ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۱۱)(قسط ۱۳۶)
بربرس ولگرس Berberis vulgaris
(Bar berry)
بر برس کے دردوں کی خاص علامت یہ ہے کہ یہ ایک مقام سے سائیکل کے پہیہ کے تاروں کی طرح چاروں طرف پھیلتے ہیں۔ گردے کے درد کی بھی یہی عادت ہے کہ نیچے مثانہ کی طرف بھی ٹیسیں چلتی ہیں اور اوپر کمر اور جگر کی طرف بھی۔ درد کی جو لہریں نیچے اترتی ہیں وہ مردوں کے خصیوں کی طرف جانے والے اعصابی ریشوں کے راستے خصیوں میں بھی محسوس ہوتی ہیں۔ (صفحہ۱۵۰)
تشنج کے دوران بربرس کے مریض کی بے اختیار چیخیں نکل جاتی ہیں۔ بربرس کے نقرس کے درد حرکت کرنے سے بڑھتے ہیں۔ مریض زمین پر آہستہ آہستہ پاؤں رکھتا ہےاور اس کی تکلیف دور ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ (صفحہ۱۵۱)
بربرس میں حرکت کرنے اور کھڑے ہونے سے ٹانگوں میں درد کے ساتھ پیشاب کی تکلیف بھی بڑھ جاتی ہے۔ (صفحہ۱۵۲)
بسمتھم Bismuthum
بسمتھ انجائنا میں بھی مفید دوا ہے۔ اس میں عموماً سینے کی ہڈی کی بجائے بائیں طرف دل سے درد اٹھتا ہے اور کندھے سے ہو کر انگلیوں کے کناروں تک جاتا ہے۔ بسا اوقات یہ درد انجائنا کے علاوہ معدے میں السر یا سوزش کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بسمتھ دوا ہو سکتی ہے۔ (صفحہ۱۵۳-۱۵۴)
بوریکس Borax
(پھول کیا ہواسہاگہ)
بوریکس کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ نیچے کی طرف حرکت کرتے ہوئےخوف محسوس ہوتا ہے۔ اگر بچے کو کھٹولے میں اتارا جائے تو وہ گھبراہٹ محسوس کرتا ہےاور خوفزدہ ہوکر چیختا ہے۔ یہ علامت صرف بچوں میں ہی نہیں بڑوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ لفٹ سے نیچے اترتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی ہے یا کار اونچائی سے نیچے ڈھلان پر آرہی ہو تو دل بیٹھنے لگتا ہے۔ آوازوں سے زود حسی پائی جاتی ہے۔ مریض کسی اچانک شور یا دھماکے کی آواز سے گھبرا جاتا ہے۔ (صفحہ۱۵۶)
بوریکس کے تمام اخراجات میں گرمی پائی جاتی ہے۔ آنکھ سے بھی گرم پانی نکلتا ہےلیکن اس میں جلن نہیں ہوتی بلکہ نزلاتی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔ (صفحہ۱۵۶)
مرگی میں بھی بوریکس کو مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تکلیفیں گرمیوں میں بڑھ جاتی ہیں۔ (صفحہ۱۵۶)
بووسٹا Bovista
بووسٹا کو عام انگریزی میں Puff-ballبھی کہتے ہیں اور یہ روایتاً بچوں کے ایگزیما میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ ایسے مریض جنہیں ایگزیما ہو اور خون بہنے کا رجحان ہو وہ کچھ ہکلاتے بھی ہوں تو ان کے لیے یہ ایک بہت اعلیٰ دوا بتائی جاتی ہے۔ (صفحہ۱۵۷)
بووسٹا میں تنگ کپڑوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ کوئی چیز بھی کسی ہوئی ہو تو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ علامت لیکیسس میں بھی ہے۔ (صفحہ۱۵۷)
برومیم Bromium
برو میم میں ڈفتھیریا کی بجائے گلے کی دوسری بیماریاں عام ملتی ہیں۔ غدود سوج کر سخت ہو جاتے ہیں اور گٹھلیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں، گل کر اور پیپ بن کر ختم نہیں ہو تیں۔ اس دوا کا غدودوں کی ہر قسم کی سوزش سے گہرا تعلق ہے لیکن عام ہومیو پیتھ اس سے پورا استفادہ نہیں کرتے۔ تھائیرائیڈ (Thyroid) کی ہر قسم کی خرابی میں بہت کار آمد ہے۔ اگر دوسری دوائیں علامات ملنے کے باوجود کام نہ کریں اور غدود بہت سخت ہو جائیں اور رفتہ رفتہ بڑھیں تو ایسی صورت میں برومیم کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ سخت جمی ہوئی گٹھلیوں کو بھی آہستہ آہستہ گھلانے لگ جاتی ہے مگر اسے تدریجاً لمبے عرصہ پر پھیلا کر دینا چاہیے۔ ۳۰ طاقت سے شروع کریں پھر ۲۰۰ دیں، پھر کچھ دیر ٹھہر کر ۱۰۰۰ اور پھر اس سے اونچی طاقت میں دے کر دوائی دینی بند کر دیں۔ (صفحہ۱۵۹)
اس میں تشنج بھی ہوتا ہے اور یہ سانس گھٹنے میں بھی مفید ہے۔ اس کے مریضوں کو سمندر کے کنارے جاکر آرام محسوس ہوتا ہےاور سمندر سے دور خشک علاقوں میں بیماری بڑھ جاتی ہے۔ (صفحہ۱۶۰)
برائیونیا ایلبا Bryonia alba
بعض لوگوں کو ایسی بیماریاں لگ جاتی ہیں جن کے نتیجہ میں ان میں چلنے پھرنے کی سکت نہیں رہتی۔ ان میں عام کمزوری نہیں ہوتی لیکن کچھ عرصہ چلنے سے جسم بھاری محسوس ہوتا ہے اور بھاری پن گہرے درد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ٹانگیں بے جان ہو جاتی ہیں۔ ایسے مریضوں میں برائیو نیا بہت مفید ہے لیکن اسے مستقل دینا پڑ تا ہے۔ لمبی سیر پر جانے سے پہلے یا سخت کھیلوں کے آغاز پر ہی برائیو نیا ۲۰۰ آرنیکا کے ساتھ ملا کر استعمال کی جائے تو بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ (صفحہ۱۶۲)
بعض اوقات عورتوں میں بچے کی پیدائش کے بعد ٹانگ سوج جاتی ہے اسے White Leg کہتے ہیں۔ غالباً خون جمنے کے نتیجہ میں خون کا Clot بن کر خون کا دوران رک جاتا ہے۔ بعض خواتین کا یہ مرض پرانا ہو جائے اور وہ معذور ہو جائیں اور کوئی علاج نہ ہو سکے اور ٹانگوں پر نیلے اور کالے دھبے بننے لگ جائیں اور ویری کو ز ویننر کی علامتیں ظاہر ہو جائیں تو بیماری کے اس درجہ تک پہنچنے کے بعد آرنیکا اور برائی اونیا ملا کر دینا بھی کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہاں ان کے علاوہ ایسکولس۳۰ میں دی جائے تو بہتر نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر یہی تکلیف بائیں طرف ہو تو آرنیکا ۲۰۰ طاقت کو لیکیسس ۲۰۰ طاقت سے ملا کر دیا جائے اور ساتھ ہی ایسکولس۳۰ بھی۔ (صفحہ۱۶۲)
ہرحرکت سے درد اور بیمار حصہ کی تکلیف کا بڑھنا برائیونیا کا خاصہ ہے۔ اس کی رسٹاکس سے بھی کچھ مشابہت ہے۔ رسٹاکس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آرام کرنے سے درد بڑھتا ہےاور حرکت کرنے سے کم ہوجاتا ہے۔ یہ بات بعینہٖ درست نہیں۔ رسٹاکس کا مریض جب چلتا ہےتو گو شروع میں اس کا درد بڑھتا ہےاور کچھ چلنے کے بعد آرام محسوس ہوتا ہےمگر اس دوران درد کلیتاً رفع نہیں ہوتا بلکہ کھڑے ہونے پر یا آرام کرنے پر پہلے سے بڑھ کر تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ برائیونیا کا مریض دو چار دن مسلسل آرام کرے تو اسے افاقہ ہوجاتا ہےلیکن رسٹاکس کا مریض آرام کرے تو درد اور بڑھتا چلا جائے گا ۔ اکثر وہ تکلیفیں جو سردی کے موسم میں ختم ہونے کے بعد گرمیوں کے آغاز میں شروع ہوتی ہیں ان میں برائیونیا بہت کام آتی ہے۔ اس تبدیل ہوتے ہوئے موسم میں عموماً نمونیا بہت کثرت سے ہوتا ہےکیونکہ جب اچانک گرمی آتی ہےتو جسم کا بیرونی حصہ تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن جسم کا اندرونی حصہ ابھی اس تبدیلی کا عادی نہیں ہوتا اس لیے یکدم گرم کپڑے اتاردینے سے کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں جو براہ راست گرمی سے نہیں بلکہ گرمی میں ٹھنڈ لگنے سے بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے موسم کے نمونیا کے لیے برائیونیا بہترین دوا ہے۔ برائیونیا کی علامت والا نمونیا اکثر دائیں پھیپھڑےمیں ہی رہتا ہے۔ دائیں سے بائیں حرکت نہیں کرتا۔ لائیکوپوڈیم کا نمونیا دائیں سے شروع ہوکر بائیں پھیپھڑے کو بھی متاثر کرتا ہےاور وہاں ٹھہر جاتا ہے۔ برائیونیا میں تکلیفیں اوپر سے نیچے کی طرف بھی حرکت کرتی ہیں اور رفتہ رفتہ پھیپھڑوں کے نچلے حصہ میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ وہاں جاکر مقام بنا لیتی ہیں۔ برائیونیا چونکہ مزمن بیماریوں کی دوا نہیں اس لیے بیماری کی اس حالت میں اور دوائیں دینی پڑتی ہیں۔ کالی کارب ان میں سے ایک نمایاں دوا ہےجو پھیپھڑوں کے نچلے حصہ سے تعلق رکھتی ہے۔ آرسینک آئیوڈائیڈ اور کالی آئیوڈائیڈ بھی مفید ہیں۔ (صفحہ۱۶۳-۱۶۴)
برائیونیا کے مریض جوڑوں کے دردوں میں گرمی سے آرام محسوس کرتے ہیں۔ کھانسی عموماً حرکت اور شور کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہےاور بیلا ڈونا کی علامتیں دکھائی دیتی ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ برائیونیا میں بیلا ڈونا کا اچانک پن نہیں ہے۔ برائیونیا میں آہستہ آہستہ تکلیفیں بڑھتی ہیں اور آخراتنی شدت اختیار کر لیتی ہیں کہ ہر قسم کی حرکت، آواز اور شور سے تکلیف ہونے لگتی ہےاور پھر ایسا مریض تیمارداری کے لیے آنے والوں کو بھی ناپسند کرتا ہےاور چڑنے لگتا ہے۔ اس غصہ اور چڑچڑاہٹ کی وجہ یہ ہےکہ مریض کو ہر حرکت سے تکلیف ہوتی ہے۔ منہ کی حرکت سے بھی اسے تکلیف ہوتی ہےاور وہ بولنا نہیں چاہتا اور وہ کمزوری بھی محسوس کرتا ہے۔ اگر ایسے مریض کو نمونیا ہو یا سر میں درد ہو تو اسے ہر گز بلانا نہیں چاہیے۔ وہ ایک غنودگی کی کیفیت میں رہتا ہے۔ اگر مرض لمبا ہوجائے تومستقل بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ لیکن حرکت کرنا اور بولنا بالکل فائدہ نہیں دیتے۔ (صفحہ۱۶۵-۱۶۶)
پیاس کی شدت بھی برائیونیا کی نمایاں علامت ہے،مریض بہت ٹھنڈا پانی پسند کرتا ہے۔ پانی پی کر اسے سکون ملتا ہےلیکن تھوڑی دیر میں ہی دوبارہ پیاس بھڑک اٹھتی ہے۔ بہت زیادہ پانی کی پیاس برائیونیا کی یاد دلاتی ہے۔ لیکن برائیونیا میں بعض صورتوں میں پیاس بالکل غائب بھی ہوجاتی ہے۔ معدہ میں سوزش ہوتی ہے۔ منہ خشک ہوجاتا ہے اور زبان لکڑی کی طرح اکڑجاتی ہے مگر پیاس بالکل نہیں ہوتی۔ اس وقت زبان پر زردی مائل تہ جمنے لگتی ہے۔ یہ اولًا جلسیمیم کی خاص علامت ہےجو شاذ کے طور پر برائیونیا میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ کینٹ نےبھی یہی لکھا ہےکہ برائیونیا میں بعض اوقات پیاس بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ (صفحہ۱۶۶)
برائیونیا کے مریض کے اخراجات رک جائیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن پسینہ آئے تو یہ مریض کے لیے باعث رحمت ہے۔ (صفحہ۱۶۸-۱۶۹)
برائیونیا کی غدودوں کی بیماریاں آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہیں اور پھر بڑھتے بڑھتے مستقل ہو جاتی ہیں۔ اس پہلو سے یہ کاسٹیکم (Causticum) سے مشابہ ہے۔ کاسٹیکم میں بھی بیماریاں بڑھنے کی رفتار آہستہ ہوتی ہے لیکن مسلسل بڑھتی چلی جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ ریشوں اور غدودوں میں تبدیلیاں واقع ہونے لگتی ہیں اور گلینڈز میں مادے بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر غدود مستقل طور پر متورم ہو کر ان کی ہیئت میں تبدیلیاں پیدا ہو جائیں تو برائیو نیابھی دوا ہو سکتی ہے۔ برائیو نیا کو آرنیکا کے حوالے سے بھی یاد رکھنا چاہیے۔ غدودوں کی بیماریوں میں برائیونیا کی مشابہت فائٹولا کا سے بھی ہے۔ دونوں میں غدود پھول جاتے ہیں۔ اگر برائیونیا اثر نہ دکھائے تو اس کے بعد فائٹولا کا دینا چاہیے۔ کالی میور، سلیشیا، فیرم فاس، کلکیریا فاس، کلکیریا فلور وغیرہ ملا کر بار بار دی جائیں تو یہ بھی غدودوں کی پرانی بیماریوں کے لیے مؤثر نسخہ ہے۔ گلے کی خرابی سے جو تعفنی بخار ہوتے ہیں وہ نہایت ضدی اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انفیکشن گلینڈ ز کے ایسے حصوں میں اپنی جگہ بناتی ہے جہاں خون کا دوران پورا نہیں ہو تا اس لیے جسم کے دفاعی مادے بھی وہاں زیادہ اثر نہیں دکھا سکتے۔ اگر بیماری شروع ہونے کے بعد دو تین دن کے اندر مندرجہ بالا دوائیں فائدہ نہ دیں تو لازم ہے کہ زیادہ اثر کرنے والی بالمثل دوا تلاش کی جائے۔ (صفحہ۱۷۰)
نکس وامیکا کی طرح اگر برائیونیا بھی ضرورت سے زیادہ استعمال کی جائے تو سردرد شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں کا تریاق جلسیمیم ہے۔ برائیونیا میں بیماری کا ادلنا بدلنا دو طرح سے ہوتا ہےایک یہ کہ اخراجات یا پسینہ وغیرہ کے رکنے سے تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ علاج کریں تو اخراجات دوبارہ شروع ہوجاتے ہیں۔ اندرونی جھلیاں بھیگ جاتی ہیں اور جلد سے پانی کا عام اخراج شروع ہوجاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر عورتوں کا ماہانہ نظام بند ہوجائے تو ناک سے خون جاری ہوجاتا ہے۔ اگر ایسی صورت میں برائیونیا دیں تو بہت جلد افاقہ ہوتا ہے۔ (صفحہ۱۷۱)
برائیونیا میں مرض آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں لیکن یہ مراد نہیں ہےکہ کئی دن کے بعد بیماری ظاہر ہوتی ہے۔ اگر برائیونیا کے مریض کو صبح سردی لگی ہو تو شام کو اس کے اثرات ظاہر ہوجائیں گے۔ اور اگلے روزصبح تک مرض پوری شدت سے حملہ کرچکا ہوتا ہے۔ جوڑوں کے درد اور اعصابی تکلیفیں بڑھتی اور مزمن شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ جو امراض فوری نوعیت کے ہوں ان میں بھی برائیونیا کا یہی مزاج ہے۔ برائیونیا کی بیماریاں عموماً نو بجے شام کو زیادہ ہوجاتی ہیں اور ساری رات رہتی ہیں۔ کیمومیلا اور نیٹرم میور میں صبح نو بجے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔ ان اوقات کی پابندی کی کوئی ٹھوس اطمینان بخش وجہ معلوم نہیں ہوسکی مگر قدرت نے دواؤں کو ایسا ہی بنا دیاہے۔ (صفحہ۱۷۱-۱۷۲)
برا ئیونیا کی طرح چیلی ڈونیم (Chelidonium) دائیں طرف کی دوا ہے۔ جگر کی خرابی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اس کے ہر اخراج میں زرد رنگ نمایاں ہو تا ہے۔ بلغم بھی زرد ہوتی ہے۔ چیلی ڈو نیم میں جگر کی دردیں پیچھے کمر کی طرف نکلتی ہیں جیسے پتے کی دردیں پیچھے کمر کو جاتی ہیں اور حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے۔ اگر حاملہ عورت بہت تھک جائے یا لو لگنے سے حمل کے ساقط ہونے کا خطرہ لاحق ہو جائے تو برائیو نیا دینی چاہیے لیکن آرنیکا ۲۰۰ ساتھ ملا لی جائے تو تھکاوٹ کے بداثرات کی بھی روک تھام ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی چوٹ لگ گئی ہو تو برائیو نیا آرنیکا کے ساتھ ملا کر اسقاط کا خطرہ ٹالنے میں بہت مفید ہے مگر فورا ًدینی چاہیے اور ساتھ ایکو نائیٹ بھی ملا لینی چاہیے۔ (صفحہ۱۷۲)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔ قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔ )
مزید پڑھیں: ہومیوپیتھک دواؤں کے ممکنہ نقصانات




