مجلس انصاراللہ جرمنی کے زیر اہتمام یورپ کے دو ممالک لکسمبرگ اور چیک ریپبلک کے تبلیغی دورے
اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی بدولت مجلس انصاراللہ جرمنی کو پہلی بار یورپ کے دو چھوٹے ممالک چیک ریپبلک اور لکسمبرگ میں تبلیغی وفود بھیجنے کی توفیق ملی۔ الحمد للہ علی ذالک۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اجازت عطا فرمائی تھی کہ اس سال ہم ان دو ممالک میں دو مرتبہ تبلیغی سرگرمیاں سر انجام دیں گے۔ اس مبارک ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے مجلس انصاراللہ جرمنی نےستمبر، اکتوبر اور نومبر ۲۰۲۵ء میں ان ممالک میں دو بار تبلیغی وفود بھجوائے۔ حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری کے بعد مجوزہ منظور شدہ سکیم کی روشنی میں ہونے والے ان تبلیغی دوروں کے نتائج نہ صرف غیر معمولی رنگ میں سامنے آئے بلکہ مقامی عوام الناس کا رد عمل بھی انتہائی حوصلہ افزا اورمثبت رہا، اسی طرح حکومتی تعاون بھی مثالی رہا۔ الحمدللہ۔ ان ممالک میں جانے والے تمام وفود میں شریک انصار کی تعداد ۹۹تھی۔ دونوں ممالک کے سفر کے لیے ۲۳ گاڑیاں استعمال ہوئیں۔ اسی طرح ۷۰۰۰ سے زائد فلائرز تقسیم کیے گئے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی سمیت دیگر جماعتی و اسلامی کتب بھی اس لٹریچر میں شامل تھیں جو سٹالز کے ذریعے تقسیم کیا گیا۔ ان دونوں تبلیغ دوروں کی مساعی کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
پس منظر،تشکیل کمیٹی و روابط ممالک و اراکین وفود کا انتخاب اور سوشل میڈیا پر تشہیر
بیرون ممالک تبلیغی وفود بھیجنے کی تحریک جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اختتامی خطاب سننے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ اس ارشاد پر فی الفور عمل درآمد کرنے کے لیے مکرم بشیر احمد ریحان صاحب صدر مجلس انصاراللہ جرمنی نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے منتظم اعلیٰ مکرم ظفر احمد ناگی صاحب نائب صدر اوّل اور مکرم ڈاکٹر طیب شہزاد صاحب قائد تبلیغ نائب منتظم اعلیٰ تھے۔ اسی طرح مکرم طاہر احمد ظفر صاحب نائب قائد تبلیغ اورمکرم ناظم تبلیغ علاقہ بھی کمیٹی کے ممبرز شامل تھے۔ کمیٹی اراکین کی مشاورت سے ایک مجوزہ سکیم تیار کر کے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بغرض منظوری بھجوائی گئی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظوری ملنے کے بعد سکیم پر عمل درآمد شروع ہوا اور سب سے پہلے دونوں ممالک کے صدور اور نیشنل مربیان سلسلہ کی خدمت میں خطوط لکھے گئے اور مجوزہ تبلیغی وفود کی سکیم سے انہیں آگاہ کیا گیا۔اسی طرح دونوں ممالک کے مقامی سماجی و قانونی معاملات و حالات کی آگاہی و راہنمائی کے لیے ان دونوں ممالک کی قیادت اور مربیان سلسلہ سے مکرم منتظم صاحب اعلیٰ و کمیٹی اراکین کی مشاورت ہوتی رہی۔ ان میں مکرم برہان کاشف جنجوعہ صاحب مربی سلسلہ چیک ریپبلک، مکرم Khalid Larget صاحب صدر جماعت لکسمبرگ، مکرم ظفراللہ سلام صاحب مربی سلسلہ اورمکرم توصیف احمد صاحب مربی سلسلہ لکسمبرگ شامل ہیں۔ ان میٹنگز کے بعد تبلیغی دوروں کے منصوبہ کو حتمی شکل دی گئی جس میں شہروں کا انتخاب اور فلائرز کی تقسیم کے طریق کار وغیرہ کا تعین کیا گیا۔ اسی طرح مقامی زبان جاننے والے احباب کی معاونت بھی حاصل کی گئی جس کا دونوں وفود کو بہت فائدہ بھی ہوا۔ دونوں ممالک کی مقامی زبانوں میں پوسٹرز کا ترجمہ کیا گیا اور پوسٹرز تیار کروائے گئے۔ اس کام میں بھی دونوں ممالک کے مربیان کرام نے بھرپور مدد کی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا کی ٹیمیں بھی اس دوران مسلسل فعال رہیں اور فوٹو گرافرز بھی دونوں ممالک کے وفود کے ساتھ شامل تھے۔ دوران دورہ تبلیغی وفود کی مساعی سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کی جاتی رہیں۔ تمام وفود کے لیے انصار کے انتخاب کے بعد ہر گاڑی کا ایک امیر مقرر کیا گیا اور سبھی کو اپنے سازو سامان کے لیے ایک چیک لسٹ جاری کی گئی تا کہ دوران سفر کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
چیک ریپبلک: چیک ریپبلک میں تبلیغی دورے ماہ ستمبر کی ۲۰ و ۲۱ اور نومبر میں یکم اور ۲ تاریخ کو کیے گئے تھے۔ پہلا تبلیغی دورہ تین شہروں Pilzen, Karlsbad, Teplice میں کیا گیا جبکہ دوسرا دورہ دو شہروں Karlsbad, Teplice میں کیا گیا۔ ایک دن پہلے تمام اراکین وفد بیت الواحد ہناؤ میں اکھٹے ہوئے۔ تبلیغی وفد کے اراکین کا انتخاب تنظیمی نظام کے تحت تین علاقہ جات کی مجالس سے کیا گیا تھا۔ ان علاقہ جات میں بیت الجامع، بائرن اور ہیسن زوڈ اوسٹ شامل ہیں۔ ایک مرکزی گاڑی کے علاوہ دیگر گاڑیاں بھی اس تبلیغی قافلے میں شامل تھیں جن کا انتظام بھی انہی مجالس سے کیا گیا تھا۔ مکرم بشارت احمد صاحب نائب قائد تبلیغ اس قافلے کے امیر تھے۔ ایک چیک احمدی بھائی نداء الظفر صاحب جو کہ جرمنی میں مقیم ہیں دونوں دوروں میں قافلے کے ساتھ شامل تھے۔ جمعہ کی رات دعاؤں کے ساتھ یہ قافلہ بیت الواحد سے روانہ ہو کر رات آٹھ بجے ہوف میں جماعت کے سنٹر پر پہنچا۔ ہوف کی مقامی انصاراللہ نے احسن طریق سے قافلے کی رہائش اورطعام کی ذمہ داری نبھائی۔ یہاں وفد کے اراکین کو دو ٹیموں میں تقسیم کیا گیا۔ اگلے روز ہفتہ کے دن وفد طے شدہ شیڈول کے مطابق چیک ریپبلک کے لیے روانہ ہوئیں۔ دونوں ٹیموں نے تینوں شہروں میں صبح دس تک پہنچ کر مطلوبہ مقام پر اپنے بینرز اور اسٹالز لگا کردین اشاعت اور تبلیغ کا کام کیا۔ یکم نومبر کو صبح دس تا شام پانچ بجے تک تبلیغی مساعی کا کام جاری رہا۔ اس دوران بینر اور سٹال کو کثیر تعداد میں لوگوں نے دیکھا اور لٹریچر حاصل کیا۔ دوسرے دن بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔

چیک ریپبلک میں مربی صاحب نے اجازت لینے کی غرض سے ۳۱؍شہروں کو ان تبلیغی وفود کی آمد کے بارے خطوط لکھے تھے۔ ۳۰؍شہروں کی طرف سے مثبت فیڈ بیک ملا تھا۔ ہم نے دو شہروں کی اجازت حاصل کی۔ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ان خطوط کے ذریعے بھی جماعت احمدیہ کا تعارف حکومتی اداروں تک پہنچا الحمد للہ۔
لکسمبرگ: یورپی ملک لکسمبرگ کا پہلا تبلیغی دورہ دو دن کا تھا جو ۲۰ و ۲۱؍ستمبر کو کیاگیا تھا۔ پہلے تبلیغی دورہ کے تجربات کی روشنی میں دوسرا دورہ ایک دن کا کر دیا گیا تھا جو کہ ۱۸؍اکتوبر کو ہوا اور دوسرے دورے میں دونوں ٹیموں نے مشترکہ تبلیغی امور سر انجام دیے۔ پہلے دورہ میں تبلیغی وفود نےWasserbillig,Grevenmacher,Echternach and Luxemburg City میں سٹالز لگائے تھے، دوسرے دورے میں Luxemburg City کے مختلف دو علاقوں میں تبلیغی سرگرمیاں سر انجام دیں۔

اس وفد کے اراکین کا انتخاب علاقہ Rheinland Pfalzکی مجالس سے کیا گیا تھا۔یہاں کے تمام زعما مجالس نے انتہائی جانفشانی اور محنت کے ساتھ بھاگ دوڑ کرکے انصار کو وفود میں شامل کرایا۔ لکسمبرگ کے پہلے دو روزہ دورے کی روانگی کے لیے وفد کے اراکین نے Wittlich کی مسجد میں قیام کیا اور ایک دن قبل جمعہ کی رات مسجد پہنچ گئے تھے۔ مقامی انصاراللہ انتظامیہ Wittlich نے میزبانی کا حق احسن طریق سے ادا کیا اوروفد کا ہر طرح کا خیال رکھا۔اگلے دن ہفتہ کو صبح ناشتہ کے بعد دعاؤں کے ساتھ تبلیغی وفود لکسمبرگ کو روانہ ہونے کے بعد اپنے اپنے مقامات پرپہنچ کر تبلیغ شروع کردیتے تھے۔ رات کو وفود واپس مسجد Wittlich پہنچ جاتے۔ اس طرح ہفتہ اتوار کے دنوں میں تبلیغی سٹالز لگائے جاتے رہے۔ لکسمبرگ کے دوسرے ایک روزہ دورہ اکتوبر میں تبلیغ وفد نے براہ راست لکسمبرگ کا سفر کیا تھا اور دونوں ٹیموں نے ایک ہی مقام پر تبلیغی مساعی سرانجام دی تھیں۔اس دورے میں کل ۷۲ انصار نے شرکت کی۔ ۱۷ گاڑیاں استعمال ہوئیں۔ ۵۰۰۰۰ سے زائد فلائرز تقسیم ہوئے، اسلامی و سلسلہ احمدیہ کی کتب پر مبنی لٹریچر بھی مختلف چھ علاقوں میں اسٹالز کے ذریعے تقسیم کیا گیا۔ ان دورہ جات کے دوران انفرادی طور پر بھی بہت ایمان افروز واقعات دیکھنے اور سننے میں آئے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں تبلیغ دوروں کے غیر معمولی نتائج ظاہر فرمائے آمین
(رپورٹ: منور علی شاہد۔ جرمنی)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: سیرالیون میں بو فیسٹیول آف کلچر، آرٹس، سپورٹس اور ٹریڈ میں جماعت کی شرکت



