حساب الجمّل
حساب الجمّل کا تعارف
عربی حروف تہجیّ کے ہر حرف کی اعداد (نمبروں) میں ایک قیمت مقرر ہے۔ جب کسی لفظ کے تمام حروف کی قیمتوں کو جمع کیا جائے تو ان کے میزان کو اُس لفظ کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے۔ اِس طرح کسی لفظ یا کسی عبارت کے ہر حرف کی قیمتوں کا حساب کرنے کے طریق کو حساب الابجد یا حساب الجمّل کہتے ہیں۔
حروف تہجی کی ترتیب اور ان کے اَعداد (نمبر)
حساب الجمل میں حروف تہجی کی ترتیب اَعداد(نمبروں) کے حساب سے وضع کی گئی ہے۔ اس ترتیب کو یاد کرنے کے لئے ان حروف میں سے تین تین یا چار چار حروف کا ایک لفظ بنایا گیا جسے آسانی سے یاد کیا جا سکتا ہے۔ وہ الفاظ اور ان کے اَعداد (نمبر)یہ ہیں:
أَبْـجَدْ، هَوَّز، حُـطِّـيْ، كَلِمَنْ، سَعْفَصْ، قَرِشَتْ، ثَخَذْ، ظَضَغْ
ا ب ج د
۱ ۲ ۳ ۴
ه و ز
۵ ۶ ۷
ح ط ي
۸ ۹ ۱۰
ك ل م ن
۲۰ ۳۰ ۴۰ ۵۰
س ع ف ص
۶۰ ۷۰ ۸۰ ۹۰
ق ر ش ت
۱۰۰ ۲۰۰ ۳۰۰ ۴۰۰
ث خ ذ
۵۰۰ ۶۰۰ ۷۰۰
ظ ض غ
۸۰۰ ۹۰۰ ۱۰۰۰
حساب الجمل میں قانون یہ ہے کہ تمام لکھے ہوئے حروف شمار ہوں گے، اگر چہ ان میں سے بعض تلفظ میں ادا نہ ہوتے ہوں۔ تمام حرکات کو ہٹا دیا جائے گا۔ حرکات اِشباعیہ (کھڑی زبر، کھڑی زیر اور اُلٹی پیش) شمار نہیں ہوں گی۔ مشدّد حرف پر سے تشدید ہٹا دی جائے گی یعنی مشدّد حرف ایک حرف شمار ہوگا نہ کہ دو۔ مثلاً اَلصّٰلِحٰتُ میں حرکات (اعراب) ہٹا دی جائیں تو یہ رہ جائے گا: الصلحت یعنی یہ ۶ حروف شمار ہوں گے۔ الصلحت میں لام تلفظ میں نہیں آتا، لیکن لکھنے میں آتا ہے اسے شامل کیا جائے گا۔ اور ص پر تشدید ہے۔ مگر ایک ہی ص شمار ہوگا۔
اردو حروف تہجی کے بعض حروف عربی حروف تہجی میں نہیں مثلاً پ۔ٹ۔وغیرہ۔ ان کےلیے قاعدہ یہ ہے کہ پ کو ب شمار کریں گے۔ ٹ کو ت۔ چ کو ج۔ ڈ کو د۔ ڑ کو ر۔ ژ کو ز۔ گ کو ک۔ ہمزہ کو الف۔(ماخوذ از الفضل انٹرنیشنل۔ ۲۳؍دسمبر ۲۰۲۳ء)
مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ’’مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار‘‘ میں پ کو ب شمار کیا جائے گا۔
یہود میں حساب الجمّل کا رواج
حساب الابجد؍حساب الجمل کی تاریخ حضرت مسیحؑ سے بھی صدیوں قبل تک جاتی ہے۔ یہود میں خاص طور پر حساب الجمل کا بہت رواج تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیرِ کبیر میں الٓــمّٓ کے تحت تحریر فرمایا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک یہودی حُیَیبن اَخطب اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ا ور کہا، سنا ہے آپ پر الٓــمّٓ وحی نازل ہوئی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا: ہاں۔ وہ کہنے لگا اس کے اعداد ۷۱؍بنتے ہیں، یعنی آپ کی امت کا زمانہ ۷۱سال ہے۔ پھر پوچھا کچھ اور حروف بھی نازل ہوئے ہیں؟حضورؐ نے فرمایا: الٓمّٓصٓ۔اُس نے کہا اِس کے اعداد ۱۶۱؍ہیں۔ کہا کچھ اور بھی ہے ؟تو فرمایا الٓـمّٓرٰ۔اُس نے کہا یہ تو ۲۷۱؍سال کا عرصہ ہوا۔ پھروہ کہنے لگا ہم پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں آپ کا زمانہ چھوٹا ہے یا بڑا، پھر وہ اٹھ کر چلا گیا۔
حضرت مصلح موعود ؓفرماتے ہیں کہ یہ بات تو بہر حال غلط ہے کہ ان حروف میں آپؐ کے زمانے کا ذکر ہے۔ کیونکہ آپؐ کا زمانہ تو قیامت تک ہے۔ مگر آپؐ نے یہود کی باتوں کی تردید بھی نہیں کی۔ لہٰذا ان مدتوں سے مراد یہ ہے کہ اِن سالوں میں خاص واقعات اسلامی تاریخ میں ہوں گے۔ پھر حضور ؓنے ان واقعات کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں تفسیر کبیر جلد اول۔ زیر الٓمّٓ)
تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حساب الجمّل
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں بھی حساب الجمل کا ذکر ملتا ہے۔بعض قرآنی آیات اور کچھ دیگر واقعات کے اوقات کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بذریعہ کشوف و الہامات اطلاع دی گئی۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ بعض اسرار اعدادِ حروفِ تہجی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔‘‘(ازالہ اوہام،روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۱۹۰)
’’قرآن شریف کے حروف اور اُن کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے۔‘‘(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۲۲)
سورۃ العصر کے اعداد (۴۷۳۹)؍(۴۷۴۰)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بعض تحریرات میں سورۃ العصر کے اعداد ۴۷۳۹؍اور بعض میں ۴۷۴۰؍لکھے ہیں۔ یہ فرق لفظ الْإِنْسَان کی وجہ سے ہے۔ ’’الْإِنْسٰن‘‘ الف کے بغیر فتحہ اعشبائیہ (کھڑی زبر) کے ساتھ بھی لکھا جاتا ہے۔ اگر الف کو شمار کیا جائے تو سورۃ العصر کے اعداد ۴۷۴۰ بنتے ہیں اور الف کے بغیر اعداد ۴۷۳۹ بنتے ہیں۔
وَالْعَصْرِ
و ا ل ع ص ر
۶ ۱ ۳۰ ۷۰ ۹۰ ۲۰۰
إِنَّ الْإِنْسَانَ
إ ن ا ل إ ن س ن
۱ ۵۰ ۱ ۳۰ ۱ ۵۰ ۶۰ ۵۰
لَفِي خُسْرٍ
ل ف ي خ س ر
۳۰ ۸۰ ۱۰ ۶۰۰ ۶۰ ۲۰۰
إِلَّا الَّذِينَ
إ ل ا ا ل ذ ي ن
۱ ۳۰ ۱ ۱ ۳۰ ۷۰۰ ۱۰ ۵۰
آمَنُوا
آ م ن و ا
۱ ۴۰ ۵۰ ۶ ۱
وَعَمِلُوا
و ع م ل و ا
۶ ۷۰ ۴۰ ۳۰ ۶ ۱
الصَّالِحَاتِ
ا ل ص ل ح ت
۱ ۳۰ ۹۰ ۳۰ ۸ ۴۰۰
وَتَوَاصَوْا
و ت و ا ص و ا
۶ ۴۰۰ ۶ ۱ ۹۰ ۶ ۱
بِالْحَقّ
ب ا ل ح ق
۲ ۱ ۳۰ ۸ ۱۰۰
وَتَوَاصَوْا
و ت و ا ص و ا
۶ ۴۰۰ ۶ ۱ ۹۰ ۶ ۱
بِالصَّبْرِ
ب ا ل ص ب ر
۲ ۱ ۳۰ ۹۰ ۲ ۲۰۰
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’ایک دفعہ میں نے آدم کے سن پیدائش کی طرف توجہ کی تو مجھے اشارہ کیا گیا کہ ان اعداد پر نظر ڈال جو سورۃ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہیں میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے۔ ‘‘(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۱۹۰)
’’قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہو تے ہیں کہ تفسیروں میں اُن کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔مثلاًیہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقتِ آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت تک مدّت گزری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے یعنی چار ہزار سات سو چالیس (۴۷۴۰)۔ اب بتلاؤکہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قر آن کریم کا اعجاز نمایا ں ہے کس تفسیر میں لکھے ہیں۔‘‘(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۲۵۸-۲۵۹)
’’حجج الکرامہ میں ابن واطیل سے روایت لکھی ہے کہ مسیح عصر کے وقت آسمان پر سے نازل ہو گا اور عصر سے ہزار کا آخری حصہ مراد لیا ہے۔ دیکھو حجج الکرامہ صفحہ ۴۲۸۔ اِس قول سے ظاہر ہے کہ اس جگہ ہزار سے مراد ہزار ششم ہے اور ہزار ششم کے عصر کا وقت اس عاجز کی پیدائش کا زمانہ ہے جو حضرت آدم کی پیدائش کے زمانہ کے مقابل پر ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ آخری زمانہ کا جو ہزار ہے وہ آدم کے چھٹے دن کے مقابل پر ہزار ششم ہے جس میں مسیح موعود کا آنا ضروری ہے اور آخری حصّہ اس کا وقت عصر کہلاتا ہے پس ابن و اطیل کا اصل قول جو سر چشمہ نبوت سے لیا گیا ہے اِس طرح پر معلوم ہوتا ہے نزول عیسٰی یکون فی وقت صلٰوة العصر في الیوم السادس من الأیام الـمـحـمدية حین تمضي ثلاثة أرباعه۔ یعنی نزول عیسیٰ محمدی دن کے عصر کے وقت میں ہو گا جب تین حصے اُس دن کے گذر چکیں گے۔ یعنی ہزار ششم کا آخری حصہ کچھ باقی رہے گا اور باقی سب گذر چکے گا اس وقت عیسیٰ کی رُوح زمین پر آئے گی۔ یاد رہے کہ صوفیہ کی اِصطلاح میں یوم محمدی سے مراد ہزار سال ہے جو روز وفات آنحضرت ﷺ سے شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم اسی حساب سے سورۃ والعصر کے اعداد لکھ کر ثابت کر چکے ہیں کہ اس عاجز کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی جبکہ یوم محمدی میں سے صرف گیارہ سال باقی رہتے تھے جو اس دن کا آخری حصہ ہے۔‘‘(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۲۸۱-۲۸۵)
’’اور یاد رہے کہ اگرچہ قرآن شریف کے ظاہر الفاظ میں عمر دنیا کی نسبت کچھ ذکر نہیں۔لیکن قرآن میں بہت سے ایسے اشارات بھرے پڑے ہیں جن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عمر دنیا یعنی دَور آدم کا زمانہ سات ہزار سال ہے۔ چنانچہ منجملہ ان اشارات قرآنی کے ایک یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت ﷺ کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے یعنی تیئیس (۲۳)برس کا تمام وکمال زمانہ یہ کل مدت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملاکر ۴۷۳۹ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرتﷺکے روز وفات تک قمری حساب سے ہیں…اور شمسی حساب سے یہ مدت ۴۵۹۸ہوتی ہے۔‘‘
’’حاشیہ۔ اس حساب کے رُو سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے سو جیسا کہ آدم علیہ السلام اخیر حصہ میں پیدا ہوا ایسا ہی میری پیدائش ہوئی۔‘‘(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۲۵۱-۲۵۲)
’’یہ خوب یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسے یہ آیت دو معنوں پر مشتمل ہے ایسے ہی صد ہا نمونے اسی قسم کے کلام الٰہی میں پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اُس کو معجزانہ کلام کہا جاتا ہے جو ایک ایک آیت دس دس پہلو پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ تمام پہلو صحیح ہوتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے حروف اور اُن کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے مثلاً سورۃ والعصر کی طرف دیکھو کہ ظاہری معنوں کی رُو سے یہ بتلاتی ہے کہ یہ دُنیوی زندگی جس کو انسان اس قدر غفلت سے گذار رہا ہے آخر یہی زندگی ابدی خُسران اور وبال کا موجب ہو جاتی ہے … لیکن اس سورۃ کے ساتھ یہ ایک عجیب معجزہ ہے کہ اس میں آدم کے زمانہ سے لے کر آنحضرتؐ کے زمانہ تک دنیا کی تاریخ اَبْـجَدْ کے حساب سے یعنی حساب جمل سے بتلائی گئی ہے۔ غرض قرآن شریف میں ہزارہا معارف و حقائق ہیں اور درحقیقت شمار سے باہر ہیں۔‘‘(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۲۲)
’’اس ششم ہزار کے لوگوں کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے اور ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں۔ چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخر الزمان اس کے سرپر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کے لئے بطور ظل کے ہو کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کہلاتا ہے وہ مجدّد صدی بھی ہے اور مجدّد الف آخر بھی۔ اِس بات میں نصاریٰ اور یہود کو بھی اختلاف نہیں کہ آدم سے یہ زمانہ ساتواں ہزار ہے۔ اور خدا نے جو سورہ والعصر کے اعداد سے تاریخ آدم میرے پر ظاہر کی اس سے بھی یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ساتواں ہزار ہی ثابت ہوتا ہے۔ اور نبیوں کا اِس پر اتفاق تھا کہ مسیح موعود ساتویں ہزار کے سر پر ظاہر ہوگا اور چھٹے ہزار کے اخیر میں پیدا ہوگا کیونکہ وہ سب سے آخر ہے جیسا کہ آدم سب سے اوّل تھا۔ اور آدم چھٹے دن جمعہ کی اخیر ساعت میں پیدا ہوا اور چونکہ خدا کا ایک دن دنیا کے ہزار سال کے برابر ہے اِس مشابہت سے خدا نے مسیح موعود کو ششم ہزار کے اخیر میں پیدا کیا۔ گویا وہ بھی دن کی آخری گھڑی ہے اور چونکہ اوّل اور آخر میں ایک نسبت ہوتی ہے اس لئے مسیح موعود کو خدا نے آدم کے رنگ پر پیدا کیا۔ …یہودی فاضل بھی اس کے قائل رہے ہیں اور قرآن شریف سے بھی صاف طور پر یہی نکلتا ہے کہ آدم سے اخیر تک عمر بنی آدم کی سات ہزار سال ہے اور ایسا ہی پہلی تمام کتابیں بھی باتفاق یہی کہتی ہیں اور آیت إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (الحج:۴۸) سے بھی یہی نکلتا ہے اور تمام نبی واضح طور پر بھی خبر دیتے آئے ہیں اور جیسا کہ مَیں بھی بیان کر چکا ہوں سورۃ والعصر کے اعداد سے بھی یہی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آدم سے الف پنجم میں ظاہر ہوئے تھے اور اِس حساب سے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ہزار ہفتم ہے جس بات کو خدا نے اپنی وحی سے ہم پر ظاہر کیا اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہم کوئی وجہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے پاک نبیوں کے متفق علیہ کلمہ سے انکار کریں۔‘‘(لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۰۸-۲۱۰)
’’سر کو پیٹو! آسماں سے اب کوئی آتا نہیں
عمرِ دنیا سے بھی اب ہے آگیا ہفتم ہزار
کتب سابقہ اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ عمر دنیا کی حضرت آدم علیہ السلام سے سات ہزار برس تک ہے اِسی کی طرف قرآن شریف اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الحج :۴۸)۔ یعنی خدا کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے برابر ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے میرے دل پر یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک حضرت آدمؑ سے اسی قدر مدت بحساب قمری گذری تھی جو اِس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے رو سے حضرت آدمؑ سے اب ساتواں ہزار بحساب قمری ہے جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتا ہے اور یہ حساب جو سورۃوالعصر کے حروف کے اعداد کے نکالنے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے حساب سے قریباً تمام و کمال ملتا ہے صرف قمری اور شمسی حساب کو ملحوظ رکھ لینا چاہیے اور ان کی کتابوں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہو گئے کہ چھٹا ہزار گزر گیا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۴۶-۱۴۷)
’’استنباط آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا کی عمر حضرت آدم سے لے کر سات ہزار (۷۰۰۰)سال ہے۔ اور اس میں سے ہمارے زمانہ تک چھ ہزار (۶۰۰۰)برس گذر چکے ہیں۔ جیسا کہ اعداد سورۃ والعصر سے معلوم ہوتا ہے۔ اور بموجب حساب قمری کے اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں۔ اور جو مسیح موعود چھٹے ہزار کے اخیر پر قائم ہونا تھا وہ قائم ہو چکا ہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۵۹-۲۶۰)
نام ’’غلام احمد قادیانی ‘‘ کے اعداد (۱۳۰۰)
غ ل ا م ا ح م د
۱۰۰۰ ۳۰ ۱ ۴۰ ۱ ۸ ۴۰ ۴
ق ا د ی ا ن ی
۱۰۰ ۱ ۴ ۱۰ ۱ ۵۰ ۱۰
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:’’چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الْآيَاتُ بَعْدَ الْـمِأَتَيْـنِ ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو (۱۳۰۰) ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اِس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔ ‘‘(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۸۹-۱۹۰)
’’اللہ تعالیٰ نے میرا نام غلام احمد قادیانی رکھ کر اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کیونکہ اس نام میں تیرہ سو کا عدد پورا کیا گیا ہے۔ غرض قرآن اور احادیث سے اس بات کا کافی ثبوت ملتا ہے کہ آنے والا مسیح چودھویں صدی میں ظہور کرے گا۔‘‘(کتاب البریّہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۲۵۸)
’’جس نے دعویٰ کیا اُس کا نام بھی یعنی غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے یعنی تیرہ سو (۱۳۰۰) کا عدد جو اِس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سوکا عدد پورا کرتا ہے۔ مگر آپ لوگوں کی اب تک آنکھ نہیں کھلی۔‘‘(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۵۷-۱۵۸)
۱۳۰۰ ہجری کو عیسوی تاریخ میں تبدیل کیا جائے تو ۱۸۸۲ء بنتا ہے۔ ۱۸۸۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ حصہ سوم تصنیف فرمائی۔
آیت إِنَّا عَلَى ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ کے اعداد میں ۱۸۵۷ کے غدرکی طرف اشارہ
وَإِنَّا عَلَى
و إ ن ا ع ل ى
۶ ۱ ۵۰ ۱ ۷۰ ۳۰ ۱۰
ذَهَابٍ بِهِ
ذ ه ا ب ب ه
۷۰۰ ۵ ۱ ۲ ۲ ۵
لَقَادِرُونَ
ل ق ا د ر و ن
۳۰ ۱۰۰ ۱ ۴ ۲۰۰ ۶ ۵۰
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’آیت إِنَّا عَلَى ذَهَاب بِهٖ لَقَادِرُونَ (المؤمنون:۱۹)میں ۱۸۵۷ء کی طرف اشارہ ہے جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپدید ہوگئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ۱۲۷۴ ہیں اور۱۲۷۴ کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ۱۸۵۷ء ہوتا ہے۔ سو درحقیقت ضعفِ اسلام کا زمانہ ابتدائی یہی ۱۸۵۷ء ہے جس کی نسبت خدائے تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔ سو ایسا ہی ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی حالت ہوگئی تھی کہ بجُز بدچلنی اور فسق وفجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہ تھا جس کا اثر عوا م پر بہت پڑ گیا تھا انہیں ایام میں انہوں نے ایک ناجائز اور ناگوار طریقہ سے سرکار انگریزی سے باوجود نمک خوار اور رعیت ہونے کے مقابلہ کیا۔ حالانکہ ایسا مقابلہ اور ایسا جہاد ان کے لئے شرعًا جائز نہ تھا کیونکہ وہ اس گورنمنٹ کی رعیّت اور ان کے زیر سایہ تھے اور رعیّت کا اس گورنمنٹ کے مقابل پر سر اٹھانا جس کی وہ رعیّت ہے اور جس کے زیر سایہ امن اور آزادی سے زندگی بسر کرتی ہے سخت حرام اور معصیت کبیرہ اور ایک نہایت مکروہ بدکاری ہے۔ جب ہم ۱۸۵۷ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتووں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کردینا چاہیئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے اُن کے فتوے تھے۔ جن میں نہ رحم تھا نہ عقل تھی نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔ننھے ننھے بچوں اور بے گناہ عورتوں کو قتل کیا اورنہایت بے رحمی سے انہیں پانی تک نہ دیا۔ کیا یہ حقیقی اسلام تھا یایہودیوں کی خصلت تھی۔ کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ خدائے تعالےٰ نے اپنی کتاب میں ایسے جہاد کا کسی جگہ حکم دیا ہے۔ پس اس حکیم وعلیم کا قرآن کریم میں یہ بیان فرمانا کہ ۱۸۵۷ء میں میرا کلام آسمان پر اُٹھایا جائیگا یہی معنے رکھتا ہے کہ مسلمان اس پر عمل نہیں کریں گے جیسا کہ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ خدائے تعالیٰ پر یہ الزام لگانا کہ ایسے جہاد اور ایسی لڑائیاں اس کے حکم سے کی تھیں یہ دوسرا گناہ ہے۔ کیا خدائے تعالیٰ ہمیں یہی شریعت سکھلاتا ہے کہ ہم نیکی کی جگہ بدی کریں۔ اور اپنی محسن گورنمنٹ کے احسانات کا اس کو یہ صلہ دیں کہ اُن کی قوم کے صغر سن بچوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کریں اور ان کی محبوبہ بیویوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں۔ بلاشبہ ہم یہ داغ مسلمانوں خاص کر اپنے اکثر مولویوں کی پیشانی سے دھو نہیں سکتے کہ وہ ۵۷ ء میں مذہب کے پردہ میں ایسے گناہ عظیم کے مرتکب ہوئے جس کی ہم کسی قوم کی تواریخ میں نظیرنہیں دیکھتے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ انہوں نے اور بھی ایسے بُرے کام کئے جو صرف وحشی حیوانات کی عادات ہیں نہ انسانوں کی خصلتیں۔ انہوں نے نہ سمجھا کہ اگر اُن کے ساتھ یہ سلوک کیاجائے کہ ایک ممنون منت اُن کااُن کے بچوں کومار دے اوران کی عورتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرے تو اُس وقت اُن کے دل میں کیا کیا خیال پیدا ہوگا۔ باوجود اس کے یہ مولوی لوگ ا س بات کی شیخی مارتے ہیں کہ ہم بڑے متقی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ نفاق سے زندگی بسر کرنا انہوں نے کہاں سے سیکھ لیا ہے۔ کتاب الٰہی کی غلط تفسیروں نے انہیں بہت خراب کیا ہے اور ان کے دلی اور دماغی قویٰ پر بہت بُرا اثر ان سے پڑا ہے۔ اس زمانہ میں بلاشبہ کتاب الٰہی کے لئے ضرور ی ہے کہ اس کی ایک نئی اور صحیح تفسیرکی جائے کیونکہ حال میں جن تفسیروں کی تعلیم دی جاتی ہے وہ نہ اخلاقی حالت کو درست کرسکتی ہیں اور نہ ایمانی حالت پر نیک اثرڈا لتی ہیں بلکہ فطرتی سعادت اور نیک روشی کی مزاحم ہورہی ہیں۔ کیوں مزاحم ہورہی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دراصل اپنے اکثر زوائد کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم نہیں ہے قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پراٹھایاگیاہے۔ وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بےخبر ہیں وہ عرفان جو قرآن نے بخشاتھا اس سے لوگ غافل ہوگئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اُترتا۔ انہیں معنوں سے کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا جیسا کہ فرمایا ہے لَوْ كَانَ الْإِيْـمَانُ مُعَلَّقًا عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِس یہ حدیث درحقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آیت إِنَّا عَلٰى ذَهَاب بِهٖ لَقَادِرُوْنَ میں اشارۃً بیان کیاگیا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۴۸۹-۴۹۳ حاشیہ)
وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے اعداد۔ (۱۲۷۵)
وَآخَرِينَ
و آ خ ر ي ن
۶ ۱ ۶۰۰ ۲۰۰ ۱۰ ۵۰
مِنْهُمْ لَمَّا
م ن ه م ل م ا
۴۰ ۵۰ ۵ ۴۰ ۳۰ ۴۰ ۱
يَلْحَقُوا بِهِمْ
ي ل ح ق و ا ب ه م
۱۰ ۳۰ ۸ ۱۰۰ ۶ ۱ ۲ ۵ ۴۰
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:’’اور اس جگہ ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا اللہ جلّ شانُہٗ نے ظاہر الفاظ آیت میں وَآخَرِينَ مِنْهُمْ کا لفظ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ لوگ جو کمالات میں صحابہ کے رنگ میں ظاہر ہوں گے وہ آخری زمانہ میں آئیں گے ایسا ہی اس آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے تمام حروف کے اعداد سے جو ۱۲۷۵ ہیں اس بات کی طرف اشارہ کر دیا جو آخَرِينَ مِنْهُمْ کا مصداق جو فارسی الاصل ہے اپنے نشاء ظاہر کا بلوغ اس سن میں پورا کر کے صحابہ سے مناسبت پیدا کر لے گا سو یہی سن ۱۲۷۵ہجری جو آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعۃ:۴) کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے اس عاجز کی بلوغ اور پیدائش ثانی اور تولّد روحانی کی تاریخ ہے جو آج کے دن تک چونتیس برس ہوتے ہیں۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ آخَرِينَ مِنْهُمْکا لفظ جمع ہے پھر ایک پر کیونکر اطلاق پاسکتا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کا ایک پر اطلاق کر دیا ہے کیونکہ آپ نے اس آیت کی شرح کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ فارس کے اصل سے ایک ایسا رجل پیدا ہو گا کہ قریب ہے جو ایمان کو ثریا سے زمین پر لے آوے۔ ‘‘(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۱۹-۲۲۰)
یا غفورکے اعداد۔ (۱۲۹۷)
ي ا غ ف و ر
۱۰ ۱ ۱۰۰۰ ۸۰ ۶ ۲۰۰
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ حصہ سوم کے ٹائٹل پیج پر درج ذیل شعر تحریر فرمایا ہے اور شعر کے اوپر ۱۲۹۷ تاریخ لکھی ہے۔
از بس کہ یہ مغفرت کا بتلاتی ہے راہ
تاریخ بھی یا غفور(۱۲۹۷) نکلی وہ واہ
(براہین احمدیہ حصہ سوم۔ٹائٹل پیج)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’دانیال نبی کی کتاب میں مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ وہی لکھا ہے جس میں خدا نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اور لکھا ہے کہ اس وقت بہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور سفید کئے جائیں گے اور آزمائے جائیں گے لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہیں سمجھے گا پر دانشور سمجھیں گے اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور مکر وہ چیز جو خراب کرتی ہے قائم کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے (۱۲۹۰) دن ہوں گے۔ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس (۱۳۳۵) روز تک آتاہے۔ اس پیشگوئی میں مسیح موعود کی خبر ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ سو دانیال نبی نے اس کا یہ نشان دیا ہے کہ اس وقت سے جو یہود اپنی رسم قربانی سوختنی کو چھوڑ دیں گے اوربد چلنیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ایک ہزار دو سو نوے سال ہوں گے جب مسیح موعود ظاہر ہوگا سو اِس عاجز کے ظہور کا یہی وقت تھا کیونکہ میری کتاب براہین احمدیہ صرف چند سال بعد میرے مامور اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی ہے اور یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے (۱۲۹۰)ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔ پھر سات سال بعد کتاب براہین احمدیہ جس میں میرا دعویٰ مسطور ہے تالیف ہو کر شائع کی گئی جیسا کہ میری کتاب براہین احمدیہ کے سرورق پر یہ شعر لکھا ہوا ہے:
از بس کہ یہ مغفرت کا دکھلاتی ہے راہ
تاریخ بھی یا غفور(۱۲۹۷)نکلی وہ واہ
سو دانیال نبی کی کتاب میں جو ظہور مسیح موعود کے لئے بارہ سو نوے (۱۲۹۰)برس لکھے ہیں۔ اِس کتاب براہین احمدیہ میں جس میں میری طرف سے مامور اور منجانب اللہ ہونے کا اعلان ہے صرف سات برس اِس تاریخ سے زیادہ ہیں جن کی نسبت میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ مکالمات الٰہیہ کا سلسلہ اِن سات برس سے پہلے کا ہے یعنی بارہ سو نوے (۱۲۹۰)کا۔‘‘(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۲۰۷-۲۰۸)
پیشگوئی كَلْبٌ يَّمُوْتُ عَلَى كَلْبٍ کے اعداد۔ (۵۲)
ك ل ب
۲۰ ۳۰ ۲
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی موت کی نسبت خدائے تعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ كَلْبٌ يَّـمُوْتُ عَلَى كَلْبٍ یعنی وہ کُتّا ہے اور کُتے کے عدد پر مرے گا جو باون (۵۲) سال پر دلالت کررہے ہیں یعنی اُس کی عمر باو ن(۵۲) سال سے تجاوز نہیں کرے گی جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا تب اُسی سال کے اندر اندر راہی ملک بقا ہو گا۔‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۱۹۰)
چنانچہ ایک سخت معاند احمدیت ۴؍اپریل ۱۹۷۹ء کو جبکہ وہ باون (۵۲) سال کے اندر قدم رکھ چکا تھا (اس وقت اس کی عمر ۵۱؍سال اور ۲؍ماہ تھی )تختہ دار پر لٹکایا گیا۔
مسجد مبارک کی تاریخ (۱۳۰۰)
مبارَكٌ ومبارِكٌ
م ب ا ر ك
۴۰ ۲ ۱ ۲۰۰ ۲۰
و م ب ا ر ك
۶ ۴۰ ۲ ۱ ۲۰۰ ۲۰
وكلُّ امرٍ
و ك ل ا م ر
۶ ۲۰ ۳۰ ۱ ۴۰ ۲۰۰
مبارَكٌ
م ب ا ر ك
۴۰ ۲ ۱ ۲۰۰ ۲۰
يُجْعلُ فيه
ي ج ع ل ف ي ه
۱۰ ۳ ۷۰ ۳۰ ۸۰ ۱۰ ۵
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’ایک مرتبہ میں نے اس مسجد کی تاریخ جس کے ساتھ میرا مکان ملحق ہے الہامی طور پر معلوم کرنی چاہی تو مجھے الہام ہوا مُبَارِكٌ وَّمُبَارَكٌ وَّكُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَكٍ يُّجْعَلُ فِيْهِ۔یہ وہی مسجد ہے جس کی نسبت میں اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ میرا مکان اس قصبہ کے شرقی طرف آبادی کے آخری کنارہ پر واقع ہے اسی مسجد کے قریب اور اس کے شرقی منارہ کے نیچے جیسا کہ ہمارے سیّد و مولیٰ کی پیشگوئی کا مفہوم ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۱۹۰)
مسجد مبارک کے متعلق اس الہام کے اعداد ۱۳۰۰ بنتے ہیں۔ ۱۳۰۰ کو عیسوی تاریخ میں تبدیل کیا جائے تو یہ عدد ۱۸۸۲ء بنتا ہے۔ چنانچہ مسجد مبارک کی بنیاد (حضرت پیر سراج الحق صاحب کی عینی شہادت کے مطابق) ۱۸۸۲ء میں اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ترابؓ کی تحقیق کے مطابق ۱۸۸۳ء میں رکھی گئی۔
الہام ’’مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار‘‘ کے اعداد۔(۱۳۲۶)
مكن تكيه
م ك ن ت ك ي ه
۴۰ ۲۰ ۵۰ ۴۰۰ ۲۰ ۱۰ ۵
بر عمر
ب ر ع م ر
۲ ۲۰۰ ۷۰ ۴۰ ۲۰۰
نا پائيدار
ن ا پ ا ی د ا ر
۵۰ ۱ ۲ ۱ ۱۰ ۴ ۱ ۲۰۰
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فارسی میں الہام ہوا: ’’مكن تکیه بر عمر ناپائیدار‘‘ ناپائیدار عمر پر بھروسہ مت کر۔ (تذکرہ صفحہ ۷۳۸)
اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آپؑ کا سن وفات بھی بتایا گیا ہے چنانچہ اس کے اعداد ۱۳۲۶ہیں۔
۱۳۲۶ کو عیسوی تاریخ میں تبدیل کیا جائے تو ۱۹۰۸ء بنتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو اس جہانِ فانی سے رحلت فرمائی۔
اس الہام کے اعداد شمار کرتے ہوئے ’’پ‘‘ کو ’’ب‘‘ شمار کیا جائے گا، جیسا کہ مضمون کے شروع میں بتایا جا چکا ہے۔
معزز قارئین الفضل کو دعوت
خاکسار درج ذیل دو جملوں کو حل نہیں کر سکا۔ معزز قارئینِ الفضل کو دعوت ہے کہ وہ ان جملوں کو حل کرنے میں مدد فرمائیں۔
آتھم کی موت
’’وَماتَ آتم‘‘ بعد مرور نصفٍ من الأشهر المسيحية، وما نفعه فراره من البلدة إلى البلدة، وإن شئت فافهم زمان وفاته من هذه الفقرة هَوَى دجّالٌ ببٌّ في عذاب الهاوية المهلكة۔‘‘(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۰۴) ترجمہ: اور آتھم عیسوی مہینوں میں سے آدھے مہینے گزرنے کے بعد (یعنی جولائی ۱۸۹۶ء کو) ہلاک ہوا۔ اور اُس کے ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف فرار نے اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچایا۔ اگر تم چاہو تو اس جملے سے اس کی وفات کے زمانہ کو معلوم کر سکتے ہو۔ ’’هَوَى دجّالٌ ببٌّ في عذاب الهاوية المهلكة‘‘ یعنی ایک فربہ دجال ہلاک کرنے والی جہنم کے عذاب میں گرفتار ہوا۔
هَوَى دجّالٌ ببٌّ في عذاب
ه و ى
۴ ۳ ۱ ۳۰
د ج ا ل
۵ ۶ ۱۰
ب ب
۲ ۲
فِيْ عذاب
ف ي ع ذ ا ب
۸۰ ۱۰ ۷۰ ۷۰۰ ۱ ۲
الهاوية
ا ل ه ا و ي ة
۱ ۳۰ ۵ ۱ ۶ ۱۰ ۵
المهلكة
ا ل م ه ل ك ة
۱ ۳۰ ۴۰ ۵ ۳۰ ۲۰ ۵
اس جملے کے اعداد ۱۱۱۵ بنتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس عربی جملے کے اوپر ’’۱۸۹۶ السنة العيسوية‘‘ تحریر فرمایا ہے۔ (احباب اس جملے کو حل کرنے میں مدد فرمائیں۔ )
عيسى عند المنارة دمشق کے اعداد
وقد ألقي في قلبي أن قول عِيْسَى عِنْدَ الْمَنَارَةِ دِمَشْق، إشارةٌ إلى زمان ظهوره، فإن أعداد حروفه تدل على السنة الهجرية التي بعثني اللّٰہ فيه۔ (حمامۃالبشری۔ روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۲۲۵) ترجمہ: اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ قول ’’ عِيْسَى عِنْدَ الْمَنَارَةِ دِمَشْق‘‘ (عیسیٰ دمشق کے کنارہ کے پاس) میں اُن کے ظہور کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ اس (جملے) کے حروف کے اعداداس سن ہجری پر دلالت کرتے ہیں جس میں اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا۔
عِيْسَى عِنْدَ
ع ي س ى ع ن د
۷۰ ۱۰ ۶۰ ۱۰ ۷۰ ۵۰ ۴
الْمَنَارَةِ
ا ل م ن ا ر ة
۱ ۳۰ ۴۰ ۵۰ ۱ ۲۰۰ ۵
دِمَشْق
د م ش ق
۴ ۴۰ ۳۰۰ ۱۰۰
اس جملے کے اعداد ۱۰۴۵ بنتے ہیں۔ حدیث الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَيْنِ (یعنی نشانات ۲۰۰سال بعد ظہور پذیر ہوں گے) سے اخذ کرتے ہوئے ۱۰۴۵ کے عدد میں ۲۰۰ جمع کرلیے جائیں تو ۱۲۴۵ بن جاتا ہے۔ اور ۱۲۴۵ کو عیسوی سن میں تبدیل کریں تو ۱۸۳۰ء بنتا ہے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سنِ پیدائش کے قریب ترین ہے۔
لیکن ایک مشکل باقی رہ جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریر کے مطابق یہ جملہ آپؑ کی بعثت کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ پیدائش کی طرف۔
اس توجیہ میں بھی تشنگی باقی ہے۔ (صاحب علم اور اہل ذوق سے اس جملے کو حل کرنے میں مدد کی درخواست ہے۔ )
(محمد اظہر منگلا۔استاد جامعہ احمدیہ گھانا)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: نماز: شکریہ و ’معذرت‘اپنے گناہوں کی معافی اور اللہ تعالیٰ کے احسانات پر شکرگزاری



