مکتوبِ ایشیا (دسمبر ۲۰۲۵ء۔جنوری ۲۰۲۶ء)
بَرّ اعظم ایشیا کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ
غزہ امن بورڈ معاہدے پر بیس (۲۰)ممالک کے دستخط
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،پاکستان، ترکی، امریکہ اور انڈونیشیا سمیت بیس(۲۰)ممالک نے ۲۳؍جنوری ۲۰۲۶ء کو عالمی اقتصادی فورم کے ۵۶ ویں اجلاس کے موقع پر غزہ امن بورڈ معاہدے پر دستخط کر دیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں غزہ امن بورڈ میں شامل ممالک کے اجلاس میں غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم پاکستان جب اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آئے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور خاص ان کا شکریہ ادا کیا۔ امریکی صدر نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کا اس معاہدے میں اہم ترین کردار ہے۔ ہم مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے کوشاں ہیں اور ان کوششوں کی کامیابی کے لیے پُر امید ہیں۔ ان کے بقول غزہ امن بورڈ میں بہت سے ممالک شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ہم غزہ کو بہترین سیاحتی مرکز بنائیں گے۔ صدرٹرمپ نے قیام امن کے لیے اپنے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دس ماہ میں آٹھ جنگیں رکوائی ہیں جن میں دو ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بھی شامل ہے۔ یہ جنگیں رکوانے کے بعد بہت سے ممالک کے سربراہان ان کے دوست بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کی نسبت آج دنیا زیادہ امیر، محفوظ اور پُرامن ہے۔ ہم ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں تاہم ایران نے اپنا جوہری پروگرام بحال کیا تو پھر اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔ دریں اثناء آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کی باضابطہ توثیق کر دی گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آج عالمی لیڈرز امن کے لیے یکجا ہوئے ہیں اور تمام عالمی راہنماؤں کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنا ہے۔ ان کےبقول دنیا میں تنازعات کو اس معاہدے کے تناظر میں حل کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی باور کرایا کہ غزہ جنگ ختم ہونے والی ہے، حماس کو بہر صورت ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دنیا کے بیس ممالک کی جانب سے غزہ امن بورڈ کے معاہدے پر دستخط عالمی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ دہائیوں سے جنگ، خونریزی، قبضے اور انسانی المیوں کی علامت بنا ہوا ہے، غزہ امن بورڈ کا قیام عالمی برادری کی اس اجتماعی ذمہ داری کا اعتراف ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو مزید ٹالا نہیں جا سکتا۔
غزہ امن بورڈ اگر واقعی ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، تعمیرِ نو اور بالآخر ایک باوقار سیاسی حل کی طرف پیش رفت کرتا ہے تو یہ صرف فلسطینی عوام ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی۔
تاہم اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ ایجنڈے ہیں جو امن کے نام پر دراصل قبضے کو دوام دینے کے لیے تیار کیے جاتے رہے ہیں۔ نیتن یاہو کو غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا اپنا تصوّراتی منصوبہ ترک کرنا ہو گا، وہ کسی صورت قبول نہیں ہو سکتا۔ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے نکال کر یہ دیرینہ مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس سے ایک نئی، زیادہ خطرناک اور زیادہ سخت مزاحمت جنم لے سکتی ہے۔ اگر دنیا واقعی حماس یا کسی بھی مزاحمتی قوّت کو پُرامن دیکھنا چاہتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کو انصاف دینا ہو گا۔ انصاف کے بغیر کسی تنظیم کو ختم کرنا وقتی کامیابی تو ہو سکتی ہے مگر پائیدار حل ہرگز نہیں۔ صدر ٹرمپ اگر واقعی خود کو ’’عالمی امن کا چیمپئن‘‘ کہلوانا چاہتے ہیں تو انہیں اسرائیل کے ہاتھ سختی سے روکنا ہوں گے۔ غزہ میں جاری بربریت، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا قتل، ہسپتالوں اور ریلیف کیمپوں پر بمباری، کسی صورت دفاع یا سلامتی کے زمرے میں نہیں آتی۔ یہ کھلی ریاستی دہشت گردی ہے جس پر خاموشی دراصل شراکت داری کے مترادف ہے۔ امن کے دعوے اس وقت تک کھوکھلے رہیں گے جب تک جارحیت کرنے والے کے ہاتھ روکے نہیں جاتے۔
ایران دشمنی میں ٹرمپ کی پوری دنیا کے ساتھ محاذ آرائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۱۵؍جنوری کو سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر ۲۵؍فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ حکم حتمی ہے اور اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ یہ اعلان محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر محاذ آرائی کی علامت ہے۔ چین نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جنگوں اور ٹیرف پالیسیوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا بلکہ اس طرح کے اقدامات عالمی معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تجارتی تعلقات جاری رکھیں گے۔ روس نے بھی ایران کے غیر ملکی شراکت داروں کو تجارتی محصولات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی امریکی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔اُدھر صدر ٹرمپ اب بھی ایران پر حملے کے حوالے سے اپنے بیان پر قائم ہیں۔ جس کی روس کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی ہے۔خود امریکہ کے اندر بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت سینئر معاونین نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ کسی بھی حملے سے قبل سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔
امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ امریکی سفارت خانہ نے زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے ذریعے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے، جو حالات کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔اسی دوران قطر کے العدید ایئر بیس پر امریکی جنگی طیاروں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ C-135 ایئر ری فیولنگ ٹینکرز اور B-52 اسٹریٹجک بمبار سمیت متعدد امریکی طیارے پرواز کر چکے ہیں، جنہیں ممکنہ حملے کی ریہرسل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف مختلف آپشنز پیش کیے ہیں، جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر حملے، سائبر کارروائیاں اور اندرونی سیکیورٹی نظام کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملے کی دھمکی پر عمل کر سکتے ہیں، اسی لیے اسرائیلی دفاعی فورسز بھی کسی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کسی بھی غلط قدم کے اثرات فوری اور وسیع ہوں گے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ دوبارہ فوجی آپشن کی طرف جاتا ہے تو ایران تیار ہے، تاہم دھمکیوں اور ڈکٹیشن کے بغیر مذاکرات کے لیے بھی آمادگی موجود ہے۔ ان کے مطابق ایران واشنگٹن کو اس وقت سنجیدہ اور منصفانہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں دیکھ رہا۔دوسری طرف روس نے ایک بار پھر ایران پر امریکی حملے کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں مصنوعی طور پر بھڑکائے گئے احتجاج اب ماند پڑ رہے ہیں اور حالات بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہےہیں۔
اسی دوران تہران کے آزادی چوک سمیت مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں بڑے مظاہروں نے صورتحال کو بدل دیا۔ ان مظاہروں کے بعد حکومت مخالف تحریک کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایرانی حکومت کے مطابق ابتدائی احتجاج مہنگائی کے خلاف تھا، جس پر ریاست نے کیش ریلیف پیکج دیا، مگر بیرونی مداخلت نے حالات کو خراب کیا۔ عالمی سطح پر اس تمام صورتحال کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ نہ تو ایران پر حملے کے حوالے سے عالمی اتفاقِ رائے موجود ہے اور نہ ہی ٹرمپ کے حامی ممالک اس اقدام کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ خود امریکی انتظامیہ کے اندر بھی واضح تقسیم پائی جاتی ہے۔
سعودی عرب سے ۵۶؍ہزاراور دیگر ممالک سے متعدد پاکستانی ڈی پورٹ
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال بیرون ملک جانے والے ۵۱؍ہزار افراد کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ ۸۵؍لاکھ افراد بیرون ملک روانہ ہوئے۔ ۲۰۲۵ء میں سعودی عرب نے ۲۴؍ہزار پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر واپس بھیجا،سعودی عرب سے اب تک ۵۶؍ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے باعث ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ ۱۱۸؍سے بہتر ہو کر ۹۲؍پر آ گئی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندرپار پاکستانیز کے اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ۲۰۲۵ء میں سعودی عرب نے ۲۴؍ہزار، دبئی نے چھ ہزار جبکہ آذربائیجان نے اڑھائی ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے کے الزامات پرڈی پورٹ کیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعدد افراد عمرے کے نام پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے، جنہیں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا، ۲۰۲۵ء میں ۲۴؍ہزار افراد کمبوڈیا گئے جن میں سے ۱۲؍ہزار تاحال واپس نہیں آئے جبکہ برما سیاحتی ویزے پر جانے والے چار ہزار افراد میں سے اڑھائی ہزار واپس نہیں لوٹے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ مجموعی طور پر ۶۶؍ہزار مسافروں کو اپ لوڈ کیا گیا، جن میں بڑی تعداد لاہور اور کراچی ایئرپورٹس سے گئی تھی، انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ ۱۱۸؍ سے بہتر ہوکر ۹۲؍پر آ گئی،گذشتہ برسوں میں پاکستان غیرقانونی طور پر یورپ جانے والے افراد کے حوالے سے پہلے پانچ ممالک میں شامل تھا،تاہم نئی پالیسیوں کے باعث اب پاکستان اس فہرست سے نکل چکا۔
امریکہ کی ۷۵؍ممالک کے شہریوں پر امیگریشن پابندی
امریکہ نے پاکستان، افغانستان، روس اور ایران سمیت ۷۵؍ممالک کے شہریوں کو امیگریشن ویزا جاری کرنے پر پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق ۲۱؍جنوری سے ہوگیا ہے، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ اس پابندی کی وجہ سے سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزے متاثر نہیں ہوں گے۔ جن ممالک کے شہریوں پر مذکورہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں افغانستان، روس، ایران، عراق، مصر اور اردن بھی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نئے قومی سلامتی پروگرام اور امیگریشن پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے ممکنہ اثرات سے متعلق آئندہ تفصیلی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ متاثرہ افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اضافی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی طرف سے امیگریشن ویزوں کے اجرا پر پابندی اس وقت سامنے آئی جب امریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ سال امیگریشن قانون ’پبلک چارج‘ کے تحت جانچ پڑتال میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی تھی جس کا مقصد ان لوگوں کو نشانہ بنانا تھا جن کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ عوامی وسائل پر دباؤ بن جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک کے شہریوں کو امیگریشن ویزا جاری کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں بھارت اور اسرائیل شامل نہیں ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ پالیسی مخصوص سیاسی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر جاری کی گئی ہے۔ یہ بات بھی لائقِ غور ہے کہ جن ممالک کے شہریوں پر مذکورہ پابندی لگائی گئی ہے ان میں قابلِ ذکر تعداد میں مسلم ممالک شامل ہیں۔ اگر مسلم دنیا متحد ہوکر امریکہ کے ساتھ ہرقسم کی تجارت اور روابط ختم کر دے تو ڈونلڈ ٹرمپ کی اس طرح کی پالیسیاں خاک میں مل سکتی ہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکتوب شمالی امریکہ (جنوری ۲۰۲۶ء)




