سیرت خلفائے کرام

حضرت مصلح موعود ؓ ۔ نوجوان نسل کے روحانی معلّم

(نائلہ جمیل – کینیڈا)

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ قوموں کی ترقی اور تنزلی کا دارومدار ان کے گھروں میں پلنے والی نسلوں پر ہوتا ہے۔ اور ہر دور کی نوجوان نسل کو ایسے معلّم اور راہنماؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی فکری، علمی،عملی، اخلاقی اور روحانی تربیت کرسکیں۔ موجودہ دور میں ہمیں جو اخلاقی اور روحانی زوال دیکھنے کو مل رہا ہے ، اس سے نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ مادیت پرستی، سوشل میڈیا کا دباؤ، اخلاقی بے راہ روی ، فحاشی و عریانی سے لے کر نت نئی نشہ آور اشیاءکی موجودگی نے ہمارے نوجوانوں کو ذہنی دباؤاور بے مقصدیت کا شکار کردیا ہے۔ پس روحانی اصلاح کے لیے ایسے راہنما ؤں کی ضرورت ہے جو نوجوان نسل کی نفسیات اور وقت کی ضرورت دونوں کو سمجھتے ہوئے ان کی کردار سازی کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعودؑ کو ایک فرزندِ موعود کی بشارت دی ، اس مصلح موعود ؓ نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور بصیرت افروزقیادت سے کئی نسلوں کی راہنمائی کرنی تھی لہٰذا آج کے دور میں بھی آپؓ کے ارشادات اور بے مثال راہنمائی نوجوان نسل کے لیے قابل تقلید ہے۔ نوجوانوں کی اصلاح کا قوموں کی زندگی سے کتنا گہرا تعلق ہے اس حوالے سے آپؓ فرماتے ہیں:’’ میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہوں جن کو خداتعالیٰ کی طرف سے اس کے نبی اور مامور دنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کی ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا۔‘‘(مشعل راہ، جلد اوّل صفحہ ۱۴)
حضرت مصلح موعود ؓ نوجوانوں کے لیے بہترین روحانی معلّم ہیں کیونکہ آپؓ نے نوجوانوں کی تین محاذوں یعنی روحانی اور دینی بنیاد، علمی بنیاد اور عملی بنیاد پر تربیت کے لیے راہنمائی فرمائی جو کہ نوجوان نسل کی کامیابی کے لیے ایک متوازن اور واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔ آپ ؓ نے احباب جماعت کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیےجو مختلف ذیلی تنظیمیں بنائیں، ان کے قیام سے بنیادی غرض بچپن سے ہی اگلی نسل میں دینی روح پیدا کرنا اور ان کے دلوں میں اللہ، دین اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔
۱۔ دینی اور روحانی بنیاد: آپؓ کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ آپؓکے نزدیک نوجوان کی اصل طاقت اس کا خدا سے تعلق ہے۔ آج کے نوجوان اکثر کیریئر، شہرت اور مالی کامیابی کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں، مگر اس کے باوجود ذہنی سکون حاصل نہیں کر پاتے۔ حضرت مصلح موعودؓ اس الجھن کا حل یہ بتاتے ہیں کہ جب زندگی کا مرکز اللہ تعالیٰ بن جائے تو باقی چیزیں خود بخود متوازن ہو جاتی ہیں۔ آپؓ نے نوجوانوں کو رسمی عبادات سے آگے بڑھ کر دعا میں سوز، عاجزی اور تسلسل پیدا کرنے کی تلقین فرمائی، کیونکہ یہی روحانی مضبوطی دنیاوی آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتی ہے۔اسی لیے جہاں آپؓ نے نماز کی فلاسفی کو سمجھاتے ہوئے اس کی ادائیگی پر زور دیا ، وہیں ذکرِ الٰہی یعنی تسبیح وتحمید وتکبیرسے روحانی صفائی کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔آپؓ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئےفرمایا:
’’ بیوت الذکر اس لیے نہیں ہوتیں کہ ان میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کی جائیں۔ بیت الذکر میں یا تو دینی باتیں ہونی چاہئیں اور یا پھر انسان کو ذکرالہٰی میں مشغول رہنا چاہیے۔ جب تک نوجوانوں میں یہ روح پیدا نہیں ہوتی میں نہیں سمجھ سکتا ان میں خشیت اللہ کس طرح پیدا ہوسکتی ہے اور جب تک کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پیدا نہیں ہوتی، ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ایک سچا احمدی ہے۔‘‘(مشعل راہ، جلد اوّل ۔ صفحہ ۳۰۲)

عادتِ ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں
دل میں ہو عشقِ صنم لب پہ مگر نام نہ ہو
(کلام محمود)

۲۔ علمی بنیاد:ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ نوجوان یا تو مکمل دنیا داری میں کھو جاتے ہیں یا دین کو صرف رسمی عبادت تک محدود کر دیتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے نوجوانوں کو بتایا کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جو دین اور دنیا دونوں میں ترقی کرے۔ اسی حوالے سے آپؓ نے نوجوانوں کو دینی تعلیم کے حصول کی خصوصی ترغیب دی۔ اس حوالے سے فرمایا:
’’ گویا دینی واقفیت کے لیے یہ تین چیزیں ضروری ہیں: اول قرآن کریم کا ترجمہ، دوم حدیث، سوم حضرت مسیح موعودؑ کی کتب۔‘‘(مشعل راہ، جلد اوّل ۔ صفحہ ۳۹۲)
مزید فرمایا:’’ پس ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآنی تعلیم کو سمجھیں اور اس کو اپنے دلوں اور دماغوں میں پوری مضبوطی سے قائم کریں۔ میں نے کہاتھا کہ ہر احمدی نوجوان کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو۔ اصل میں تو یہ ہر احمدی نوجوان کا فرض ہے کہ وہ عربی جانتا ہو لیکن کم سے کم اتنا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم میں کیا لکھا ہے اور خدا ہم سے کن باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ عربی جاننے سے یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کا مفہوم سمجھنے کی منزلیں جلد طے ہوجاتی ہیں۔‘‘(مشعل راہ، جلد اوّل ۔ صفحہ۳۸۹) سلسلہ کی کتب اور خاص طور پر حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے مطالعہ کے لیے آپؓ نے خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:’’ اسی طرح ہر جگہ ان کا یہ کام ہوگا کہ وہ سلسلہ کا لٹریچر پڑھیں۔ نوجوانوں کو دینی اسباق دیں… حضرت مسیح موعودؑ کی کتابیں پڑھنے کے لیے کہا جائے اور پھر ان کا امتحان لیا جائے۔‘‘ (مشعل راہ، جلد اوّل ، صفحہ ۲۹)
اسلامی تعلیمات کے عین مطابق آپؓ نے نوجوانوں کودنیا سے کنارہ کشی کی تعلیم نہیں دی، بلکہ حلال ذرائع سے ترقی، پیشہ ورانہ مہارت اور علمی برتری کو اسلام کی خدمت کا ذریعہ قراردیتے ہوئے انہیں ہر قسم کے دنیوی علوم سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ آپ فرماتے ہیں: ’’ واقفین زندگی میں دو قسم کے آدمی ہیں۔ ایک وہ جن کا رجحان اس طرف ہے کہ دین کا علم سیکھ کر دین کی خدمت کریں اور دوسرے وہ جن کا رجحان اس طرف ہے کہ دنیا کا علم سیکھ کر دین کی خدمت کریں۔ سلسلہ کے لیے دونوں قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے تا ہر قسم کے کاموں کو جاری کیا جاسکے۔‘‘(خطاب فرمودہ ۳۰ ؍مئی۱۹۴۶ء ۔ مطبوعہ الفضل۲۵ ؍ ستمبر ۱۹۶۰ء)
اس حوالے سے آپؓ نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے سائنس کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی:
’’ یہ سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے۔ اس لیے خدام الاحمدیہ کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد سائنس کے ابتدائی اصولوں سے واقف ہو جائے۔‘‘(مشعل راہ، جلد اوّل ۔ صفحہ۴۴۶)
پھر دنیاوی کاروبار کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ہماری جماعت کو اب تجارت کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے۔ میں نے بارہا بتایا ہے کہ تجارت ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا میں بہت بڑااثرورسوخ پیدا کیا جاسکتا ہے… اگر ہماری جماعت کے نوجوان اس طرف توجہ کریں تو ہم قلیل ترین عرصہ میں سارے ملک میں اپنے تاجر اور صناع پھیلاسکتے ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ جس جس علاقہ میں ہمارا تاجر اور صناع ہوگا، ان علاقوں میں صرف ان کی تجارت اور صنعت ہی کامیاب نہیں ہوگی بلکہ جماعت بھی پھیلے گی۔‘‘(خطاب فرمودہ ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۴۵ ءمطبوعہ الفضل ۱۱ ؍جولائی ۱۹۶۲ء)
پس آپؓ نے نوجوانوں کو یہ سبق دیا کہ اگر وہ اسلام کی نمائندگی اور سلسلہ کی خدمت کے مقصد سے علمی اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں گے تو دین اور دنیا دونوں میں ترقی کریں گے اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔
۳۔ عملی بنیاد:حضرت مصلح موعودؓ کی فراست نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ نوجوانوں کو ایک باوقار، باکردار اور باصلاحیت انسان بنانے کی کوشش کی جائے اور اس کے لیے علمی ہی نہیں بلکہ عملی طور پر ان میں کھیل، صحت، سیاست اور معاشرتی شعوراجاگر کیا جائے۔ آپؓ نے انسانی صحت کے دماغ اور روح پر اثر کو واضح کرتے ہوئے بچپن سے ہی ورزش کی عادت ڈالنے کی نصیحت فرمائی۔ فرماتے ہیں:
’’ پس میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ بچوں کے کھیل کود کے زمانہ کو وہ زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی کوشش کریں اور کوشش کریں کہ کھیلیں ایسی ہوں کہ جو نہ صرف جسمانی قوتوں کو بلکہ ذہنی قوتوں کو بھی فائدہ پہنچانے والی ہوں۔ ان میں تین باتوں کا خیال رکھا جائے۔ ایک تو جسم کو فائدہ پہنچے۔ دوسرے ذہن کو فائدہ پہنچے اور تیسرے وہ آئندہ زندگی میں ان کے کام آسکیں۔ جس کھیل میں یہ تینوں باتیں ہوں گی وہ کھیل کھیل ہی نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم بھی ہوگی اور وہ طالب علم کے لیے ایسی ہی ضروری ہوگی جیسی کتابیں۔‘‘(مشعل راہ، جلد اوّل ۔ صفحہ ۱۷۰۔۱۷۱)
پھرآپؓ نے یہ بیان فرماتے ہوئے کہ اخلاق روحانیت کے لیے بمنزلہ جسم کے ہیں ، نوجوان نسل کو اپنی روحانی ترقی کے لیے اخلاقِ فاضلہ کواپنانے کی اور بدیوں سے بچنےکی تعلیم دی ۔ آپؓ نے فرمایا:’’ اچھے اخلاق میں سے بہترین اخلاق جن کا پیدا کرنا کسی قوم کی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے وہ سچ اور دیانت ہیں… جس قوم میں دیانت آجائے وہ قوم نہ کبھی ذلیل ہو سکتی ہے اور نہ کبھی غلام بنائی جاسکتی ہے۔ سچائی اور دیانت دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کو ذلیل بناتا اور ان دونوں کا فقدان ہی کسی قوم کو غلام بناتا ہے۔‘‘ (مشعل راہ، جلد اوّل ۔ صفحہ ۱۱۳)
عملی تربیت کا ایک اہم ستون خدمتِ خلق ہے لہٰذا آپؓ نے نوجوانوں کو مذہب وقوم کی تفریق کو بھلا کر خدمتِ خلق کو اپنا مقصود قرار دینے کی تلقین فرمائی۔فرمایا: ’’ تم لوگوں کی خاطر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی خاطر خدمت کر واور اللہ تعالیٰ کی محبت اور خدمت خلق کو اپنی زندگیوں کا مقصد بناؤ۔ اگر تم ایسا کروگے تو پھر تمہاری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں رہے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ طوفان اور سیلاب ہی آئیں تو پھر تم خدمت کرو۔ مومن کو تو ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان مصائب سے دنیا کو بچائے رکھے لیکن خدمت خلق کے مواقع ہر وقت میسر آسکتے ہیں مثلاًبیماروں کو دوائی لا کر دینا، غریبوں، محتاجوں، بیواؤں کی مدد کرنا۔ یہ سب کام ایسے ہیں جو تم ہر وقت کرسکتے ہو اور یہ کام تمہارے پروگرام کا مستقل حصہ ہونے چاہئیں ۔‘‘(خطاب فرمودہ ۲۷ ؍دسمبر ۱۹۵۵ء مطبوعہ الفضل یکم جنوری ۱۹۵۶ء)
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ارشادات کے ذریعے جو علمی اور عملی تربیتی ڈھانچہ نوجوانوں کو فراہم کیا وہ ہر دور کی نوجوان نسل کے لیے روحانیت میں بڑھنے کے لیے ایک روشن سمت ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
’’ اپنے آپ کو ایسے مقام پر کھڑا کرو جس کے بعد تمہیں یقین ہو جائے کہ تم ہرگز بزدلی نہیں دکھاؤگے۔ اس کے لیے تیاری کرو۔ مگر یہ تیاری اسلامی طریق کے مطابق ہونی چاہیے۔ ایسی تیاری کرنےکے دنیا میں دو ہی طریق ہیں۔ ایک یہ کہ جسموں کومضبوط بنا یا جائے ۔ اس کی مثال نپولین، ہٹلر، چنگیز خان اور تیمور سے مل سکتی ہے اور ایک تیاری روح کی مضبوطی اور پاکیزگی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ اس کی سب سے روشن ، اعلیٰ اور ارفع مثال دنیا محمدرسول اللہ ﷺ کے مقدس وجود میں دیکھ چکی ہے ۔ پس تم ہٹلر، نپولین یا چنگیز خان اور تیمور کی بجائے محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے تیاری کرو لیکن یہ نمونہ دنیوی مثالوں سے سینکڑوں اور ہزاروں گنا بالا ہے بلکہ اتنا بالا ہے کہ آج بھی فرشتے اس پر مرحبا کہہ رہے ہیں۔‘‘(خطاب ۔فرمودہ ۳۰ ؍اکتوبر ۱۹۵۲ء مطبوعہ الفضل یکم نومبر۱۹۵۲ء)

میری تو حق میں تمہارے یہ دعا ہے پیارو
سر پہ اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو
(کلام محمود)

مزید پڑھیں: نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button