نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۸؍جنوری ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ بشریٰ سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم منور احمد صاحب مرحوم (ارلز فیلڈ۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ بشریٰ سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم منور احمد صاحب مرحوم (ارلز فیلڈ۔یوکے)
۲۵؍جنوری۲۰۲۶ء کو ۸۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ فیروزپور انڈیا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۶۰ء میں پاکستان سے یوکے شفٹ ہوئیں۔ آپ نے بطور نرس ۳۵سال مختلف ہسپتالوں میں کام کیا۔ مرحومہ نمازوں اورتلاوت قرآن کریم کی پابند، چندوں کی ادائیگی میں با قاعدہ بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ رمضان اور شوال کے روزے بھی بڑے اہتمام سے رکھتی تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرمہ رفعت تسنیم صاحبہ (اہلیہ مکرم مبارک احمد ظفر صاحب ایڈیشنل وکیل المال یوکے) کی خالہ تھیں۔ مرحومہ کی بہو اور دو پوتیوں کو مرکزی گیسٹ ہاؤسز میں خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم مرزا محمد یعقوب صاحب ابن مکرم مرزا محمد دین صاحب (واہ کینٹ ضلع راولپنڈی)
۲۷؍نومبر۲۰۲۵ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے خاندان میں احمدیت ۱۹۰۳ء میں آئی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر جہلم کے دوران آپ کے دادا حضرت مرزا حسین دین صاحب رضی اللہ عنہ نے دستی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ مرحوم نے ۱۹۶۶ء میں سویڈش انسٹیٹیوٹ کراچی سے تین سالہ ڈپلومہ حاصل کیا اور پھرواہ آرڈیننس فیکٹری میں ملازمت شروع کی۔ آپ ایک مخلص خاندان کے چشم و چراغ تھے اور خود بھی اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے۔ ملنسار، نرم مزاج، غض بصر پر سختی سے کار بند اور سب سے حسن سلوک کرنے والے تھے۔ آپ نے واہ کینٹ میں قائد مجلس خدام الاحمدیہ، پھر زعیم انصار اللہ اور بعد ازاں صدر حلقہ کے طور پر خدمات کی توفیق پائی۔ نیز مختلف کمیٹیوں میں شامل ہو کر خدمت خلق کا مثالی نمونہ پیش کیا۔ آپ کا گھر لمبا عرصہ نماز سینٹر کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ آپ احمدیت کا ایک شاندار نمونہ تھے اور احمدیت کی تعلیم اور برکات کا برملا اظہار کیا کرتے تھے۔ آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند اور مالی قربانی میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں اور بہت سے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ مکرم محمد داؤد ناصر صاحب (جماعت گلفورڈ یوکے) کے والد تھے۔
۲۔مکرمہ رضیہ نسیم صاحبہ اہلیہ مکرم داؤ د احمد ظفر صاحب (ہارٹلے پول۔ یوکے)
۸؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۷۲سال کی عمر میںبقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم چودھری محمد دین صاحب اور مکرمہ عالم بی بی صاحبہ (چک ۲۷۶ ر۔ ب گو کھوال ضلع فیصل آباد) کی بیٹی تھیں جنہیں اپنے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔مرحومہ شادی کے بعد سر گودھا منتقل ہوئیں جہاں اس وقت جماعت کو سخت مخالفت کا سامنا تھا۔ مگر آپ نے ہمت اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے عملی نمونہ سے لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ ۲۰۰۲ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے برطانیہ آئیں۔ بڑی سادہ مزاج، متقی، عاجز، ہمدردخاتون تھیں۔ آپ نے ہر تکلیف اور بیماری کو بڑے صبر وشکر کے ساتھ برداشت کیا۔ باقاعدگی سے چندہ ادا کر تیں اور مختلف تحریکات میں دل کھول کر حصہ لیتی تھیں۔ خاموشی سے بہت سے ضرورت مندوں کی مدد بھی کیا کرتی تھیں۔آپ اپنی پوری زندگی میں عبادت، دعا اور استغفار میں مصروف رہیں۔ آپ کے دل میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافتِ احمدیہ کے لیے غیر معمولی محبت تھی۔ ہمیشہ اپنے بچوں کو نصیحت کرتیں کہ اللہ تعالیٰ سے گہرا تعلق قائم رکھیں، خلافت سے محبت کریں اور تقویٰ و عاجزی کی زندگی اختیار کریں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
۳۔مکرم نصیر احمد شاہ صاحب ابن مکرم سید عنایت علی شاہ صاحب (آف جڑانوالہ۔ حال جرمنی)
۴؍نومبر۲۰۲۵ء کو ۷۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ جب تک صحت نے اجازت دی آپ بڑی باقاعدگی سے جماعتی پروگراموں میں حصہ لیتے تھے۔ اسی طرح آپ اپنے چندہ جات بر وقت ادا کرنے والے تھے۔ ۱۷ سال تک مقامی جماعت میں سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ اعلیٰ اخلاق کے مالک، بڑے مہمان نواز، غریب پرور،ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جماعتی عہدیداروں کی بہت عزت کرتے تھے۔ خلافت سے بہت محبت تھی اور بچوں کو بھی خلافت سے مضبوط تعلق رکھنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ آپ کے بچے بھی ماشاءاللہ جماعت سے مضبوط تعلق رکھنے والے اور خدمت کرنے والے ہیں۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی، دو بیٹے اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ مکرم منیر احمد جاوید صاحب ( پرائیویٹ سیکرٹری حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ ) کے ہم زلف تھے۔
۴۔مکرم نعیم احمد جنجوعہ صاحب (جرمنی)
۱۷؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۵۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ جلسہ سالانہ کی سپلائی ٹیم کے ممبر تھے اور بڑی باقاعدگی سے یہ خدمت بجالاتے رہے۔ ضعیف والدین کی بہت اچھے رنگ میں خدمت کی توفیق پائی۔ بڑے ہمدرد، دوستانہ مزاج رکھنے والےایک مخلص انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔
۵۔مکرم عبد الرزاق بلوچ صاحب ابن مکرم غازی خان صاحب (میر پور خاص۔سندھ)
۲۵؍نومبر۲۰۲۵ء کو ۵۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے مختلف اوقات میں سیکرٹری اصلاح و ارشاد، سیکرٹری دعوت الی اللہ اور سیکرٹری نو مبائعین ضلع میر پور خاص کے علاوہ قائد مجلس شہر، زعیم مجلس انصار الله اور جنرل سیکرٹری امیر مقامی میرپور خاص کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم کے گھر میں گذشتہ ۲۰ سال سے نماز سینٹر بھی قائم ہے۔ ۲۰۱۰ء میں اسیر راہ مولیٰ بھی رہے اور جماعتی مخالفت کے پیش نظر مقدمات کا سامنا کیا۔ پاکستان میں تمام تر حکومتی رکاوٹوں کے باوجود کسی چیز کی پرواہ کئے بغیر دکان کو ہفتوں بند کر کے اہل خانہ کے ہمراہ تبلیغ کے لیے نکل جایاکرتے تھے۔ بڑے نڈراور بہادر انسان تھے۔جہاں کوئی خطرہ کے ڈر سے نہ جانا چاہتا وہاں جانے سے بھی کبھی دریغ نہ کرتے۔ جب شہر کی احمدیہ مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا تو رات گھر والوں کے روکنے کے باوجود یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ ’’وہ مسجد کو شہید کرتے رہیں اور میں گھر بیٹھا رہوں‘‘۔اسیرانِ راہ مولیٰ اور ان کے اہل خانہ کی ہرممکن مدد کرتےتھے۔ شہادت کا بہت شوق تھا جب بھی حضورانور کسی شہید کا ذکر فرماتے تو ہمیشہ یہی کہتے کہ ’’اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرے‘‘۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم افضل احمد کاشف صاحب جامعہ احمد یہ …میں آخری سال کے طالب علم ہیں۔
۶۔مکرم مرزا منصور احمد صاحب ابن مکرم مرزا منظور احمد صاحب (لاہور)
آپ کو dementia کی تکلیف تھی اور ۲۰۰۵ء میں بغیر بتائے گھر سے نکل گئے اور اس کے بعد سے لاپتا ہیں اس لیے آپ کی فیملی نے ان کے جنازہ غائب کی درخواست کی ہے۔مرحوم قادیان میں پیدا ہوئے اور وہیں سے میٹرک پاس کیا۔ مرحوم کے والد حضرت مرزا منظور احمد صاحب رضی اللہ عنہ اور دادا حضرت مرزا غلام اللہ صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ آپ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے کلاس فیلو بھی تھے۔ آپ کی اذان کی آواز بہت اچھی اور بلند تھی۔پارٹیشن کے بعد آپ اپنے خاندان کے ساتھ پہلے لاہور اور بعد میں نسیم آباد سندھ میں قیام پذیر ہوئے اور پھرکنری پاک سندھ میں جاکر اپنا کام شروع کیا۔ ۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی جنگ میں حکومت کی طرف سے جو مجاہد فورس کنری پاک میں بنی اس بٹالین کے کمانڈر بھی ر ہے اور رَن کچھ کے ایریا میں جنگ لڑی۔ جون ۱۹۹۱ء میں سندھ سے ہجرت کر کے ربوہ اور پھر ۲۰۰۴ء میں لاہور چلے گئے۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




