حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے رہیں

پھر اس تیسر ی شرط میں ایک یہ بات بھی شامل ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد کرتارہے گا۔ اس بارہ میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (الفاتحہ:۲) تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کاربّ ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَ لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِ۔ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ۔ (سورۃ سبا:آیت۲) سب حمد اللہ ہی کی ہے جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور آخرت میں بھی تمام تر حمد اُسی کی ہوگی اور وہ بہت حکمت والا(اور)ہمیشہ خبر رکھتا ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ہر اہم کام اگر خداتعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے۔

ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ہر کلام جو اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے وہ بے برکت اور بے اثر ہوتا ہے۔ (۱۔ سنن ابن ماجہ۔کتاب النکاح۔ باب خطبۃالنکاح۔ حدیث نمبر ۱۸۹۴۔۲۔سنن ابو داؤد۔ کتاب الادب۔ باب الْھَدی فی الکلام۔ حدیث نمبر۴۸۳۲)

ایک حدیث میں آتا ہے۔ نعمانؓ بن بشیر روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا : ’’ جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا بھی شکریہ ادا نہیں کر پاتا۔ اللہ تعالیٰ کی نعماء کا ذکر خیر کرنا بھی شکر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعماء کا ذکر خیر نہ کرنا ناشکری ہے۔(مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۴۔ صفحہ ۲۷۸۔ مطبوعہ بیروت)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا۔ اے معاذ! اللہ کی قسم! یقیناً میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں، پھر آپؐ نے فرمایا اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو ہر نماز کے بعد یہ دعا کرنا نہ بھولنا۔ اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ اے اللہ تعالیٰ! تو مجھے توفیق عطاء کر کہ میں تیرا ذکر، تیرا شکر اور اچھے انداز میں تیری عبادت کر سکوں۔ (سنن ابی داؤد۔ کتاب الوتر۔ باب فی الاستغفار)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اگر انسان غور اور فکر سے دیکھے تو اس کومعلوم ہوگا کہ واقعی طور پر تمام محامد اور صفات کامستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور کوئی انسان یا مخلوق واقعی اور حقیقی طور پر حمدوثنا کا مستحق نہیں ہے۔ اگر انسان بغیر کسی قسم کی غرض کی ملونی کے دیکھے تو اس پر بدیہی طور پر کھل جاوے گا کہ کوئی شخص جو مستحق حمد قرار پاتا ہے وہ یا تو اس لئے مستحق ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جبکہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ کسی وجود کی خبر تھی وہ اس کا پیدا کرنیوالا ہو۔ یا اس وجہ سے کہ ایسے زمانہ میں کہ کوئی وجود نہ تھا اور نہ معلوم تھا کہ وجود اور بقاء وجود اور حفظ ِصحت اور قیام زندگی کے لئے کیا کیا اسباب ضروری ہیںاس نے وہ سب سامان مہیا کئے ہوں۔ یا ایسے زمانہ میں کہ اس پر بہت سی مصیبتیں آسکتی تھیںاس نے رحم کیا ہو اور اس کو محفوظ رکھا ہو۔ اور یا اس وجہ سے مستحق تعریف ہو سکتا ہے کہ محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہ کرے اور محنت کرنے والوں کے حقوق پورے طور پر ادا کرے۔ اگرچہ بظاہر اجرت کرنے والے کے حقوق کا دینا معاوضہ ہے لیکن ایسا شخص بھی محسن ہو سکتا ہے جو پورے طور پر حقوق ادا کرے۔ یہ صفات اعلیٰ درجہ کی ہیں جو کسی کو مستحق حمدوثنا بناسکتی ہیں۔ اب غور کر کے دیکھ لو کہ حقیقی طور پر ان سب محامد کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کامل طور پر ان صفات سے متّصف ہے اور کسی میں یہ صفات نہیں ہیں۔ … غرض ا وَّلاً بالذات اکمل اور اعلیٰ طور سے خدا تعالیٰ ہی مستحق تعریف ہے۔ اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا ذاتی طور پر کوئی بھی استحقاق نہیں۔ اگر کسی دوسرے کو استحقاق تعریف کا ہے تو صرف طفیلی طور پر ہے۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کا رحم ہے کہ باوجودیکہ وہ وحدہ’ لاشریک ہے۔ مگر اس نے طفیلی طور پر بعض کو اپنے محامد میں شریک کر لیا ہے‘‘۔(روئیداد جلسہ دعا۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۵۔ صفحہ۵۹۸تا۶۰۲)

جماعت کو عمومی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:’’ اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھائو اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو۔ اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔ تم خدا کی آخری جماعت ہو۔ سو وہ عمل نیک دکھلائو جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ ہر ایک جو تم میں سست ہو جائیگا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مریگا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ دیکھو میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے۔ اگرچہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چنتا ہے۔ وہ اس کے پاس آجاتا ہے جو اس کے پاس جاتا ہے۔ جو اس کو عزت دیتا ہے وہ بھی اس کو عزت دیتا ہے۔ تم اپنے دلوں کو سیدھے کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اس کی طرف آجائو کہ وہ تمہیں قبول کریگا۔‘‘(کشتی نوح۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۹۔ صفحہ۱۵)

حضرت اقد س مسیح موعود علیہ ا لسلام مزید فرماتے ہیں: ’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اوردرمیان میں آنے والے ابتلائوں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلائوں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٔ بیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔ وہ جو کسی ابتلاء سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔ اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا۔ مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی۔ وہ آخر فتحیاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔

خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے‘‘۔(رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن۔ جلد ۲۰۔ صفحہ ۳۰۹)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں سچا اور احمدی مسلمان بنائے،ہمیں اپنے عہد بیعت پر قائم رہنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائے۔ خدا اوراس کے رسول ﷺکی سچی اور کامل اطاعت کرنے والا بنائے۔ ہم سے کبھی کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہوجس سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت پر کوئی حرف آئے۔اے اللہ!تُو ہماری غلطیوں کو معاف فرما۔ ہماری پردہ پوشی فرما۔ ہمیں ہمیشہ اپنے فرمانبرداروں اور وفاداروں میں لکھ۔ ہمیں ہمارے عہد وفا اور بیعت پر قائم رکھ، ہمیں اپنے پیاروں میں شامل رکھ،ہماری نسلوں کو بھی اس عہد کو نبھانے کی توفیق دے۔کبھی ہمیں اپنے سے جدا نہ کرنا۔ ہمیں اپنی سچی معرفت عطا کر۔ اے ارحم الراحمین خدا !ہم پر رحم فرما اورہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ ہمیں ان تمام دعائوں کا وارث بنا جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لئے، اپنی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والوں کے لئے کیں۔(ازاختتامی خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ انگلستان۔ مورخہ ۲۷؍جولائی ۲۰۰۳ء)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۶۵ تا ۶۹)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button