یادِ رفتگاں

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا

میرے پیارے ابا محترم مقبول احمد صاحب ظفر مربی سلسلہ کی یاد میں

میرے نزدیک ایک بیٹی کی پہلی محبت ہمیشہ اس کا باپ ہوتا ہے جس کی شخصیت بیٹی کے لیے سب سے بڑی طاقت اور سب سے روشن مثال ہوتی ہے۔ وہ باپ جس کی محبت بےلوث، بے حساب اور بے پیمانہ ہے۔ آج میں بھی یہاں اپنے والد کی محبت میں کچھ لکھنے کی کوشش کر رہی ہوں اور کچھ ایسی یادوں اور اَن سکھائی گئی باتوں اور نصیحتوں کا ذکر کرنے جارہی ہوں جو آج بھی مجھے زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں ۔

میرے والد محترم مقبول احمد ظفر مربی سلسلہ ۲۵؍جولائی ۲۰۱۲ء کو اپنے حقیقی مولا سے جا ملے۔ ان کی خوش نصیبی یہ ہے کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کا جنازہ غائب پڑھایا اور اِن الفاظ میں ان کا ذکر خیر فرمایا : “ایک ہمارے مربی سلسلہ مقبول احمد ظفر صاحب ہیں جو آجکل نظارت اصلاح و ارشاد میں تھے۔ ان کو پرانی انتڑیوں کی تکلیف تھی جو بگڑ گئی اور آخر ان کی۲۵؍ جولائی کو وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ کوٹ محمد یار چنیوٹ کے قریب رہنے والے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۱ء تک عربی میں تخصص کیا اور پھر نظارتِ اشاعت میں کام کیا۔ جامعہ احمدیہ میں عربی کے استاد رہے۔ پھر یہ ۲۰۰۷ء میں شام چلے گئے، وہاں عربی زبان میں ڈپلومہ کیا۔ اسی طرح ہومیو پیتھک میں بھی ان کو کچھ درک تھا۔ پھر واپس آئے ہیں تو اصلاح و ارشاد مرکزیہ میں تعینات ہوئے۔ بڑے علم دوست آدمی تھے، نہ صرف علم دوست تھے بلکہ ایک مربی کی جو خصوصیات ہیں وہ بھی ان میں تھیں۔ وقفِ زندگی کی خصوصیات بھی ان میں تھیں۔ اور پھر اسی طرح جیسا کہ مَیں نے کہا ہومیو پیتھک میں بھی انہوں نے ڈپلومہ کیا ہوا تھا۔ غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے اور بے وقت بھی اگر کوئی آ جا تا تھا تو ہمیشہ اُس کو آپ نے دوائیاں دیں، خوش مزاجی سے اس سے ملے۔ اپنے ساتھیوں سے کارکنوں سے بڑا اچھا سلوک تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے جو بچے ہیں اُن کو بھی اللہ تعالیٰ صبر اور حوصلہ دے۔”( خطبہ جمعہ ۲۷؍جولائی ۲۰۱۲ء)

آج بھی جب میں حضورِ انور کے یہ الفاظ پڑھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ دے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ دعا میرے دل پر مرہم رکھ رہی ہو۔ حضور انور کے یہ الفاظ میرے لیے ایک ایسی تسلی ہیں جو وقت کے ساتھ اَور بھی گہری ہوتی جا رہی ہے۔

اب میں چند ایسی باتوں اور نصیحتوں کا ذکر کرنا چاہتی ہوں جو میں نے اپنے والد سے سیکھیں۔ جیسا کہ حضورِ انور نے بھی فرمایا کہ میرے والد ایک حقیقی مربی اور واقفِ زندگی کی خصوصیات رکھنے والے تھے۔ وقفِ زندگی کا یہ جذبہ انہوں نے صرف اپنی ذات تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ اپنی اولاد کو بھی بچپن ہی سے اس کی اہمیت اور اس سے جڑی قربانیوں کی طرف متوجہ کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ابا اکثر ہمیں تحریکِ وقفِ زندگی کے ابتدائی ایام کے بارے میں بتایا کرتے تھے کہ اُس وقت مربیان بغیر کسی الاؤنس کے بھی گزارا کر لیا کرتے تھے۔ پھر نہایت شفقت اور پیار سے یہ سمجھاتے کہ یہ تو محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ آج کے دَور میں ہمیں وظیفہ اور سہولتیں بھی میسر ہیں، مگر یاد رکھو کہ وقف کا مطلب صرف یہ نہیں کہ تمہیں دنیاوی آسائشیں ملیں، بلکہ وقف کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ اگر تمہیں کچھ نہ بھی ملے تب بھی تم یہ تقاضا نہ کرو کہ تمہیں کیوں نہیں دیا گیا،نہ ہی یہ خیال رکھو کہ جماعت کی خدمت کے بدلے تمہیں کچھ ملے، کیونکہ جب تم نے خود کو خدا کی راہ میں وقف کر دیا تو گویا سب کچھ پہلے ہی اُس کے حضور پیش کر دیا ہے ۔

اسی طرح تحریکِ جدید کے ۲۷؍مطالبات میں سے ایک اہم مطالبہ سادہ زندگی اختیار کرنا ہے، اور میں نے اپنے والد کو ہمیشہ اس پر عمل پیرا دیکھا۔ انہوں نے اپنے طرزِ زندگی سے ہمیں یہ سبق دیا کہ دنیاوی ٹرینڈز کے پیچھے بھاگے بغیر بھی زندگی نہایت خوبصورتی سے گزاری جا سکتی ہے۔ تھوڑے پر قناعت کرنا، ہر حال میں خدا کا شکر کرنا اور پھر یہ دیکھنا کہ کس طرح خدا انہی تھوڑے وسائل میں برکت ڈال دیتا ہے، یہ سب میں نے اپنے والد کی زندگی میں عملی طور پر دیکھا ہے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو زندگی کی راہوں میں میرے لیے چراغِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے اور مجھے ہمیشہ یاد دلاتا ہے کہ وقف دراصل قربانی اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔

میرے والد کو ۲۰۰۷ء میں شام جانے کا موقع ملا جہاں انہوں نے تین سال گزارے اور عربی زبان میں ڈپلومہ کیا۔یہ وہ وقت تھا جب رابطے کے لیے اینڈرائڈز نہیں ہوتے تھے یا اگر ہوتے بھی تھے تو اتنے عام نہیں تھےاور ہمارے گھر میں بھی اس سہولت کا امکان محدود تھا۔ ابا ہم سے رابطے کے لیے یا تو سکائپ پہ کال کیا کرتے تھے یا پھر اپنی ویڈیو ریکارڈ کرکے ہمیں سی ڈی کے ذریعے پاکستان بھیج دیتے تھے۔اس وقت میں اور میرے بہن بھائی کافی چھوٹے تھے، لیکن ان کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات میں ہمیشہ ہمارے لیے اہم نصائح چھپی ہوتی تھیں۔ایک اہم نصیحت جس کا وہ بار بار ذکر کرتے تھے وہ خلافت سے محبت تھی۔ آپ اکثر ان پیغامات میں یہ کہتے تھے کہ اب بڑے ہو رہے ہو تو حضورِانور کو خطوط ضرور لکھا کرو اور خلیفہ وقت کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بناؤ۔ وہ ہمیں یہ بھی بتاتے کہ اگرچہ میں آپ لوگوں سے دُور ہوں، لیکن یہ حضورانور کا حکم ہے اور اُن کے ہر حکم کی اطاعت کرنا ہر حال میں میرا فرض ہے۔والد کی خلافت سے جو محبت اور اطاعت کا جذبہ تھا، اسے دیکھتے ہوئے میرے دل میں بھی خلافت کے ساتھ تعلق قائم رکھنے اور اطاعت کرنے کا جذبہ بڑھا۔

انہوں نے جو خلافت کی محبت ہمارے دل میں ڈالی، اس کا اثر آج بھی میری زندگی میں زندہ ہے۔ اکثر ایسا لمحہ آتا ہے جب کوئی خوشی بانٹنی ہو یا کوئی دکھ دل کو بوجھل کر رہا ہو، اور دل چاہتا ہو کہ ابا کو سب کچھ بتاؤں۔ لیکن جب وہ ساتھ نہیں ہوتے تو دل میں ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے۔ایسے وقت میں میں وہ سب کچھ حضور انور کو خط میں لکھ دیتی ہوں۔ اپنی خوشیاں، اپنے غم اور اپنی الجھنیں کاغذ پر لکھ کر بھیج دیتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ایک بیٹی نے اپنے باپ سے سب کچھ کہہ دیا ہو۔ کیا ہی انمول رشتہ ہے خلافت کا! ایک ایسا تعلق جو محض محبت ہی نہیں بلکہ راہنمائی، دعا اور باپ جیسی شفقت سے بھرا ہوا ہے۔

خلافت سہارا ہے ہم غمزدوں کا

اسے رکھ سلامت خدائے خلافت

خدا تعالیٰ نے انسان کو صرف عبادات کے لیے نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے بھی پیدا کیا ہے۔میرے والدِ محترم میں خدمتِ انسانیت کا جذبہ گویا ان کی فطرت کا ایک اہم حصہ تھا۔ چونکہ ابا ہومیو پیتھی ڈاکٹر بھی تھے تو ہمارے گھر کے دروازے ہر وقت مریضوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ مریض بے وقت ہمارے گھر آ جاتے، مگر کبھی ایسا نہ ہوا کہ ابا نے اس بات کو ناگوار سمجھا ہو۔ وہ انہیں آرام سے بٹھاتے، توجہ سے سنتے اور دوائی دے کر رخصت کرتے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ابا جب دفتر سے تھکے ہوئے آتے تو دوپہر میں کچھ دیر سو جاتے تھے اور بعض اوقات ہم بچوں کے کھیل کود کی وجہ سے ان کی نیند متاثر ہوتی تو ہمیں ابا سے ذرا ڈانٹ بھی پڑ جاتی تھی۔ مگر اگر انہی لمحات میں کوئی مریض دروازے پر آتا تو ابا فوراً جاگ جاتے۔ نہ صرف جاگتے بلکہ مسکرا کر مریض کو سنتے اور پوری محبت سے علاج کرتے۔ابا کی وفات کو برسوں گزر گئے، لیکن آج بھی ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہم نے کبھی مقبول صاحب سے دوائی لی تھی اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے ہمارا علاج کیا تھا۔

یہاں مجھے خواجہ میر درد کا یہ شعر یاد آتا ہے :

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

اب جب بات خدمتِ انسانیت کی ہو رہی ہے تو میں اپنےمضمون کا اختتام ایک ایسے واقعے کے ساتھ کرتی ہوں جو کچھ عرصہ پہلے ایک سیرین خاتون نے مجھے سنایا اور جو میرے دل کے بہت قریب ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میری بات ایک سیرین خاتون سے ہوئی، اور بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ وہ اور ان کے گھر والے میرے والد کو ملک شام سے جانتے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنے گھر مدعو کیا اور اپنے اہل خانہ سے بھی ملوایا۔ تب انہوں نے مجھے یہ واقعہ سنایا کہ جب مقبول صاحب، یعنی میرے والد، شام میں تھے تو ان سیرین خاتون کی بہن کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا، جس کی وجہ سے وہ کئی دن ہسپتال میں داخل رہیں۔اس سارے عرصے میں میرے والد ان کے اہل خانہ کے ساتھ رہے، انہیں تسلی دیتے رہے اور مسلسل ہومیوپیتھی کے ذریعے علاج کرتے رہے، جس سے وہ کافی جلد صحتیاب ہو گئیں۔ ان کے گھر والوں سے میرے والد کا کوئی ذاتی رشتہ نہیں تھا بلکہ صرف احمدیت کا رشتہ تھا، لیکن ابا کی محبت، خدمت اور خلوص نے ان کے دلوں میں ایسا اثر چھوڑا کہ وہ آج بھی ابا کو یاد کرتے ہیں اور ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ نہ صرف ابا کے لیے بلکہ میرے اور میرے گھر والوں کے لیے بھی وہ مسلسل دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ مجھے بعض دفعہ حیرت ہوتی ہے کہ والدین کے نیک اعمال کس طرح اولاد کے لیے دعاؤں کا سبب بن جاتے ہیں۔ والد کی محبت اور خدمت کی یہ داستان مجھے ہمیشہ یاد دلاتی ہے کہ حقیقی نیکی اور خلوص کی روشنی وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہوتی ہے ۔

ابا کی زندگی سے حاصل ہونے والی نصائح اتنی گہری اور قیمتی ہیں کہ ایک مضمون میں اُن کا مکمل ذکر ممکن نہیں۔ ان کی سادہ زندگی، قربانی کا جذبہ، خدمت انسانیت اور خلافت سے محبت ہر لمحہ مجھے کچھ نہ کچھ سکھاتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے، تاکہ ہم ان کی محبت اور نصائح کو ہمیشہ زندہ رکھ سکیں۔ آمین۔

آنکھ سے دُور سہی دل سے کہاں جائے گا

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

(امۃالحئ ،کینیڈا)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہمارے مقدس تہوار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button