خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… امام جماعت احمدیہ عالمگیرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ ۱۰؍اپریل ۲۰۲۶ء کے آخر میں دنیا کے حالات اور خاص طور پر مسلم دنیا کے حالات کے تناظر میں دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت دعا کی ضرورت ہے۔ جنگ بندی کہنے کو تو ہوئی ہے لیکن یہ دیرپا نظر نہیں آتی بلکہ ابھی سے اس میں دراڑیں پڑنی شروع ہو چکی ہیں۔ اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے حوالے سے فرمایا کہ اسرائیلی حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح لبنان پر حملہ کر کے ایرانیوں کو بھی اشتعال دلائے اور وہ جواب دیں۔ اب تو بعض یورپین لیڈروں نے بھی اس کے اس فعل کی مذمت کی ہے۔ بہرحال ہمیں دعا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان دنیا پر رحم فرمائے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو اسی شمارے کا صفحہ اوّل)
٭… ایران میں عبوری جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل امن معاہدے کی کوشش کے طور پر ۱۱؍اپریل کو پاکستان میں مذاکرات کے تین دور منعقد ہوئے۔ پاکستان، جو ان مذاکرات کا میزبان اور ثالث تھا، ان کے کامیاب ہونے کا خواہاں تھا، جبکہ دنیا کے کئی ممالک بھی اس تنازعے کے جلد خاتمے کے منتظر تھے۔ تاہم یہ مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے، جس سے متعدد ممالک میں مایوسی پائی گئی۔ برطانیہ نے بھی اس تعطل پر افسوس کا اظہار کیا۔ برطانوی وزیر صحت ویز اسٹریٹنگ(Wes Streeting) نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونا انتہائی مایوس کن ہے کیونکہ اس سے ایران جنگ کے مستقل خاتمے کی امید وابستہ تھی۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جنگ بندی کوششوں کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اشتعال انگیز بیان بازی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے بیانات امن عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
٭… ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف کے مطابق امن مذاکرات کے دوران واشنگٹن تہران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ کی پالیسیوں اور بیانات میں تضاد موجود تھا، جس نے ایران کے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا۔ قالیباف نے کہا کہ جب تک امریکہ عملی اقدامات کے ذریعے سنجیدگی اور اعتماد سازی کا مظاہرہ نہیں کرتا، کسی پائیدار امن معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوگا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ فریقین کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان اور سیاسی کشیدگی ہے، جو خطے میں امن کوششوں کے لیے ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
٭… امریکہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات اس لیے ناکام رہے کیونکہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے دستبرداری کی یقین دہانی نہیں کرائی۔ دوسری جانب ایران کے مطابق کئی اہم معاملات، خصوصاً آبنائے ہرمز اور دیگر بنیادی اختلافات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اس تعطل نے جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جو ۲۲؍اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھیں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں۔
٭… ایران میں حالیہ حملوں کے بعد تباہ ہونے والی آئل ریفائننگ تنصیبات کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے، اور ایرانی نائب وزیر تیل محمد صادق عظیمی کے مطابق آئندہ دو ماہ میں ۷۰؍سے ۸۰؍فیصد ریفائننگ صلاحیت بحال ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ تقریباً دس دن میں دوبارہ کام شروع کر دے گا۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں ریفائنریز، آئل ڈپو، ٹرانسمیشن لائنز اور ایندھن فراہم کرنے والی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جن کی مرمت کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ دوسری جانب سابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ ایران پر اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔
٭… جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے بدستور جاری ہیں، اور لبنانی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ ۲۴؍گھنٹوں میں مزید ۹۷؍افراد جاں بحق جبکہ ۱۳۳؍زخمی ہوئے ہیں۔ اس طرح ۲؍مارچ سے جاری حملوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد ۲؍ہزار ۲۰؍ اور زخمیوں کی تعداد ۶؍ہزار ۴۳۶؍ تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج کے خلاف جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ ایک اسرائیلی ٹینک تباہ کر دیا گیا۔ خطے میں جاری یہ کشیدگی مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
٭… سابق اسرائیلی نائب چیف آف اسٹاف یائیر گولان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو شدید دباؤ کا شکار ہیں اور خود جانتے ہیں کہ جنگ کے بنیادی مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق اگر واقعی کامیابی حاصل ہو چکی ہوتی تو بار بار فتح کا اعلان کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ یائیر گولان نے نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے۔ ان کا بیان اسرائیل کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی اور عسکری تنقید کو ظاہر کرتا ہے، جہاں جنگی حکمت عملی اور حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
٭… ایران کی مسلح افواج نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا آپریشن جاری ہے۔ ایرانی فوجی کمان کے ترجمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ایران کے پاس ہے اور کسی بھی جہاز کے گزرنے میں ایران کو بالادستی حاصل ہے۔ پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے صرف غیر فوجی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ فوجی جہازوں کی کسی بھی نقل و حرکت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عرب پہنچ چکے ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید فوجی اور زیر آب ڈرونز اس مشن میں شامل ہوں گے۔ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے۔




