ربوہ کا موسم(۶تا۱۲؍فروری ۲۰۲۶ء)
۶؍فروری جمعۃ المبارک کے دن فجر کے وقت ہوا بہت آہستہ رفتار میں رواں تھی، خنکی اپنی جگہ قائم تھی، آسمان صاف ہونے کی وجہ سے نماز فجر کےبعد فوراً روشنی پھیل گئی دن کا تمام وقت لوگوں نے باہر دھوپ میں بیٹھ کر گزارا، اور خوب انجوائے کیا۔ جمعہ کی نماز کے بعد مطلع جزوی طور پر ابر آلود ہوگیا۔ ہفتہ کو صبح کے وقت ہلکی ہوا چل رہی تھی، آسمان صاف تھا تاہم صبح ۹ بجے کے قریب آسمان پر بادلوں کی ہلکی تہ آ گئی، جس کی وجہ سے دھوپ کچھ دھندلا گئی اور اس کی تپش میں کمی آ گئی۔ اتوار کو صبح کے وقت مطلع صاف تھا دھوپ خوب چمک رہی تھی، ساتھ ٹھنڈی ہوا بھی چلتی رہی، دھوپ میں گرمی نہ ہونے کے برابر تھی۔ سوموار کو فجر کے وقت ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے، دن میں کبھی کبھار بوندا باندی بھی ہوتی رہی۔ موسم ٹھنڈا محسوس ہوتا تھا۔ منگل کو سارا دن گہرے اور سیاہ بادل چھائے رہے، تاہم ان میں سے سورج بعض اوقات جھانکنے میں کامیاب ہوجاتا۔ عصر کے وقت گہرے بادلوں کی وجہ سے دن میں اندھیرے کا گمان ہوتا تھا۔ ساتھ تیز اور ٹھنڈی ہوا بھی جاری تھی جو شام تک چلتی رہی، بعد میں ہلکی ہوگئی۔ سردی نے اپنا رنگ جمائے رکھا۔
آجکل موسم بہار کی آمد ہوچکی ہے درختوں اور پودوں پر نئے پتے اور پھول کھلنا شروع ہوگئے ہیں سورج کی تپش میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ جب ہلکی ہوا چلتی ہے تو موسم خوشگوار ہوجاتا ہے۔ روحانی موسم بہار یعنی ماہ رمضان کی بھی آمد آمد ہے، ابھی سے لوگوں نے اس کی تیاریاں کرنی شروع کردی ہیں، اپنے جائزے لے رہے ہیں کہ گذشتہ رمضان میں جو اللہ تعالیٰ کے حضور وعدے کيے تھے ان پر کتنا پورا اترے ہیں۔ بدھ اور جمعرات کے دنوں میں موسم کی کیفیت ایک جیسی رہی۔ صبح اور رات کو خنکی تھی اور دن بھر چمکتے سورج نے اپنے ڈیرے ڈالے رکھے جس کی وجہ سے اب دھوپ کی تمازت تیز ہوجاتی ہے۔ موسم بہار اب مکمل پَر پھیلا چکا ہے۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۲۶؍اور کم سے کم ۱۱؍درجہ سینٹی گریڈ رہا۔(ابو سدید)




