جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے موقع پر مستورات کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب
آپ کی بنیادی سوچ یہ ہونی چاہیے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی اصلاح کرنے والے ہیں اور اس کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے، اپنی اصلاح کرتے ہوئے، اپنی دینی، علمی، عملی اور روحانی حالت بہتر کرتے ہوئے ایک انقلاب لانا ہے
آج کل کے معاشرے میں اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام نعوذ باللہ عورتوں کے حقوق غصب کرتا ہے لیکن اسلام تو ہر جگہ عورتوں کو حقوق دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اسلام نے عورتوں کے حقوق اس حد تک قائم فرمائے ہیں کہ اس کی کوئی اَور مثال نہیں ملتی
مردوں کو بھی اس بات کو یاد رکھنا پڑے گا کہ انہوں نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے ہیں اور عورتوں کو اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر مردوں کی طرف سے کوئی زیادتی ہوتی ہے تو یہ اسلام کی تعلیم کے مطابق عمل نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیم کے خلاف عمل ہے اور ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں اس لیے انہیں بھی بجائے اعتراض کرنے کے یا لوگوں کی باتوں میں آنے کے، غیروں کی باتوں میں آنے کے، اسلام مخالف لوگوں کی باتوں میں آنے کے نظام کو اپنی بات پہنچانی چاہیے
قوّام کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ مرد کو مضبوط اعصاب عطا کیے گئے ہیں۔ اسے یہ کہا گیا ہے کہ اگر گھر میں کوئی بدمزگیاں پیدا ہوتی ہیں تو تم اپنے مضبوط اعصاب کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اصلاح تمہاری ذمہ داری ہے اپنے بعض حقوق چھوڑ کر بھی عورت کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرو اور گھر کی فضا کو پرامن اور پیار و محبت کی فضا بنانے کی کوشش کرو تاکہ تمہارا گھر ہر قسم کےجھگڑوں سے پاک رہے اور تمہارے بچے اور آئندہ نسلیں بھی نیک نمونہ دیکھتے ہوئے اسلامی تعلیم کی خوبیوں کو سمجھنے والی ہوں اور ان پر عمل کرنے والی ہوں
دین اسلام میں تنگی اور حرج نہیں ہے۔
جو شخص خواہ مخواہ تنگی اور حرج کرتا ہے وہ اپنی نئی شریعت بناتا ہے۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)
ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جہاں مردوں کے حق ہیں وہاں عورتوں کے بھی حق ہیں کیونکہ وہ ایک ہی پسلی سے، ایک ہی وجود سے اور ایک ہی قسم سے پیدا کیے گئے ہیں
اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے ہاں بھی بعض ایسی عورتیں ہیں جن کے عبادتوں کے معیار بہت بلند ہیں اور مالی قربانیوں کے معیار بھی بہت بلند ہیں اور جب بھی مالی تحریکات کی جاتی ہیں تو لجنہ اماء اللہ بہت بڑھ کر اس نیکی کے کام میں آگے آتی ہیں لیکن باقی نیکیاں بھی ہیں ان کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہیے۔ صرف مالی قربانی ایک نیکی نہیں ہے بلکہ اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانا، اپنے دوسرے اخلاق کے معیار بلند کرنا، اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کرنا اور ان کو ایسا پاک وجود بنانا جس سے وہ جماعت کے لیے اور ملک کے لیے ایک کارآمد وجود بن سکیں۔ یہ بھی ہر عورت کی ذمہ داری ہے
اسلام ایک بڑا متوازن مذہب ہے جو اعلیٰ اخلاق کی بھی تعلیم دیتا ہے، عبادتوں کے اعلیٰ معیاروں کی بھی تعلیم دیتا ہے، بچوں کے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے، اپنے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے، اپنے معاشرے کے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے اور یہی وہ باتیں ہیں جو پھر دنیا میں امن اور محبت اور پیار کی فضا پیدا کرنے والی ہوتی ہے
اگر آپ کے نمونے اچھے ہوں گے تو آپ کے گھروں میں اگر آپ کے خاوندوں کے اندر کوئی کمزوریاں ہیں بھی تو آپ کے نمونوں سے ہی وہ دور ہو سکیں گی اور اس کا بھی ثواب آپ کو ملے گا اور ایسی حالت میں آپ نے نہ صرف اپنے بچوں کی اصلاح کی بلکہ اپنے خاوندوں کی بھی اصلاح کی
آپ نے اس سوچ کے ساتھ اپنے حق اور فرائض ادا کرنے ہیں کہ اسلام نے آپ کو جو حقوق دیے ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ معاشرے کے لیے ایک مفید وجود بن جائیں اور اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ نے حتی الوسع اپنی تمام صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنی ہے
احمدی عورت کے حقوق و فرائض نیز اسلام پر حقوقِ نسواں سے متعلق اٹھائے جانے والے بعض بے بنیاد اعتراضات کا مؤثر ترین جواب
جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے موقع پر مستورات کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب
(فرمودہ مورخہ 26؍جولائی 2025ء بروزہفتہ بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن، ہمپشئر ، یوکے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آج آپ جلسہ سالانہ یو کے میں شامل ہوئی ہیں۔
جلسہ سالانہ کا مقصد
یہ ہے کہ آپ اپنی علمی، روحانی اور عملی ترقی میں اپنا کردار بڑھانے والی بنیں۔ میں نے کل پہلی تقریر میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے حوالے سے اسی طرف توجہ دلائی تھی کہ جلسے کا مقصد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو اسلام کی تعلیم کے ذریعے جو مقام دیا ہے اگر ہر عورت اسے یاد رکھے اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے والی ہو، اپنی ذاتی اصلاح کے ساتھ اپنی اولاد کا حق ادا کرنے والی ہو، ان کی تربیت کرنے والی ہو اور جو حقوق اسلام نے عورت کے قائم کیے ہیں ان کی شکر گزاری کرنے والی ہو تو وہ نہ صرف اپنی زندگی میں انقلاب لانے والی ہوگی بلکہ اپنی اولاد کی زندگیوں میں بھی انقلاب لانے والی ہو گی اور جماعت کے لیے ایک ایسا وجود بن جائے گی جس کا جماعت کی ترقی میں ایک اہم کردار ہوگا۔
بہت ساری لڑکیاں سوال کرتی ہیں کہ ہم اپنی دنیاوی تعلیم جو حاصل کر رہی ہیں اس کے ساتھ جماعت کے لیے کس طرح مفید وجود بن سکتی ہیں۔ اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو جس فیلڈ میں بھی ہوں، جس شعبے میں بھی ہوں یا گھرداری کرنے والی خاتون ہوں جماعت کے لیے ایک مفید وجود بن سکتی ہیں۔
آپ میں سے وہ بھی ہیں جو چھوٹے بچوں کی مائیں ہیں یا جوان بچوں کی مائیں ہیں یا جوانی میں قدم رکھنے والے بچوں کی مائیں ہیں یا آئندہ ان شاء اللہ آنے والی نسلوں کی مائیں بننے والی ہیں۔ آپ سب کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور
یہ آپ کی بنیادی سوچ ہونی چاہیے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی اصلاح کرنے والے ہیں اور اس کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اپنی اصلاح کرتے ہوئے اپنی دینی، علمی، عملی اور روحانی حالت بہتر کرتے ہوئے ایک انقلاب لانا ہے۔
اس کے لیے اسلامی تعلیم کے ذریعے وہ راستے تلاش کر کے ان پر عمل کرنا ہے جو ہماری نسلوں کو بھی محفوظ کرنے والے ہوں اور ہماری جماعت کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرنے والے ہوں۔
اس حوالے سے بعض باتیں آج میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ بہت ساری باتیں اس حوالے سے ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ باتیں ایسی ہیں جن کو ہمیشہ دہراتے رہنا چاہیے تاکہ ہم اپنے مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور کبھی نہ بھولیں اور ہم جماعت کی ترقی کی منازل میں اپنا کردار ادا کر سکیں، اپنی نسلوں کو سنبھال سکیں اور ان کو ایک کارآمد وجود بنا سکیں۔ ہماری اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہوتا رہے۔ پس یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیشہ ہمیں یاد رکھنی چاہئیں۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو بڑا مقام دیا ہے اور کیونکہ ہمارے معاشرے میں بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ عورت کو وہ عزت اور احترام نہیں دیا جاتا اور اس کے حقوق کی وہ حفاظت نہیں کی جاتی جو کہ ہونی چاہیے۔ اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نےمتعدد جگہ پر عورتوں کے حقوق کے بارے میں اس کی بہت اعلیٰ رنگ میں تشریح فرماتے ہوئے فرمایا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :’’یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔ نہیں نہیں۔ ہمارے ہادی ٔکامل رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ۔ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔ بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں؟ دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو نہ یہ کہ ہر ادنیٰ بات پر زدوکوب کرے۔ ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصہ سے بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنیٰ سی بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مر گئی ہے۔ اس لیے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۔ (النساء: 20) ‘‘یعنی ان سے اچھے طریقے سے معروف طریقے سے سلوک کرو۔’’ہاں اگر وہ بے جا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیزہے۔ انسان کو چاہیے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جمادے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 148،147، ایڈیشن 1984ء)
اب یہ دیکھیں کتنا عمدہ سبق ہے۔ آپ علیہ السلام نے قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں فرمایا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ انسان نیکی کس طرح کر سکتا ہے۔ بہت ساری شکایتیں آتی ہیں، بہت ساری عورتیں لکھتی ہیں کہ مرد باہر کے معاشرے میں، جماعتی کاموں میں، لوگوں کے سامنے تو بہت شریف کہلاتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان جیسا کوئی نیک شخص نہیں۔ خوش اخلاق کوئی نہیں، اعلیٰ اخلاق کا مالک کوئی نہیں لیکن گھر میں انہوں نے ایک مصیبت ڈالی ہوتی ہے۔ ہم سب گھر والوں کو مشکل میں مبتلا کیا ہوتا ہے۔ وہ بیویوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔ بچوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔ غصے کا اظہار کررہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ عورتوں سے نیک سلوک کرو اور اس بات کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس طرح فرمائی کہ اگر تم گھر میں نیک سلوک نہیں کر رہے تو باہر تم نے کیا نیکی کرنی ہے تمہاری یہ نیکیاں کسی کام کی نہیں ہیں اور اس کا معیار ہی یہ ہے کہ اپنے گھر سے نیک سلوک کرو گے تو پھر ہی یہ سمجھا جائے گا کہ تم حقیقت میں نیک اور اعلیٰ اخلاق کے مالک ہو نہ یہ کہ صرف دنیا کو دکھاوے کے لیے باہر جا کر بعض نیکیاں کر رہے ہو۔ پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی عورت غلط کام کرتی ہے تو اسے تنبیہ کرو۔ اسے سمجھا سکتے ہو لیکن تنبیہ کرنا اسی وقت جائز ہوگا جب انسان خود بھی اس قابل ہو کہ وہ اعلیٰ کام کر رہا ہو، اسلامی تعلیم کے مطابق کام کر رہا ہو۔ اور تنبیہ کرنے کے بارے میں مرد کو جو اجازت دی گئی ہے وہاں پھر مرد کو ہی پابند کیا گیا ہے کہ تم پہلے اپنی اصلاح کرو پھر عورت کی اصلاح کر سکتے ہو۔ آپؑ نے فرمایا عورتوں کے دل میں یہ بات جما دو کہ دین کے خلاف ہم کوئی بات پسند نہیں کریں گے لیکن یہاں تو ہم نے دیکھا ہے۔ میرے تجربہ میں باتیں آتی ہیں کہ بعض دفعہ الٹ حساب ہوتا ہے۔ عورتیں دین پر قائم ہوتی ہیں اور مرد دین سے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ تو اگر مرد دین پر قائم نہیں تو پھر عورت کی اصلاح کس طرح کر سکتے ہیں اور کس طرح اسے کہہ سکتے ہیں کہ اپنی اصلاح کرو۔
پس یہ باتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں اور اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو تنبیہ کے لیے کہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح بعض مرد سمجھتے ہیں کہ انہیں مارنے کی اجازت مل گئی ہے اور عورتیں اس بات پر بڑی نالاں ہوتی ہیں، ناراض ہوتی ہیں کہ مردوں کو مارنے کی اجازت ہے۔ یہ تو ایک انتہائی قدم ہے اور اس کی بعض شرائط ہیں۔ اگر وہ پوری نہیں ہو رہیں تو پھر کسی مرد کو یہ حق نہیں پہنچتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے تو یہاں یہ بات کہہ کر عورت کا حق محفوظ کیا ہے کہ ان سے معروف طریقے سے معاشرت کرو۔ ان سے حسنِ سلوک کرو۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو تو اپنے ایک رفیق کے اپنی بیوی سے ناروا سلوک کی وجہ سے الہام بھی ہوا تھا کہ یہ طریق اچھا نہیں ہے اسے روک دیا جائے۔
(ماخوذاز تذکرہ صفحہ 371، ایڈیشن 2022ء)
پس ’’اس الہام میں تمام جماعت کے لیے تعلیم ہے ‘‘آپؑ نے فرمایا ’’کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی سے پیش آویں۔ وہ ان کی کنیزکیں نہیں ہیں درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدے میں دغاباز نہ ٹھہرو۔‘‘ آپ نے فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ’’خَیْرُکُمْ خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِہٖ۔ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا’’ سلوک کرنے والا ‘‘ہے۔‘‘ تو آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لیے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔‘‘
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 75 حاشیہ)
پس یہ دیکھیں کہ اس زمانے کے امام نے عورتوں کے حقوق کس طرح قائم فرمائے ہیں۔ ان کے بارے میں اسلام کی تعلیم کی روشنی میں کس طرح بیان فرمایا ہے کہ اسلام تو یہ حقوق قائم فرماتا ہے۔
آج کل کے معاشرے میں اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام نعوذ باللہ عورتوں کے حقوق غصب کرتا ہے لیکن اسلام تو ہر جگہ عورتوں کو حقوق دینے کی کوشش کرتا ہے۔
یہاں یہ بھی وضاحت کر دوں کہ بعض مرد بھی شکایت کرتے ہیں کہ ہم تو حسنِ سلوک کرتے ہیں لیکن عورتوں کے مطالبات ایسے ہوتے ہیں اور وہ بعض باتیں ایسی کرتی ہیں جس کی وجہ سے پھر گھر میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ تو عورتوں کو بھی چاہیے کہ صبر، حوصلے اور دعا سے اپنے گھروں میں زندگیاں گزاریں۔ اپنے بچوں کی نگہداشت کریں اور دین پر قائم رہنے کی کوشش کریں۔ عموماً میرے تجربے میں تو یہی آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے عورتوں کی بہت بڑی تعداد نیکی میں بہت ترقی کرنے والی ہے اور نیک اعمال بجا لانے والی ہیں اور بعض تو مردوں سے بہت آگے بڑھی ہوئی ہیں۔
بہرحال اسلام کے خلاف آج کل یہ پروپیگنڈا ہے اور اس بات کو بہت اچھالا جاتا ہے کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق نہیں ہیں اور یہ دجالی چالیں ہیں ان سے بچ کر رہنا چاہیے۔ بعض دفعہ ایسی عورتیں جن کو اسلامی تعلیم کا یا قرآن کریم کی تعلیم کا صحیح علم نہیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب نہیں پڑھتیں یا آپ کے ارشادات نہیں سنے ہوتے وہ دنیا داروں کی باتیں سن کر متاثر ہو جاتی ہیں۔ اس چیز سے ہر لڑکی کو، ہر عورت کو بچنا چاہیے کیونکہ یہ دجالی اور شیطانی چالیں ہیں جو ہمیں دین سے دور لے جانے کے لیے ہیں، مذہب سے دور لے جانے کے لیے ہیں، جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کے لیے ہیں اور گھروں میں فتنہ پیدا کرنے کے لیے ہیں۔
اسلام نے عورتوں کے حقوق اس حد تک قائم فرمائے ہیں کہ اس کی کوئی اَور مثال نہیں ملتی۔
اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔ مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْہِنَّ (البقرۃ: 229) کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر’’ حق ‘‘ ہیں۔ بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں۔ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔‘‘ گویا کہ ان کو زمین میں گاڑ دیا ہے۔ زندہ دفنا دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ’’چاہیے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔‘‘یہ ہے وہ معیار جو اسلام قائم کرتا ہے اور دیکھیں کیسی خوبصورت تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے کہ میاں بیوی دو سچے دوستوں کی طرح رہیں تب ایک دوسرے کے برابر کے حقوق ادا کر سکتے ہیں۔ فرمایا کہ’’ انسان کے اخلاقِ فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔‘‘پس عورت ہی ہے جو گواہ ہے’’ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔‘‘ اگر بیویوں سے تعلقات اچھے نہیں تو خدا تعالیٰ سے صلح کا بھی کوئی امکان نہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ سے محبت کا اظہار کرنا اور اس کی بندگی کا اظہار کرنا یہ سب باتیں پھر غلط ہو جاتی ہیں اگر گھریلو تعلقات میں فتنہ اور فساد ہے۔ پس آپؑ نے تو یہ فرمایا کہ عورتوں کا یہ حق تمہیں دینا پڑے گا کہ ان سے حسن سلوک کرو تب اللہ تعالیٰ کی نظر میں تم بہتر سمجھے جاؤ گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِہٖ۔ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے اچھا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ -417 418، ایڈیشن 1984ء )
پس ہمیں اپنے اہل کے لیے اچھا بننا پڑے گا اور
مردوں کو بھی اس بات کو یاد رکھنا پڑے گا کہ انہوں نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے ہیں اور عورتوں کو اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر مردوں کی طرف سے کوئی زیادتی ہوتی ہے تو یہ اسلام کی تعلیم کے مطابق عمل نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیم کے خلاف عمل ہے اور ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں اس لیے انہیں بھی بجائے اعتراض کرنے کے یا لوگوں کی باتوں میں آنے کے، غیروں کی باتوں میں آنے کے، اسلام مخالف لوگوں کی باتوں میں آنے کے نظام کو اپنی بات پہنچانی چاہیے۔
اسلام نے عورتوں کے حقوق تو ہر جگہ اور ہر صورت میں قائم فرمائے ہیں۔
پھر عورتوں کے دلوں میں آج کل کے معاشرے میں، ترقی یافتہ نام نہاد معاشرے میں یہ احساس بھی پیدا کیا جاتا ہے یا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام کی تعلیم میں تمہارے جذبات کی کوئی قدر نہیں ہے۔ تمہیں تو گھر کے اندر بند کر کے رکھا ہوا ہے اور مرد کو کھلی چھٹی ہے کہ جو چاہے کرے۔
بعض لڑکیاں اس قسم کے سوال بھی کر لیتی ہیں۔ بعض عورتیں بھی سوال کرتی ہیں جنہوں نے اپنے گھروں کے ماحول میں یہ باتیں دیکھی ہوتی ہیں اور جب وہ گھر کے ماحول میں یہ دیکھتی ہیں تو وہ سوال کرتی ہیں اور اس کو سن کے دوسرے پھر exploit بھی کرتے ہیں۔ جو مذہب کے خلاف لوگ ہیں یہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام کے خلاف جو لوگ ہیں اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ جو باہر کے ملکوں کا معاشرہ ہے یہ خاص طور پر ان باتوں کو بہت اٹھاتا ہے اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ دیکھو! مردوں کو کتنی آزادی دی ہے۔ اگر ان کی خواہش ہو تو وہ زیادہ شادیاں بھی کرسکتے ہیں۔ اور کوئی بات ہاتھ نہیں آتی تو اسی بات پر شور مچا دیتے ہیں۔ پس یاد رکھیں یہ دجالی اعتراضات ہیں جو بغیر کسی سیاق و سباق کے پیش کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی طریقہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے عورت کے جذبات کو انگیخت کر سکتے ہیں، بھڑکا سکتے ہیں اور ان کو دین سے دُور لے جا سکتے ہیں۔ یہ شیطانی چالیں ہیں کیونکہ اسلام نے اگر بعض جگہ شادیوں کی اجازت دی ہے تو بعض شرائط کے ساتھ دی ہے۔ پہلی بات تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ تم تقویٰ پر قائم ہو۔ اپنا جائزہ لو کہ تم جس وجہ سے شادی کرنا چاہتے ہو وہ جائز ضرورت ہے۔ پھر یہ بھی دیکھ لو کہ تم شادی کر کے بیویوں کے درمیان انصاف کر بھی سکتے ہو؟ اگر نہیں تو پھر تمہیں شادی کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اگر تم پہلی بیوی کی ذمہ داریاں اور حقوق ادا نہیں کر سکتے اور دوسری شادی کی فکر میں ہو تو پھرتمہیں دوسری شادی کا کوئی حق نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ مرد پر عورت کے اتنے حقوق ہیں کہ اگر مرد کو پتہ لگے کہ حقوق نہ ادا کر کے کتنا گناہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ انسان کو پورے طور پر اس بات کا معلوم ہو کہ یہ حقوق کس قسم کے ہیں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈوا رہنا یا بغیر شادی شدہ رہنا پسند کرے۔
(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 226، ایڈیشن 2022ء)
پس اسلام نے یہ حقوق قائم کیے ہیں۔ آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ بیویوں کے حقوق پر آج کل یہ شور مچتا ہے کہ دیکھو جی شادیاں کرنے کی اجازت ہے اور یہ ہمیشہ کی طرح اسلام مخالف لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ ہمارے ایک جاپانی دوست مجھے ملنے کے لیے یہاں آتے ہیں وہ بھی مجھ سے اکثر بار بار یہی سوال کرتے ہیں وہ تو خیر اپنی معلومات کے لیے کر رہے ہوتے ہیں لیکن ان سے بھی لوگ سوال کر رہے ہوتے ہیں۔ بڑے شریف النفس انسان ہیں۔ وہ بار بار یہ پوچھتے ہیں کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔ ان کو میں نے کئی دفعہ سمجھایا کہ چار شادیوں کی اجازت بعض شرائط کے ساتھ ہے لازمی نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک کرنی چاہیے کہ اگر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری بیوی کے کرنے سے اس کی پہلی بیوی کو سخت صدمہ ہوتا ہے اور حد درجہ کی دل شکنی ہوتی ہے تو اگر وہ صبر کر سکے اور کسی معصیت یا گناہ میں مبتلا نہ ہوتا ہو اور نہ کسی شرعی ضرورت کا اس سے خون ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اگر اُن اپنی ضرورتوں کی قربانی سابقہ بیوی کی ’’پہلی بیوی کی‘‘دلداری کے لیے کر دے اور ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے مناسب ہے کہ دوسری شادی نہ کرے۔‘‘
(ملفوظات جلد6صفحہ 226، ایڈیشن 2022ء)
پس اصل چیز یہ ہے کہ شادیاں شوق میں نہ کرو یا صرف اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے نہ کرو بلکہ ایک جائز ضرورت ہونی چاہیے اور اس جائز ضرورت میں بھی دیکھ لو کہ اگر کسی حد تک تم برائیوں سے بچ سکتے ہو اور اس جائز ضرورت کو بھی نظر انداز کیا جا سکتا ہے تو پھر پہلی بیوی کے جذبات کی خاطر اس سے پرہیز کرو بلکہ آپؑ نے یہاں تک فرمایا کہ نکاح سے پہلے عورت کو یہ حق دیا ہے کہ اگرچہ شادی کا حق بے شک مرد کو دیا گیا ہے لیکن تمہیں بھی ایک حق ہے۔ اگر نکاح سے پہلے شرط لکھی جائے کہ مرد دوسری شادی نہیں کرے گا تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا، عہد کو توڑنے کا مرتکب ہوگا اور یہ عہد کر لیا جائے کہ تم دوسری شادی نہیں کرو گے اگر پھر بھی وہ شادی کرتا ہے تو یہ عہد توڑنے کا جرم ہے لیکن آپؑ نے فرمایا کہ چونکہ اسلام میں اجازت ہے اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھوائے اور حکم شرعی پر راضی ہو جائے تو اس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بے جا ہوگا۔
(ماخوذاز چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 246)
جو غیر دخل اندازیاں کرتے ہیں اور اس معاملے کو exploit کرتے ہیں۔جو عورتوں کو بھڑکانے کے لیے اعتراض کرتے ہیں وہ پھر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟ بہرحال آپؑ نے فرمایا کہ اس میں عورتوں کا بھی حق ہے تو پھر اس کے بعد جب انہوں نے یہ حق محفوظ نہیں کروایا تو لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں اور اگر جائز ضرورت ہے تو پھر اسلام پر اعتراض نہ کریں۔ یہ ایک بنیادی اعتراض ہے جو عام طور پر آج کل بہت زیادہ کیا جاتا ہے اس لیے میں نے بیان کر دیا۔ یہ لکھا جاتا ہے کہ مرد کو عورت پر فضیلت دی گئی۔ وہ قوّام ہے۔ قوّام کے معنی یہ ہیں کہ جو اصلاح کرنے والا ہو۔ معاشرے کی اصلاح کا ذمہ دار ہو۔ جو ٹیڑھا پن ہے اسے دور کرنے والا ہو۔ جو برائیاں اور کجیاں ہیں انہیں صاف کرنے والا ہو۔ پس اس لحاظ سے اگر مرد کو قوّام کہا گیا ہے تو اس لیے ہے کہ اس معاشرے کی صفائی کی اوّل ذمہ داری مردوں پر ہوتی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں، اپنے نمونے قائم کریں اور ایسا وجود بن کر دکھائیں جو حقیقت میں اصلاح کرنے والا ہو اور پھر ایسا نمونہ قائم کرنے کی وجہ سے وہ عورتوں کی اصلاح کی طرف بھی توجہ کر سکتے ہیں۔ انہیں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہاں دیکھو! یہ میرا عمل ہے تمہیں بھی چاہیے کہ نیک عمل کرو اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پرچلنے کی کوشش کرو۔ صرف یہی نہیں کہ قوّام بن گیا ہوں تو میں جو چاہوں وہ کروں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے تم پر فضیلت دے دی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ۔ (النساء: 35)کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جو پیدا کی ہے اس میں کچھ خَلقی فضیلتیں رکھی ہوئی ہیں اور اس لحاظ سے وہ فضیلت ہے۔ مردوں کو بعض طاقتیں زیادہ دی گئی ہیں۔ کھیلوں کے مقابلے میں بھی لےلیں۔ ہم عام مقابلوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ اسی طاقت کی وجہ سے مردوں اور عورتوں کو علیحدہ کھلایا جاتا ہے، مقابلے کیے جاتے ہیں۔ کبھی یہ نہیں ہوتا کہ عورتوں کی ٹیم کو مردوں کی ٹیم سے کھلایا جائے۔ آج کل یہاں یورپ میں عورتوں کے فٹبال کے میچ ہو رہے ہیں تو اس میں عورتوں اور مردوں کی ٹیمیں اکٹھی تو نہیں کھیل رہیں۔ علیحدہ علیحدہ کھلائی جاتی ہیں اس لیے کہ یہ فرق ہے بہرحال۔ اس لیے علیحدہ رکھا جاتا ہے ہر معاملے میں اور علیحدہ کھلایا جاتا ہے۔
اس کے یعنی قوّام کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ مرد کو مضبوط اعصاب عطا کیے گئے ہیں۔ اسے یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بدمزگیاں گھر میں پیدا ہوتی ہیں تو تم اپنے مضبوط اعصاب کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اصلاح تمہاری ذمہ داری ہے اپنے بعض حقوق چھوڑ کر بھی عورت کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرو اور گھر کی فضا کو پرامن اور پیار و محبت کی فضا بنانے کی کوشش کرو تاکہ تمہارا گھر ہر قسم کےجھگڑوں سے پاک رہے اور تمہارے بچے اور آئندہ نسلیں بھی نیک نمونہ دیکھتے ہوئے اسلامی تعلیم کی خوبیوں کو سمجھنے والی ہوں اور ان پر عمل کرنے والی ہوں۔
پس یہ باتیں ہیں جن کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے تمہارے اوپر حق ہیں ان کے حقوق ادا کرو۔ آپؐ نے فرمایا جو خود کھاؤ انہیں بھی کھلاؤ۔ جو خود پہنو انہیں بھی پہناؤ۔ جس معیار کے کپڑے اپنے ہوتے ہیں جو اپنے لیے استعمال کرتے ہوان کے لیے استعمال کرو۔ کبھی چہرے پر نہ مارو۔ برا بھلا نہ کہو۔ کبھی بلاوجہ ڈانٹ ڈپٹ نہ کرتے رہو۔ یہ باتیں آپؐ نے بڑی وضاحت سے فرمائی ہیں۔
(سنن ابو داؤد کتاب النکاح باب فی حق المرأۃ علی زوجھا، حدیث 2144)
بعض لوگ آج بھی لکھتے ہیں اور گھروں میں یہ واقعات ہو رہے ہیں اور ا نہی مغربی ممالک میں ہو رہے ہیں۔ یہاں آ کے بعض خاوند زیادتیاں کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تو عورت کا یہ حق قائم فرماتا ہے۔ ایسی عورتیں اسلام میں پیدا ہوئیں جنہوں نے وہ معیار قائم کیے جو نیکیوں کے اعلیٰ معیار تھے۔ وہ اس بات پر ناراض نہیں ہوتی تھیں کہ مردوں کے حقوق زیادہ ہیں اور ہمارے حقوق کم ہیں۔ ہاں اگر کہیں ان کو حقوق کا شکوہ تھا یا مردوں کے عمل کا شکوہ پیدا ہوتا تھا تو اس بات پر کہ وہ بعض دفعہ زیادہ نیکیاں کر جاتے ہیں اور ان کا ثواب ان کو مل سکتا ہے جو ہمیں نہیں ملتا۔ اس بارے میں ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک خاتون اسماء بنت یزید انصاریہ تھیں۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ انہوں نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں آپ کے پاس مسلمان عورتوں کی نمائندہ بن کر آئی ہوں۔میری جان آپ پر فدا ہو۔پھر وہ کہنے لگیں کہ شرق و غرب کی تمام عورتیں میری اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں کہ اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ مردوں اور عورتوں کے لیے بھیجا ہے۔ آپ دونوں کے لیے نبی بن کے آئے ہیں۔ مردوں کے لیے بھی عورتوں کے لیے بھی۔ پس ہمارا اس پر بالکل اتفاق ہے اور ہم اس ایمان پر قائم ہیں کہ آپ وہ آخری نبی ہیں صلی اللہ علیہ وسلم جن کو اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور دونوں کا آپ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائی ہیں اور اس خدا پر بھی جس نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ ہم عورتیں گھروں میں ہی قید و محصور ہو کر رہ گئی ہیں۔ گھر کے کاموں میں اتنی مصروف ہیں کہ وہیں بند ہو گئی ہیں۔ گھر کی جو گھریلو ذمہ داریاں ہیں ان کی وجہ سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم باہر نہیں جا سکتیں۔ ہم مردوں کی خواہشات کی تکمیل کا بھی سامان کرتی ہیں۔ ان کی اولاد کو بھی سنبھال لیتی ہیںلیکن مردوں کے گروہ کو جمعہ، نماز باجماعت، عیادت مریضان، جنازوں پرجانا اور حج کرنے کی جس طرح آزادی ہے وہ ہمیں نہیں اور اس وجہ سے وہ ہم پر فضیلت حاصل کرتے ہیں۔ یہ فضیلت کیا ہے؟ یہ فضیلت کیوں ہے ان پر کہ یہ نیکیوں میں ہم سے زیادہ آگے نکل جاتے ہیں کہ جمعہ بھی باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں؟ جب چاہیں نمازوں پہ جاتے ہیں۔ عورتیں بھی جمعہ پہ چلی جاتی ہیں لیکن ان پر لازمی نہیں ہے۔ نماز باجماعت عورتیں گھروں میں پڑھتی ہیں جبکہ مردوں پر لازمی ہے کہ وہ جماعت سے نماز پڑھیں اور اس کا ثواب زیادہ ہے۔ پھر دوسرے حقوق العباد کی ادائیگی میں مردوں کو بعض دفعہ زیادہ مواقع مل جاتے ہیں وہ جنازے وغیرہ پر بھی زیادہ جا سکتے ہیں اس کابھی ثواب ہے۔ آسانی سے حج کر سکتے ہیں۔ یہ فضیلت کی باتیں ہیں جو انہیں ہم پر حاصل ہیں۔ یہ اعتراض ان کو پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے اس فضیلت کے لفظ کے مفہوم کو اس طرح لیا۔یہ نہیں کہا کہ وہ طاقت میں ہم سے زیادہ ہیں بلکہ فرمایا کہ نیکیوں میں ہم سے بڑھ کر ہیں اور سب سے بڑھ کر انہوں نے یہ بات کی کہ جہاد ہے۔ جہاد میں وہ جا سکتے ہیں ہم نہیں جا سکتیں۔ کہا کہ جب کوئی حج یا عمرہ کرنے جاتا ہے، جہاد کرنے جاتا ہے تو ہم ان کے اموال کی، ان کے بچوں کی اور ان کے گھروں کی حفاظت کرتی ہیں۔ اس خاتون نے سارا کچھ بیان کرکے سوال کیا کہ یا رسول اللہؐ !پھر بھی ہم آپ کے ساتھ اجر میں برابر کی شریک نہیں ہیں؟ کیا یہ سب کچھ اجر تب بھی مردوں کو ہی ملے گا۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود جو اتنی خدمات ہم گھر میں کر رہی ہیں، ہم اتنی نیکیاں کرتی ہیں تو کیا مردوں کو زیادہ اجر ملے گا؟ کیا ہم برابر کی شریک نہیں ہوں گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ اور چہرہ مبارک صحابہ کی طرف پھیرا اور صحابہ سے فرمایا: کیا تم نے دین کے معاملے میں اپنے مسئلے کو اس عمدگی سے بیان کرنے میں اس عورت سے بہتر کسی کی بات سنی ہے؟ آپ نے اس کی اس بات کی، سوال کی بڑی تعریف کی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں یہ ہرگز خیال نہ تھا کہ ایک عورت ایسی گہری سوچ رکھتی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے اے عورت !واپس جاؤ اور دوسری تمام عورتوں کو بتا دو۔ کسی عورت کے لیے اچھی بیوی بننا، بچوں کی تربیت کرنا، خاوند کی رضا جوئی اور اس کی موافق چلنا مردوں کی ان تمام نیکیوں کے برابر ہے جو وہ کرتے ہیں۔ وہ ساری نیکیاں جو وہ کرتے ہیں تمہیں گھر میں رہ کے بھی ان نیکیوں کے برابر ثواب مل رہا ہے۔ وہ عورت واپس گئی اور وہ خوشی سے لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر! کے الفاظ بلند کر رہی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جو گھر میں رہنے والی ہو یہ نہ سمجھو کہ ہم گھر میں رہنے کے بعد بند ہو گئی ہیں۔ ہاں اگر مجبوری ہے تمہیں گھر میں رہنا پڑتا ہے تو تمہیں اتنا ہی ثواب مل رہا ہے جتنا مردوں کو جہاد کا یا دوسری لازمی عبادات کا۔ یہ وہ مقام ہے جو اسلام عورت کو دیتا ہے اور کسی قسم کی اس میں پابندی نہیں ہے۔
(ماخوذ از الجامع لشعب الایمان جلد11 صفحہ177-178 باب حقوق الأولاد والأھلین حدیث: 8369
مکتبۃ الرشد الریاض 2003ء)
پردے کا اگر حکم ہے تو بعض کہتے ہیں کہ عورتوں کو پردے کا حکم ہے انہیں بند کر دیا گیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی پڑھا ہے، بتایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی یہ فرمایا ہے کہ پردے کو وہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کو صرف قید کر دینا اور گھر سے باہر نہ نکلنے دینا یہی پردہ ہے۔ یہ غلط چیزیں ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن شریف کے حکم کے مطابق جہاں پردے کا حکم ہے۔ غضِ بصر کا حکم ہے وہاں مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی یہی حکم ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ’’مومن کو نہیں چاہیے کہ دریدہ دہن بنے یا بےمحابہ اپنی آنکھ کو ہر طرف اٹھائے پھرے بلکہ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ (النور:31) پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہیے اور بد نظری کے اسباب سے بچنا چاہیے۔‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 225، ایڈیشن 2022ء)
یہ مردوں کو بھی حکم ہے کہ وہ عورتوں کو نہ دیکھیں تو اس لحاظ سے ان کابھی ایک پردہ ہے اور عورتوں کو بھی حکم ہے اور وہ یہی ہے کہ عورتیں نظریں ادھر ادھر نہ پھیریں۔ جس طرح مرد عورتوں کو گُھور گُھور کر نہ دیکھیں۔ اسی طرح عورتیں بھی اپنی نظریں نیچی کریں۔ اپنی حیا کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لباس کو حیاداربنائیں تاکہ غلط قسم کی نظریں ان پر نہ اٹھیں۔ اپنے پردے کا اہتمام کریں اور مردوں کی نظروں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے لباس اور اپنے چہروں کا پردہ اس حد تک کریں کہ جو کسی قسم کا غلط پیغام دوسرے کو دینے والا نہ ہو۔
آج کل گرمیوں کا موسم ہے تو آج کل اس معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں کہ گرمیوں میں خاص طور پر لباس رہتا ہی نہیں اور اس وجہ سے بعض غلط باتیں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی قسم کے غلط امکان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہی احتیاط کرو اور اسی لیے پردے کا بھی حکم ہے اور جہاں مومن عورتوں کو پردے کا حکم ہے وہاں مومن مردوں کو بھی حکم ہے تاکہ برائیاں پیدا نہ ہوں۔
یہاں گذشتہ دنوں ایک سروے ہوا تھا۔ اس میں غیروں نے یہی سوال کیا تھا کہ عورتوں کو زبردستی پردہ کروایا جاتا ہے۔ بہرحال اس پر میں نے لجنہ کو ہی کہا تھا کہ وہ جواب دیں اور انہوں نے جواب دیا اور بڑا اچھا جواب دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس بارے میں فرمایا ہے کہ ’’آج کل پردہ پر حملے کیے جاتے ہیں لیکن یہ لوگ جانتے نہیں کہ اسلامی پردہ سے مراد زندان نہیں‘‘ قید خانہ نہیں ’’بلکہ ایک قسم کی روک ہے کہ غیر مرد اور عورت ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔ جب پردہ ہوگا، ٹھوکر سے بچیں گے۔ ایک منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں میں جہاں غیر مردو عورت اکٹھے بلا تعامل اور بےمحابا مل سکیں، سیریں کریں،کیونکر جذبات نفس سے اضطراراً ٹھوکر نہ کھائیں گے‘‘ظاہر ہے کہ ٹھوکر لگ سکتی ہے اور’’ بسا اوقات سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی قومیں غیر مرد عورت کو ایک مکان میں تنہا رہنے کو حالانکہ دروازہ بھی بند ہو کوئی عیب نہیں سمجھتیں یہ گویا تہذیب ہے‘‘ اس کو تہذیب سمجھتے ہیں۔فرمایا’’ ان ہی بد نتائج کو روکنے کے لیے شارعِ اسلام نے وہ باتیں کرنے ہی کی اجازت نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں‘‘اور ہم دیکھتے ہیں کہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ بعض باتیں ایسی سامنے آتی ہیں اور پھر ایسے کیس سامنے آ رہے ہوتے ہیں اور پھر اس وجہ سے مقدمے بھی چلتے ہیں۔ دس سال بعد یا کسی کے مرنے کے بعد بھی پرانے کیس اکھاڑے جا رہے ہیں۔ آجکل یہاں مغرب میں رواج پیدا ہو گیا ہے کہ اس مرد نے ہمارے ساتھ زیادتی کی، عورتیں الزام لگاتی ہیں حالانکہ خود پہلے اس کو موقع دیا اس کے کمرے میں بھی گئیں۔ اسے کوئی موقع دیا ہو گا تبھی تو یہ باتیں ہوئی ہوں گی۔ تو پھر اس قسم کی حالتیں بھی ہوں گی اور ایسے مواقع بھی پیدا ہوں گے کہ جہاں چاہے زبردستی ہو یا آپس کی رضامندی ہو غلط قسم کی باتیں ہو جاتی ہیں اور پھر اس کے بعد جب عورت مرد سے ناراض ہوتی ہے تو اس کے خلاف باہر باتیں نکالتی ہے یا کوئی اَور مالی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے تو باتیں نکالتی ہے پھر غلط باتوں کی وجہ سے مرد کی بھی بدنامی ہوتی ہے عورت کی بھی بدنامی ہوتی ہے جسے یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ایسی باتیں ہونی ہی نہیں چاہئیں جن سے کسی قسم کا ٹھوکر کا کوئی امکان ہو سکے کیونکہ آپؑ نے فرمایا کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ
’’ جہاں غیر محرم مرد و عورت جمع ہوں تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد1 صفحہ29 ایڈیشن 2022ء)
آپؑ نے فرمایا کہ ان نتائج پر غور کرو اور یہی لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں، اسی رسم کی وجہ سے آج کل آپ خود دیکھ لیں ان میں کتنی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پردہ میں تشدد جائز نہیں بلکہ فرمایا کہ پردے کا اتنا بھی تشدد جائز نہیں کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بچہ رحم میں ہو تو کبھی مرد اس کو نکال سکتا ہے یعنی بچے کی پیدائش کے وقت اگر مرد ڈاکٹر کی ضرورت ہے اور مرد ڈاکٹر اس کا علاج کر رہا ہے اور بچے کی پیدائش کروا رہا ہے تو وہ کر سکتا ہے۔
دین اسلام میں تنگی اور حرج نہیں ہے۔
آپؑ نے فرمایا۔
جو شخص خواہ مخواہ تنگی اور حرج کرتا ہے وہ اپنی نئی شریعت بناتا ہے۔
(ماخوذا زملفوظات جلد 1 صفحہ 239، ایڈیشن 2022ء)
یہ وہ حقوق ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عورت کے قائم فرمائے ہیں۔ اسی طرح
جائیداد، طلاق اور خلع کے بارے میں بھی حقوق
قائم فرمائے ہیں اور بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عورتوں کے حقوق ہیں ان کی تم نے حفاظت کرنی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ایسے حقوق قائم فرما دیے ہیں تو یہ بہت بڑا انعام ہے جو اس نے اسلامی تعلیم میں عورتوں کو دیا ہے۔ اس لیے عورتوں کا کام ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کے ذمے اللہ تعالیٰ نے جو کام لگایا ہے یعنی نئی نسل کی اصلاح کرنا۔ ان کو اس مقام پر لے کے آئیں جہاں وہ دین کا اور جماعت کا بھی مفید وجود بن سکیں اپنے ملک کا بھی مفید حصہ بن سکیں۔ جب یہ ہوگا تو پھر یہ ایک ایسا عظیم معاشرہ قائم ہوگا جہاں صرف خدا تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرنے والے لوگ ہوں گے اور دنیا میں بھی جنت کے نظارے دیکھنے والے ہوں گے اور اگلے جہان میں بھی جنت کے نظارے دیکھنے والے ہوں گے۔
دنیا داری میں پڑے ہوئے لوگ گو یہاں تو عیاشیاں کر جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں بہت کچھ کمایا اور دیکھا لیکن اگلے جہان میں وہ ان برائیوں کی وجہ سے جو یہاں کرتے رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی سزا کے مورد بنیں گے۔
پس ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی باتوں سے بچیں اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزار بندیاں بننے کی کوشش کریں کہ اس نے ہمیں ہمارے حق دیے ہیں۔ ابھی تو میں نے ایک دو حقوق بتائے ہیں لیکن
ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جہاں مردوں کے حق ہیں وہاں عورتوں کے بھی حق ہیں کیونکہ وہ ایک ہی پسلی سے، ایک ہی وجود سے اور ایک ہی قسم سے پیدا کیے گئے ہیں۔
پس عورتوں کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا کریں اور اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ناجائز خواہشات کو ختم کرنا ہے اور دین کو دنیا پر ہر وقت مقدم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔ اپنے بچوں کی اصلاح کے لیے جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے وہ ہم نے کرنا ہے تاکہ ہماری آئندہ نسلوں میں نیک بچیاں پیدا ہوں۔ نیک بیویاں پیدا ہوں۔ نیک مائیں پیدا ہوں۔ نیک خاوند پیدا ہوں اور نیک باپ پیدا ہوں اور پھر وہ سب مل کر اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لیے وہ کردار ادا کریں جس کے لیے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مانا ہے اور یہ عہد کیا ہے کہ ہم ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ یہ دیکھیں کہ ہم اپنے مقصد کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔ خاص کر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانے کے امام کو ہم نے مانا ہے اور آپ ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو گئی ہیں جن کے بارے میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ۔ یعنی اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اسے بھیجے گا جو ابھی تک ان سے نہیں ملے۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بگڑی ہوئی قوم کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا جو دین سے بہت دور جا پڑے تھے، اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے اور خدا تعالیٰ نے انہیں جس طرح اپنی پہچان کروا دی تھی اور ان میں عظیم الشان پاک تبدیلیاں پیدا ہوئیں تو جس طرح وہ ایک نشان کے طور پر ہے اسی طرح آپ لوگ ہیں۔ مَیں نےا بھی جو حدیث سنائی ہے کہ کس طرح وہ صحابیہ آئی تھیں۔ انہوں نے آکر باتیں کیں تو یہ نہیں کہ ہمیں یہ حق نہیں ملا، وہ حق نہیں ملا۔ دنیاوی حقوق کی بات نہیں کی بلکہ دینی حقوق کی باتیں کیں اور اگر فضیلت کا ذکر کیا تو دینی معاملات میں فضیلت کا ذکر کیا۔ وہاں صحابہ بھی موجود تھے جو اس مقام پر پہنچے ہوئے تھے جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہوا تھا۔
پس یہاں یہ سبق مردوں کے لیے بھی ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں کیونکہ اس کے بارے میں جیسا کہ میں نے بعض باتیں بیان کی ہیں مردوں کی خود اصلاح ہوگی تو وہ عورت کی بھی اصلاح کر سکے گا۔ وہاں عورت کے لیے بھی یہی چیز ہے کہ اس کو اگر کوئی فکر ہونی چاہیے تو یہ کہ میں دین کو دنیا پر کس طرح مقدم کر سکتی ہوں اور جب یہ ہوگا تو پھر ہی ہم اپنا کردار ادا کرنے والی ہوں گی جو ایک مومن کی پیدائش کا مقصد ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ اٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ایک گروہ اور ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا وہ بھی اول تاریکی اور گمراہی میں ہوں گے اور علم اور حکمت اور یقین سے دور ہوں گے تب خدا ان کو بھی صحابہ کے رنگ میں لائے گا یعنی جو کچھ صحابہ نے دیکھا وہ ان کو بھی دکھا دیا جائے گا۔‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 304)
پس ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ کیا جس مقصد کے لیے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے قدم بڑھ رہے ہیں یا ہم وہیں کھڑے ہیں۔ صحابہ نے اپنے اندر کس طرح تبدیلیاں پیدا کیں؟ صحابیات نے کس طرح پاک تبدیلیاں پیدا کیں؟ دنیا کے کھیل کود کو کس طرح انہوں نے ٹھکرا دیا کس طرح عبادتوں کے معیار قائم ہوئے؟ کس طرح مالی قربانیوں کے معیار قائم کیے؟
اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے ہاں بھی بعض ایسی عورتیں ہیں جن کے عبادتوں کے معیار بہت بلند ہیں اور مالی قربانیوں کے معیار بھی بہت بلند ہیں اور جب بھی مالی تحریکات کی جاتی ہیں تو لجنہ اماء اللہ بہت بڑھ کر اس نیکی کے کام میں آگے آتی ہیں لیکن باقی نیکیاں بھی ہیں ان کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہیے۔ صرف مالی قربانی ایک نیکی نہیں ہے بلکہ اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانا، اپنے دوسرے اخلاق کے معیار بلند کرنا، اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کرنا اور ان کو ایسا پاک وجود بنانا جس سے وہ جماعت کے لیے اور ملک کے لیے ایک کارآمد وجود بن سکیں۔ یہ بھی ہر عورت کی ذمہ داری ہے۔
صحابیاتؓ کا عبادتوں کا نمونہ کیا تھا؟ وہ ایسی عورتیں تھیں جو دن کو روزے رکھتی تھیں اور راتوں کو عبادت کرتی تھیں اور ان کے خاوندوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شکایت کرنی پڑی کہ یہ تو سارا دن عبادتوں میں لگی رہتی ہے۔ نہ گھر کے حق ادا کرتی ہے نہ خاوند کے حق ادا کرتی ہے نہ بچوں کے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ اتنی عبادت بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ہر قسم کے حقوق تم نے ادا کرنے ہیں۔ اپنے فرائض ادا کرنے ہیں۔ وہ کرو۔
(ماخوذ از مسند احمد بن حنبل جلد4 صفحہ213 مسند ابی سعید الخدری حدیث 11823 عالم الکتب بیروت 1998ء)
پس
اسلام ایک بڑا متوازن مذہب ہے جو اعلیٰ اخلاق کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ عبادتوں کے اعلیٰ معیاروں کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ بچوں کے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اپنے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اپنے معاشرے کے حق قائم کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے اور یہی وہ باتیں ہیں جو پھر دنیا میں امن اور محبت اور پیار کی فضا پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وہ عورتیں تھیں جنہوں نے اپنے خاوندوں کے حقوق ادا کیے، اپنے بچوں کے حقوق ادا کیے اور ان کے اعلیٰ معیار حاصل کیے اور یہی چیزیں ہیں جو آج ایک احمدی عورت کو اپنے سامنے رکھنی چاہئیں اور اس پر غور کرنا چاہیے۔
اب عورتیں یہ نہ سمجھیں کہ یہ باتیں میں صرف عورتوں سے کہہ رہا ہوں پہلے بھی میں نے کہا ہے اور مردوں کے لیے بھی میں یہ باتیں کہہ آیا ہوں کہ جب تک وہ اپنے نمونے قائم نہیں کریں گے وہ کردار ادا نہیں کر سکتے جو ان کو کرنا چاہیے جو ان کو، ایک مرد کو، ایک گھر کے نگران کی حیثیت سے کرنا چاہیے اور اگر وہ نہیں کریں گے تو پھر مرد بھی اس لحاظ سے گنہگار ہوں گے۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ آج آپ نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے اپنے بچوں کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دینی ہے، اپنے ماحول کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دینی ہے۔ پھر اپنے عملی نمونے سے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو بھی دنیا میں پھیلانا ہے اور اس حق کو ادا کرنا ہے جس کے لیے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ وَّزِيْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ یعنی تمہاری زندگیوں کا یہی مقصد نہیں کہ کھیل کود کر لیا کرو۔ اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ وَّزِيْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ (الحدید:21) یعنی تمہاری زندگیوں کا یہی مقصد نہیں کہ کھیل کود کر لیا کرو۔ دنیاوی خواہشات کو پورا کر لیا یا نفس کی خواہشات کو پورا کر لیا یہ زندگی تو دنیا داروں کا ہی ذریعہ ہے۔ یہ تمہارا مقصد نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ چیزیں انسان کو پیدائش کے اعلیٰ مقصد سے غافل کردیتی ہیں۔ پس ان چیزوں سے تم نے بچنا ہے۔ کوئی ایک دوسرے پر اپنے اموال یا اولاد کا فخر نہ کرے۔ جب یہ سوچ ہمارے اندر پیدا ہوگی تو آپ وہ انقلاب لانے والی عورت بن سکیں گی جس نے دنیا کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بنانا ہے، جس نے دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے والا بنانا ہے۔ تبھی آپ کے گھریلو ماحول بھی پُرامن رہے گا۔ تبھی آپ معاشرے کا ماحول بھی پُرامن کرنے والی ہوں گی۔ تبھی آپ کی تبلیغ بھی کارآمد ہوگی جب آپ اپنے عملی نمونوں سے اپنے اعلیٰ اخلاق سے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اسلام ہمارے حق کی حفاظت کر رہا ہے، ہمیں ہر حق دیتا ہے اور ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں ان کو ادا کرنے کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے اور ہم نے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ادا کرنی ہیں تو پھر آپ دیکھیں گی کہ آپ معاشرے میں ایسا انقلاب لانے والی بن سکیں گی جس کو دنیا دیکھ کر مجبور ہوگی کہ وہ اسلام کی تعلیم کی خوبیوں کو سمجھے اور ان کو نہ صرف سمجھے بلکہ مانے اور ان لوگوں میں شامل ہو جائے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنے والے لوگ ہیں، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آنے والے لوگ ہیں۔
پس اس بارے میں یاد رکھیں کہ آج کی دنیا میں صرف مردوں کا کام ہی تبلیغ کرنا نہیں یہ عورتوں کا بھی کام ہے اور عورتوں کی تبلیغ اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب وہ ہر قسم کے احساسِ کمتری سے باہر نکل کر یہ سمجھیں کہ اسلام ہمارے ہر حق کی حفاظت کر رہا ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بھی اس کی خدمت کریں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ اس حق کو ادا کرنے والی ہوں اور آپ کی نسلوں کی بھی اس اعلیٰ رنگ میں تربیت ہو جائے کہ وہ بھی اس حق کو ادا کرنے والی ہوں اور جس مقصد کے لیے ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کی ہے اور آپ کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں اس مقصد کو ہم سب لوگ، مرد بھی عورتیں بھی پورا کرنے والے ہوں۔
اگر آپ کے نمونے اچھے ہوں گے تو آپ کے گھروں میں اگر آپ کے خاوندوں کے اندر کوئی کمزوریاں ہیں تو آپ کے نمونوں سے ہی وہ بھی دور ہو سکیں گی اور اس کا بھی ثواب آپ کو ملے گا اور ایسی حالت میں آپ نے نہ صرف اپنے بچوں کی اصلاح کی بلکہ اپنے خاوندوں کی بھی اصلاح کی۔
پس صرف یہ نہ دیکھیں کہ خاوندوں نے آپ کے حقوق ادا کیے ہیں کہ نہیں بلکہ
آپ نے اس سوچ کے ساتھ اپنے حق اور فرائض ادا کرنے ہیں کہ اسلام نے آپ کو جو حقوق دیے ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ معاشرے کے لیے ایک مفید وجود بن جائیں اور اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ نے اپنی حتی الوسع تمام صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری آئندہ نسلوں میں بھی دین کو دنیا پر ترجیح دینے والی وہ مائیں پیدا ہوں، وہ لڑکے اور وہ باپ پیدا ہوں، وہ خاوند اور وہ بیویاں پیدا ہوں جو ایک انقلاب عظیم لانے کا ذریعہ بن جائیں اور تمام دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آ کر توحید کا اعلان کرنے والی بن جائے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ اب دعا کرلیں۔
٭٭٭٭٭٭




