فرکے، آئیوری کوسٹ میں مسجد بیت النصرت کا افتتاح نیز ریجنل جلسہ کا انعقاد
مکرم حافظ شہباز احمد صاحب مبلغ سلسلہ آئیوری کوسٹ تحریر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ آئیوری کوسٹ کو جماعت ہوفے کاہا (Houphouetkaha)، ریجن فرکے (Ferkessedogo)میں نئی تعمیر کردہ مسجد کا افتتاح مورخہ ۶؍فروری ۲۰۲۶ء کو کرنے کی توفیق ملی۔ اس جماعت میں احمدیت کا قیام۲۰۱۳ء میں مکرم سیاوے صاحب مرحوم معلم سلسلہ کے ذریعہ سے ہوا بعد ازاں مقامی احباب نے اپنی مدد آپ کے تحت نماز پڑھنے کے لیے ایک چھوٹی مسجد بنائی اور ساتھ ہی ممبران نے مالی قربانی میں حصہ لینا بھی شروع کر دیا اور جلسہ سالانہ آئیوری کوسٹ میں بھی شرکت کی۔ ماہ فروری ۲۰۲۴ء میں جماعت احمدیہ آئیوری کوسٹ کو اس گاؤں میں ایک پختہ مسجد کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی اور تعمیر کے کام کا آغاز ہوا جس کی نگرانی خاکسار (ریجنل مبلغ سلسلہ) کو کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس مسجد کا کل احاطہ ۱۶۸؍مربع میٹر پر مشتمل ہے جبکہ اس میں تقریباً ۱۸۰؍افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کے اخراجات مکرم شیخ محمد اسلام الدین صاحب مقیم جرمنی کو ادا کرنے کی توفیق ملی۔

مورخہ ۶؍فروری ۲۰۲۶ء کو اس مسجدکے باقاعدہ افتتاح کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اسی تقریب کے ساتھ ہی ریجنل جلسہ بھی منعقد کیا گیا جس میں مکرم عبدالقیوم پاشا صاحب امیر و مبلغ انچارج آئیوری کوسٹ، مکرم نائب امیر کونے داؤد صاحب اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز شام چار بجے تلاوت قرآن کریم سے ہوا اس کے بعد مکرم صنفو ہاشم صاحب نے جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے ’’مسجدوں کے قیام کا بنیادی مقصد اور مسجد ایک امن کا گھر‘‘ کے موضوع پر تقریر کی جس کا لوکل زبان جولا میں ترجمہ کیا جاتا رہا۔ بعدازاں مختلف مقامی اتھارٹیز(نمائندہ میئر فر کے شہر، نمائندہ گورنر علاقہ، جنرل ہاسپٹل کے ڈائریکٹر کے نمائندے اور ریجنل چیف فرکے اور آٹھ گاؤں کے چیف صاحبان) جنہوں نے اس تقریب میں شرکت کی انہوں نے مختصر سی تقاریر کیں جن میں جماعت کی اس کوشش کو سراہا گیا۔ ان مختصر تقاریر کے بعد اتھارٹیز کو مسجد اور بک سٹال کا دورہ کروایا گیا جہاں ان کو قرآن کریم کے مختلف تراجم، جماعتی کیلنڈر اور جماعتی کتب کا تعارف کروایا گیا اور مکرم امیر صاحب نے تحفۃً قرآن کریم اور کیلنڈر پیش کیا۔ بعدازاں مسجد کی تختی کی نقاب کشائی کی گئی اور دعا کے بعد نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی اور عشائیہ کےبعد رات کوسوال وجواب کی مجلس کا انعقاد کیاگیا۔
اگلے دن مورخہ ۷؍فروری کوجماعتی روایات کے مطابق باجماعت نماز تہجد کا انتظام کیا گیا اور نماز فجر کے بعد مکرم یوسف صاحب معلم سلسلہ نے ’نماز کی اہمیت‘ پر درس دیا۔
تقریباً نو بجے فرکے ریجن کے سالانہ ریجنل جلسہ کے اجلاس کاباقاعدہ آغاز ہوا جس کی صدارت مکرم نائب امیر جماعت احمدیہ نے کی۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم شمس الدین صاحب معلم سلسلہ نے تقریر کی جس کا موضوع ’’اسلام ایک امن کا مذہب‘‘ تھا۔ اس کے بعد مکرم سلا ابراہیم صاحب معلم سلسلہ نے جماعت احمدیہ کی امن کے حوالے سے کوششوں کو بیان کیا بعد ازاں مکرم دوسو صاحب نے IAAAE کا تعارف پیش کیا اور اس پراجیکٹ کے تحت کی گئی ایک ریسرچ پیش کی جو کہ میری گولڈ پھول کی کاشت کے حوالے سے تھی۔ حاضرین میں زراعت کے شعبے سے تعلق رکھنے والےاحباب کو ۱۰۰؍کے قریب شاپنگ بیگز میں اس پھول کے بیج بطور تحفہ دیے گئے۔ تقریب کے آخر میں مکرم نائب امیر صاحب نے اختتامی تقریر کی اور دعا کروائی۔
اللہ تعالیٰ فرکے ریجن اور جماعت احمدیہ آئیوری کوسٹ کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور جماعت ہوفے کاہا کے لیے یہ مسجد زیادہ سے زیادہ برکتوں اور اسلام احمدیت کی ترقی کا باعث بنے اور احباب جماعت کو مساجد کو آباد رکھنے کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اسے آباد رکھنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین
(رپورٹ:عبدالنور۔نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)




