کے تشنج میں سیکوٹا کی طرح گردن پیچھے کی طرف اکڑ تی ہے۔ہاتھوں کی انگلیاں اندر کی طرف مڑجاتی ہیں۔جسم میں کپکپی اور لرزے کا احساس ہوتا ہے۔اگر ایسے مریض کو کمر پر تھپکی دیں تو اس کے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔سائنا کے مریض کی تکلیفیں کھانا کھانےسے بڑھ جاتی ہیں۔مریض بہت بھوک محسوس کرتا ہے۔(صفحہ۲۹۶)
اگر ملیریا کےحملہ کے بعد مرگی کے دورے پڑنے لگے تو سائنا کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔(صفحہ۲۹۶)
اس کی تکلیفیں کھانا کھانے کے بعد، رات کو اور موسم گرما میں بڑھ جاتی ہیں۔(صفحہ۲۹۷)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شجرِ معرفت سینچنا




