امریکہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ گوادیلوپ کے زیر اہتمام ایک بین المذاہب عشائیہ

اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے جماعت احمدیہ گوادیلوپ(Guadeloupe) کو ۱۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو اپنے مشن ہاؤس لیس اَبیم میں ایک بابرکت بین المذاہب عشائیہ کے انعقاد کی توفیق ملی۔ یہ تاریخی ملاقات جزیرے میں مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے اور تعاون کے فروغ کی جانب ایک نہایت اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔

پروگرام کا آغاز فرانسیسی زبان میں تیار کردہ ایک ویڈیو پریزنٹیشن سے ہوا جس میں جماعت احمدیہ کا تعارف، اس کا عالمی مشن، انسانیت کی خدمت کے منصوبے اور امن و آشتی کا پیغام پیش کیا گیا۔ مہمانانِ گرامی نے اس تعارفی ویڈیو کو بےحد سراہا۔

تقریب میں جزیرے کے متعدد ممتاز مذہبی راہنماؤں نے شرکت کی جن میں شامل تھے: مسٹر فلپ گیوگو (Philippe Guiougou)کیتھولک بشپ آف گوادیلوپ، پادری پیئر تھیام (Pastor Pierre Thiam) نمائندہ پروٹسٹنٹ چرچ، فادر مشیل (Father Michel) رومن آرتھوڈوکس چرچ کے پادری، پنڈت وشنو – ایلی شِتالو نمائندہ سناتن دھرم گوادیلوپ (ہندو برادری) اور مسٹر ژاں کیلر اور مسز کرسٹین گوہ نمائندگان بہائی کمیونٹی۔ جبکہ جماعت احمدیہ کی نمائندگی کرنے کی خاکسار (مبلغ سلسلہ) کو سعادت حاصل ہوئی۔

پوری نشست نہایت خوشگوار، باوقار اور باہمی احترام کی فضا میں گزری۔ ہر مذہبی نمائندے نے اپنے اپنے روایتی پس منظر سے امن، بھائی چارے اور سماجی ذمہ داری کے اہم پہلوؤں پر اظہار خیال کیا اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جزیرے کی اخلاقی اور سماجی بہتری کے لیے بین المذاہب گفتگو نہایت ضروری ہے۔

اس موقع پر مہمانان کو جماعت احمدیہ کی دو اہم کتب بطور تحفہ پیش کی گئیں:’اسلامی اصول کی فلاسفی‘ اور ’عالمی بحران اور امن کی راہ‘۔ شرکائے محفل نے ان کتب کی بے حد تعریف کی اور کہا کہ یہ امن، مکالمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نہایت مفید ہیں۔

اس نشست کا سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا کہ تمام مذاہب کے نمائندوں نے گوادیلوپ بین المذاہب کمیٹی کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ صرف ابتدائی قدم ہے اور آئندہ اس میں جزیرے کے مزید مذہبی و روحانی گروہوں کو شامل کیا جائے گا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گوادیلوپ کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بین المذاہب عشائیہ تھا جس میں مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے راہنما ایک منظم، دوستانہ اور تعمیری روح کے ساتھ اکٹھے ہوئے۔

(رپورٹ:محمد بشارت احمد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: لجنہ اماء اللہ نیوزی لینڈ کا سالانہ نیشنل سپورٹس ڈے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button