مسجد نور، فرانکفورٹ، جرمنی میں خصوصی نمائش بعنوان ’اسلام اور سائنس‘کا انعقاد
محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد نور، فرانکفورٹ جرمنی میں لوکل امارت جماعت احمدیہ فرانکفورٹ کو مورخہ ۲۷؍جنوری تا ۴؍فروری ۲۰۲۶ء ’اسلام اور سائنس‘ کے موضوع پر خصوصی نمائش لگانے کی توفیق ملی۔ اس نمائش کو مکرم عدیل احمد خالد صاحب مبلغ سلسلہ شعبہ تبلیغ و مکرم ڈاکٹر اسامہ احمد صاحب جوکہ نیوکلیئر فزکس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر بڑی محنت سے قرآنی استدلال کے ساتھ تصویری رنگ میں تیار کیا۔ یہ نمائش ابتدائی طور پر ۲۵؍پوسٹرز پر مشتمل تھی جن میں ان مضامین پر روشنی ڈالی گئی: جیو سینٹرک نظریہ، زمین چپٹی نہیں، اسلام– ایک متحرک تبدیلی، ہیلیو سینٹرک نظریہ، کائناتی جال، ایک حیرت انگیز پیشگوئی، قرآن میں بگ بینگ، کامل ڈیزائن، کائنات کے چھ ادوار، کائنات کا انجام، لوہے کا عددی کمال، ابجدی عددی نظام، زندگی پانی سے، سمندری ہائیڈروتھرمل میدان، ابتدائی کیمیائی سوپ، ملر–یوری تجربہ نیز کیا سب کچھ اتفاق ہے؟۔ اسی طرح درج ذیل مسلم سائنسدانوں کے انسانی معاشرےاور جدید سائنسی ایجادات پر احسانات کا بھی ذکر تھا:نصیرالدین طوسیؒ، ابن سیناؒ، ابن رشدؒ، ابن فرناسؒ، البیرونی، جابر بن حیان، ابن الہیثم اور الخوارزمی۔

اس نمائش کی تشہیر کے ليے لوکل امیر صاحب فرانکفورٹ کی راہنمائی میں تمام صدران حلقہ جات کی مدد سے ۵؍ہزار اشتہارات فرانکفورٹ میں عموماً اور مسجد نور کے اردگرد کے علاقوں میں خصوصاً تقسیم کروائے گئے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اس نمائش کی تشہیر کرنے کی توفیق ملی۔ پرنٹ میڈیا کو خصوصی دعوت نامے بھجوائے گئے۔ فرانکفورٹ کے ایک پریس FNPکے نمائندہ اس نمائش کو دیکھنے آئے۔ موصوف کو مکرم ڈاکٹر اسامہ احمد صاحب نے نمائش کا دورہ کروایا اور ان کے سوالات کے جواب دیے۔ اس اخبار نے اپنے اگلے دن کی اشاعت میں واضح سرخی اور تصویر کے ساتھ خبر شائع کی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا۔
اس موقع پر ایک لیکچر کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے حصہ لیا جن میں ایک پادری جناب جوانا برگنر (Joana Bergner)، جناب سلکے الویس کرسٹے (Silke Alwis Christe)ماہر قانون دان، جناب ڈاکٹر ایران بومی (Dr. Iran Bumi) اور VdK (جوایک سوشل رائٹس اور قانونی مدد دینے والی فلاحی تنظیم ہے جو کمزور اور ضرورت مند افراد کو ریاستی سہولتیں حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے)کے نمائندگان شامل تھے۔
ڈاکٹر الیگزینڈر شاڈو نے ویڈیو لیکچر کے ذریعے اپنا سائنسی مضمون پیش کیا۔ انہوں نے اسلامی طب کے یورپی میڈیکل سسٹم پر اثرات اور ہسپتالوں کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مذہبی نقطہ نظر سے مکرم اسامہ احمد صاحب نے قرآن میں مذکور قدرتی مظاہر اور سائنسی حقائق کے درمیان تعلق کو واضح کیا اور بتایا کہ تخلیق کی تحقیق عقل و شعور کے ساتھ اسلام کا بنیادی مقصد ہے۔

اس نمائش کو مہمانوں نے بہت سراہا۔ جناب Joana Bergner نے کہا کہ نمائش میں قرآن کے اقتباسات اور سائنسی تشریحات نہایت واضح اور معلوماتی انداز میں پیش کی گئیں ہیں۔ موصوفہ کے مطابق ایسے موضوعات معاشرتی طور پر بہت اہم ہیں کیونکہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہوئے تکمیل کرتے ہیں۔ نمائش نے انہیں اس بات کی طرف مائل کیا ہے کہ وہ اب بائبل میں سائنسی حوالہ جات تلاش کریں گی۔
ایک اَور مہمان نے کہا کہ نمائش نے مذہب اور سائنس کے تعلق کو نہایت دلچسپ اور قابل فہم انداز میں پیش کیا۔ ان کے مطابق ایسی نمائشیں جرمنی جیسے اکثریتی عیسائی معاشرے میں اسلام کو سمجھنے اور تعصبات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
نمائش کے دنوں میں شام ۴ بجے سے۸؍بجے تک ماہر راہنماؤں کی زیر نگرانی خصوصی لیکچرز منعقد کیے گئے جن میں فلکیات، ارتقا اور سرجری جیسے موضوعات پر براہ راست مکالمے ہوئے۔
الحمدللہ، یہ نمائش بہت کامیاب رہی جس نے بین المذاہب مکالمے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہوئے اسلام کی سائنسی خدمات کو اجاگر کیا اور شرکاء کو مذہب اور سائنس کے درمیان تعلقات پر غور کرنے کی ترغیب دی۔ مہمانوں کی مثبت آراء اور وسیع میڈیا کوریج اس کی معاشرتی اہمیت کو اجاگرکرنے میں اپنا عمدہ کردار ادا کیا۔
اس نمائش کو لگانے، مہمانوں کی دیکھ بھال اور ڈیوٹیاں دینے والے احباب جماعت کو جزائے خیر سے نوازے۔ آمین
(رپورٹ:صفوان احمد ملک۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مسجد بیت الفتوح میں ’ بِگ افطار‘پروگرام کا انعقاد




