دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور دعا بھی کی جاوے
خداتعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ط أَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا (الحجرات : ۱۳) اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کے گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جو آسمانی سلسلہ بنتا ہے ان میں عیب کرنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ آیت بے کار جاتی ہے۔ اگر مومنوں کو ایسا ہی مطّہر ہونا تھا اور ان سے کوئی بدی سرزد نہ ہوتی تو پھر اس آیت کی کیا ضرورت تھی ؟ بات یہ ہے کہ ابھی جماعت کی ابتدائی حالت ہے۔ بعض کمزور ہیں جیسے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے۔ بعض میں کچھ طاقت آگئی ہے۔ پس چاہیے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔ اگر نہ مانے تو اسکے لیے دعا کرے اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضا و قدر کا معاملہ سمجھے۔ جب خدا نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہیے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سردست جوش نہ دکھلا یا جاوے ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔ قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہو جاتا ہے بلکہ لکھا ہے کہ الْقُطُبُ قَدْ يَزْنِیْ کہ قطب سے بھی زنا ہو جاتا ہے۔ بہت سے چور اور زانی آخر کار قطب اور ابدال بن گئے ۔ جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔ کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لیے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہیے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔ مرحمه یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لیے دعا بھی کی جاوے۔ دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابلِ افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔ عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہیے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لیے رو رو کر دعا کی ہو۔
(ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۲۳۹ تا ۲۴۰۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا




