نیا سال اور خلفائے احمدیت کی نصائح(حصہ دوم۔ آخری)
انسان کی تربیت کا سلسلہ تو کبھی رکنے والا نہیں ۔ بچوں کی پرورش و تربیت کے ساتھ ساتھ ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ ہم خلیفۂ وقت کے کہے ہوئے ہر لفظ پر لبیک کہتے ہوئے نئے سال کے شروع ہونے پر خوشیاں منانے اور مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ آنے والے نئے سال پر اپنی اولادوں کی تربیت پر مزید توجہ دیں ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے تربیت کے حوالے سے یکم جنوری ۱۹۹۳ء کے خطبہ جمعہ میں احبابِ جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ہر سال ہم ایک مطمح نظر اپنے سامنے رکھتے ہیں۔ اس سال مطمح نظر یہ رکھیں کہ انسان کو انسانیت کے آداب سکھائے جائیں۔…جماعتِ احمدیہ کے جتنے فکر رکھنے والے، دل رکھنے والے اور صاحبِ نظر لوگ ہیں، ان سب سے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں اور دراصل ہر احمدی عام گفت و شنید کے ذریعہ بھی اپنے اردگرد چھوٹے چھوٹے حسین جزیرے قائم کر سکتا ہے۔ (ماخوذ از خطبہ جمعہ یکم جنوری ۱۹۹۳ء خطباتِ طاہر جلد ۱۲، صفحہ ۱۸۳)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’سال کے پہلے دن انفرادی یا اجتماعی تہجد پڑھ لی یا صدقہ دے دیا یا نیکی کی کچھ اور باتیں کر لیں اور اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا حق دار بنا دیا۔ بیشک یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہو سکتی ہے لیکن تب جب اس میں استقلال بھی پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ تو مستقل نیکیاں اپنے بندے سے چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا بندہ مستقل اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو۔ نیکیاں بجالانے والا ہو۔ نمازوں اور تہجد کے ساتھ دلوں میں ایک پاک انقلاب پیدا کرنے کی ضرورت ہے تب خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ کسی قسم کی ایسی نیکی جو صرف ایک دن یا دو دن کے لئے ہو وہ نیکی نہیں ہے۔
پس ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کس قسم کے عمل اور رویّے ہمیں اپنانے ہیں یا اپنانے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنائیں۔… اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اپنی زندگیوں کو آپ علیہ السلام کی خواہش کے مطابق ڈھالنے والے ہوں اور ہمارے قدم ہر آن نیکیوں کی طرف بڑھنے والے قدم ہوں۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو ضائع کرنے والے نہ ہوں بلکہ ہمیشہ ان دعاؤں کا وارث بنیں جو آپ علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں۔ اس دعا کے ساتھ میں آپ سب کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس سال کو ہمارے لئے ذاتی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی بیشمار برکات کا باعث بنائے۔‘‘(خطبہ جمعہ یکم جنوری ۲۰۱۶ء)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے عمل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکموں کے مطابق ہوں اور ہم اور ہماری اولادیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت کی ہر بات پر عمل کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خلافت سے مضبوط تعلق رکھنے والا بنائے اور نئے سال کو ہمارے لیے بابرکت کرے۔ آمین ثم آمین
(نجم السحر صدیقی روسلزہائم جرمنی)
مزید پڑھیں: نیا سال اور خلفائے احمدیت کی نصائح(حصہ اول)




