خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 23؍جنوری 2026ء
’’نجات تو دو امر پر موقوف ہے۔(۱) ایک یہ کہ یقین کامل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر ایمان لاوے۔(۲)دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیت جلّ شانہٗ کی اس کے دل میں جاگزین ہو کہ جس کے استیلااور غلبہ کا یہ نتیجہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت عین اس کی راحتِ جان ہو جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے اور اس کی محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پامال اور معدوم کر دے۔ ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
جب آپؐ کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا تو پناہ طلب کرتے
آپؐ نے فرمایا: اے محمد کی امت! خدا کی قسم اگر تم وہ جانتے جو مَیں جانتا ہوں تو تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے
ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسّر آیا ہے۔ (حضرت مسیح موعودؑ)
توحیدکا پتہ کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے وجود کا پتہ کرنا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو گہرائی میں جا کےدیکھنا ہو گا۔ قرآن کریم کو سمجھنا ہو گا
بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خداکی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے۔ اور یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتی ہے
آنحضرتﷺ کی عباداتِ الٰہیہ کا دلنشیں اور دلآویز پیرایہ میں ذکر
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 23؍جنوری 2026ء بمطابق 23؍صلح 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بیان
ہو رہا ہے۔ گذشتہ خطبوں میں
محبتِ الٰہی
کا ذکر ہو رہا تھا اور اس ضمن میں یہی آج مزید کچھ بیان کروں گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا طریق اور اس کا حسن
کچھ پہلے بھی بیان ہوا تھا۔ آج بھی احادیث کے حوالے سے بھی اور اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام جو آپ کے غلام صادق ہیں آپ نے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ اور عشق الٰہی کا نقشہ کھینچا ہے اس کے بھی کچھ حوالے ہیں وہ بھی بیان کروں گا۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ سے آغاز فرمایا۔ میں نے سوچا کہ آپ سو آیتوں پر رکوع کریں گے لیکن آپؐ آگے گزر گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس پر آپؐ رکوع کر لیں گے یعنی سورت پوری ختم کر لیں گے لیکن آپؐ پھر آگے گزر گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس پر آپؐ رکوع کر لیں گے لیکن پھر آپؐ نے سورۂ آل عمران شروع فرما دی اور آپؐ نے اسے پڑھا۔ پھر آپؐ نے سورۂ نساء شروع فرما دی اور اسے پڑھا۔ آپؐ بڑے دھیمے انداز میں ٹھہر ٹھہر کرپڑھتے تھے۔ جب آپؐ ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہوتی تو تسبیح کرتے۔
جب آپؐ کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا تو پناہ طلب کرتے۔
پھر آپؐ نے رکوع کیا اور کہنے لگے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم۔ پاک ہے میرا رب بڑی عظمت والا۔ اور آپؐ کا رکوع آپؐ کے قیام جتنا ہی تھا۔ بہت لمبا رکوع تھا۔ پھر آپؐ نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہا یعنی اللہ نے سن لی اس کی جس نے اس کی حمد کی۔ پھر آپؐ نے لمبا قیام کیا جو آپؐ کے رکوع کے قریب قریب تھا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور کہا سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔ پاک ہے میرا رب بڑی بلند شان والا اور آپؐ کا سجدہ آپؐ کے قیام کے قریب قریب تھا۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 3 صفحہ 270۔ 271 کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب استحباب تطویل القراءۃ… حدیث:1283، نور فاؤنڈیشن)
یہ تھا آپؐ کے نفل پڑھنے کا انداز جس کو ایک موقع پر ایک صحابی نے دیکھا۔
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی ایک ہی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے قیام فرمایا۔(سنن الترمذی ابواب الصلاۃ، بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ بِاللَّيْلِ، حدیث: 448)یعنی سورہ فاتحہ کے بعد ایک ہی آیت کو بار بار قیام میں پڑھتے رہے۔
وہاں توایک صحابی کی روایت ہے کہ کئی لمبی لمبی سورتیں پڑھیں، یہاں یہ ہے کہ ایک ہی آیت پر لمبا قیام کیا اور آپؐ کے قیام کی لمبائی کتنی ہوتی تھی؟ اس کے بارے میں حضرت عائشہ کی پہلے روایت گزر چکی ہے۔ گذشتہ خطبوں میں بیان کر چکا ہوں کہ اتنا لمبا قیام رکوع اور سجدہ ہوتا تھا کہ اس کی خوبصورتی کے بارے میں کچھ نہ پوچھو۔
(صحیح البخاری کتاب المناقب باب کان النبی تنام عینہ ولا ینام قلبہ، حدیث: 3569)
اسی طرح حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک آیت کو صبح تک بار بار پڑھتے رہے اور آیت یہ تھی۔ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ کہ اگر تُو انہیں عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو معاف کر دے تو یقیناً تو کامل غلبے والا اور حکمت والا ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوات و السنۃ فیھا باب ما جاء فی القراءۃ فی صلاۃ اللیل،حدیث : 1350)
اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ کی مخلوق سے اور بندوں سے ہمدردی کے جذبات آپؐ کے دل میں تھے اس کی وجہ سے ان کی مغفرت کی دعا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دینے پر قادر ہے لیکن یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کر دے کیونکہ یہ دعا بھی اللہ تعالیٰ نے ہی سکھائی ہے۔
پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گرہن
ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ گرہن پہ جو نماز پڑھی جاتی ہے اس میں آپؐ نے بہت لمبا قیام کیا۔ پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور بہت لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر قیام کیا اور بہت لمبا قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہو گئے اور لمبا قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے اور سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپؐ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثناء بیان کی۔ پھر فرمایا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ہیں اور یہ دونوں کسی شخص کی موت اور کسی کی زندگی کے لیے نہیں گہنائے جاتے۔ پس جب تم ان دونوں کو دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ نماز پڑھواور صدقہ دو۔ پھر فرمایا: اے محمد کی امت (صلی اللہ علیہ وسلم)! اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی بھی شخص غیرت والا نہیں ہے کہ اس کا بندہ زنا کرے یا اس کی بندی زنا کرے۔ یہ بڑا ہی دل ہلا دینے والا انذار اور تنبیہ ہے کہ گناہوں میں ملوث ہو کر اللہ تعالیٰ کی غیرت کو نہ بھڑکاؤ۔ اللہ تعالیٰ سے رحم طلب کرو اور اس کی غیرت کو بھڑکانے سے بچو۔ پھر
آپؐ نے فرمایا اے محمد کی امت!
خدا کی قَسم اگر تم وہ جانتے جو مَیں جانتا ہوں
تو تم بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے۔
پھر آپؐ نے فرمایا سنو !کیا مَیں نے پہنچا دیا؟ (صحیح مسلم مترجم جلد 4 صفحہ58-59 کتاب الکسوف باب صلاۃ الکسوف، حدیث 1490،نور فاؤنڈیشن)یعنی پیغام پہنچا دیا تمہیں۔
پس آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی، اس کی عبادت کرنے کی، اس کے آگے جھکنے کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ اسی میں تمہاری بقاہے۔ اسی میں تمہاری زندگی ہے اور اگر تمہیں ان باتوں کی گہرائی کا پتہ ہو جس طرح مجھے پتہ ہے تو تم لوگ ہنسنا ترک کر دیتے اور روتے زیادہ اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے۔ پس یہ توجہ دلائی کہ ہمیں بھی دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنا چاہیے ۔
میدانِ جنگ میں مناجات
کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے: حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھ سے بیان کیا کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپؐ کے صحابہ تین سو انیس تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ کیا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور اپنے رب کو بلند آواز سے پکارتے رہے۔ اَللّٰھُمَّ انْجِزْ لِیْ مَا وَعَدْتَّنِیْ اَللّٰھُمَّ اٰتِ مَا وَعَدْتَّنِیْ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ اِنْ تَھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِی الْاَرْضِ۔ اے اللہ! جو تُو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے پورا فرما ۔اے اللہ !جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ مجھے عطا فرما۔ اے اللہ !اگر تُو نے مسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک کر دیا تو زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ قبلے کی طرف منہ کیے دونوں ہاتھ پھیلائے آپؐ مسلسل اپنے رب کو بلند آواز سے پکارتے رہے یہاں تک کہ آپؐ کی چادر آپؐ کے کندھے سے گر گئی۔ یعنی آپؐ کا جسم بھی دعا کی وجہ سے رو رو کے ہل رہا تھا، اس وجہ سے چادر بھی گر گئی۔ اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپؐ کے پاس آئے، آپؐ کی چادر اٹھائی اور آپؐ کے کندھوں پر ڈال دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے چمٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپؐ کی اپنے رب کے حضور الحاح یعنی گریہ و زاری سے بھری ہوئی دعا آپؐ کے لیے کافی ہے۔ وہ آپؐ سے کیے گئے وعدے ضرور پورے فرمائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ۔ یہ سورت انفال کی آیت ہے کہ یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری التجا کو قبول کرلیا اس وعدہ کے ساتھ کہ میں ضرور ایک ہزار قطار در قطار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا۔پس اللہ نے ملائکہ کے ذریعہ سے آپ کی مدد فرمائی۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 9صفحہ 150-151 کتاب الجہاد والسیر باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر… حدیث 3295، نور فاؤنڈیشن)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف میں بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں پر فتح پانے کا وعدہ دیا گیا تھا مگر جب بدر کی لڑائی شروع ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے رونا اور دعا کرنا شروع کیا اور دعا کرتے کرتے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرضِ أَبَدًا یعنی اے میرے خدا! اگر آج تُو نے اس جماعت کو( جو صرف تین سو تیرہ آدمی تھے)‘‘ یا بعض روایات کے مطابق تین سو انیس۔ ’’کو ہلاک کر دیا تو پھر قیامت تک کوئی تیری بندگی نہیں کرے گا۔ اِن الفاظ کو جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ سے سنا تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس قدر بےقرار کیوں ہوتے ہیں؟ خدا تعالیٰ نے تو آپ کو پختہ وعدہ دے رکھا ہے کہ میں فتح دونگا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ سچ ہے مگر اس کی بے نیازی پر میری نظر ہے۔ یعنی کسی وعدہ کا پورا کرنا خدا تعالیٰ پر حق واجب نہیں ہے۔ اب سمجھنا چاہیے کہ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے طریقِ ادب ربوبیت کو اس حد تک ملحوظ رکھا تو پھر اس مسلّم عقیدہ جمیع انبیاء علیہم السلام سے کیوں منہ پھیر لیا جائے کہ کبھی خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ظاہر الفاظ پر پوری ہوتی ہے اور کبھی بطریق استعارہ اور مجاز پوری ہو جاتی ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم، روحانی خزائن جلد21صفحہ255-256)
یہ واقعہ بیان کر کے آپؑ نے اپنے مخالفین کو بھی کہا ہے جو آپؑ پر اعتراض کرتے ہیں کہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں کہ
پیشگوئیوں کے پورے ہونے کے مختلف رنگ ہوتے ہیں بعض دفعہ ظاہری طور پر پوری ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ اَور رنگ میں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے وعدوںکو ضرور پورا فرماتا ہے جو اس نے وعدے کیے ہیں۔ ہمیں بہرحال اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر وقت جھکے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کی وجہ سے کہیں اس میں کوئی تعطل پیدا نہ ہو جائے۔ یہ ختم نہ ہو جائے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت ہمیشہ شامل حال رہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خوب سمجھ رکھو کہ سچے موحد وہی ہیں جو ذرّہ بھر نیکی ظاہر نہیں کرتے اور نہ سچائی کے قبول کرنے میں دنیا سے ڈرتے ہیں۔ اگر دنیا ان کے کسی فعل سے بدکتی ہے تو انہیں پروا نہیں ہوتی۔ بعض کہتے ہیں کہ صحابہ جس قدر مجاہدہ کرتے تھے یا روزہ رکھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ثابت نہیں۔ صحابہ میں سے بعض قریب قریب رہبانیت کی زندگی تک پہنچ جاتے۔ یعنی ان کو اتنی زیادہ مذہب کی طرف رغبت پیدا ہو گئی تھی کہ انہوں نے بالکل دنیا کو چھوڑ دیا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معاذ اللہ بڑھے ہوئے تھے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے جبرواکراہ سے باہر نکالا تھا۔ آپؐ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے اور محبت میں سرشار تھے۔ آپؐ کا اوڑھنا بچھونا ہی اللہ تعالیٰ کی ذات تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے زبردستی آپؐ کو باہر نکالا۔ آپؐ کی وہ عادت جو اخفاء کی تھی وہ دُور نہ ہوئی تھی۔ کسی کو کیا معلوم ہے کہ آپؐ پوشیدہ طور پر کس قدر مجاہدات اور عبادات میں مصروف رہتے تھے۔
اسی طرح قبرستان کا واقعہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے اس کو بیان کر کے آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخفاء کو ثابت کیا ہے کہ حضرت عائشہ کے گھر میں باری تھی جب ان کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے۔ بہت حیران ہوئیں، تلاش کیا،کہیں پتہ نہ لگا تو قبرستان گئیں تو دیکھا وہاں نہایت الحاح کے ساتھ مناجات کررہے تھے کہ اے میرے خدا !میری روح، میری جان، میری ہڈیوں، میرے بال بال نے تجھے سجدہ کیا۔ آپ نے اس کو اس رنگ میں بیان کر کے فرمایاکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس معاملے کی خبر نہ ہوتی تو کس کو معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ربّ کے ساتھ کیا معاملہ کر رہے ہیں، کس قدر عبادت کرتے ہیں، کس طرح اخفاء میں اور مخفی طور پر چھپ کر آپؐ عبادت کر رہے ہیں۔ اسی طرح آپؐ کے مجاہدات اور عبادات کا حال تھا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی عادت میں رکھ دیتا ہے کہ وہ اخفاء کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی عادت میں رکھ دیتا ہے کہ وہ اخفاء کرتے ہیں اس لیے دنیا کو پورے حالات کی خبر بھی نہیںہوتی۔وہ دنیا کے لیے تو کچھ کرتے ہی نہیں۔ ان کا جس سے معاملہ اور تعلق ہوتا ہے وہ ہر جگہ جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔(ماخوذ ازملفوظات جلد8 صفحہ214-215۔ ایڈیشن 2022ء)یعنی وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں، انہیں خدا تعالیٰ سے محبت ہے اور اس کو ہر بات کا پتہ ہے۔ یہ لوگ دنیا کے دکھاوے کے لیے عمل نہیں کرتے۔
پھر آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتع دنیاوی ’’سامان اور فائدے‘‘کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمر ؓ آپؐ سے ملنے گئے۔ ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پرلیٹے ہوئے تھے۔ جب حضرت عمر ؓاندر آئے تو آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھاکہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپؐ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپؐ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ ان کو دیکھ کررو پڑے۔ آپ ؐنے پوچھا۔ اے عمرؓ ! تجھ کو کس چیز نے رلایا؟ عمر نے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تنعّم کے اسباب رکھیں۔ ’’ آسائشیں ہیں۔ ان کے پاس نعمتیں ہیں اور آرام دہ سامان ہیں‘‘اور آپؐ جو خد ا کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں’’کہ چٹائی پر لیٹے ہوئے نشان پڑ رہے ہیں۔ ‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
اے عمرؓ ! مجھے دنیا سے کیا غرض؟ میں تو اس مسافر کی طرح گذارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزل مقصود کو جاتا ہو۔ ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سستا لے اور جونہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے۔‘‘
(ملفوظات جلد6صفحہ 228-229۔ ایڈیشن 2022ء)
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیت وَأَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ یعنی اور تُو سب سے پہلے اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا نازل فرمائی۔ وَأَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِيْنَ اپنے رشتہ داروں کو ڈرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کا سودا کر لو۔ مَیں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ یعنی تم نیک کام کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرو گے، اس کی عبادت کرو گے، اس کی محبت میں ڈوبو گے تو بخشے جاؤ گے ورنہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ پھر آپؐ نے اپنے دوسرے رشتہ داروں اور قبیلے کو مخاطب کر کے فرمایا۔ اے بنی عبدِ مناف !اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا، اے عباس بن عبدالمطلب !اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ اے رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ !میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تم جو چاہو میرے مال میں سے مانگ لو لیکن اللہ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ۔(صحیح البخاری کتاب التفسیر/ سورۃ الشعراء،باب وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِيْنَ… حدیث: 4771)یعنی تمہاری عبادتیں اور تمہارا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہی تمہیں بچائے گا۔
اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کے مقابلے پر آپ کو اپنی جان کی بھی پروا نہیں تھی۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کرنے لگے تو قریش ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو ہمارے معبودوں کی عیب جوئی سے روکیں۔ نہیں تو ہم اسے خود روکیں گے پھر آپ اس میں دخل نہ دینا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے استدعا کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیں پہلے بھی ہم نے کہا تھا آپ کو لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا۔ اب دوبارہ ہم آئے ہیں یا تو ہم اسے اپنے متعلق ایسی باتیں کرنے سے روک دیں گے یا پھر اس سے اور آپ سے مقابلہ کریں گے یہاں تک کہ دونوں میں سے ایک فریق ہلاک ہو جائے گا۔ قریش نے جب ابوطالب سے یہ بات کہی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا اور آپ سے کہا اے میرے بھائی کے بیٹے! مجھ پر ایسا بار نہ ڈالو جسے میں برداشت نہ کر سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ ان کے چچا آپؐ کی مدد ترک کر دیں گے اور آپؐ کو قریش کے حوالے کر دیں گے۔ اس پر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چچا جان، خدا کی قسم !اگر یہ لوگ میری دائیں جانب سورج اور بائیں جانب چاند رکھ دیں تب بھی مَیں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور مَیں اپنے کام میں لگا رہوں گا حتی کہ خدا اسے پورا کرے یا مَیں اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔
پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں سے جانے لگے تو
ابوطالب نے آپؐ کو پکارا اور کہا اے میرے بھتیجے !جو چاہو کرو۔ اللہ کی قَسم !کسی معاوضے پر بھی مَیں تمہیں ان کے حوالے ہرگز نہیں کروں گا۔
(السیرۃ النبویہ لابن ہشام صفحہ199-201مکتبہ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان)
یہ واقعہ سیرت ابن ہشام میں لکھا گیا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اس واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں، پلید ہیں، شرالبریہ ہیں‘‘یعنی بدترین مخلوق ہیں’’ سفہاء ہیں‘‘بیوقوف لوگ ہیں، ’’اور ذریتِ شیطان ہیں اور ان کے معبود وقود النار‘‘ یعنی آگ کا ایندھن ہیں ’’اور حَصَبُ جہنم‘‘جہنم کا ایندھن ’’ہیں تو ابوطالب نے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا اے میرے بھتیجے! اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُو نے ان کے عقل مندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شرالبریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کانام ہَیْزَمِ جہنم رکھا اور وَقود النار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریتِ شیطان اور پلید ٹھہرایا۔ میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتاہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آ جا ورنہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چچا! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہارِ واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لیے مَیں بھیجا گیا ہوں۔ اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو میں بخوشی اپنے لیے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔ میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔ مَیں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رک نہیں سکتا اور اے چچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہوجا۔ بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں۔ مَیں احکامِ الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔ مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ بخدا اگر مَیں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔ یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہاء لذّت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد 3صفحہ 110 – 111)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی عشق الٰہی میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔ باوجود بہت بڑی جماعتی ذمہ داری کے، دن اور رات آپ عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ نصف رات گزرنے پر آپ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے کھڑے ہو جاتے اور صبح تک عبادت کرتے رہتے اور اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ جب یہ سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا میں مقرب ہوں اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کر کے مجھے اپنا قرب عطا فرمایا ہے تو کیا میرا یہ فرض نہیں کہ جتنا ہو سکے مَیں اس کا شکر ادا کروں کیونکہ آخر شکر احسان کے مقابلے پر ہی ہوا کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جب مجھ پر احسان کیا تو مَیں شکر ادا کروں۔ اسی طرح آپ کوئی بڑا کام بغیر اذنِ الٰہی کے نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ کا حکم ہوتا تھا تو کرتے تھے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود مکہ کے لوگوں کے شدید ظلموں کے آپؐ نے مکہ اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپؐ پر وحی نازل نہ ہوئی اور وحی کے ذریعہ سے آپؐ کو مکہ چھوڑنے کا حکم نہ دیا گیا۔ اہلِ مکہ کے ظلموں کی شدت کو دیکھ کر آپؐ نے جب صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی اور انہوں نے آپؐ سے خواہش ظاہر کی کہ آپؐ بھی ان کے ساتھ چلیں تو آپؐ نے فرمایا مجھے ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن نہیں ملا، اس کی اجازت نہیں ملی۔ ظلم اور تکلیف کے وقت جب لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کر لیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جماعت کو حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جانے کی ہدایت کی اور خود اکیلے مکہ میں رہ گئے اس لیے کہ آپؐ کے خدا نے آپؐ کو ابھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ خدا کا کلام آپؐ سنتے تو بے اختیار ہو کر آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے خصوصاً وہ آیات جن میں آپ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود روایت کرتے ہیںایک دفعہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن شریف کی کچھ آیات پڑھ کر مجھے سناؤ۔ مَیں نے اس کے جواب میں کہا یا رسول اللہؐ! قرآن تو آپؐ پر نازل ہوا ہے، مَیں آپ کو کیا سناؤں؟ آپؐ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے لوگوں سے بھی قرآن پڑھوا کر سنوں۔ اس پر کہتے ہیں میں نے سورۂ نساء کی آیات پڑھنی شروع کیں۔ جب پڑھتے پڑھتے میں اس آیت پر پہنچا کہ فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّجِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا۔ یعنی اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر قوم میں سے اس کے نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس قوم کا حساب لیں گے اور تجھ کو بھی تیری قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس کرو، بس کرو۔ میں نے آپؐ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔
(ماخوذ ازدیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 382-383)
یہ واقعہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن ہم جتنی بار سنیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کے خوف اور عشق الٰہی کا ایک نیا انداز نظر آتا ہے۔
محبت الٰہی کے ضمن میں سفر طائف میں آپ کے زخمی ہونے کا واقعہ
تاریخ میں بیان ہوا ہے۔ دس نبوی میں ابوطالب کی وفات کے بعد جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مظالم شروع کیے تو آپؐ طائف تشریف لے گئے۔ آپ دس دن تک طائف میں رہے اور اسلام کی دعوت دیتے رہے لیکن کسی نے بھی آپ کی دعوت قبول نہ کی۔ جب رؤسا کو یہ خیال پیدا ہوا کہ نوجوان آپ کی دعوت کو قبول کر لیں گے۔ یہ نہ ہو کہ بار بار کہنے سے قبول کر لیں تو انہوں نے آوارہ لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکایا۔ وہ آپؐ کو پتھر مارنے لگ گئے یہاں تک کہ آپؐ کے دونوں قدموں سے خون بہنے لگا۔ حضرت زید بن حارثہؓ بھی آپؐ کے ساتھ تھے۔ جب پتھر آتے تو حضرت زید انہیں اپنے اوپر لینے کی کوشش کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے، حضرت زیدکے سر پر بھی متعدد زخم آئے۔
(الطبقات الکبریٰ جلد1 صفحہ 165 دارالکتب العلمیۃ بیروت)
صحیح بخاری میں اس واقعہ کے بارے میں روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپؐ پر احد کے دن سے زیادہ بھی سخت کوئی دن آیا ہے، جب آپ زخمی ہوئے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری قوم سے جو سختی پہنچی ہے اس میں وہ سب سے زیادہ سخت تھا۔ وہ دن زیادہ سخت تھا جو مجھے ان کی طرف سے عَقَبَہ کے روز پہنچا ہے یعنی طائف میں جب میں نے اپنا نفس ابنِ عَبْدِ یَالِیْل بن عَبْدِ کُلَالکے سامنے پیش کیا اور پیغام پہنچایا تو جو میں چاہتا تھا اس نے وہ جواب نہ دیا۔ پس میں وہاں سے چلا اور میں فکر مند تھا، اپنے دھیان میں جا رہا تھا۔ جب میں قَرْنُ الثَّعَالِبْ پہنچا جو منیٰ کے قریب ایک چھوٹا پہاڑ ہے تو یہ کیفیت دُور ہوئی اور میں نے اپنا سر اٹھا یاتو دیکھا کہ ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس میںجبرئیل ہیں۔ انہوں نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ نے تمہارے بارے میں تمہاری قوم کی بات سن لی ہے یعنی جو کچھ تمہارے ساتھ قوم نے سلوک کیا ہے اور جو انہوں نے تمہیں جواب دیا ہے وہ سب اللہ نے سن لیا ہے اور تمہاری طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے کہ تم ان کے بارے میں جو چاہو اسے حکم کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا اور مجھے سلام کیا۔ پھر کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !آپؐ اس بارے میں جو چاہیں حکم دیں اگر آپؐ چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر ملا دوں۔ یعنی ان پر گرا دوں اور یہ اندر دب جائیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا نہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی اولاد سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
(صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب إذا قال أحدكم: آمين والملائكة في السماء… حدیث نمبر3231)
(فرہنگ سیرت صفحہ235 ایڈیشن 2003ء)
پس آپؐ کی ہمدردی یہاں بھی غالب آئی اور آپؐ نے اس قوم کو بچا لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد فتح مکہ کے بعد، ان کی اولادوں نے اسلام بھی قبول کر لیا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملایک میں نہیں تھا۔ نجوم میں نہیں تھا۔ قمر میں نہیں تھا۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ ا ور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ، سید الانبیاء، سید الاحیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں‘‘ یعنی آپؐ کے ماننے والوں میں آپ کی سنت پر عمل کرنے والے ہیں ان کو بھی دیا گیا۔
پھر اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ امانت کیا ہے جو انسان کو دی گئی، آپؑ فرماتے ہیں ’’اور امانت سے مراد انسانِ کامل کے وہ تمام قویٰ اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نُعَماءِ روحانی و جسمانی ہیں ‘‘یہ تمام نعمتیں جو جسمانی اورروحانی ہیں’’جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل برطبق آیت اِنَّ اللّٰہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا‘‘کے مطابق ’’اس ساری امانت کو جنابِ الٰہی کو واپس دے دیتاہے۔یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے…‘‘ یعنی وہ امانتیں جو اللہ تعالیٰ نے دی تھیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ساری قوتیں خرچ کر دیتے ہیں تا کہ ان امانتوں کی ادائیگی ہو سکے اور اللہ تعالیٰ کا پیار اور محبت زیادہ سے زیادہ حاصل کرے۔
پس یہ وہ امانت کی اعلیٰ شان تھی جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر آپؐ نے ادا کی۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید، ہمارے مولیٰ، ہمارے ہادی، نبی امی، صادق مصدوق محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی جیسا کہ خود خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ لَا شَرِيْكَ لَہٗ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ ۔‘‘پھر فرمایا’’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔‘‘پھرفرمایا۔’’فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِيَ لِلّٰہِ۔‘‘پھرفرمایا۔’’وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔یعنی اُن کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جدوجہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لیے اور اس کی راہ میں ہے۔ وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اول المسلمین ہوں یعنی دنیا کی ابتداء سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنا فی اللہ ہوجو خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اس کو واپس دینے والا ہو۔ اس آیت میں ان نادان موحدوں کا ردّ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کرکے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن متّٰی سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے۔ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی وہ بطور انکسار اور تذلّل ہے جو ہمیشہ ہمارے سید صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی۔ ہر ایک بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عباد اللہ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص درحقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاسقوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباد اللہ ہے کس قدر نادانی اور شرارت نفس ہے۔
غور سے دیکھنا چاہیے کہ جس حالت میں اللہ جَلَّ شَانُہٗ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نا م اوّل المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آنحضرت صلعم کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کرسکے۔ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لیے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا…پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے‘‘ یعنی جو آیتیں پڑھی گئی تھیں’’ کہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ اپنے ر سول کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میری راہ جو ہے وہی راہ سیدھی ہے سو تم اس کی پیروی کرو اور اور راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور ڈال دیں گی۔‘‘فرمایا کہ
’’ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میرے پیچھے پیچھے چلنا اختیار کرو یعنی میرے طریق پر جو اسلام کی اعلیٰ حقیقت ہے قدم مارو تب خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔
ان کو کہہ دے کہ میری راہ یہ ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کو سونپ دوں اور اپنے تئیں رب العالمین کے لیے خالص کر لوں یعنی اس میں فنا ہو کر جیسا کہ وہ رب العالمین ہے میں خادم العالمین بنوں اور ہمہ تن اسی کا اور اسی کی راہ کا ہو جاؤں۔ سو میں نے اپنا تمام وجود اور جو کچھ میرا تھا خدا تعالیٰ کا کردیا ہے۔ اب کچھ بھی میرا نہیں جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کا ہے‘‘
(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5صفحہ160-165)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کا یہ وہ اعلیٰ قسم کا ادراک تھاجو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا اور آپ نے ہمارے لیے بھی بیان فرمایا۔ اس کے باوجود ہمارے مخالفین ہمیں کہتے ہیں کہ ہم نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو زیادہ مقام دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ہر احمدی کو بچائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اِس لیے خدانے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین وآخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریتِ شیطان ہے کیونکہ
ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسّر آیا ہے۔
اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔ وہ لوگ جو اس غلط خیال پر جمے ہوئے ہیں کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاوے یا مرتد ہو جائے اور توحید پر قائم ہو اور خدا کو واحد لا شریک جانتا ہو وہ بھی نجات پا جائے گا اور ایمان نہ لانے یا مرتد ہونے سے اس کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا…ایسے لوگ درحقیقت توحید کی حقیقت سے ہی بے خبر ہیں…مگر صرف واحد سمجھنے سے نجات نہیں ہو سکتی بلکہ
نجات تو دو امر پر موقوف ہے۔‘‘ دو باتیں ہیں جن سے نجات ہوتی ہے۔ ‘‘(۱) ایک یہ کہ یقین کامل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر ایمان لاوے۔(۲)دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیت جل شانہ کی اس کے دل میں جاگزین ہو کہ جس کے استیلااور غلبہ کا یہ نتیجہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت عین اس کی راحتِ جان ہو جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے اور اس کی محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پامال اور معدوم کر دے۔
یہی توحید حقیقی ہے کہ بجز متابعت ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ کیوں حاصل نہیں ہو سکتی؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کرکے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ درحقیقت موجود بھی ہے یہ اَور بات ہے۔ ’’اورعقل سے صرف اتنا پتہ لگ سکتا ہے کہ خدا ہے جس طرح میری طرح بہت سارے لوگ کہتے ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ کون ہے ‘‘اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور نا تمام اور مشتبہ ہے اس لیے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کوشناخت نہیں کر سکتا بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کار دہریہ بن جاتے ہیں اور مصنوعا ت زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور خدا تعالیٰ کے کاملوں پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں اور ان کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزارہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے۔’’ عقل سے سوچتے ہیں تو بعض چیزیں ان کو نظر آتی ہیں جن کے وجود کی کوئی عقلی دلیل نہیں کہ کیوں موجود ہیں ’’بلکہ محض لغو اور باطل طور پر ان چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہیں وہ لوگ۔ ’’افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ ‘‘جس چیز کا علم نہیں ہوتا اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ چیز موجود نہیں ہے۔’’ اِس قسم کے لوگ کئی لاکھ اِس زمانہ میں پائے جاتے ہیں ‘‘اور اب تو کروڑوں میں آجکل ہیں ’’جو اپنے تئیں اول درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست ان کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے اور اگر وجود باری جل شانہ پر کوئی برہان یقینی عقلی ان کو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور ہنسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔ پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پا سکتا۔‘‘صر ف فلسفیوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ یا ان کی سوچ پر چلو تو یہ نہیں ہو سکتا کہ تم شبہات سے نجات پا جاؤ گے۔ ایک طوفان ہے شبہوں کا جو ان فلسفیوں کے دلوں میں ہے جو اللہ تعالیٰ کے منکر ہو رہے ہیں‘‘ بلکہ ضرور غرق ہوگا اور ہرگز ہرگز شربت توحید خالص اس کو میسّر نہیں آئے گا۔ اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بدبودار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آسکتی ہے اور اس سے انسان نجات پا سکتا ہے۔ ‘‘
پس توحیدکا پتہ کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے وجود کا پتہ کرنا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو گہرائی میں جا کےدیکھنا ہو گا۔ قرآن کریم کو سمجھنا ہو گا۔
’’اے نادانو! جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکتا ہے۔ پس یقیناًسمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزارہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجودکا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے ان نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خداکی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے۔ اور یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118-121)اور اس زمانے میں اس تعلیم کو کھول کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بیان فرمایا ہے۔
پھر آپؑ فرماتے ہیں ’’وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہوگئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے او رآنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیاتھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ بِعَدَدِ ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ وَحُزْنِہٖ لِھٰذِہِ الْاُ مَّۃِ وَاَنْزِلْ عَلَیْہِ اَنْوَارَ رَحْمَتِکَ اِلَی الْاَبَدِ‘‘
اے اللہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر رحمت اور سلامتی اور برکت نازل فرما۔ ان تمام فکروں، غموں اور رنج و الم کے بقدر جو آپ نے اس امت کے لیے برداشت کیے اور اپنی رحمت کے انوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ ہمیش کے لیے نازل فرما۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اورمیں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔‘‘
(برکات الدعاء، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 10-11)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس راستے پر چلتے ہوئے دعاؤں کی بھی توفیق دے۔ مقبول دعاؤں کی توفیق دے اور حقیقی رنگ میں دعائیں کرنے کی توفیق دے اور حقیقت میں وہ حقیقی مومن بنائے جو دعاؤں کا بھی حق ادا کرنے والا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کی کوشش کرنے والا بھی ہو۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 16؍جنوری 2026ء




