متفرق مضامین

جدید زمانہ کی برائیاں اور ان سے محفوظ رہنے کے طریقے(حصہ اول)

آسماں پر دعوت حق کے لئے اک جوش ہے

ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار

اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے انسان کو ایسا دماغ عطا کیا ہے جو ہر چیز کو نہ صرف زیر نگیں کر لیتا ہے بلکہ اس سے بہترین فائدہ اٹھاتا ہے۔ہر نیا دن انسانی دماغ کی اس صلاحیت سے نئی نئی ایجادات سامنے لا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مادی ترقی انسان کا مقصد حیات ہے؟

دنیا پر بہت سے انقلابات آئے، کبھی دنیا برفانی دور سے پتھر کے دور میں داخل ہوئی تو کہیں پتھر کے دور سے دھاتوں کے دور میں۔ لیکن دنیا پر ایک ایسا زمانہ آنے والا تھا جس کی ترقیات حیرت انگیز ہونی تھیں۔ یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس کی آمد کا ذکر قرآن مجید میں خاص طور پر کیا گیا تھا۔ اس زمانےکی بہت سی نشانیوں میں سے ایک یہ تھی کہ وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ ۔یعنی دنیا بھر کے لوگوں کو آپس میں connectکر دیا جائے گا۔ آپس میں ملا دیا جائے گا اور ایک یہ خبر تھی کہ وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَتۡ ۔یعنی اس وقت خبریں، اخباریں، کتابیں آن واحد میں دنیا کے طول و عرض میں پھیل جایا کریں گی۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی ایجادات کی خبر کے ساتھ یہ خبر بھی تھی کہ وَاِذَا الۡجَحِیۡمُ سُعِّرَتۡ ۔یعنی ان ایجادات کے غلط استعمال کی وجہ سے جہنم بھڑکا دی جائے گی۔ لیکن ایک یہ خبر بھی تھی کہ وَاِذَا الۡجَنَّۃُ اُزۡلِفَتۡ ۔یعنی ان ایجادات کے مفید استعمال سے جنت کی راہ بھی بہت آسان کر دی جائے گی۔

پس جب ہم انسان کی اس مادی ترقی پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ترقی نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے وہاں ان ایجادات کے غلط استعمال نے انسان کو ایک ایسے گڑھے میں دھکیل دیا ہےجس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جو قوم یا افراد جدید سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھاتے یا انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔لیکن یہی ایجادات اگر صحیح مقاصد کے لیے استعمال نہ کی جائیں تو معاشرے کو برباد کر دیتی ہیں۔نوجوان نسل کسی بھی قوم کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔اور اسی حقیقت کو حضرت مصلح موعود ؓنے ان الفاظ میں سمویا ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آج اس گلوبل ولیج میں سب سے زیادہ مشکلات کا شکار نوجوان ہیں۔ ایک جانب تو جگہ جگہ دنیاوی آسائشوں کی چکا چوند دکھانے والے اشتہارات ہیں تو دوسری طرف عریانی اور فحاشی کا بازار ہے۔ سوشل میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے جب لالچ اور ہوس گھروں میں داخل ہوتی ہے تو انفرادی اور اجتماعی طور پر معاشرے کے لیے ناسور بن جاتی ہے، گھر ٹوٹ جاتے ہیں، بےلگام خواہشات جرم،نشے،ڈپریشن اور خودکشیوں کی طرف لے جاتی ہیں۔معاشرے کا امن اور سکون ختم ہو جاتا ہے۔آج ان مسائل سے نمٹنے کے لیے دنیا نے ہر طرح کے جتن کیے لیکن نوجوان نسل دن بدن اینٹی ڈیپریسنٹ اورنیند کی گولیوں کی محتاج ہوتی جا رہی ہے۔ آخر ایسا کیوں؟جب ہم تاریخ کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں پہلے بھی ایسے مسائل آتے رہے ہیں لیکن ان کا حل مکمل آزادی تھا اور نہ ہی مکمل پابندی بلکہ ان تمام مسائل کا حل لوگوں کا روحانی علاج تھا۔ ایسا روحانی علاج جس سے وہ نوجوان نسل پیدا ہوتی ہے جو دنیا میں انقلاب لانے کا پیش خیمہ ہوتی اور جو بت پرستوں اور شراب نوشوں کو ایسا بنا دیتی ہے کہ خود خدا عرش سے کہتا ہے کہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ۔ اس علاج کے علاوہ دنیا کی تاریخ میں کبھی کوئی ایسی Reforms نہیں ہوئیں جن کی وجہ سے قوموں نے ان مسائل سے دائمی چھٹکارا پا لیا ہو۔

اب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں اور اس مسیحا کو تلاش کرنے لگتے ہیں جس کے پاس عصر بیمار کی دوا ہو۔ وہ مسیحا جو ہمیں یہ زندگی بخش اور امید افزا پیغام دیتا ہوا نظر آتا ہے کہ

صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے

ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار

یہ وہی مسیحا اور مہدیٔ زمان ہے جس کے پُر فتن زمانے میں آنے اور اس کو پُر امن زمانے میں بدلنے کی خبر اس کے آقا و مطاع حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ نے دی تھی ۔ آئیے !دیکھتے ہیں کہ آپؑ اس زمانے کے پُرفتن حالات سے نجات کی کیا راہ بیان فرماتے ہیں ۔ آپؑ فرماتے ہیں:’’ میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اُس روشنی سے حصّہ لے گا مگر جو شخص وہم اور بد گمانی سے دُور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جا ئے گا۔ اس زمانہ کا حصنِ حصین میں ہوں جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزّاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔ مگر جو شخص میری دیواروں سے دُور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت درپیش ہے ! اور اُس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔ مجھ میں کون داخل ہوتا ہے ؟ وہی جو بدی کو چھوڑتا اور نیکی کو اختیار کرتا ہے اور کجی کو چھوڑتا اور راستی پر قدم مارتا ہے اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خدا تعالیٰ کا ایک بندہ ٔ مطیع بن جاتاہے۔ ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور مَیں اُس میں ہوں۔ مگر ایسا کرنے پر فقط وہی قادر ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نفس مزکّی کے سایہ میں ڈال دیتا ہے۔ تب وہ اُس کے نفس کی دوزخ کے اندر اپنا پَیر رکھ دیتا ہے تووہ ایسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ گویا اُس میں کبھی آگ نہیں تھی۔ تب وہ ترقی پر ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی روح اُس میں سکونت کرتی ہے اور ایک تجلّی خاص کے ساتھ رَبُّ الْعَالَمِیْن کا استویٰ اس کے دل پر ہوتا ہے تب پورانی انسانیت اس کی جل کر ایک نئی اور پاک انسانیت اُس کو عطا کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ بھی ایک نیا خدا ہو کر نئے اور خاص طور پر اُس سے تعلق پکڑتا ہے اور بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان اسی عالم میں اُس کو مل جاتا ہے۔‘‘(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۳۴-۳۵)

جب ہم اس مسیح و مہدی علیہ السلام کے دعویٰ کے بعد ان پھلوں پر غور کرتے ہیں جو اس بابرکت درخت سے پھوٹے، تو حیرت کی انتہا ہو جاتی ہےکہ اس پاک وجود نے واقعی وہ لوگ پیدا کیے جو اسی زندگی میں ہی بہشت کا نمونہ تھا۔ کئی بیمار اس کے پاس آئے اور اس کے مسیح انفاس سے شفا پا گئے ۔آپ نے دنیا کو بارہا اس جانب متوجہ کیا کہ یہ ساری نا آسودگیاں اس وجہ سے ہیں کہ انسان اپنے مطلوبہ سکون کو غلط چیزوں میں تلاش کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھول گیا ہے کہ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ (الرعد:۲۹)سنو! اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتے ہیں۔

معاشرے میں موجود دیگر برائیوں سے بچنے کے لیے بھی ایک پورا لائحہ عمل خدا کے فرستادے نے دنیا کو دیا ہے اور آج آپ کے خلیفہ ہمیں بار بار ان باتوں کی طرف بہت کھول کھول کر توجہ دلا رہے ہیں۔

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’جب نفس امّارہ برائیوں کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرے تو شیطان کی جو گردش ہے وہ خون میں اور بھی زیادہ تیزہوجاتی ہے اور آناً فاناً اپنی لپیٹ میں لے کر برائیاں کروادیتی ہے …۔ پس اس Temptation سے بچنے کیلئے، شیطان کو دبائے رکھنے کیلئے استغفارکی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر مزیدکمزوریوں میں مبتلا کرنے کیلئے حملہ نہ کردے۔ پس یہ استغفار صرف گناہ سے معافی مانگنا نہیں ہے بلکہ گنا ہ سے بچنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ … اس لئے اس سے بچنے کی کوشش کریں اور اگر کوئی غلطیاں ہوگئی ہیں تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کیلئے استغفار کریں۔ سچی توبہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا ہے ، بخشنے والا ہے، آئندہ نیکیوں کی توفیق دینے والا ہے۔‘‘(مشعل راہ جلد پنجم حصہ چہارم صفحہ۸۴)

قرآن کے حکم کے مطابق عمل کریں کہ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا کِرَامًا یعنی جب وہ لغویات کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزرتے ہیں۔ بغیر اس طرف توجہ دیے گزر جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

(غزالہ خرم ۔جرمنی)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button