متفرق مضامین

ویلنٹائن ڈے کاپس منظراوراس کی مناسبت سےاسلامی تعلیمات

(بشریٰ نذیر آفتاب بنت مکرم نذیر احمد خادم مرحوم ومغفور۔کینیڈا)

مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ( سنن ابی داؤد،حدیث۴۰۳۱) جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔
ویلنٹائن ڈےکی ابتدا ایک رومی تہوارلوپرکالیاسے ہوئی جسے تیسری صدی میں ۱۵؍فروری کو روم میں قدیم رومی باشندے لوپرکالیا منایا کرتے تھے۔ کچھ لوگ اسےزر خیزی کا جشن قرار دیتے تھے تو کچھ اس دن کوشادی کی دیوی(یونودیوی) کی وجہ سے مقدس جانتےتھے۔ اُس زمانے میں رومیوں میں بت پرستی عام تھی۔ روم کا بادشاہ کلاڈیئس گوتھ دو (Claudis Goth II) بھی بت پرست تھا۔ ویلنٹائن ڈے جس کا مرکزی خیال محبت کا اظہار ہے۔ یہ تہوار جسے ہرسال بالخصوص یورپ اور امریکہ میں ۱۴؍فروری کو منایا جاتا ہے۔ ویلنٹائن کی موت کے بعد سے رومن کیتھولک چرچ نےاس دن کو سینٹ ویلنٹائن کے دن سے منانا شروع کردیا ۔اس دن کےحوالے سے متعدد داستانوں میں سے ایک یہ ہے:
اس کی تاریخ مسیحی راہب ویلنٹائن سے یوں جُڑی ہے کہ جب رومی بادشاہ کلاڈیئس دوم کوجنگ کےلیے لشکر تیار کرنے میں مشکل پیش آئی تو بادشاہ نے اس کی وجوہات کا پتا لگایا، بادشاہ کو جب علم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل و عیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی ۔لیکن اس مسیحی پادری ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ طورپر شادی کرلی بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا۔ جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کرایااورکہاکہ اس کوجیل میں ڈال دو،جیل میں سینٹ ویلنٹائن کوجیلرکی لڑکی سےمحبت ہوگئی یااس نےجیلرکی لڑکی کومحبت نامہ لکھااور۱۴ ؍ فروری کو اسےاس جرم کی پاداش میں پھانسی دے دی1۔
شادی کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ یہ تو ایک مقدس فریضہ ہے جس کاحکم اللہ تعالیٰ نے ہرمذہب کےماننےوالوں کو دیاہے ۔ شادی کیے بغیرمرداورعورت کےاکٹھےرہنےکی کسی مذہب میں اجازت نہیں ہےبلکہ یہ عمل خداکی ناراضگی کاموجب ہے۔ یہ ہرگزمحبت نہیں بلکہ ایساگناہ ہےجس سےمعاشرےمیں فساد پیداہوتا ہےاورطرح طرح کی برائیاں جنم لیتی ہیں۔یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر مقصد نیک ہو تو ایسی صورت میں تحفہ تحائف دینے سے اسلام نےمنع نہیں کیا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ مگرویلنٹائن کے دن نوجوان نسل کا صرف دوسروں کی تقلید میں تحائف کا تبادلہ اورپارٹیوں پر بے تحاشا پیسہ کا ضیاع سمجھ سے باہر ہے، صرف امریکہ ہی میں گذشتہ سال (۲۰۲۵ء)اس دن کی مناسبت سے ریکارڈ توڑخرچ کیاگیا۔نیشنل ریٹیل فیڈریشن National Retail Federation کی ۲۷؍جنوری ۲۰۲۶ءکی پریس ریلیزکےمطابق سال ۲۰۲۵ء میں 27.5بلین یوایس ڈالرزخرچ کیے گئے تھے۔ یوایس اے،ٹوڈے (USATODAY) کی رپورٹ کےمطابق بھی ویلنٹائن ڈےکےتحائف پرمجموعی طورپراتنےہی اخراجات ہوئے۔ان دونوں رپورٹس کےمطابق سال رواں میں29.1بلین ڈالرزخرچ ہونے کاامکان ظاہرکیاگیاہے جو گذشتہ سال کی نسبت ۲ملین زیادہ ہیں۔
اورصارفین، فی کس 199.78ڈالرزکاریکارڈ بنائیں گےجوکہ ۲۰۲۰ءکےفی کس ریکارڈ196.31ڈالرسےتجاوزکرجائےگا23۔
وقت کےساتھ ساتھ ویلنٹائن ڈے منانے کے انداز اورطورواطوار میں جدت آرہی ہے۔ جس طرح آجکل اس تہوار کومنایا جا رہا ہے ،ویلنٹائن کارڈ بھیجنے کی جو نئی روایت پڑی ہے، اس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دراصل اس کا تعلق رومیوں کے دیوتا لوپر کالیا کے حوالہ سے ۱۵؍فروری کو منائے جانے والے تہوار سے ہے۔جوبھی ہو،ایک دوسرے کی اندھادھندتقلیدمیں ۲۹بلین ڈالرزیہ نقلی محبت کےپجاری صرف امریکہ میں خرچ کررہےہیں دیگرممالک کاحساب آپ خود لگالیں۔ ایسےلوگوں کایہ عمل اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمتوں کی ناقدری اورناشکری ہے۔
اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا۔( بنی اسرائیل:۲۸)
یقیناً فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے ربّ کا بہت ناشکرا ہے۔
سینٹ ویلنٹائن منانے کاآغاز:کہاجاتاہے کہ پوپ گیلا سیس نے۴۹۸عیسوی کے قریب ہر سال ۱۴؍ فروری کو سینٹ ویلنٹائن ڈےمنانے کا اعلان کیا۔پھر آہستہ آہستہ ان رسومات میں پھول دینا، پارٹیز کرنا اور دیگر فرسودہ روایات کا اضافہ ہوتا چلا گیا۔مغربی ممالک میں فروری کےمہینہ کےآغاز سےہی اسا تذہ چھوٹی چھوٹی عمر کے بچوں کے ذہنوں میں ویلنٹائن کے دن کی محبت ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔ پرائمری کلاسز سے لےکر بارھویں کلاس تک کی عمرکےطلبہ کو، اس تہوارکی مناسبت سے فلمیں دکھائی جاتی اور لیکچرز دیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اسکولوں کےجم میں ناچ گانےکی محافل سجائی جاتی ہیں جن میں طلبہ اپنی مخالف صنف کےساتھ ناچتے اور گاتے ہیں۔ ایسی تقریبات کی تشہیر لائبریریوں میں پوسٹرز لگاکر کی جاتی ہے۔ والدین کواکثرایسی تقریبات کاعلم نہیں ہوتا۔ یہ ڈانس پارٹیاں دن بدن خاصی مقبول ہورہی ہیں۔دراصل ویلنٹائن کادن ہو یاہیلووین جیسی رسم ،یہ سب اب نظام تعلیم کاحصہ بن چکےہیں جسے تفریح سمجھ کرمنایاجاتاہے۔
احمدی مسلمان بچوں اوران کےوالدین کوخود دعااورکوشش کےذریعہ ان لغویات سے بچنا ہوگا۔ والدین کافرض ہےکہ وہ اپنےبچوں کو گاہے بگاہے ایسی تقریبات کےنقصانات اوربداثرات سےبچنےکی تلقین کرتے رہیں۔ ایسے بے ہودہ پروگرامزسے بچنے کا بہترین حل یہ ہے کہ والدین اس خاص وقت میں بچوں کو سکول سےگھر لے آئیں یا بچے اپنے استاد کو بتائیں کہ ہم نےاس ڈانس میں شامل نہیں ہونا اس کی بجائےہم لائبریری میں کتب بینی میں وقت گذاریں گے۔احمدی بچوں کےیہ بات ہمیشہ مدنظررہنی چاہیےکہ ہمارےمذہب اسلام میں ہم نےجن امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کی ہےاللہ تعالیٰ نےان کواس زمانے کا حکم اور عدل بناکر بھیجا ہے۔آپؑ فرماتےہیں: یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوگا اگرچہ کیساہی جذبہ پیش آوے۔(اشتہار تکمیل تبلیغ ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہےجوزندگی کےہرمعاملہ میں ہماری راہنمائی کرتاہے۔ہمیں ہردن اورہرہرپہر پیارومحبت کادرس دیتاہےمحبت توایک بڑاہی پاکیزہ جذبہ ہے۔اللہ تعالیٰ کےاحکامات پرعمل کرکےہم خداسے محبت کرنےکاثبوت دےسکتےہیں۔رسول کریم ﷺکےاسوۂ حسنہ کی پیروی کرکےخداکی محبت پاسکتےہیں۔اسی طرح مخلوق خدا کےحقوق اداکرکےمحبت کااظہارکرسکتےہیں۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اور آپ کے خلفائےکرام کی تعلیمات اورارشادات پرعمل ہماری ان سے محبت کااظہارہے۔پھروالدین کی اپنے بچوں سے بچوں کی والدین سے محبت ، میاں بیوی کی ایک دوسرے کے لیے محبت، یہ سب محبتیں جائز اور پاکیزہ ہیں۔اسلام ایک مکمل اورکامل دین ہےجو ہمیں برائیوں،نت نئی بدعات اوررسم ورواج کےطوق سے بچاکراعتدال کی تعلیم دیتاہے۔
حضرت مسیح موعودؑبھی اپنےآقارسول کریم ﷺ کی اطاعت ومحبت میں اپنی جماعت کوان سب فرسودہ رسموں سےبچانےاورایک زندہ خداسےملانےکےلیےآئےہیں۔ہمارے پیارےامام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس ضمن میں فرماتے ہیں:”حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے ہر اس چیز سے بچنا ہو گا جو دین میں برائی اور بدعت پیدا کرنے والی ہے۔ اس برائی کے علاوہ بھی بہت سی برائیاں ہیں جو شادی بیاہ کے موقع پر کی جاتی ہیں اور جن کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں یہ برائیاں جو ہیں اپنی جڑیں گہری کرتی چلی جاتی ہیں اور اس طرح دین میں اور نظام میں ایک بگاڑ پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔ اس لیے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ،اب پھر کہہ رہا ہوں کہ دوسروں کی مثالیں دے کر بچنے کی کوشش نہ کریں، خود بچیں۔ اور اب اگر دوسرے احمدی کو یہ کرتا دیکھیں تو اس کی بھی اطلاع دیں کہ اس نے یہ کیا تھا۔ اطلاع تو دی جاسکتی ہے لیکن یہ بہانہ نہیں کیا جا سکتا کہ فلاں نے کیا تھا اس لیے ہم نے بھی کرنا ہے تاکہ اصلاح کی کوشش ہو سکے، معاشرے کی اصلاح کی جا سکے۔ ناچ ڈانس اور بیہودہ قسم کے گانے جو ہیں ان کے متعلق میں نے پہلے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر اس طرح کی حرکتیں ہوں گی تو بہرحال پکڑ ہو گی۔ لیکن بعض برائیاں ایسی ہیں جو گو کہ برائیاں ہیں لیکن ان میں یہ شرک یا یہ چیزیں تو نہیں پائی جاتیں لیکن لغویات ضرور ہیں اور پھر یہ رسم و رواج جو ہیں یہ بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔ جو کرنے والے ہیں وہ خود بھی مشکلات میں گرفتار ہو رہے ہوتے ہیں اور بعض جو ان کے قریبی ہیں، دیکھنے والے ہیں، ان کوبھی مشکل میں ڈال رہے ہوتے ہیں ان میں جہیز ہیں، شادی کے اخراجات ہیں، ولیمے کے اخراجات ہیں، طریقے ہیں اور بعض دوسری رسوم ہیں جو بالکل ہی لغویات اور بوجھ ہیں۔ ہمیں تو خوش ہونا چاہیے کہ ہم ایسے دین کو ماننے والے ہیں جو معاشرے کے، قبیلوں کے، خاندان کے رسم و رواج سے جان چھڑانے والا ہے۔ ایسے رسم و رواج جنہوں نے زندگی اجیرن کی ہوئی تھی۔ نہ کہ ہم دوسرے مذاہب والوں کو دیکھتے ہوئے ان لغویات کو اختیار کرنا شروع کر دیں…(فرمایا) تم ایسے دین اور ایسے نبی کو ماننے والے ہو جو تمہارے بوجھ ہلکے کرنے والا ہے ۔ جن بے ہودہ رسم و رواج اور لغو حرکات نے تمہاری گردنوں میں طوق ڈالے ہوئے ہیں، پکڑا ہوا ہے، ان سے تمہیں آزاد کرانے والا ہے۔ تو بجائے اس کے کہ تم اُس دین کی پیروی کرو جس کو اب تم نے مان لیا ہے اور اُن طور طریقوں اور رسوم و رواج اور غلط قسم کے بوجھوں سے اپنے آپ کو آزاد کرو ،ان میں دوبارہ گرفتار ہو رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تم تو خوش قسمت ہو کہ اس تعلیم کی و جہ سے ان بوجھوں سے آزاد ہو گئے ہو اور اب فلاح پا سکو گے، کامیابیاں تمہارے قدم چومیں گی، نیکیوں کی توفیق ملے گی۔پس ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تو ان رسموں اور لغویات کو چھوڑنے کی و جہ سے ہمیں کامیابیوں کی خوشخبری دے رہا ہے۔ اور ہم دوبارہ دنیا کی دیکھا دیکھی ان میں پڑنے والے ہو رہے ہیں… اپنے آپ کو معاشرے کے رسم و رواج کے بوجھ تلے نہ لائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کو آزاد کروانے آئے تھے اور آپ کو ان چیزوں سے آزاد کیا اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی جماعت میں شامل ہو کر آپ اس عہد کو مزید پختہ کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ چھٹی شرط بیعت میں ہے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے لکھا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا وہوس سے باز آ جائے گا۔یعنی کوشش ہو گی کہ رسموں سے بھی باز رہوں گا اور ہوا و ہوس سے بھی باز رہوں گا۔ تو قناعت اور شکر پر زور دیا۔ یہ شرط ہر احمدی کے لیے ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہو۔ اپنے اپنے وسائل کے لحاظ سے اس کو ہمیشہ ہر احمدی کو اپنے مدنظر رکھنا چاہیے…اللہ کرے کہ ہم ہر قسم کے رسم و رواج بدعتوں اور بوجھوں سے اپنے آپ کو آزاد رکھنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والے ہوں اور ہمیشہ اس زمانے کے حَکَم و عدل کی تعلیم کے مطابق دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنا بھی ایسا عمل ہے جو تمام نیکیوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے اور تمام برائیوں اور لغو رسم و رواج کو ترک کرنے کی طرف تو جہ دلاتا ہے۔تو اس کی طرف بھی خاص تو جہ کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) ‘‘(خطبہ جمعہ مورخہ ۲۵/نومبر ۲۰۰۵ءالفضل انٹرنیشنل۱۶؍دسمبر۲۰۰۵ءصفحہ ۶-۹)
آئیے!ہم یہ عہدکریں کہ خواہ ویلنٹائن ڈے ہویابرتھ ڈے ،بسنت کاتہوارہویاہیلووین،نئےسال کاجشن ہویا چاند رات کی تقریب،گودبھرائی کی رسم ہویاپھرشادی اورولیمہ کی تقریب پہ دلہےاوردلہن کےکیک کاٹنےکی رسم ۔مزاروں اور درباروں پر جاکرلوگوں کامنتیں مانگنااورشرک کرنا،یا کسی بزرگ کی قبر سے مٹی،پھول یا کوئی چیز تبرک سمجھ کرلینا،بحیثیت احمدی مسلمان ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی توحیدکاعَلم بلندکریں گے،اسی پرتوکل کریں گےاوران قبیح رسومات سےبچنےکےلیےاپنےخالق ومالک کےدَرپرجھکیں گے۔ان شاءاللہ العزیز!
اس مضمون کااختتام اپنےپیارےامام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی انتہائی پیاری نصائح پرکرتی ہوں آپ فرماتےہیں:جن رسموں کادین سےکوئی واسطہ نہیں ہے،جودین سےدورلےجانےوالی،اللہ اوراس کےرسول کےاحکامات اورارشادات کی تخفیف کرنےوالی ہیں،وہ سب مردودرسمیں ہیں۔فضول ہیں۔ردکرنےکےلائق ہیں… آج کل آپ یہاں اس مغربی معاشرہ میں رہ رہےہیں،یہاں کےبےتحاشارسم ورواج ہیں،جوآپ کومذہب سےدورلےجانےوالے،اسلام کی خوبصورت تعلیم پرپردہ ڈالنےوالےرسم ورواج ہیں،طورطریق ہیں۔کیونکہ دنیاداری کی جوچکاچوندہےزیادہ اثرکرتی ہے۔اس لیےاس معاشرےمیں بہت پھونک پھونک کرقدم اٹھانےکی ضرورت ہےتوبجائےان کی غلط قسم کی رسوم اپنانےکےاسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کرنی چاہیے۔ہراحمدی کااتنامضبوط کیریکٹرہوناچاہیے،اتنامضبوط کردارہوناچاہیےکہ مغربی معاشرہ اس پراثراندازنہ ہو۔(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ۱۰۵-۱۰۶)

  1. https://www.bbc.co.uk/religion/religions/christianity/saints/valentine.shtml ↩︎
  2. https://www.usatoday.com/story/graphics/2026/01/28/record-spending-expected-valentines-day/88378022007 ↩︎
  3. /NRF | Valentine’s Day Spending Expected to Reach New Records ↩︎

مزید پڑھیں: ویلنٹائن ڈے کا پس منظر اور اس کی حقیقت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button