ماضی کے دھاگے(قسط دوم۔ آخری)
الگوردھم ماضی کے دھاگوں سے کھیلنے کی کہانی ہے، پیچھے مڑ کر دیکھنا ہے اور آگے کا اندازہ لگانا یہی کھیل ہے
( تسلسل کے لیے دیکھیے الفضل مورخہ ۹؍فروری۲۰۲۶ء)
یقیناً الگوردھم میں ایسی قابلیتیں پیدا نہیں ہو سکتیں۔ الگوردھم کے کمان سے تیر نکل جائے تو واپس نہیں پلٹتا۔ قارئین نے شاید نوٹ کیا ہو کہ اس آرٹیکل میں الگوردھم کا لفظ تو آیا ہے لیکن مصنوعی ذہانت، اے آئی کے الفاظ ابھی تک استعمال نہیں ہوئے۔ مشہور سائنس دان کورزبسکی نے کہا تھا کہ اگر ہم کسی چیز کو غلط نام، غلط لیبل دے دیں گے تو ہم کبھی اس چیز کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے۔ اپنڈیکس کے ساتھ بیکار، بے فائدہ، فالتو کے لیبلز جڑے ہوئے ہیں، عام لوگ اپنڈیکس کو بیکار سمجھتے ہیں لیکن اصل میں اپنڈیکس قوت مدافعت اور شکم میں پھیلے فائدہ مند بیکٹیریا کے لیے بہت کارآمد ہے، اب useless کا لیبل لگنے سے لوگ آج بھی اسے بیکار آرگن سمجھتے ہیں۔ غلط اور فیک لیبل حقیقت پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ الگوردھم کو مصنوعی ذہانت کا نام دینا بھی فیک لیبلنگ، غلط نام ہے۔ ذہانت مصنوعی ہو ہی نہیں سکتی جس طرح مصنوعی سورج، چاند، ستارے نہیں ہو سکتے۔ سورج، چاند، ستارے ہوں گے یا نہیں ہوں گے، ان کو مصنوعی نہیں بنایا جا سکتا۔ ہاں فلموں میں اسپیشل افیکٹس، گرافکس وغیرہ کی مدد سے سورج، چاند، ستارے بنائے جا سکتے ہیں لیکن سکرین پر طلوع ہونے والےسورج سے تمازت و گرمائش حاصل نہیں ہو سکتی اور سکرین کے چاند سے ٹھنڈک حاصل نہیں ہو سکتی، سکرین کے آف ہوتے ہی نظارے مر جاتے ہیں۔ ذہانت بھی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، اس کے ساتھ مصنوعی کا لفظ نہیں لگ سکتا، یہ مصنوعی طریقے سے تخلیق نہیں ہو سکتی۔ اس دقیق و فلسفیانہ بحث کو مزید باریک کرنے سے پہلے عرض یہ ہے کہ ہم لفظ ذہانت بھی غلط استعمال کرتے ہیں، اصل لفظ جو استعمال ہونا چاہیے وہ عقل ہے۔ جب تک ماں نہیں ہو گی بچہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے، ذکا (ذہانت) کی ماں عقل ہے۔ انسان پہلے مصنوعی عقل تخلیق کرنے کا دعویٰ کرے، بچے کی ولدیت کا جھگڑا تو بعد میں آتا ہے۔ عقل باندھنے، روکنے، قابو کرنے، پکڑنے کو کہتے ہیں اور باندھا، پکڑا اسی مخلوق کو جاتا ہے جو اپنی مرضی سے حرکت کرنے، آگے نکلنے، بھاگنے کی استعداد و قوت رکھتی ہے۔ کرسی کو ایک جگہ رکھ دیا جائے تو کرسی خود سے حرکت نہیں کر سکتی، اس لیے اسے باندھنے، قابو کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جانور کو باندھا جاتا ہے، قابو میں لایا جاتا ہے، کیونکہ جانور میں حرکت کرنے، بھاگنے، آگے نکلنے کی استعدادیں و قوتیں ہیں۔ اب یہاں پر فرق ہے کہ جانور کو عقل کا وہ معیار عطا نہیں ہوا جس عقل کے اعلیٰ معیار سے انسان کو نوازا گیا ہے۔ ایک آدمی جب کمرے میں داخل ہوتا ہے تو آگاہ (aware) ہوتا ہے کہ میں کمرے میں داخل ہو چکا ہوں، جب وہ دائیں طرف پڑے صوفے، میز کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ میں کیا دیکھ اور محسوس کر رہا ہوں۔ اس لمحہ موجودہ کا ذائقہ اور مضبوط احساس کے علاوہ ایک ایسی قابلیت نصیب ہوئی ہے جو زمین پر کسی اور مخلوق و شے کے حصے میں نہیں آئی۔ کمرے میں موجودگی کا احساس اور ارد گرد چیزوں سے آگاہی کے علاوہ انسان اس چیز کے بارے میں تصور باندھ سکتا ہے، سوچ سکتا ہے، فکر و غور کر سکتا ہے جو اس وقت کمرے میں موجود نہیں ہے، یعنی صرف انسان کو پرواز تخیل کی خصوصیت حاصل ہے اور پرواز تخیل کے اندر سے ہی فراست و حکمت و سمجھ بوجھ و فہم کے فوارے پھوٹتے ہیں۔ فراست، بصیرت و حکمت و فہم اور سمجھ بوجھ کا عملی نتیجہ و ثمر ذہانت ہے۔ اب بتاؤ جب انسان عقل ایجاد نہیں کر سکتا تو پھر ذہانت کی تخلیق کا دعویدار کس طرح بن گیا؟ ایک سوال یہاں اٹھ سکتا ہے کہ انسان نے دراصل عقل استعمال کر کے مصنوعی ذہانت بنا لی ہے تو عقل ایجاد کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، جب ماں پہلے سے موجود ہے تو بچے کی پیدائش پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ماں امریکہ میں بیٹھی ہو اور اس کا بچہ ساؤتھ افریقہ میں پیدا ہو جائے کیا ممکن ہے؟ ماں کا بچے کے ساتھ براہ راست زندہ تعلق ہوتا ہے، ماں کی کوکھ سے بچہ جنم لیتا ہے۔ انسانی عقل اور الگوردھم کے درمیان براہ راست زندہ تعلق نہیں ہوتا۔ اگر ایسا زندہ براہ راست تعلق موجود ہوتا تو فرانسیسی جہاز ایئر بس 447 سمندر کی گہرائیوں میں دفن نہ ہو جاتا۔ اگر انسانی عقل اور الگوردھم کے درمیان متحرک کنکشن ہوتا تو امریکی نیوی سیل کی ڈرائیور لیس کار اپنے سامنے اتنے بڑے ٹرک سے نہ جا ٹکراتی۔ امریکی پائلٹ سلی کے واقعے میں انسانی عقل کا براہ راست زندہ تعلق ذہانت کے ساتھ قائم تھا، اسی وجہ سے پائلٹ ۱۵۵؍مسافروں کی جان اور شہر کو بڑی تباہی سے بچانے میں کامیاب ہوا۔ غرض کہ عقل اور ذہانت کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا، ان کے درمیان متحرک زندہ تعلق ہونا لازم ہے۔ اگر کہو کہ ماں بچے کو جنم دیتی ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ بچہ بالغ، سمجھ دار، خود کفیل بن جاتا ہے، اب وہ ماں پر انحصار نہیں کرتا۔ انسان بھی کسی دور میں ایسا الگوردھم بنا لے گا جو انسانی مداخلت، نگرانی و مدد سے آزاد ہو۔ عرض یہ ہے کہ انسان کوئی ایسی شے ایجاد کر ہی نہیں سکتا جو اس کی محتاجی سے آزاد ہو۔ انسان کی جتنی بھی ایجادات ہیں وہ انسان کی محتاج ہیں۔ انسان کی ہر ایجاد محتاجی کا داغ لے کر پیدا ہوتی ہے، یہ نقص لاعلاج ہے، کیونکہ انسان خود محتاج ہے، انسان اس ساری کائنات کا محتاج ہے۔ کیا ماں نے کوئی ایسا بچہ جنا ہے جو کھانے، پینے، سونے کا محتاج نہ ہو؟ محتاج انسان کی ہر ایجاد انسان کی محتاج ہے۔ ہر نقص و عیب و محتاجی سے پاک کامل ہستی باری تعالیٰ محتاج مخلوق پیدا کرتی ہے، اب محتاج مخلوق کامل شے کی خالق کس طرح بن سکتی ہے۔ خدا کی ذات ہر عیب و کمی سے مبرا ہے۔ خدا اپنی صفات کے برعکس نہیں جاتا، کیونکہ صفات کے برعکس جانا بھی عیب و نقص پر دلالت کرتا ہے۔ خدا احد ہے، ہر محتاجی و ضرورت سے پاک ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں، اس لیے خدا کی ہر مخلوق میں محتاجی کا عنصر ہے۔ اگر کوئی مخلوق یا ایجاد کلّی طور پر محتاجی سے باہر نکل جائے تو مطلب وہ خالق بن گئی اور یہ ممکن نہیں ہے، اس لیے کہ ہر ضرورت سے پاک ایک ہی خدا ہے، وہ احد ہے، لاشریک ہے، اس کے ہم پلہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس ضمن میں ایک اور لطیف نکتہ یہ ہے کہ تخلیق خود اپنی تخلیق کا مقصد متعین نہیں کر سکتی۔ ریل گاڑی نے اپنے لیے یہ مقصد متعین نہیں کیا کہ میرا کام لوگوں اور اشیاء کو ادھر سے ادھر لے جانا ہے۔ موبائل فون نے ایک دن انارکلی بازار میں مٹر گشت کرتے ہوئے اپنا مقصد حیات نہیں تلاش کیا کہ میرا کام تو لوگوں کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے۔ انسان مشینوں کو مقصد دیتا ہے یعنی محتاج بنا لیتا ہے۔ یہاں ایک اور گتھی سلجھ جاتی ہے کہ مشینوں کی انسانوں پر حکومت ہالی ووڈ کی سائنس فکشن فلموں میں تو بالکل ممکن ہے لیکن اصل دنیا میں یہ ڈراؤنا خواب سچ نہیں ہو سکتا۔ یہاں وہم پیدا ہو سکتا ہے کہ انسان تو اپنا مقصد زندگی خود متعین کر سکتا ہے پھر انسان تو محتاجی سے نکل گیا؟ عرض ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے مقصد پر قادر ہوتا تو وہ آکسیجن، پانی، سورج وغیرہ خود تخلیق کرتا، ان سب کا انسان کی زمین پر پیدائش سے لاکھوں کروڑوں سال پہلے ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنا مقصد وجود خود ڈیزائن نہیں کرسکتا۔ انسان کے پاس اختیار ہے کہ وہ خدا کے مقرر کردہ مقصد کو اپنائے یا بھٹک جائے۔ انسان کی مرضی و اختیار اسے محتاجی سے باہر نہیں نکالتا، الٰہی مقصد اپنانے والے اور بھٹک جانے والے دونوں ہوا میں سانس لیتے ہیں اور ارضی خوراک سے پیٹ بھرتے ہیں۔
اب ان نکات کو سامنے رکھا جائے تو انسان کا یہ خواب کہ وہ ایک دن ایسا کوڈ، الگوردھم ایجاد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جو انسان کی ذرا سی مداخلت و نگرانی کا محتاج نہ ہو، ایسا خواب و وہم مر جانا چاہیے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے ۲۰۰۴ء میں جو دو روبوٹ مریخ پر بھیجے تھے، انہیں زمین پر ناسا کے انجینئرز کمانڈ اور ٹربل شوٹنگ انسٹرکشنز کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے۔ ناسا کی جدید ترین ٹیلی سکوپ جے ڈبلیو ایس ٹی زمین سے تقریباً ۱.۵؍ملین کلو میٹر دور خلا میں ہے اور اس جدید ترین مشین کو انسان زمین پر بیٹھا کمانڈز بھیج کر اپ ڈیٹ رکھتا ہے۔ غرض ناسا جو باقی دنیا کی ٹیکنالوجی سے بہت سال آگے ہے، اس کے الگوردھمز بھی انسانی محتاجی سے آزاد نہیں ہیں۔ جو اشیاء انسان کی تخلیق نہیں ہیں جیسے فلکی اجسام و ارضی جمادات و مخلوقات وغیرہ انسان کی محتاجی سے آزاد ہیں۔
ہم الگوردھم کو سمجھتے ہوئے یہ کہاں نکل گئے۔ خدا کی ہستی و صفات، تخلیق، مقصد اور محتاجی کا آپس میں تعلق۔ کیا ہم موضوع سے بھٹک گئے؟ اس کا جواب روسی گڑیا کے پاس ہے۔ عموماً ہمارے ہاں بچیوں کے لیے جو گڑیا خریدی جاتی ہے وہ ایک ہی ہوتی ہے۔ سرزمین روس کی ثقافت ہے کہ ایک گڑیا کے اندر اس سے چھوٹے سائز کی ایک اَور گڑیا ہوتی ہے اور پھر اس کے اندر ایک اَور ایک اَور … ایک ہی گڑیا کے اندر دس سے پندرہ ہوتی ہیں، ایسی گڑیا کو Russian Doll کہتے ہیں۔ بسا اوقات ایک مضمون Russian Doll میں ڈھل جاتا ہے، ایک تہ کے بعد دوسری تہ، الجھی ہوئی سرنگوں کے جال کا سفر۔ لیکن یہ سفر ہم کیوں اختیار کریں؟ دراصل مصنوعی ذہانت کا ڈھونگ ہماری نسلوں کو وہم و توہم میں مبتلا کر سکتا ہے کہ نعوذ باللہ انسان نے خدائی طاقت ایجاد کر لی ہے۔ اس illusion کو پاش پاش کرنے کی خاطر الجھی ہوئی سرنگوں کے سفر پر نکلنا ضروری ہے۔ گوگل انجینئر بلیک لیموئن کا احمقانہ بیان سرخیوں کی زینت بنا تھا کہ اے آئی (نام نہاد) جذبات و احساسات رکھتی ہے۔ اسی طرح ایلون مسک کا بیان کہ ہم اے آئی کی مدد سے بدروحوں کو بھی حاضر کر سکتے ہیں۔ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کا یہ یقین کہ اے آئی ایک دن سوسائٹی کے لیے مرکزی ذہانت کی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ اور یووال کا اعلان کہ ایک دن اے آئی انسانوں پر حکومت کرے گی۔ گوگل کے ایک اور انجینئر رے کرزویل نے خوشخبری سنائی ہے کہ ۲۰۴۵ء تک اے آئی کی ذہنی سطح انسانوں سے کھربوں قدم آگے نکل جائے گی۔ شاید موصوف کے علم میں نہیں ہے کہ کارخانۂ قدرت میں ایسی مخلوقات ہیں جن کی جبلتیں (instincts) کئی معاملات میں انسانوں سے کھربوں قدم آگے ہیں۔ اے آئی کو سپر پاور سمجھنے والے چمگادڑ کی ایک فطری صلاحیت ایکو لوکیشن تک مکمل طور پر نہیں پہنچے۔ انہوں نے سونار اور ریڈار وغیرہ تو ایجاد کر لیے لیکن آج بھی ان تمام ایجادات میں نقائص، کمزوریاں، خامیاں ہیں، ان مشینوں پر ایک چمگادڑ کی ایک فطری صلاحیت آج بھی بھاری ہے۔ چمگادڑ کو تو جانے دیں، انسان مکھی تک نہیں پہنچا اور الگوردھم کو نعوذ باللہ god-like طاقت ماننے چلا ہے۔ غرض الگوردھم کے طلسم کو خاک کرنے کے لیے روسی گڑیا سے کھیلنے کی ضرورت ہے۔ اب ہم گڑیا میں سے ایک اَور گڑیا نکالتے ہیں۔ تمام کائنات میں جو کچھ بھی ہے ذرّات سے لےکر اجسام ارضی و فلکی، سب ذرّات و اجسام کے زوج ہیں، سب جوڑوں (pair) میں ہیں، ناکام تنہا عاشق کی مانند کوئی نہیں ہیں۔ آنکھوں کا زوج روشنی ہے، کانوں کے لیے ہوا ہے، اسی طرح عقل کا بھی ایک رفیق ہے، ایک بے انتہا حسین ساتھی ہے۔ ذہانت عقل کا زوج نہیں ہے، وجہ یہ ہے کہ ذہانت عقل کا عملی ثمر ہے جس طرح دیکھنا آنکھوں کا زوج نہیں ہوسکتا کیونکہ دیکھنا تو آنکھوں کا عملی نتیجہ ہے۔ عقل کا رفیق تو اَور ہے۔ الگوردھم کی انڈسٹری کے کرتب باز عقل کا نکاح الگوردھم کے ساتھ پڑھانا چاہتے ہیں جو ایک بد ترین ناکام شادی ثابت ہو گی۔ عقل اگر الگوردھم کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ جاتی ہے تو اس غیر منطقی بندھن پر یونانی اساطیری چسپاں ہوتی ہے۔ شہزادہ نارسس گھنے جنگل میں گھومتے ہوئے شفاف جھیل کے کنارے پہنچتا ہے، پانی میں پہلی دفعہ اپنا عکس دیکھتا ہے تو خود پر ہی عاشق ہو جاتا ہے، خود عاشقی اس کی جان لے لیتی ہے۔ الگوردھم پر عاشق ہو جانا دماغی موت پر منتج ہو سکتا ہے۔ آئینے میں عکس اصل کا ہوتا ہے اگر اصل وہم میں مبتلا ہو جائے کہ میں عکس ہوں اور اصل آئینے میں ہے تو اس پاگل پن کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ persuasive ٹیکنالوجی کس طرح نسلوں کو بھنبھوڑ سکتی ہے اس ماں سے پوچھیں جس کا سات سال کا بچہ بالکل نہیں بولتا، منہ سے ایک لفظ بھی ادا نہیں کر سکتا، بچے کے گونگے پن کی وجہ فزیولوجیکل نہیں ہے۔ والدین نے بچے کو ابتدائی برسوں سے ہی سمارٹ فون پر لگا دیا، بچہ سکرین کو اصل اور خود کو آئینے کا عکس سمجھنے لگ گیا۔ الگوردھم کے جادو کو نہ توڑا گیا تو نسلیں اندھی، بہری، گونگی بن جائیں گی اور والدین کے شب و روز مینٹل ہیلتھ سینٹر کے ویٹنگ روم میں خود کو کوستے ہوئے گزریں گے۔ اب دیکھو اس کیس میں بچے کا جوڑ سکرین کے ساتھ بنا دیا، بے جوڑ تعلق کا نتیجہ گونگے پن کی صورت میں نکلا۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ عکس بولنا شروع کر دے اور اصل خاموش رہے لیکن جب پوزیشن تبدیل ہو گئی تو اصل (موبائل سکرین) بولتا رہا اور عکس (بچہ) چپ ہو گیا۔ الگوردھم انسان کے ماضی کا عکس ہے، انسان کا عکس سے عشق لڑانا دیوانگی ہے۔ الگوردھم کے سوداگر اے آئی کا چورن بیچنے کی خاطر غلط تاثر دے رہے ہیں کہ فطرت نے جو طاقت انسان کو نہیں دی ہم نے ایجاد کر کے انسان کی ہتھیلی پر رکھ دی ہے، ایک ماورائے عقل شے تخلیق کر لی ہے جس نے عقل کو پچھاڑ دیا ہے۔ ذرا سوچیں! اگر انسان آج بھی جانوروں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی محدود اشاروں کنایوں کی مدد سے connect ہوتا اگر انسان کے پاس زبان (لینگویج) جیسی نعمت نہ ہوتی تو کیا انسان ذہنی ارتقا و ترقیات کے عظیم والان مقام تک پہنچ پاتا؟ دنیا میں بکھری ہوئی زبانوں کا ارتقا ہوا ہے مگر سب سے اوّل زبان جو انسان نے سیکھی اس کا ارتقا نہیں ہوا۔ تو پھر کیا ہوا ہے؟ کیا انسانی عقل نے ہندو کش کے پہاڑوں پر مراقبہ میں ڈوب کر زبان ایجاد کر لی۔ عقل نے سوچا کہ میرے لیے فلاں قسم کے قواعد و ضوابط اور ساخت رکھنے والی زبان بہترین ہے۔ عقل نے خود ہی اپنے نہاں در نہاں خانوں کا احاطہ کر کے فلاں بناوٹ کے حامل الفاظ ڈھونڈ لیے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ عقل خود ہی اپنی حدود سمجھ کر tailored made زبان بنا لے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ سوچ خود کو سوچنا شروع کر دے جس طرح چاقو کاٹنے کے کام آتا ہے لیکن خود کو نہیں کاٹ سکتا، آنکھ دیکھنے کا آلہ ہے لیکن آنکھ براہ راست بغیر آئینے کے خود کو دیکھ نہیں سکتی۔ عقل سوچنے کا آلہ، پرواز تخیل کا ذریعہ ہے لیکن عقل خود کو سوچ کر اپنے ہی اندر اتر کر اپنی حدود و گہرائی نہیں سمجھ سکتی، رسی باندھنے کے کام آتی ہے پر رسی خود کو نہیں باندھ سکتی۔ پس عقل اپنے لیے فصیح وبلیغ زبان تخلیق نہیں کر سکتی۔ اب اگر سب سے اوّل زبان کا ارتقا بھی نہیں ہوا اور عقل بھی اس معاملے میں قاصر ہے تو یہ مشکل کس نے حل کی؟ یہ مشکل عقل کے جوڑے، رفیق، زوج نے حل کی۔ عقل کا رفیق خدا کی عظیم نعمت وحی (الہام) ہے۔ اس رفیق نے عقل کی انگلی تھام کر اسے خار دار راستوں، تاریک بھیانک جنگلوں سے نکالا اور زبانوں کی ماں، سب سے اوّل زبان عربی زبان کا تحفہ دیا۔ اب یہ ایک الگ مضمون ہے کہ عربی کس طرح اوّل زبان ہو گئی؟ ہم اگر ایک منٹ کے لیے مان بھی لیں (حالانکہ ہم نہیں مانتے) کہ عربی زبانوں کی ماں نہیں ہے بلکہ فلاں زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے تب بھی اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ فلاں اوّل زبان الہامی ہو گی، عقل کے رفیق کے بغیر زبان کی سہولت ہم تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ اس عمیق بحث کو اٹھانے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسانی عقل کے اوپر کوئی سپر عقل انسان نے ایجاد نہیں کی نہ کر سکتا ہے۔ یہ تاثر دینا کہ اے آئی ماورائے عقل، عقل سے اوپر طاقتور شے ایجاد کر لی گئی ہے، ڈھونگ ہے فریب ہے۔ اگر عقل کا قدیم رفیق ساتھ نہ ہوتا تو الگوردھم کے بازی گر آج افریقہ کے جنگلوں میں بن مانسوں کی طرح کمیونیکیٹ کرتے ہوئے زندگی گزار رہے ہوتے۔
گڑیا میں سے ایک اور گڑیا نکالتے ہیں۔ اب اگر کہو کہ جو ذہنی و جسمانی کام انسان کر سکتے ہیں وہ الگوردھم بھی سرانجام دے سکتے ہیں پھر ہرج ہی کیا ہے کہ ہم مان لیں، سر تسلیم خم کردیں کہ انسان نے مصنوعی ذہانت ایجاد کر ڈالی ہے۔ ایسا ہے تو ہمیں کیلکولیٹر کو سلام کرنا چاہیے، اسے مصنوعی ذہانت کا شاہکار ماننا چاہیے کیونکہ کیلکولیٹر تو وہ کام بھی کر سکتا ہے جو عموماً انسانی دماغ بھی نہیں کر سکتا۔ کاغذ پنسل کے بغیر عموماً ہم بڑی رقموں کو ضرب تقسیم نہیں دے سکتے۔ اب بتاؤ کہ کیلکولیٹر ہاتھ میں پکڑ کر ہمیں مصنوعی ذہانت کا خیال کیوں نہیں آتا، وجہ یہ ہے کہ یہاں لیبل درست لگا ہوا ہے، کیلکولیٹر پر کیلکولیٹر کا ہی لیبل لگنا چاہیے اور ہم محض لیبل کی وجہ سے کیلکولیٹر کو کیلکولیٹر نہیں کہتے، ہم اس کی حقیقت جانتے ہیں کہ واقعی یہ ایک کیلکولیٹر ہے۔ اگر کہو کہ لیبل ہی شے کی حقیقت بیان کرتا ہے، زیادہ فلسفہ جھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب! اگر لیبل ہی حقیقت ہے تو آج کل آرگینک چیزیں استعمال کرنے کا بھوت سوار ہے۔ آپ مارکیٹ جائیں اور جس شے پر بھی خالص، نیچرل کا لیبل لگا ہے وہ باسکٹ میں ڈال لیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، آرگینک پروڈکٹ خریدنے سے قبل ہم چالیس لوگوں کا مغز کھائیں گے پھر خود بھی تحقیق کریں گے اور جب خریدنے جائیں گے تو انسپکٹر جمشید کی طرح سیلز مین سے تفتیش کریں گے۔ اب بتاؤ لیبل پر ایمان کہاں گیا؟ دوسرا یہ نکتہ کہ انسان ہاتھوں سے کپڑے دھوتا تھا پھر انسانی عقل نے واشنگ مشین ایجاد کر لی اور جو کام انسانی ہاتھ کرتے تھے وہ کام واشنگ مشین کرنے لگی۔ اب کیا ہم واشنگ مشین کو دیکھ کر اس سے لپٹ جاتے ہیں اور اسے پیار سے چومنے لگتے ہیں: ’’اے میرے پیارے کپڑے دھونے والے انسان، میں تجھے دل کی گہرائیوں سے اپنے جیسا ذہین بندہ سمجھتا ہوں کیونکہ تو بھی کپڑے دھو سکتا ہے‘‘۔ ہمارے ذہن میں واشنگ مشین کو دیکھ کر یہ الفاظ نہیں آتے، کیوں نہیں آتے؟ وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے اور واشنگ مشین کے درمیان جو خلیج، سرحد، لکیر ہے اس کا خوب علم ہے۔ ہمیں اپنے اور واشنگ مشین کے درمیان فاصلے کا پتہ ہے، ہمیں اپنے مقام اور واشنگ مشین کے درمیان فرق کا ادراک ہے۔ ہم واشنگ مشین میں فیوز نہیں ہوتے کیونکہ مشین کو خود سے الگ سمجھتے ہیں۔ الگوردھم پر مصنوعی ذہانت کا غلط لیبل لگا کر پھر یہ پرچار کرنا کہ انسان نے فطری ذہانت سے بھی کئی گنا بہتر مصنوعی ذہانت بنا لی ہے، دھوکا دہی اور خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس فریب میں پھنس کر انسان کس طرح الگوردھم میں غرق ہو جاتا ہے ۔ایک سچی کہانی پیش ہے۔ ایک ڈرائیور ہائی وے پر رواں دواں تھا کہ پیٹرول کم رہ گیا، نزدیک ترین پیٹرول پمپ تک پہنچنے کے لیے بھی پیٹرول بس پورا پورا تھا۔ ڈرائیور نے سمارٹ فون میں انسٹال جی پی ایس ایپ میں دیکھا کہ ایک شارٹ کٹ پیٹرول پمپ تک جاتا ہے۔ اس نے ہائی وے سے گاڑی اتاری اور جی پی ایس کے بتائے ہوئے شارٹ کٹ پر ڈال دی۔ راستہ ہموار سے ناہموار اور تنگ ہوتا گیا لیکن ڈرائیور کا جی پی ایس ایپ پر اتنا یقین تھا کہ اس نے ناہموار پتھریلے تنگ پر خطر راستے پر غور ہی نہیں کیا۔ جی پی ایس نے اس کی گاڑی شارٹ کٹ کے ذریعے جلد پیٹرول پمپ پر پہنچانے کی بجائے کھائی میں گرا دی۔ جب انسان اپنے اور ٹیکنالوجی کے درمیان فرق، سرحد، خلیج و لکیر کو نہیں سمجھتا تو نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کہانی سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ الگوردھم پر اندھا یقین عقل و ذہانت کو بلاک کر دیتا ہے۔ جوں جوں انسان الگوردھم میں سماتا جائے گا اس کی صلاحیتیں سکڑتی جائیں گی، تجربوں پر منوں مٹی پڑ جائے گی۔ تخلیقی سوچ و مہارتیں چیٹ جی پی ٹی، گروک وغیرہ چاٹ جائیں گی۔ پھر کوئی مرزا غالب دقیق استعارات سے سجی فارسی آمیز اردو میں عشق مجازی و حقیقی کے رموز شاعری میں نہیں گھولے گا۔ پھر دنیائے سائنس میں کوئی عبدالسلام پیدا نہیں ہو گا کیونکہ زمین کا جن (انسان) تو الگوردھم کی بوتل میں بند ہو جائے گا۔ مضمون نگاروں کے ٹھکانوں پر خاک اڑے گی، موسیقاروں کے بالا خانوں پر تالے پڑ جائیں گے۔ ادیب و قلم کار ویران لائبریریوں میں پڑی سڑتی کتابوں میں ملیں گے۔ نقش نگاری و مصوری کا سامان عجائب گھر میں پڑا منہ چڑھا رہا ہو گا۔ اگر انسان اور الگوردھم کے درمیان سرحد قائم نہ رہی تو ہماری آئندہ نسلیں تخلیقی و ذہنی صلاحیتوں کے لحاظ سے اپاہج پیدا ہوں گی۔ تحقیقی مقالے لکھنا تو دور کی بات، بچے قلم اٹھانا بھول جائیں گے۔ انسان جو حیاتیاتی ورثہ اپنی نسل میں منتقل کرتا ہے، اس حیاتیاتی ورثے کو بنانے والا مین پلیئر ماحول ہے۔ ماحولیاتی عوامل جینز کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ جنیٹک تبدیلیاں اگلی نسل میں منتقل ہوتی ہیں۔ ہماری طرززندگی، عادات، اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا وغیرہ جنیٹک زبان میں ٹرانسلیٹ ہوتا جاتا ہے۔ ہم کس طرح زندگی گزارتے ہیں، کون سی عادتیں اپناتے ہیں، کس طرح عمل کرتے ہیں، کس طرح رد عمل دیتے ہیں، یہ سب ہم تک محدود نہیں رہتا بلکہ آئندہ نسلوں تک اثر رکھتا ہے۔ ماحول جینز کو متحرک کرتا ہے۔ غرض کہ ماحولیاتی عوامل جینز کے گیٹ کھول کر اس کی نہاں در نہاں سلطنت میں بغاوت و شورش برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کرۂ ارض پر ذہنی ارتقا کا تاج انسان کے سر پر سجا ہے۔ کوئی بھی ارضی مخلوق اس تاج کو انسان سے نہیں چھین سکتی ہاں انسان خود اپنے ہاتھوں تاج الگوردھم کے حوالے کرسکتا ہے۔ ایک گھرانہ جو اپنے تخلیقی و ذہنی امور اور مہارتیں الگوردھم پر منتقل کر دے تو وہ بے مغز گھرانہ بن جائے گا اور ان کا brainless ماحول جنیٹک کوڈ میں ڈھل کر اگلی نسلوں کو بے مغز کرتا جائے گا۔ بے مغز گھرانہ ری کریٹ کو بار بار ری کریٹ کرتا چلا جائے گا کیونکہ الگوردھم کچھ بھی create نہیں کرتا، محض re create کرتا ہے۔ ایک آدمی ری سائیکل مشین میں پلاسٹک کی بوتلیں ڈالتا ہے مشین بوتلوں کو ری سائیکل کرتی ہے اور پلاسٹک کی کسی اور شکل میں ڈھال دیتی ہے۔ ری سائیکلنگ کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ مشین میں سے پلاسٹک کی بجائے لکڑی، کپڑے اور دیگر دھاتوں سے بنی کوئی اور نئی چیز نکل آئے۔ بے مغز گھرانے کو ٹاسک ملے کہ اپنے بہترین دوست کے ساتھ گزارے وقت پر پانچ صفحات کا مضمون لکھیں۔ بے مغز گھرانے کا فرد فوراً چیٹ جی پی ٹی سے فرمائش کرے گا کہ میرے بہترین دوست اسلم کے ساتھ گزرے وقت پر پانچ صفحات کا مضمون لکھو۔ چیٹ جی پی ٹی کہے گا:’’جناب میں الگوردھم ہوں، آپ کا ذاتی منشی نہیں ہوں، آپ کے دوست اسلم کا آپ کے ساتھ گزرے وقت کا ڈیٹا میرے پاس نہیں ہے، آپ ڈیٹا دیں میں مضمون لکھ دوں گا‘‘۔ اب مشکل یہ ہے کہ بے مغز گھر کے فرد کو تو مغز ماری کی عادت ہی نہیں ہے۔ فرض کریں کہ فرد کے دماغ میں قائم شعبۂ یادداشت میں ان گزرے لمحوں کی پچاس فائلیں پڑی ہیں لیکن فرد بمشکل زور لگا کر چند پیراگراف ہی چیٹ جی پی ٹی کو دے پاتا ہے۔ اب الگوردھم ان چند پیراگراف میں گھومتا رہے گا پھر، الگوردھم اپنے ریکارڈ روم سے الفاظ، نمونے، سانچے نکال کر کسی کا چہرہ، کسی کی ناک، کسی کے ہاتھ وغیرہ پیراگراف میں ٹھونس دے گا، لیجیے! مضمون تیار ہے۔ اگر فرد بیدار مغزی زندہ رکھتا تو وہ شعبۂ یادداشت میں پڑی پچاس فائلوں کو آسانی سے استعمال کر کے کیفیت و جذبات میں ڈوبا دل کو چھو لینے والا مضمون لکھ سکتا تھا۔ خاکسار خود کو کسی قابل نہیں سمجھتا لیکن اتنا قابل ضرور سمجھتا ہے کہ الگوردھم سے بہتر مضمون لکھ سکے، اگر یہ مضمون چیٹ جی پی ٹی سے لکھوایا جاتا تو یقیناً ایسا نہ ہوتا۔ مضمون قلم بند کرتے وقت ہماری عقل کا ذہانت کے ساتھ تعلق متحرک رہتا ہے۔ بہرحال الگوردھم پر بے حد انحصار بےمغز نسلیں پیدا کر سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے خلاف ہونے اور ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اس کے دائرۂ اثر کا فہم حاصل کرنے میں فرق ہے۔ ہم الگوردھم کو بیکار، فضول، شیطان کا چرخہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کررہے۔ ہم وہ لوگ نہیں ہیں کہ برصغیر میں ٹرین آئی تو شور مچا دیا کہ یہ لوہے کا ڈبہ انسانوں کو سالم نگل جاتا ہے۔ پرنٹنگ مشین آئی تو فتویٰ جڑھ دیا کہ اس سے چھپی کتاب میں برکت نہیں ہوگی۔ ٹیلی گراف کے بارے میں شوشہ چھوڑ دیا کہ اس میں جن بھوت ہے اور ویکسین کے متعلق ڈھول پیٹ دیے کہ ویکسین میں حرام اجزا شامل ہیں۔ ہم انسان اور الگوردھم کے درمیان خلیج کو ابھار رہے ہیں۔ چھ فٹ کا آدمی جب دو ہزار سات سو بائیس فیٹ بلند عمارت برج خلیفہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی بلندی مبہوت کر دیتی ہے لیکن برج خلیفہ کی شان و اونچائی چھ فٹ کے آدمی اور انسانی ایجاد کے درمیان فرق، سرحد، لکیر کو نہیں دھندلاتی۔ آدمی کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ بے شک یہ اعلیٰ شان، شاہکار عمارت مجھ سے ہزاروں فیٹ بلند ہے مگر جو قابلیتیں، صلاحیتیں، طاقتیں میرے پاس ہیں، یہ عمارت اس سے عاری ہے۔ الگوردھم کے معاملے میں انسان اور اس کی ایجاد کے بیچ سرحد مبہم، دھندلی ہو سکتی ہے جس طرح ڈرائیور جی پی ایس ایپ کو اپنا حصہ سمجھ بیٹھا تھا یعنی اپنی آنکھیں و سمجھ لپیٹ کر جی پی ایس ایپ کے الگوردھم کے پیچھے چل پڑا تھا۔ سرحد قائم رکھنے کے لیے ہمیں تین نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔ اول یہ کہ الگوردھم کوڈ ہے، کوڈ کبھی انسان نہیں بن سکتا اور انسان غیر ذی روح کوڈ میں نہیں تبدیل ہو سکتا۔ دوسرا نکتہ یہ ذہن میں ہونا چاہیے کہ الگوردھم ماضی کے دھاگوں سے بنا جاتا ہے اس میں لمحہ موجودہ کا احساس اور مستقبل کا گمان نہیں پیدا ہوسکتا۔ تیسرا یہ کہ انسان میں غلطی کرنے سے پہلے پیچھے ہٹنے اور غلطی کرنے کے فوراً بعد خود اسے سدھارنے کی صلاحیتیں ہیں جو الگوردھم کا خاصہ کبھی نہیں بن سکتیں۔ اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے الگوردھم سے بہت فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں اور کیے جا رہے ہیں مثلاً پولیسنگ کے لیے pred pol کا استعمال، یوکے اور امریکہ میں جیو پروفائلنگ کی مدد سے کئی پیچیدہ کیس حل ہوئے ہیں، مجرم گرفت میں آئے ہیں۔ اسی نوے کی دہائی میں نیویارک کا sub way جرائم کا گڑھ ہوتا تھا پھر پیٹرن تلاش کر کے ان میں کمی لائی گئی۔ میڈیکل میں path A I وغیرہ ہیں، ایسے بھی کیسز سامنے آئے ہیں جن میں پاتھ اے آئی نے کینسر کی درست تشخیص کی لیکن پاتھ اے آئی جیسے الگوردھم میں ابھی بہت سی خامیاں ہیں۔
ملٹری، جوڈیشری، بزنس، انڈسٹری، میڈیا اپنے میدان میں الگوردھم کو جگہ دے رہے ہیں۔ ریسرچ کے لیے الگوردھم بہترین ٹول ہے (فیلڈ ریسرچ اور تجربات کا نعم البدل الگوردھم نہیں ہو سکتا) بچوں کی تعلیم کے لیے الگوردھم کو گھسیٹنا غلطی ہے، سکولوں کو الگوردھم سے پاک ہونا چاہیے کیونکہ الگوردھم بچوں کے لیے experience blocker ثابت ہو گا۔ بہرحال الگوردھم کے پاس انسان کو فائدہ پہنچانے کا وہی قدیم نسخہ ہے جو ہزاروں سال سے انسان استعمال کرتا آ رہا ہے یعنی ڈیٹا میں پیٹرن تلاش کرو اور اندازہ لگاؤ۔ الگوردھم ماضی کے دھاگوں سے کھیلنے کی کہانی ہے، پیچھے مڑ کر دیکھنا ہے اور آگے کا اندازہ لگانا یہی کھیل ہے۔
مزید پڑھیں: ماضی کے دھاگے(قسط اول)




