شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں اور اُن کو جماعت سے کیا تو قعات ہیں وہ پیش کرتا ہوں، فرمایا: ’’میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہیں یا اپنے مقامات میں بودوباش رکھتے ہیں اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہوکر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی اُن کے نزدیک نہ آسکے۔ وہ پنج وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکردنی اور ناگفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بیجا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہوجائیں اور کوئی زہریلہ خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے… اور تمام انسانوں کی ہمدری اُن کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں سے اور اپنے ہاتھوں سے اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنج وقتہ نمازکو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدی اورغبن اور رشوت اور اتلافِ حقوق اور بے جاطرفداری سے باز رہیں اورکسی بدصحبت میںنہ بیٹھیں اور اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو اُن کے ساتھ آمدورفت رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا پابند نہیںہے… یا حقوق عباد کی کچھ پرواہ نہیں ہے رکھتا اور یا ظالم طبع اور شریر مزاج اور بدچلن آدمی ہے یا یہ کہ جس شخص سے تمہیں تعلق بیعت اور ارادت ہے اُسکی نسبت ناحق اور بےوجہ بدگوئی اور زبان درازی اور بدزبانی اور بہتان اور افتراء کی عادت جاری رکھ کر خدا تعالیٰ کے بندوں کو دھوکا دینا چاہتا ہے تو تم پر لازم ہوگا کہ اس بدی کو اپنے درمیان سے دور کرو اور ایسے انسان سے پرہیز کرو جو خطرناک ہے اورچاہئے کہ کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو اور ہر ایک کے لئے سچے ناصح بنو اور چاہئے کہ شریروں اور بدمعاشوں اور مفسدوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہاری مجالس میں گزر نہ ہو اور نہ تمہارے مکانوں میں رہ سکیں کہ وہ کسی وقت تمہاری ٹھوکر کاموجب ہوں گے…‘‘
فرمایا: ’’…یہ وہ امور ہیں اوروہ شرائط ہیں جو میں ابتداء سے کہتا چلا آیا ہوں۔ میری جماعت میں سے ہر ایک فرد پر لازم ہوگا کہ ان تمام وصیتوں کے کاربند ہوں اور چاہئے کہ تمہاری مجلسوں میں کوئی ناپاکی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا مشغلہ نہ ہو اور نیک دل اور پاک طبع اور پاک خیال ہوکر زمین پر چلو اور یاد رکھو کہ ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں۔ اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگذر کی عادت ڈالو اور صبر اور حلم سے کام لو اور کسی پر ناجائز طریق سے حملہ نہ کرو اور جذبات نفس کو دبائے رکھو اور اگر کوئی بحث کرو یاکوئی مذہبی گفتگو ہوتو نرم الفاظ اور مہذبانہ طریق سے کرو اور اگرکوئی جہالت سے پیش آوے تو سلام کہہ کر ایسی مجلس سے جلد اُٹھ جائو اگر تم ستائے جائو اور گالیاں دئیے جائو اور تمہارے حق میں برے برے لفظ کہے جائیں تو ہوشیار رہو کہ سفاہت کا سفاہت کے ساتھ تمہارا مقابلہ نہ ہو ورنہ تم بھی ویسے ہی ٹھہروگے جیسا کہ وہ ہیں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بناوے کہ تم تمام دنیا کے لئے نیکی اور راست بازی کا نمونہ ٹھہرو۔ سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلد نکال لو جو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بدنفسی کا نمونہ ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پرہیزگاری اور حلم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جدا ہوجائے کیونکہ ہمارا خدا نہیں چاہتا کہ ایسا شخص ہم میں رہے اور یقینا ًوہ بدبختی میں مرے گا کیونکہ اُس نے نیک راہ کو اختیار نہ کیا سو تم ہوشیار ہو جائو اور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راست باز بن جائو۔ تم پنج وقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کئے جائو گے اور جس میں بدی کا بیج ہے وہ اس نصیحت پر قائم نہیں رہ سکے گا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات۔ جلد۳۔ صفحہ ۴۶ تا ۴۸۔ اشتہار مورخہ ۲۹؍مئی ۱۸۹۸ء)
پھر آپؑ فرماتے ہیں: ’’ انسان کو چاہئے شوخ نہ ہو۔ بے حیائی نہ کرے۔ مخلوق سے بدسلوکی نہ کرے۔ محبت اور نیکی سے پیش آوے۔ اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔ سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے‘‘ (ملفوظات۔ ایڈیشن۱۹۸۸ء۔ جلد ۵۔ صفحہ۶۰۹)
عاجزی و انکساری کو اپناؤ
پھر فروتنی اور عاجزی کے بارہ میں آپ نے فرمایا: ’’… اس سے پیشتر کہ عذاب الٰہی آکر توبہ کا دروازہ بند کردے توبہ کرو جبکہ دنیا کے قانون سے اسقدرڈر پیدا ہوتا ہے توکیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں جب بلا سر پر آپڑے تو اس کامزہ چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہئے کہ ہر شخص تہجد میں اُٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملادیں۔ ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے توبہ کریں۔ تو بہ سے مراد یہ ہے کہ اُن تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضامندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقوی اختیار کریں۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔ عادات انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکساری اس کی جگہ لے لے۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّیَتِیۡمًا وَّاَسِیۡرًا۔ (الدھر:۹) یعنی خدا کی رضا کیلئے مسکینوں اوریتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اس دن سے ہم ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔
قصہ مختصر دعا سے، توبہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے‘‘۔ (ملفوظات۔ایڈیشن۱۹۸۸ء۔جلد اول۔ صفحہ۱۳۴-۱۳۵)
پھر آپؑ نے فرمایا : ’’سواے دوستو! اس اصول کو محکم پکڑو۔ ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آئو۔ نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کرے تو اسکا اختیار ہے کہ عدالت کی رو سے چارہ جوئی کرے مگر یہ مناسب نہیں ہے کہ سختی کے مقابل سختی کرکے کسی مفسدہ کو پیدا کریں۔ یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کردی اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے‘‘۔(تبلیغ رسالت۔ جلد ۶۔ صفحہ۱۷۰۔ مجموعہ اشتہارات۔ جلد دوم۔ صفحہ ۴۷۲)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۸۰ تا ۸۵)



