متفرق مضامین

نماز تہجد قرب الٰہی پانےکاحسین طریق

(ناصرہ حفیظ ۔کینیڈا)

انسان کی روحانی زندگی میں اگر کوئی عبادت سب سے زیادہ گہرائی، سب سے زیادہ تاثیر اور سب سے زیادہ قرب الٰہی بخشنے والی ہے تو وہ نماز تہجد ہے۔ یہ وہ مقدس لمحے ہیں جب ساری دنیا خواب غفلت میں ڈوبی ہوتی ہے۔ ہر طرف سکوت کا عالم ہوتا ہے، فضاؤں میں نورانی نور بکھرا ہوتا ہے اور رحمت خداوندی اپنے بندوں کی طرف جھک آتی ہے۔ یہی وہ گھڑیاں ہیں جنہیں قرآن کریم نے قرب الٰہی کا وقت کہا۔ احادیث میں اسےمناجات العابدین قرار دیا اور اولیاء اللہ نےدرمعشوق تک رسائی کا سب سے مختصر راستہ بتایا۔ تہجد وہ عبادت ہے جس میں دل پوری طرح کُھلتا ہے۔ روح پر انوار و برکات برستے ہیں اور بندہ اپنے رب کے حضور ایسا جھکتا ہے جیسے عاشق اپنے معشوق کے سامنے ٹوٹ کر بچھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عشق الٰہیکے متلاشی ارباب سلوک نے ہمیشہ تہجد کو اپنی روحانی زندگی کی بنیاد بنایا۔
ارشاد ربانی ہے:وَمِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا( بنی اسرائیل: ۸۰ )
اور رات کے ایک حصہ میں بھی اس قرآن کے ساتھ تہجد پڑھا کر۔ یہ تیرے لیے نفل کے طور پر ہوگا قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر فائز کر دے۔
تہجد دراصل نماز سے زیادہ ایک روحانی کیفیت کا نام ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو انسان کو اس کی حقیقت کے آئینے میں کھڑی کر دیتی ہے۔ اس کے باطن سے پردے ہٹا دیتی ہے اور اسے اس نور سے آشنا کرتی ہے جسے دنیا والے نہیں دیکھ سکتے۔ رات کی تنہائی میں اٹھ کر اپنے رب سے سرگوشی کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان کا دل نرم ہوتا ہے۔ آنکھیں نم ہوتی ہیں۔ دل کی دھڑکنیں عبادت بن جاتی ہیں اور وجود کا ہر ذرہ سجدے میں ڈھل جاتا ہے۔ تہجد وہ وقت ہے جب انسان اپنے رب کے قریب ترین ہوتا ہے۔ جب قبولیت کے دروازے بے حد کشادہ ہو جاتے ہیں اور جب دعائیں سیدھی عرش کے دربار تک پہنچتی ہیں۔ آقائے دو جہاں فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہمارا رب ہر رات قریبی آسمان تک نزول فرماتا ہے۔ جب رات کا تیسرا حصہ رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کو جواب دوں گا۔ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اس کو دوں۔ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں۔ (صحیح بخاری کتاب الدعوات حدیث نمبر ۶۳۲۱ )یہ وہ ندا ہے جو عاشقان الٰہی کو جگاتی ہے۔ جو محسنوں کے دلوں میں ہلچل مچاتی ہے اور جو اللہ کے سچے بندوں کو بستر سے اٹھا کر اپنے رب کے حضور لے آتی ہے۔ جو شخص تہجد پڑھتا ہے وہ اللہ کے حضور صرف سجدہ ہی نہیں کرتا بلکہ اپنا دل بھی رکھ دیتا ہے۔ جب انسان بستر کی نرمی چھوڑ کر سرد راتوں میں اٹھتا ہے۔ جب نیند کی خواہش کو قربان کر دیتا ہے۔ جب دنیا کے آرام کو چھوڑ کر خدا کے در پرآ جاتا ہےتو یہی قربانی عشق بن جاتی ہے۔ تہجد کا وقت وہ مقدس ترین گھڑی ہے جب دعائیں مقبولیت کا لباس پہن لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام روحانی انکشافات، تمام قبولیتیں اور تمام فیوض اسی وقت میں نازل ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز تہجد کے بارے میں فرماتے ہیں:
” ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔ جو زیادہ نہیں وہ دو رکعت ہی پڑھ لے۔ کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہرحال مل جائے گا۔ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔“( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۱۸۲، ایڈیشن ۱۹۸۸ء ) تہجد پڑھنے والا انسان ہمیشہ ایک نورانی شخصیت کا مالک بن جاتا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک روحانی چمک آجاتی ہے۔ اس کے دل میں نرمی اور آنکھوں میں حیا پیدا ہوتی ہے۔ وہ گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ تہجد دراصل تزکیہ نفس کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ دل کے زنگ کو دھو دیتی ہے۔ ایمان کی شمع کو روشن کرتی ہے اور روح کو تازگی عطا کرتی ہے۔ تہجد گزار کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اس کا بہترین دوست ہے۔ اس کا ہمدرد ہے۔ اس کا رازدار ہے۔ اس لیے وہ دنیا سے نہیں ڈرتا۔ نہ مایوس ہوتا ہے۔ اور نہ ہی بے چین۔
جو شخص تہجد پڑھتا ہے اس کا دل نرم ہو جاتا ہے تہجد کے آنسو سختی کو دھو دیتے ہیں۔ انسان دوسروں سے محبت کرنے والا، رحم دل اور بردبار بن جاتا ہے۔ ایسے شخص میں نوری بصیرت پیدا ہونے کے ساتھ روحانی معارف کھلتے ہیں۔ اس کے دل میں سچائی کے نور روشن ہوتے ہیں۔ اور وہ معاملات زندگی میں اللہ کی تائید محسوس کرتا ہے۔
بالآخر جب انسان تہجد کے سجدوں میں ڈھل جاتا ہے۔ تو اس کے وجود کے درو دیوار پرعشق الٰہی کا دروازہ پوری شان سے کھل جاتا ہے۔ تہجد وہ بحرِ بیکراں ہے جس کی موجیں بندے کے دل کے ساحل سے ٹکراتی ہیں۔ اور اس کو پاکیزگی،لطافت اور اللہ کی محبت کی خوشبو سے مہکا دیتی ہیں۔ یہ عبادت انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں دنیا کے غم چھوٹ جاتے ہیں۔ دل کی بندش کھل جاتی ہے اور بندہ اپنے ربّ کے قرب کی چاشنی سے سرشار ہوتا ہے۔
تہجد محض عبادت نہیں۔ یہ عاشق و محبوب کا ایسا خفیہ رابطہ ہے۔ جو انسان کو مٹی سے اٹھا کر نور میں بدل دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی سچی محبت تک جانے کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ تہجد کا راستہ ہے۔ وہی راستہ جو دل کو زندہ کرتا ہے۔ روح کو جگا دیتا ہے۔ انسان کو اپنے رب کے ابدی قرب میں داخل کر دیتا ہے۔آخرشب آنسواللہ کا قرب ہیں۔ انسان کا اللہ سے قریب ترین رشتہ آنسوؤں کا ہے۔ اگر سجدہ بھی ہو اور آنسو بھی ہوں۔ تو یہ بہت پیارا تقرب ہوگا اور یہ بہت بلند مقام ہے۔ خدا تعالیٰ ہمیں رنگ عبودیت سکھاتے ہوئے اپنا قرب عطا کرے۔ تا ہماری زندگیاں خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار گزریں۔ آمین۔

مزید پڑھیں: تہجد کی نماز کا طریق

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button