لجنہ اماء اللہ گیمبیا کے بیسویں نیشنل اجتماع ۲۰۲۵ء کا کامیاب انعقاد
محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ گیمبیا کو اپنا بیسواں نیشنل اجتماع ’’مالی قربانی جنت کا راستہ‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۱۹تا ۲۱؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ملک کے دارالحکومت بانجل/کومبو میں موجود جماعتی نصرت سینئر سیکنڈری سکول میںمنعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ

جمعہ کی صبح ممبرات لجنہ اماءاللہ و ناصرات اجتماع گاہ پہنچنا شروع ہوگئی تھیں۔ اجتماع کا باقاعدہ آغاز جمعہ کے روز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے براہ راست خطبہ جمعہ سے ہوا جو کہ شرکاء نے ہال میں سنا۔ اس کے بعد نماز جمعہ وعصر جمع کرکے ادا کی گئیں۔
اجتماع کے پہلے اجلاس کی صدارت نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ گیمبیا مکرمہ مریم جاٹا صاحبہ نے کی۔ آپ نے پرچم کشائی کی تقریب کی قیادت کی اور دعا کروائی۔ چار بجے سہ پہراجلاس تلاوت قرآن کریم، عہد اور نظم سے شروع ہوا۔ صدر صاحبہ نے شاملین کو خوش آمدید کہا اور جماعتی پروگراموں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

نماز مغرب وعشاء کے بعد ایک جماعتی ڈاکومنٹری دکھائی گئی جس کو شاملین نے بہت پسند کیا۔
ہفتہ کے روز دن کا آغازباجماعت نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر و درس القرآن کے بعد کچھ وقت آرام اور ناشتہ کے لیے دیا گیا اور پھر اجتماع کے دوسرے دن کی کارروائی شروع ہوئی۔ دوسرے دن کے اجلاس کی صدارت مکرمہ فائزہ ربانی صاحبہ نائب صدر لجنہ سوم نے کی۔ تلاوت قرآن کریم، عہدناصرات و نظم کے بعد مالی قربانی کی اہمیت پر تقریر ہوئی۔ اس اجلاس کے بعد ظہر تک علمی مقابلہ جات ہوئے۔ نمازظہر و عصر کے بعد ورزشی مقابلہ جات ہوئے جو مغرب تک جاری رہے۔ نماز مغرب و عشاء کے بعد درس حدیث ہوا جس کے بعد ایک ویڈیو ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔
اتوار کی صبح حسب معمول نماز تہجد، نماز فجر و درس القرآن سے دن کا آغاز ہوا۔ اختتامی اجلاس کی صدارت مکرمہ صدر صاحبہ نے کی۔ تلاوت قرآن کریم و نظم کے بعد صدر صاحبہ نے اجتماع کی مختصر رپورٹ پیش کی۔ پھر اعزاز پانے والی ممبرات لجنہ اماءاللہ و ناصرات میں انعامات تقسیم کيے گئے۔ آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اجتماع کے موقع پر آمدہ پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔
اجتماعی دعا کے ساتھ اجتماع کا اختتام ہوا جس کے بعد شاملین نے اپنے علاقوں کی طرف واپسی کی تیاری شروع کی۔
(رپورٹ:مسعود احمد طاہر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے لجنہ اماءاللہ گیمبیا کے نیشنل اجتماع ۲۰۲۵ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم
محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ گیمبیا،
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے آپ کا خط موصول ہوا ہے جس میں آپ کے سالانہ نیشنل اجتماع کے لیے پیغام کی درخواست کی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے کہ اس نے آپ کو اس روحانی مقصد کے لیے دوبارہ جمع ہونے کی توفیق بخشی۔ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو ہر لحاظ سے بابرکت بنائے اور تمام شاملین کو ان پروگراموں سے، جو ان کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں، مکمل طور پر فائدہ اٹھانےکی توفیق عطا کرے۔ آمین
ان اجتماعات کا مقصد صرف سماجی میل جول نہیں ہے۔ بلکہ ان کا بنیادی مقصد اپنے ایمان کو دوبارہ زندہ کرنا اور اپنے اندر خالص تبدیلی لانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس حوالے سے میں خاص طور پر آپ کو دینی علم حاصل کرنے اور آپ کی اگلی نسل کی تربیت کی اہمیت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواتین کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری کو خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے:
’’اصل ذمہ داری عورتوں پر بچوں کی تعلیم و تربیت کی ہے اور یہ ذمہ واری جہاد کی ذمہ واری سے کچھ کم نہیں۔اگر بچوں کی تربیت اچھی ہو تو قوم کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور قوم ترقی کرتی ہے اگر ان کی تربیت اچھی نہ ہو تو قوم ضرور ایک نہ ایک دن تباہ ہو جاتی ہے۔ پس کسی قوم کی ترقی اور تباہی کا دار و مدار اس قوم کی عورتوں پر ہی ہے۔‘‘ (تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۷-۲۱۸)
ان الفاظ کی روشنی میں ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں دنیا تیزی سے خدا سے دور ہو رہی ہے اور مادیت پسندی اور بے اخلاقی کی قوتیں غالب ہیں۔ ایسے ماحول میں آپ کے ایمان اور آپ کے بچوں کے ایمان کی حفاظت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ تحفظ صرف اسی صورت میں یقینی ہو سکتا ہے جب آپ خود کو دینی علم کے ہتھیار سے مزین کریں۔ آپ کو قرآن کریم کی تلاوت کو اپنی زندگی کا روزمرہ حصہ بنانا چاہیے، نہ صرف اس کے الفاظ پڑھ کر بلکہ اس کے گہرے معانی اور احکام کو سمجھ کر۔ قرآن کریم تمام راہنمائی کا سر چشمہ اور حقیقی نجات کی کنجی ہے۔ جب آپ قرآن کریم کے علم سے اپنے ذہن کو روشن کریں گے تو آپ فطری طور پر راستبازی کی طرف مائل ہوجائیں گے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر فرمایا:
’’یہ تربیت کا کام معمولی نہیں۔ تمہیں خود علم ہوگا تو دوسروں کو علم سکھاؤ گی اس لئے تم پہلے خود تعلیم حاصل کرو تا اپنی اولادوں کی صحیح معنوں میں تربیت کر سکو تم لوگوں کا فرض ہے کہ جس قد ر جلدی ہو سکے اپنی تعلیم و تربیت کا خیال کرو۔ اگر اپنی تعلیم کی طرف توجہ نہ کروگی تو قوم درست نہیں ہوگی۔ اور یقیناً سلسلہ کی جو خدمت تمہارے ذریعہ ہو سکتی ہے اور جو معمولی خدمت نہیں وہ تم سے بالکل نہیں ہو سکے گی۔ یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ اسلام اور سلسلہ کی جو خدمت تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کر کے کر سکتی ہو وہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ تم کوشش کر کے ان کی بچپن سے ہی اس رنگ میں تربیت کرو تا ان کی جانیں سلسلہ کی خدمت کیلئے تیار ہوں۔‘‘ (تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحہ ۲۲۱)
لہٰذا آپ کی ذمہ داریاں صرف آپ کی ذات تک محدود نہیں ہیں۔ آپ آئندہ نسل کی نگہبان ہیں۔ آپ کے بچوں کی تربیت ایک امانت ہے جو اللہ نے آپ کے ہاتھوں میں رکھی ہے۔ اس امانت کا حق ادا کرنے کے لیے صرف زبانی نصیحت کافی نہیں ہے۔ بچے اپنے بڑوں کے الفاظ سننے سے زیادہ، ان کے اعمال کو دیکھتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے باقاعدگی سے نمازیں ادا کریں، تو آپ کو سب سے پہلے اپنی زندگی میں عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہوں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ جماعت اور خلافت سے جڑے رہیں، تو پہلے آپ کو خود خلافت کے ساتھ وفاداری اور خلوص کا ایک اٹوٹ تعلق دکھانا ہوگا۔
لہٰذا اپنے گھروں میں ایک مذہبی ماحول بنائیں۔ محبت، امن، ہمدردی اور اللہ کی یاد کا ماحول بنائیں۔ اپنے گھر والوں کو سوشل میڈیا اور اس دنیا کی فضول باتوں کے نقصان دہ اثرات سے بچائیں اور ان کی جگہ دینی علم کی روشنی اور فیملی تعلقات میں محبت و شفقت کو رواج دیں۔ اگر آپ اپنے بچوں کو ان اصولوں پر تربیت دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ نہ صرف ان کے مستقبل کو محفوظ کریں گے بلکہ جماعت کے مستقبل کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی حکمت اور توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کرے کہ آپ اس اجتماع سے اس پختہ عزم کے ساتھ لوٹیں کہ آپ اپنے دینی علم میں اضافہ کریں گی اور اپنے بچوں کی اسلام کے سچے خدام کے طور پر پرورش کریں گی۔ اللہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہو۔ آمین



